خودکشی کے کئی راستے ہیں مگر۔چن رہے زندگی برملا،دوبدن:زیباخان
نئی دہلی:آکاش وانی ،دہلی اورشعبہ ٔ اردو،دہلی یونیورسٹی کے اشتراک سے مشاعرہ بزم نوبہارکاانعقادآرٹس فیکلٹی،دہلی یونیورسٹی کے کمرہ نمبر۲۲میں کیاگیا۔اس مشاعرے میں دہلی کی جامعات دہلی یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اورجواہرلعل نہرویونیورسٹی کے نئی نسل کے نمائندہ شعرانے شرکت کی ۔ان میں سفیرصدیقی،اہتمام صادق،زیباخان،شہلاکلیم،سیف ازہر، ممتازاقبال اورآصف بلال نے اپنا کلام پیش کیا ۔آل انڈیاریڈیوکے پی ای ایکس معروف شاعرنعمان شوق نے کہاکہ آل انڈیاریڈیو اور شعبہ اردو کے زیراہتمام منعقد اس بزم نوبہارمیں نئے شعراکااستقبال کرتے ہوئے مجھے بے انتہامسرت ہورہی ہے ۔یہ تمام شعرانئی نسل کے نمائندہ شعراہیں،ہماری دعوت پریہاںآئے ہیں،میری خواہش ہے کہ انھیں آج زیادہ سے زیادہ سناجائے ۔
شعبہ اردودہلی یونیورسٹی کی صدرپروفیسرنجمہ رحمانی نے اظہارتشکرکیااورکہاکہ اس مشاعرے کوسنتے ہوئے اپنے ماضی میں لوٹ گئی تھی،جب مشاعروں میں بہترین شعرا اپنے کلام سناتے تھے ۔مجھے اعتراف کرناچاہیے کہ نئی نسل کے یہ شعراجس اندازکی شاعری کررہے ہیں ،آج بہت سے بڑی عمرکے شعرابھی ایسی شاعری نہیں کررہے ہیں ۔نئی نسل کی شاعرات بھی اپنامخصوص لہجہ ساتھ لائی ہیں ۔اس مشاعرے کے انعقادکامقصدشعرکی سماعت کی تربیت بھی ہے ۔ہمارے طلباوطالبات میں شعرسننے کی تربیت بھی ہونی چاہیے ۔طلبا وطالبات غورکریں کہ آج کی نسل کیسے سوچتی ہے اوراس کے اظہارکے طریقے کیاہیں۔میں آل انڈیا ریڈیو،اپنے اساتذہ ،طلبا،شعرااوردیگرشعبہ جات کے لوگوں کی شکراگزارہوں کہ انھوں اس مشاعرے میں شرکت کرکے مشاعرے کو کامیاب بنایا۔
مشاعرے میں پیش کیے گئے منتخب اشعارپیش ہیں ۔
گھیرے جائیں کسی دن اورکہیں مارے جائیں
سر پٹکنے سے تو بہتر ہے اتارے جائیں
سفیرصدیقی
خودکشی کے کئی راستے ہیں مگر
چن رہے زندگی برملا،دوبدن
زیباخان
کوزہ گرکس کومیسررہی فرصت تیری
کیوں ہمیں چاک سے عجلت میں اتاراتونے
شہلاکلیم
روح کی بات نہ ہوتی توبدن ایساتھا
طورسے جیسے تجلی کی کرن پھوٹ پڑے
اہتمام صادق
ہم ایسے چلے آئے نہیں شہرغریباں
دنیاکے خداوں سے بڑی جنگ لڑی ہے
سیف ازہر
بچ کے مقتل سے جسے جاناہے جاسکتاہے
شمع خیمہ بھی سرشام بجھادی گئی ہے
آصف بلال
وہ ہمیں نیلام کرتاہے بھرے بازارمیں
اس کی اک آوازپرنایاب ہوجاتے ہیں ہم
ممتازاقبال
خیال رہے کہ مشاعرہ بزم نوبہارمیں شعبہ اردوکے اساتذہ پروفیسرابوبکرعباد،پروفیسرارجمندآرا،پروفیسرمشتاق عالم قادری، ڈاکٹر ارشاد نیازی،ڈاکٹرشاذیہ عمیر،ڈاکٹرفرحت کمال،ڈاکٹرسنیل کمار،آل انڈیاریڈیوکے ملازمین اوردیگرشعبوں کے طلباوطالبات وغیرہ نے بطورخاص شرکت کی ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

