بات بغیر تمہید کے یہ ہے کہ مقصود الٰہی شیخ کا تعلق گو کہ تارکین وطن کی نسل سے ہے مگر ان کی کہانیوں کے موضوعات، مہاجرین کے مسائل تک محدود نہیں ہیں۔ ان کے ہاں موضوعاتی تلون اور تنوع ہے اور انسانی مسائل کو آفاقی تناظر میں دیکھنے کی کوشش جو نمایاں ہے، ان کا تخلیقی سروکار، انسانی وجود اس کے مسائل و متعلقات سے ہے۔
عصری افسانے کے بیشتر موضوعات وہی ہیں، جو ذرائع ابلاغ Factsکی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں، ایک کہانی کار ان Factsکو فکشن میں تبدیل کرکے انھیں نئی وسعتوں سے ہمکنار کرتاہے۔ مقصود الٰہی شیخ نے بھی انہی سماجی حقائق اور معاشرتی مدوجزر کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایاہے اور وقوعات کو Fact کی فینسی سے نکال کر ان میں تخیل اور تاثر کا وہ رنگ بھردیا ہے کہ اس میں معاشرہ، اپنی کلیت کے ساتھ منعکس ہوجاتاہے۔ مقصودالٰہی شیخ کی کہانیاں Mirrored Chiaroscuroہیں جن میں کائنات اور زندگی کے سارے شیڈس نظر آتے ہیں۔ان کہانیوں کے تناظر میں مقصودالٰہی شیخ کا جو تخلیقی پرسونا ابھرتا ہے، وہ ایک سماجی وقائع نویس اور حقیقت پسند پریم چندی طرز فکر کے حامل تخلیق کار کاہے۔
کسی بھی فن کار کی تخلیقی فطانت کی شہادت کے لیے ایک لفظ یا ایک جملہ ہی کافی ہوتاہے۔ ایک ہی جملے سے جملہ ذہنی نظام اور قوت فکر کی تصویر سامنے آجاتی ہے اور اس کی نفسی حرکیات کا عرفان بھی حاصل ہوجاتاہے اور Cerebral Cortexسے بھی آگہی ہوجاتی ہے۔ میرے سامنے مقصودالٰہی شیخ کی تین کہانیاں ہیں اور تین سے تو Trinityکی معرفت بھی ممکن ہوجاتی ہے جب کہ اس کے اسرار تک رسائی بہت مشکل ہے۔ مقصودالٰہی شیخ کی یہ تین کہانیاں، ان کے پورے تخلیقی وجود کی تفہیم کا سراغ عطا کرتی ہیں۔ تینوں کہانیاں الگ طرز احساس اور رنگ اظہار کی ہیں مگر تینوں ایک دوسرے سے مربوط بھی ہیں۔
پہلی کہانی ’’پلوں کے نیچے بہتا پانی‘‘ خاندانی نظام اور سماجی، اخلاقی اقدار کے انہدام سے متعلق ہے۔ کہانی لبرلائزیشن دور کے جنریشن کی سائیکی، آزادانہ ذہنی ساخت اورفکری رویے کی تقلیب کی عکاسی کرتی ہے۔ موضوعی اعتبار سے کہانی میں کوئی نیا پن نہیں ہے۔ مگر تخلیقی ٹریٹ منٹ نے کہانی کو نیا ٹرن دے دیا ہے۔ کنواری ماں کے موضوع پر حالیہ برسوں میں کچھ کہانیاں ضرور لکھی گئی ہیں اور جنسی انارکی کی عکاسی بھی کی گئی ہے، مگر ایک دفاعی یا قدرے ہمدردانہ طریق کار اختیار کیاگیاہے۔ مقصودالٰہی شیخ نے کہانی کے کلائمکس میں اپنا موقف بڑے خوب صورت علامتی یا اشاراتی انداز میں واضح کردیاہے، اور فیمنزم( Feminism) کی شدت پسندی کو شکستگی اقدار کا آئینہ دار قراردیاہے۔
