غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام دوروزہ قومی سمیناربعنوان’غالب کے تین اہم معاصرین:صہبائی،آزردہ اور شیفتہ‘ اختتام پذیرہوا۔اتوارکے روزسمینار کے پہلے اجلاس کی صدارت شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کی صدر پروفیسر نجمہ رحمانی نے فرمائی۔اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہاکہ سمینار کاایک مقصد یہ ہوتاہے کہ پرانے موضوعات جن پر وقت کی گرد بیٹھ گئی ہے دوبارہ ہمارے مطالعے کاحصہ بنیں۔ ایک اہم مقصدیہ بھی ہوتاہے کہ ہم نئے تقاضوں کی روشنی میں پرانے موضوعات کو دیکھیں اور سوالات قائم کریں۔اس اجلاس میں پروفیسر عمر کمال الدین نے ’گلشن بے خارپر ایک نظر‘ پروفیسر علیم اشرف نے ’شیفتہ بحیثیت تذکرہ نگار‘ پروفیسر کلیم اصغر نے ’رسالہ قواعد صرف و نحو مصنفہ صہبائی پر ایک نظر‘ اور ڈاکٹر مشتاق تجاروی نے ’شیفتہ اور غالب‘ کے موضوع پر مقالات پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر علی احمد ادریسی نے کی۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر شریف حسین قاسمی نے فرمائی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ ان تین معاصرین غالب میں صہبائی کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔ فارسی میں تنقید کا رجحان بہت کم ہے لیکن صہبائی کی ’قول فیصل‘ کو دیکھیں تو تنقیدی رجحان ہمیں دکھائی دیتاہے۔ افسوس کہ اس رجحان کو زیادہ ترقی نہیں ہوئی۔ اس اجلاس میں پروفیسر عراق رضازیدی نے ’صہبائی کی فارسی گئی‘ ڈاکٹر شمس بدانی نے ’اردو میں انگریزی رموز اوقاف اور صہبائی‘، ڈاکٹر واحد نظیر نے ’آزردہ کاتذکرہ ایک جائزہ‘ کے موضوع پر مقالات پیش کےے اس اجلاس میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر امیر حمزہ نے ادا کیے۔ تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر عمر کمال الدین نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان موضوعات پر دوسرے ادارے عموماً سمینار کا انعقاد نہیں کرتے۔ ان شعراکاسلسلہ وار مطالعہ ایک راویت کو واضح کرتا ہے۔اس اجلاس میں ڈاکٹر قمر عالم نے ’مولانا آزاد لائبریری میں آثار شیفتہ کے خطی نسخوں کا تعارف‘،ڈاکٹر یاسر عباس نے ’آزردہ بحیثیت فارسی گو‘ اور ڈاکٹر محضر رضانے ’صہبائی اپنے معاصرین کی نظرمیں‘ کے موضوعات پر مقالے پیش کےے ۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شادات شمیم نے کی۔چوتھے اور آخری اجلاس کی صدارت پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے فرمائی۔اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہاکہ اس اجلاس میں تمام مقالے شیفتہ سے متعلق تھے۔شیفتہ نے شاعری اور تنقید کی دنیا میں اپنا منفرد مقام پیداکیاہے۔ غالب بھی ان کی سخن فہمی کے قائل تھے۔ لیکن اس اجلاس کے تمام مقالوں میں نئے سوالات قائم کرنے کا رجحان نظر آتاہے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر محمود فیاض ہاشمی نے ’شیفتہ کی فارسی گوئی‘، پروفیسر احمدمحفوظ نے’شیفتہ کاتنقیدی شعور‘ اور ڈاکٹر محمد مقیم نے ’شیفتہ کی غزل گوئی چند معروضات‘ کے موضوع پر مقالات پیش کےے اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر سفینہ نے کی۔
تصویر میں دائیں سے:ڈاکٹرشمس بدایونی، ڈاکٹر امیر حمزہ، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر شریف حسین قاسمی، ڈاکٹر واحد نظیر
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

