بیسویں صدی کے اوائل میں جب برصغیر سیاسی غلامی، تہذیبی اضطراب اور فکری انتشار کے ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا تھا، اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کو صرف سیاسی اقتدار کے زوال ہی کا سامنا نہیں تھا بلکہ ان کے علمی، تعلیمی اور طبی سرمائے پر بھی ایک ہمہ گیر یلغار جاری تھی۔ استعمار نے اپنی سیاسی قوت کے ساتھ ساتھ اپنے علمی اور تمدنی تصورات کو بھی اس انداز سے نافذ کرنا شروع کیا کہ قدیم علوم، مشرقی روایات اور مقامی نظام ہائے حیات رفتہ رفتہ فرسودہ اور ناقابلِ اعتبار قرار دیے جانے لگے۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں طبِ یونانی، جو صدیوں سے برصغیر کے عوام کے لیے شفا، حکمت اور انسانی خدمت کا ایک معتبر ذریعہ رہی تھی، شدید خطرات سے دوچار ہوئی۔ اس نظامِ طب کو محض ایک علاجی طریقہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ ایک مکمل تہذیبی شعور، ایک متوازن فلسفۂ حیات اور انسان کے جسم و روح کے باہمی تعلق کی ایک جامع تعبیر تھی۔ مگر نوآبادیاتی نظام کے زیرِ اثر اسے غیر سائنسی، غیر عصری اور ناقابلِ اعتماد ثابت کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں تاکہ مغربی طب کو واحد معتبر نظام کے طور پر مسلط کیا جا سکے۔
ایسے تاریک ماحول میں بعض شخصیات محض افراد نہیں رہتیں بلکہ ایک تحریک، ایک فکر اور ایک عہد کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ حکیم اجمل خان انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے۔ وہ صرف ایک معالج نہ تھے بلکہ ایک صاحبِ بصیرت مفکر، ایک مدبر قومی رہنما اور ایک ایسی بیدار روح تھے جنہوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اگر طبِ یونانی کو منظم بنیادوں پر محفوظ نہ کیا گیا تو یہ عظیم علمی روایت تاریخ کے صفحات میں دفن ہو جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی بنیاد رکھ کر دراصل ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا جس کا مقصد محض طبِ یونانی کی بقا نہیں بلکہ اس کی علمی تجدید، تنظیمی استحکام اور قومی سطح پر اس کے مقام کا تحفظ تھا۔
یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت صرف اس کی زبان، لباس یا رسوم و رواج سے قائم نہیں رہتی بلکہ اس کے علوم، اس کے فکری تصورات اور اس کے نظامِ حیات بھی اس شناخت کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں۔ طبِ یونانی مسلمانوں کے تہذیبی ورثے کی ایک ایسی ہی عظیم علامت تھی۔ اس کے اندر یونانی فلسفہ، اسلامی فکر، عربی و فارسی علوم اور برصغیر کی مقامی روایات ایک حسین امتزاج کے ساتھ موجود تھے۔ اس نظامِ طب کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ انسان محض گوشت پوست کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک متوازن حیاتیاتی اور روحانی وجود ہے، اور صحت دراصل جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی اعتدال کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبِ یونانی میں علاج صرف دواؤں تک محدود نہیں رہتا بلکہ غذا، طرزِ زندگی، ماحول، جذبات اور انسانی عادات تک پھیلا ہوا ایک ہمہ گیر نظام بن جاتا ہے۔
آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس نے اپنے قیام کے ابتدائی ایام ہی سے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اگر طبِ یونانی کو محض جذباتی نعروں اور ماضی کی یادگاروں تک محدود رکھا گیا تو یہ جدید دنیا کے تقاضوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اسی لیے اس تحریک نے دو متوازی راستے اختیار کیے: ایک طرف اس نے طبِ یونانی کے کلاسیکی سرمایہ اور اس کے علمی وقار کا دفاع کیا، اور دوسری طرف اسے جدید سائنسی اصولوں کے مطابق منظم، مربوط اور قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی۔ یہی وہ توازن تھا جس نے اس تحریک کو محض ایک احتجاجی آواز بننے سے بچایا اور اسے ایک تعمیری و اصلاحی تحریک میں تبدیل کر دیا۔