کہانی کا مرکزی کردار شیما، ایک بنداس، آزادخیال لڑکی ہے جو خاندان یا فیملی کو ایک کنسن ٹریشن کیمپ سمجھتی ہے اور اسے تمام Discontentsکا سرچشمہ قرار دیتی ہے۔ اس کی پوری فکری اور ذہنی ساخت Anti-family cultکے تصورات سے متاثر ہے جس نے شخصی آزادی اور فردی شخصیت کے نعروں کے ساتھ ’’ڈیٹھ آف دی فیملی‘‘ کا نعرہ بھی بلندکیا، جو ۱۹۷۰ء کے اوائل میں مغربی معاشرے کے ذہن واعصاب پر بری طرح مسلط رہا، اور اس نعرے نے جنسی انارکی میں ہی اضافہ نہیں کیا بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو زبردست شکست وریخت سے دوچار کیا۔ Laing، Cooperاور Estersonجیسے سماجی سائنس دانوں نے ایک نئے مکتب فکر کی بنیاد ڈالی، خاندانی نظام کو تہ وبالا کردیا اورEdmund Leachکے Reith Sentenceنے توسوسائٹی کی چولیں ہی ہلادیں۔
’پلوں کے نیچے بہتا پانی‘ اس نئی نفسیات کے نقطہ کمال اور کلچر اور اخلاقی اقدار کے زوال کی مظہر ہے کہ جہاں ذہنی زوال اور فکر کی اضمحلال کی حد یہ ہے کہ بچے عمروں کے تفاوت کی تمیز بھلاکرنہایت بے تکلفی اور آزادی کے ساتھ پرگنفسی اور دیگرجنسی مسائل پر بے محابا گفتگو کرتے ہیں۔ یہ کہانی نئی اور پرانی نسل کے ذہنی تناقضات کی تصویر پیش کرتی ہے اور فیکٹ آف لائف کے نام پر سوشل ٹیبوز کی وکالت کرنے والوں کی ذہنیت کی بیخ کنی اور اس کے رسوا کن انجام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہانی کے ذیلی کردار کمال اور سیدگو کہ ذہنی دقیانوسیت کے شکار نہیں ہیں۔ مگر اپنی مذہبی، اخلاقی اقدار انھیں عزیزازجان ہیں۔
یہ اپنی اولاد کے ذہنی، فکری رویے سے سراسیمہ اور پشیمان ہیں جن کے ذہنوں کو مغربی معاشرہ اور میڈیا کے منفی اثرات نے مسموم کردیاہے۔
کہانی میں مقصدیت مضمر ہے اور سیدھے سادے اسلوب میں اس طرح لکھی گئی ہے کہ ابہام کو کوئی راہ نہیں ملتی اور نہ ہی ابلاغ کے المیے سے کہانی دوچار ہوتی ہے۔ شیما اور نوشی کی نفسیات پر زبردست ضرب کاری میں بھی کہانی کامیاب ہے۔یہ آج کے Degenerationکی صحیح تصویر ہے۔
’چلوہٹو‘ کا موضوع بھی خاندانی نظام، عائلی انتشار وخلفشار ہے، مگر یہ یک موضوعی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کے بطن میں کئی ضمنی موضوعات موجزن ہیں۔ اس کثیر کرداری کہانی کا مطالعہ سماجیاتی اور نفسیاتی تناظرات میںجو کیا جاسکتا ہے بلکہ Feminism کے زاویے سے بھی اس کی تفہیم سے کئی ابعاد روشن ہوسکتے ہیں۔
