ہندستان کے تعلیمی نظام کا تصور مولانا آزاد کے بغیر ناممکن ہے ۔پروفیسر محمد مزمل
مانو لکھنؤ کیمپس میں آزاد تقریبات کے آخری مرحلے میں توسیعی خطبہ کا انعقاد
۱۱،نومبر لکھنؤ
مولانا آزادکے بغیر ہندستانی نظام تعلیم کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ان خیالات کا اظہار روہیل کھنڈ یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد مزمل نے مولانا آزاد نیشنل اردویونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس کے زیر اہتمام آج یوم آزاد اور قومی یوم تعلیم کے موقع پر منعقد توسیعی خطبہ کے صدارتی خطاب میں کیا ۔توسیعی خطبہ لکھنؤ یونی ورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے صدرپروفیسر راکیش چندرا نے ’مولانا آزاد اور ہندستانی نظام تعلیم‘ کے موضوع پر ارشاد فرمایا ۔کیمپس کی انچارج ڈاکٹر ہمایعقوب نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔آزاد ڈے پروگرام کے کوارڈی نیٹر ڈاکٹر شاہ محمد فائز نے نظامت کا فریضہ انجام دیا ۔
ابتدا میں کیمپس کی انچارج ڈاکٹر ہما یعقوب نے مہمانوں اور حاضرین کا خیر مقدم کیا ۔انھوں نے کہا مولانا آزاد جیسی جامع الکمال شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے ۔پہلے وزیر تعلم کے طورپر مولانا آزاد کی خدمات بے مثال ہیں ۔انھوں نے شیخ الجامعہ کا خاص طورپر شکریہ ادا کیا کہ ان کے سرگرم تعاون سے اس قدر اہم پروگراموں کا انعقاد ممکن ہوسکا ۔ اس موقع پر کیمپس کی انچارج نے مختلف مقابلوں میں کام یاب ہونے والے طلبہ کو بھی مبارک باد پیش کی ۔
پروفیسر راکیش چندرا نے ’مولانا آزاد اور ہندستانی نظام تعلیم ‘کے موضوع پر توسیعی خطبہ ارشاد کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد کی شخصیت اور ان کی زندگی حوصلہ مندی سے عبارت ہے ۔وہ نہ صرف تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے متحرک رہے بلکہ وہ آزادانہ تعلیم کے بھی خواہاں تھے ۔تعلیم ان کی روح کا حصہ تھی ۔انھوں نے کہا کہ مولانا آزاد ایسی تعلیم کے خواہاں تھے جو ذہنی آزادی پر منتج ہو۔پروفیسر راکیش چندرا نے مزید کہا کہ تعلیم کا مقصد محض پڑھے لکھے لوگ پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے سماج کی تشکیل کرناہے جس کے دل میں دوسروں کے لیے درد مندی کا جذبہ ہو۔پروفیسر راکیش چندرا نے اس بات کی تائید میں قدیم دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے اقوال بھی پیش کیے۔توسیعی خطبے کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کے بارے میں جانناچاہیں تو اس کے اعلی تعلیمی نظام اور اس کے اداروں کو دیکھنا چاہیے ۔یہ محض ترقی کا ز ینہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کا اعلامیہ بھی ۔
ِصدارتی خطاب میں پروفیسر محمد مزمل نے کہا کہ مولانا آزادکے بغیر ہندستانی نظام تعلیم کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔انھوں نے کہا کہ مولانا نے جو نظام تعلیم وضع کیا تھا ، تعلیم کے توسط سے جن اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی اور تعلیمی مالیہ کاری کے لیے جو ضابطے بنائے تھے ان کی افادیت اور اہمیت آج بھی قائم ہے۔پروفیسرمحمد مزمل نے مزید کہا کہ مولانا آزاد نے آرٹس اور سائنس کو یکساں فروغ دینے کی راہیں اس لیے تلاش کی تھیں کہ سائنس جہاں ایجاد وانکشاف کے مادہ کو تحریک دیتی ہے وہیں آرٹس کے مضامین ذہن سازی کا کام کرتے ہیں جو کسی بھی انسانی سماج کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
آزاد ڈے پروگرام کی کنوینر ڈاکٹر نور فاطمہ نے آزاد تقریبات کی جامع رپورٹ اور مقابلوں کے نتائج پیش کیے نیزشکریہ کے کلمات بھی ادا کیے۔مریم بانو نے قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ پیش کیا۔جبکہ کیمپس کے طلبہ نے یونی ورسٹی کا ترانہ پیش کیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر سرفراز احمد خاں،ڈاکٹر نور فاطمہ اور ڈاکٹر بشری نے مہمانوں کو گلدستے پیش کیے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