یہ امر تاریخ کا ناقابلِ انکار حصہ ہے کہ بیسویں صدی میں طبِ یونانی کے جتنے بھی اہم ادارے قائم ہوئے، ان کے پس منظر میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی فکری یا عملی جدوجہد ضرور موجود تھی۔ یونانی میڈیکل کالجوں، دواخانوں، تحقیقی مراکز اور طبی تنظیموں کے قیام میں اس تحریک نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ان اداروں نے صرف معالجین تیار نہیں کیے بلکہ ایک ایسا علمی ماحول پیدا کیا جس میں طبِ یونانی کو تحقیق، تدریس اور سماجی خدمت کے ساتھ جوڑا گیا۔ اگر یہ ادارے قائم نہ ہوتے تو شاید طبِ یونانی صرف خاندانی مطبوں اور محدود حلقوں تک سمٹ کر رہ جاتی۔
طبی صحافت کے میدان میں بھی اس تنظیم کی خدمات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ کسی بھی علم کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے مباحث زندہ رہیں، اس کے مسائل زیرِ بحث آئیں اور اس کے اہلِ علم ایک دوسرے کے ساتھ فکری تبادلہ کرتے رہیں۔ "نوائے طب و صحت” اور "لودھی رسالہ” جیسے جرائد نے یہی کردار ادا کیا۔ ان رسائل نے طبِ یونانی کو ایک علمی وقار بخشا، تحقیق کے رجحان کو فروغ دیا اور نئی نسل میں اس احساس کو بیدار کیا کہ یہ نظامِ طب محض روایت نہیں بلکہ ایک زندہ علمی حقیقت ہے۔ آج جب ہم علمی زوال کی شکایت کرتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ماضی میں انہی رسائل نے فکری بیداری کی وہ شمع روشن رکھی جس کے بغیر طبِ یونانی کا علمی تسلسل برقرار نہ رہ سکتا تھا۔
آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی ایک بڑی خدمت یہ بھی ہے کہ اس نے طبِ یونانی کو محض انفرادی معالجین کے دائرے سے نکال کر ایک ادارہ جاتی اور قومی مسئلہ بنایا۔ مختلف ریاستوں میں یونانی ڈائریکٹوریٹس کے قیام، سرکاری سرپرستی کے حصول اور طبی پالیسیوں میں طبِ یونانی کی شمولیت کے لیے جو جدوجہد کی گئی، وہ اس تحریک کے بغیر ممکن نہ تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی نظامِ طب کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے ریاستی سطح پر قانونی، تعلیمی اور انتظامی تحفظ حاصل نہ ہو۔ کانفرنس نے یہی شعور پیدا کیا کہ طبِ یونانی کو محض ماضی کے فخر کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت کے طور پر پیش کیا جائے۔
آزادی کے بعد حکیم عبدالحمید صاحب کا یہ ایک عظیم اور ناقابلِ فراموش کارنامہ تھا کہ انہوں نے نہ صرف آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے احیاء و استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ تقریباً نصف صدی تک خلوص، محنت اور حکمت کے ساتھ اس کی آبیاری بھی کرتے رہے۔ ان کی دور اندیش قیادت، تنظیمی بصیرت اور طبِ یونانی سے بے لوث وابستگی نے کانفرنس کو ایک مضبوط علمی و فکری تحریک میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے طبِ یونانی کے فروغ، ادارہ سازی، تحقیق اور طبی تعلیم کے میدان میں ایسی بنیادیں قائم کیں جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ درحقیقت ان کی شخصیت اس حقیقت کی روشن مثال تھی کہ اگر قیادت میں اخلاص، وژن اور عملی حکمتِ عملی موجود ہو تو ایک علمی تحریک نہ صرف زندہ رہ سکتی ہے بلکہ نئے دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی معنویت بھی برقرار رکھ سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ طبِ یونانی کی قوت صرف اس کے نسخوں یا ادویات میں نہیں بلکہ اس کے اخلاقی اور انسانی تصور میں مضمر ہے۔ جدید دنیا میں طب رفتہ رفتہ ایک تجارتی صنعت بنتی جا رہی ہے جہاں علاج اکثر سرمایہ کاری، منافع اور کارپوریٹ مفادات کے تابع ہو جاتا ہے۔ اس ماحول میں طبِ یونانی انسان دوستی، خدمتِ خلق اور اخلاقی ذمہ داری کا وہ تصور پیش کرتی ہے جس میں معالج کو محض ایک پیشہ ور نہیں بلکہ انسانیت کا خادم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب اور دیہی طبقات آج بھی اس نظام پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہ اس میں صرف دوا نہیں بلکہ اپنائیت، ہمدردی اور اخلاقی تعلق محسوس کرتے ہیں۔ آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس نے ہمیشہ اس روح کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور یہی اس کی اصل معنوی قوت ہے۔
