بزم جامعہ، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام انٹر یونیورسٹی مقابلوں کا انعقاد
۶؍مارچ (نئی دہلی) کووڈ کی وجہ سے درس و تدریس اور طلبہ کی ترغیب و تربیت میں پیدا تعطل کے بعدشعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کی سبجیکٹ ایسوسی ایشن ’’بزم جامعہ‘‘ نے انٹر یونیورسٹی مقابلوں کا انعقاد کیا۔ شعبۂ اردو نہ صرف طلبہ کی رسمی تعلیم پر توجہ دیتا ہے بلکہ تعلیم کے میدان میں دیگر مشاغل کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ انٹریونیورسٹی مقابلوں کا انعقاد شعبۂ اردو کی فراست کا نمونہ ہے۔ اس مقابلے میں بیت بازی، غزل سرائی، ادبی کوئز اور متن خوانی کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے علاوہ دہلی اور بیرون دہلی کی جامعات سے طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز، پروفیسر اقتدار محمد خان نے مقابلے کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور شعبے کو مباک باد دی۔ انھوں نے کہا کہ ایسے تعلیمی اور تفریحی مقابلوں کا انعقاد مسلسل ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابتدا ہی سے شعبۂ اردو، طلبہ کی تربیت کے حوالے سے تمام شعبوں کی رہنمائی کرتا رہا ہے اور اس تعلق سے اس کا کردار مثالی ہے۔ پہلا مقابلہ بیت بازی کا ہوا۔ اس مقابلے میں پہلا انعام راجستھان یونیورسٹی کی ’شہریار ٹیم‘ (مسکان پٹھان، افضل، نجم الثاقب) نے ، دوسرا انعام شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ’عرفان صدیقی ٹیم‘ (سید تجمل، نوید یوسف، زاہد اقبال)، تیسرا انعام شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ’آتش ٹیم‘ (محمد شیزان، غفرانہ، حامد حسین) اور بہتر مجموعی کارکردگی کے لیے نوید یوسف کو پیش کیا گیا۔ بیت بازی کے بعد غزل سرائی کا مقابلہ ہوا، جس میں پہلا انعام ادیتی ورما (سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی)، دوسرا انعام زینب مہدی (شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، تیسرا انعام سید تجمل (شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور تشجیعی انعام اقصیٰ تبسم (شعبہ تعلیم، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے حاصل کیا۔ ادبی کوئز کا پہلا انعام سعادت حسن منٹو ٹیم، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ (دائود احمد، ذاکر انور)، دوسرا انعام راجندر سنگھ بیدی ٹیم، شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ (محمد مستقیم، توقیر)، تیسرا انعام سریندر پرکاش ٹیم، شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ (محمد شمس تبریز، محمد ارمان عالم) اور انفرادی کارکردگی کے لیے شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم ذاکر انور کو تشجیعی انعام دیا گیا۔ اس سلسلے کا آخری مقابلہ متن خوانی کا تھا، جس میں پہلا انعام ابوالاشبال (شعبۂ تعلیم، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، دوسرا انعام موریشس کی طالبہ تراب علی بی بی سہیلہ (شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، تیسرا انعام علمہ شمیم (شعبۂ انگریزی، سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی) اور تشجیعی انعام محمد شیزان (شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے حاصل کیا۔ ان مقابلوں میں جج کے فرائض شعبے کے اساتذہ پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر سرورالہدیٰ، پروفیسر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین اور ڈاکٹر محمد مقیم نے انجام دیے۔ اس موقعے پر شعبۂ اردو کے طلبہ نے ثقافتی پروگرام کے تحت قوالی اور مشہور داستان گو جناب محمود فاروقی اور جناب دارین شاہدی نے ’’داستان میر‘‘ کی پیش کش سے حاضرین کو مسحور کردیا۔ آخر میں تقسیم انعامات کی تقریب عمل میں آئی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ ڈی ایس ڈبلیو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، پروفیسر ارشاد قمر، جناب محمود فاروقی، جناب دارین شاہدی، صدر شعبۂ اردو نے کامیاب طلبہ کو سرٹیفکٹ اور ٹرافی پیش کی۔ پروفیسر ارشاد قمر نے مقابلوں پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور طلبہ کی ستائش کی۔ صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر احمدمحفوظ نے طلبہ کے لیے ان پروگراموں کی اہمیت و معنویت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بیت بازی، غزل سرائی اور متن خوانی کے لیے سب سے پہلی شرط متن کی درست قرات اور انتخاب ہے۔ اس سے طلبہ میں ذہنی فراست کی نشوونما ہوتی ہے۔ متن کی درست قرات ہی تفہیم متن کا پہلا اور بنیادی زینہ ہے۔ طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے طلبہ کے جوش و خروش، امنگوں اور مقابلوں میں ان کی کثرت تعداد پر اپنی مسرت کا اظہار کیا اور طلبہ کے ساتھ ساتھ بزم جامعہ کو بھی مبارک باد دی۔ بزم جامعہ کے ایڈوائزر ڈاکٹر شاہ عالم نے طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور نائب صدر سید محمود حسینی، جنرل سکریٹری حفظ الرحمن اور جوائنٹ سکریٹری محمد اسرار عالم نیز ان کے تمام معاونین کو کامیاب مقابلوں کے انعقاد پر خصوصی مبارک باد پیش کی۔ مختلف مقابلوں میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر غزالہ فاطمہ، جناب سید محمود حسینی، جناب عبدالرحمن، محترمہ صالحہ زاہد نے انجام دیے۔ شعبے کے طالب علم مطلوب ظفر نے قرآن مقدس کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز کیا۔
ان مقابلوں میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر خالد جاوید، پروفیسر ندیم احمد، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر جاویدحسن، ڈاکٹر شاہ نواز فیاض،ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر راہین شمع، ڈاکٹر روبینہ شاہین زبیری، ڈاکٹر خوشتر زریں ملک، شعبے کے ریسرچ اسکالر اور انعام یافتگان کے علاوہ بڑی تعداد میں مختلف جامعات اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات موجو د تھے۔
(مقابلوں کی تصویری جھلکیاں)
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

