مانو لکھنؤکیمپس میں شعبہ اردو کے اسکالرز سے ملاقات اور گفتگو پر مبنی ایک پروگرام
لکھنؤ۔۲۲،جون ۲۰۲۳
تحقیق ایک مسلسل عمل ہے جو پوری یکسوئی اور توجہ چاہتا ہے ۔اطلاعاتی ٹکنالوجی کی ترقی سے ریسرچ میں آسانی ضرور پیدا ہوئی ہے مگر اس کے باوجو د اپنے موضو ع اور تحقیق کے طریقہ کار سے والہانہ لگاؤ ہی اسکالر کی تحقیق کو معتبر بنا سکتاہے ۔ان خیالات کا اظہار مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی (حیدرآباد)کے صدر پروفیسر شمس الہدی دریابادی نے لکھنؤ کیمپس میں شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالرز سے ملاقات کے دوران کیا ۔اس ملاقات کا اہتمام شعبہ کی سطح پر کیا گیا تھا تاکہ اسکالرزکی رہنمائی کی جاسکے اور اگر انھیں اپنے موضوع سے متعلق یا انتظامی سطح پرکوئی دشواری ہو تو صدر شعبہ سے بات کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے ۔
پروفیسر شمس الہدی نے اس موقع پر اسکالرز کو وقت کی پابندی کے ساتھ کام کرنے کا ہدف مقرر کرنے کی تاکید کی تاکہ ایک معیاری کام وقت پر سامنے آسکے ۔انھوں نے کہاکہ بہت سے ذہین اسکالرز محض اس وجہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری سے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ اپنے کام کا کوئی ہدف مقرر نہیں کرتے۔پروفیسر شمس الہدی نے کہا کہ ہماری یونی ورسٹی معیاری تحقیق پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے ایک طریقہ کار طے کررکھا ہے ۔
صدر شعبہ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ لکھنؤ کیمپس کے اسکالرز کی ادبی سرگرمیوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہاں کے اسکالرز اپنے کیمپس اور یونی ورسٹی کے تعارف وشہرت کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوں گے ۔
اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر عمیر منظر،ڈاکٹر مجاہد الاسلام،ڈاکٹر عشرت ناہید ،ڈاکٹر نور فاطمہ ،ڈاکٹر اکبر علی نے اپنے خیالات کااظہار کیا اور صدر شعبہ کی لکھنؤ آمدپر ان کا استقبال کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