لیکن اگر ہم صرف ماضی کی عظمت بیان کرتے رہیں اور حال کی کمزوریوں سے آنکھیں چرا لیں تو یہ دیانت داری نہیں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج طبِ یونانی ایک نئے بحران سے گزر رہی ہے۔ یہ بحران صرف بیرونی سازشوں یا سرکاری بے توجہی کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی کمزوریوں کا بھی حاصل ہے۔ جدید تحقیق میں کمزور شرکت، معیاری سائنسی مطالعات کی کمی، ادارہ جاتی بدانتظامی، گروہ بندی، ذاتی مفادات اور بعض اوقات علمی جمود نے اس نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض حلقے آج بھی طبِ یونانی کو صرف ماضی کے فخر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔ علم کی دنیا میں محض دعوے نہیں چلتے، وہاں تحقیق، تجربہ، اعداد و شمار اور سائنسی استدلال کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر طبِ یونانی کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس نظام کی بقا صرف نعروں سے ممکن نہیں۔ محض یہ کہہ دینا کہ "طبِ یونانی عظیم ہے” کافی نہیں، بلکہ اس عظمت کو عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا۔ جدید تحقیق، معیاری تعلیم، مضبوط ادارے، جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی معیار کی دوا سازی اور سائنسی ابلاغ کے بغیر کوئی بھی طبی نظام عالمی سطح پر اپنا مقام برقرار نہیں رکھ سکتا۔
اسی تناظر میں طبی کانفرنسوں کی اہمیت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔ یہ اجتماعات محض رسمی تقاریب نہیں بلکہ فکری تجدید کے مراکز ہونے چاہییں۔ یہاں محققین، اساتذہ، طلبہ اور معالجین کو اس بات پر سنجیدہ غور کرنا چاہیے کہ طبِ یونانی کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیسے کیا جائے۔ نئی بیماریوں، نفسیاتی مسائل، ماحولیاتی تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی نے صحت کے میدان میں نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ اگر طبِ یونانی ان مسائل کے حل میں اپنی معنویت ثابت کر دے تو دنیا خود اس کی طرف متوجہ ہوگی۔
یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ آج دنیا میں ہولسٹک اور نیچرل میڈیسن کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لوگ اب صرف فوری آرام دینے والی ادویات نہیں چاہتے بلکہ وہ ایسے نظامِ علاج کی تلاش میں ہیں جو ان کی مجموعی صحت، ذہنی سکون اور طرزِ زندگی کو بہتر بنا سکے۔ طبِ یونانی کے اندر یہ صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہے، مگر اس صلاحیت کو منظم انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس نظام کو جدید سائنسی تحقیق کے ساتھ مربوط کر دیا جائے، اس کے اصولوں کو بین الاقوامی زبان میں بیان کیا جائے اور اس کے نتائج کو تحقیقی جرائد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا تک پہنچایا جائے تو یہ عالمی سطح پر ایک مؤثر طبی متبادل بن سکتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ حکیم عبد الحمید جیسی شخصیات کا کردار ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ صحیح فکر اور منظم جدوجہد کے ذریعے ان میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ دوا سازی کے میدان میں معیار، صفائی، تحقیق اور سائنسی اصولوں کی پابندی نے یونانی فارماسیوٹیکل صنعت کو ایک نئی شناخت دی۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جسے آج مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