کہانی کا مرکزی کردار جان ہے جس کاSubmissive Tempramentاور Reverentialرویہ نہایت متاثر کن ہے۔ جان، کنفوشش کےLIکی پوری تجسیم نظر آتا ہے۔مقصودالٰہی شیخ نے جس طور پہ جان کے کردار کوپیش کیاہے، اس سے جان کی پوری نفسیاتی شخصیت سامنے آتی ہے۔ اوریہ ایک Receptiveکردار کی حیثیت سے قاری کے ذہن پر گہرا نقش قائم کرتاہے۔ وہ گو کہ ہٹاکٹا، فیشن ایبل نوجوان ہے مگر سوشل کوڈز اور اخلاقی ضابطوں کا پابند ہے۔ مغربی معاشرہ میں رہ کر بھی اس کے عادات واطوار شریفانہ ہیں، باوجودیکہ اس کے جسم میں لڑکیوں کے لیے بے پناہ جنسی کشش ہے مگر وہ اپنے جسم کو زینہ کے طور پر استعمال نہیں کرتا، ایکٹروں جیسا حلیہ اور سیاہ رنگت کا چارم رکھنے والا نہایت صحت مند ذہن کا حامل ہے۔ وہ خود کو مغربی معاشرہ کے رنگ میں ڈھالنا نہیں چاہتا اور نہ ہی اس کے اطوار اپنانا چاہتاہے۔ وہ عورت کو Sex objectنہیں سمجھتا بلکہ اسے عزت واحترام، محبت اورتحفظ کی نظر سے دیکھتاہے۔ جان، مکمل طور سے مغربی معاشرہ کے معائب سے منزہ اور ان کے اطوار وافکار سے مغائر کردار ہے۔
مقصودالٰہی شیخ نے کلرکنٹراسٹ کی تکنیک سے جان کے کردار میں اور بھی جان ڈال دی ہے۔جان، لمباترنگا، کالاکلوٹا ہے،بدن کسرتی ہے مگر اس کے سیاہ وجود میں اجلی آتما ہے، اس کے کسرتی بدن میں ایک دھڑکتا ہوا دل اور صحت مند ذہن بھی ہے۔ اس کا منقادی رویہ ہر سطح پر اس کے ذہن وضمیر کی تابناکی کا اشارہ دیتاہے۔ جب جان کو اپنے عیاش، اوباش شرابی بھائی کی مطلقہ بیوی سے حلالے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے تو اس کے سیاہ جسم میں سفید پاکباز ضمیر اپنے بھابھی کے ساتھ رشتہ ازدواج کو قبول نہیں کرتا اور جب دباؤ کی وجہ سے وہ شادی کرلیتا ہے تو پھر اپنی بیوی یعنی بھابھی کو طلاق دینے کے لیے راضی نہیں ہوتا، یعنی وہ حلالہ کو حرام سمجھتا ہے اور اسے اخلاقی نقطہ نظر سے ناجائز، وہ عورت کو جنسی معروض کے بجائے محبت کا مظہر سمجھتا ہے۔ پھر مجبور ہوکر اسے طلاق دینا پڑتی ہے تو اس کا کسرتی بدن بھی اس واقعہ سے لرزہ براندام ہوجاتاہے، اس وقت اس کے وجود کی شکستگی قاری کے اعصاب پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ یہاں راجندر سنگھ بیدی کی کہانی بھی یاد آتی ہے جہاں اس سے ذرا مختلف سچویشن میں ایسی ہی صورت حال خلق کی گئی تھی اور کہانی ٹریٹ منٹ کی وجہ سے بیدی کی عمدہ کہانیوں میں شمار کی گئی۔ بیدی کی کہانی کا تھوڑا سا انش اس کہانی میں بھی ہے مگر مقصود الٰہی شیخ نے اس کا پس منظر مختلف کردیاہے اس لیے تھوڑی سی مماثلت کے باوجود کہانی کا رنگ، بیدی سے مختلف ہوگیاہے۔
کرداری تنوع کے اعتبار سے یہ کہانی اس حقیقت کا اکتشاف ہے کہ ایک ہی سماج نہیں بلکہ ایک ہی خاندان میں کئی طرح کے کردار ہوتے ہیں۔ منفی اور مثبت دونوں طرح کے کرداروں کی موجودگی سے ہی سماجی نظام کا تحرک ہے۔ اس کہانی کے تین کردار، کلثوم، جان اور خیرالنساء مثبت ہیں توایک کردار منفی اور ایک فراری کردار—جسے سماجی محرکات وسکنات سے کوئی مطلب نہیں۔ کلثوم کا کردار کہانی میں ایثار وعطوفت ہی نہیں بلکہ تقدیر نسواں کی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ کہانی کار نے کلائمکس میں جان کے مثبت کردار کی تقلیب کرکے یہ ثابت کیاہے وہ ایک مثالی کردار ہے، جس کو نمونہ بنایا جاسکتاہے۔ جان کی جوانی دیکھ کر بوڑھے وجود میں جوانی کا عود کرآنا، اورجوانی کے جذبے کا جنم لینا، اس کردار سے گہرے تاثر کاہی مظہر ہے۔ یہ کہانی سفید فام معاشرے پر بھی ایک طنز ہے، جہاں کالوں کے ساتھ نسلی امتیاز برتا جاتاہے اور انھیں حقارت سے دیکھا جاتاہے اورانسانی سطح سے نیچے کی نہایت ذلیل مخلوق سمجھا جاتاہے۔
مقصود الٰہی شیخ کی تیسری کہانی، ان دونوں کہانیوں سے قدرے مختلف ہے۔ واحد متکلم کے صیغے میں لکھی گئی ہے اس کہانی میں شاعرانہ بہائو، رومانیت اور عدم تعین کی وہ کیفیت بھی ہے جسے مابعدجدیدبیانیہ کی ایک نمایاں وصف قراردیا گیاہے۔ کہانی کا آخری جملہ، قاری کی فعال شرکت اور اس کے تفاعل کا انڈیکیٹر ہے۔جبلی اور روحانی مماثلت کے موضوع پر لکھی گئی یہ کہانی مسئلہ تقدیر سے جڑی ہوئی ہے۔ کہانی میں ماں اور بیٹی کے Physical Resemblenceکے ساتھ انجام میں مماثلت دکھائی گئی ہے ماں کے جیسی نقش ونگار والی لڑکی بھی ماں کی طرح کینسر سے مرتی ہے، اس طرح گویا زندگی اورموت کی مماثلت سے توارث اور تقدیر کے مسئلہ کو افسانوی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خسراور داماد کے مابین بھی ایک مماثلت دکھائی گئی ہے۔ دونوں ایک ہی کیفیت، ایک ہی طرح کے صدمہ سے دوچار ہوتے ہیں۔ خسر، اپنی بیوی کی موت کے بعد اپنی بیٹی میں عکس تلاش کرکے غم کوبھولنے کی کوشش کرتاہے مگر داماد جو کہ جوان ہے، کیا ایسی زندگی گزار سکتا ہے جو اس کے خسر نے گزاری ہے۔یہ ایک سوال ہے جو باربار ذہن میں گونجتا ہے اور عدم قطعیت کی وجہ سے یہ اسرار برقرار رہتاہے۔ یہی اسراریت کہانی کا حسن ہے یعنی بیوی کی یادوں کے سہارے، کہانی کا کلائمکس اسی عدم قطعیت کی طرف اشارہ کرتاہے اور قاری پر چھوڑدیتاہے کہ اس کہانی کواپنے اعتبار سے موڑدے۔ ’’پہلے کون سا لفافہ کھولوں؟‘‘ کہانی کو عدم قطعیت اور تحیر سے ہمکنارکرتاہے۔ مقصودالٰہی شیخ نے موپاساں کی طرح یہاں سرپرائزانڈنگ کی تکنیک سے کام لیاہے۔ کہانی کے بین السطور سے ظاہر ہوتاہے کہ جس طرح ماں اور بیٹی کی مماثلت مشترک تھی، اس طرح خسر اور داماد کے درمیان بھی ایسی ہی مماثلت ہوگی، اور وہ بھی اپنے خسر کی طرح اپنی بیوی کی یادوں کے سہارے اپنی بقیہ زندگی کاٹ لے گا، مگر تیقن کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کیا ہوگا—؟ یہی عدم قطعیت، اس کہانی کا تجمیلی عنصر ہے۔