موجودہ دور میں حکیم محمد خالد صدیقی جیسے افراد امید کی علامت ہیں۔ انہوں نے تنظیم سازی، بیداری اور فکری رابطے کے میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابلِ تحسین ہیں۔ لیکن اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اس وقت طبِ یونانی کو محض منتظمین نہیں بلکہ ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو ایک واضح وژن رکھتے ہوں، جو نوجوان نسل کو متحرک کر سکیں اور جو اس تحریک کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق منظم کر سکیں۔ قیادت محض تقریروں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ قربانی، اخلاص، استقامت اور عملی حکمتِ عملی سے وجود میں آتی ہے۔
آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اہلِ طب منتشر ہیں۔ ذاتی مفادات، تنظیمی اختلافات اور محدود سوچ نے اس عظیم نظام کو کمزور کیا ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو خطرہ ہے کہ طبِ یونانی رفتہ رفتہ محض ایک ثقافتی یادگار بن کر رہ جائے گی۔ اس لیے وقت کا سب سے بڑا تقاضا اتحاد ہے۔ حکماء، اساتذہ، محققین اور طلبہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ کسی معمولی پیشے سے وابستہ نہیں بلکہ ایک عظیم علمی اور تہذیبی امانت کے محافظ ہیں۔
طبِ یونانی کا مستقبل مایوس کن نہیں بلکہ امکانات سے بھرپور ہے، بشرطیکہ اس کے ماننے والے حقیقت پسندانہ اور عملی رویہ اختیار کریں۔ دنیا آج ذہنی دباؤ، ماحولیاتی آلودگی، غیر متوازن غذاؤں اور مصنوعی طرزِ زندگی کے باعث نئی بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔ ایسے میں طبِ یونانی کا نظریۂ اعتدال، قدرتی علاج، غذائی اصلاح اور مزاجی توازن انسانیت کے لیے ایک بڑی ضرورت بن سکتا ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم اس نظام کو تحقیق، تعلیم اور جدید ابلاغ کے ساتھ جوڑیں گے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تہذیبیں صرف تلواروں یا معیشت سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اپنے علوم، اپنے فکری نظام اور اپنی اخلاقی بنیادوں سے باقی رہتی ہیں۔ طبِ یونانی ہمارے تہذیبی شعور کا ایک زندہ حصہ ہے۔ اس کی حفاظت دراصل ایک علمی روایت، ایک انسانی فلسفے اور ایک اخلاقی تصورِ خدمت کی حفاظت ہے۔ آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی ایک صدی سے زائد جدوجہد اسی حقیقت کی علامت ہے کہ اگر اخلاص، تنظیم اور بصیرت موجود ہو تو نامساعد حالات میں بھی ایک تحریک زندہ رہ سکتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کے کارناموں پر فخر ضرور کریں، لیکن حال کے تقاضوں کو بھی پوری سنجیدگی سے سمجھیں۔ ہمیں تحقیق کو عبادت کا درجہ دینا ہوگا، تعلیم کو معیاری بنانا ہوگا، نوجوان نسل کو اعتماد دینا ہوگا اور طبِ یونانی کو جدید دنیا کی زبان میں پیش کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے یہ ذمہ داری ادا کر لی تو طبِ یونانی صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک باوقار، مؤثر اور انسان دوست طبی نظام کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم داخلی انتشار، فکری جمود اور غیر عملی نعروں میں الجھے رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ یا تو ہم اس عظیم ورثے کو نئی زندگی دے کر آنے والی نسلوں تک منتقل کریں گے، یا اپنی غفلت اور انتشار کے باعث اسے تاریخ کے اندھیروں میں کھو دیں گے۔ آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جب قومیں اپنے علمی ورثے کی حفاظت کے لیے متحد ہو جائیں تو حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، امید کے چراغ بجھتے نہیں۔ طبِ یونانی آج بھی روشنی، شفا، اعتدال اور انسان دوستی کا ایک عظیم پیغام رکھتی ہے، اور اگر اہلِ طب نے اخلاص، اتحاد اور بصیرت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھی تو یہ پیغام آنے والے زمانوں میں بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