کہانی کار نے آغاز میں ہی ’نیچر‘ کی عکاسی کی ہے، گویا اس بات کا اشارہ ہے کہ ’نیچر‘ سے فرار ممکن نہیں، جو کچھ بھی ہوتاہے وہی نیچر کا نظام ہے۔ وہی نظام قدرت ہے۔ آسمان کی بوند، آنکھوں کی بوندبن جانا، قدرت کے فطری نظام اور مشیت ایزدی سے انسانی رشتے کا عکاس ہے۔ مشیت کی حکمت واسرار کی تفہیم بہت مشکل ہے اوریہ کہانی اس مشیت اور نیچر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان نیچر اور تقدیر کے ہاتھوں مجبورہے۔ برسور ے نینوا مورے، فطرت کے نظام سے انسانی ذہن اوراعمال وحرکات کے انسلاک کا مظہر ہے۔
مقصودالٰہی شیخ کی ان تینوں کہانیوں سے یہ متبادر ہوتاہے کہ وہ سماج کی سائیکی، رنگ وروپ اوربدلتی کیفیات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ حاضر اورماضی دونوں کے اتصال سے کہانی بنتے ہیں۔ یہ دونوں زمانے ان کے ساتھ ساتھ ہیں۔ یہ ان کی مثبت ذہنیت کا غماز ہے کہ وہ ماضی کو مسترد نہیں کرتے بلکہ حال کی تعمیر وتشکیل کے لیے ماضی کو قوت محرکہ سمجھتے ہیں۔
جہاں تک ان کے اسلوب کا سوال ہے توان کا ذریعہ اظہار سادہ اورسہل ہے۔ ان کی تخلیقی نثر میں صبوحی اور صباحت ہے۔ وہ موضوعی اور ماحولیاتی حیثیت سے لفظیات کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ آج کے الٹراماڈرن کہانی کاروں کی طرح Namby-pambyزبان نہیں لکھتے بلکہ پریم چند کی طرح زندگی اور کائنات کے حقائق کو کماحقہ اپنے غیرپے چیدہ، غیرمغلق زبان میں پیش کرتے ہیں اور کہانویت کو بحال رکھتے ہیں۔
مقصودالٰہی شیخ، سماجی موضوعات کے تئیں نہایت مضطرب اورملتہب نظر آتے ہیں۔ وہ سماج کے چہرے کو پانی کے بہائو میں نہیں بلکہ ’اسٹل وائڈ‘ میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں دھیماپن اور ٹھہرائو ہے۔ وہ ایڈگرایلن پو کی طرح جزئیات کی پوری تفصیل درج کرتے ہیں، کردار نگاری اور منظرنگاری کے ذریعہ وہ نقش اور تناظر عطا کرتے ہیں کہ قاری، اس تناظرسے اچھی طرح مانوس ہوجائے۔
مقصودالٰہی شیخ کو مشاہدات اورتجربات کی وسعت نے شعور کی پختگی عطاکی ہے۔ ہمارے عہد میں تخلیق کار توبہت ہیں مگر فکر ونظر کی صلابت اورشعور کی پختگی کتنوں کو ودیعت ہوئی ہے۔ یہ سوال آپ اس ادبی تخلیقی معاشرے سے کیجیے جہاں ہردوسرا آدمی، تخلیق کے منبرپر کھڑا ہوکر بلند آہنگ میں خطبہ دے رہاہے۔
٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

