شاعر اگر ہوش مند ہو تو اپنے شعور کو حاضر رکھ کر شعر کہتا ہے۔ اس لئے کہ شعر کہنا کریئیشن یعنی تخلیقیت کا ایک بہترین عمل ہے۔ نفسیات کے مطابق شاعر اپنے اس عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے شعور، تحت الشعور اور لاشعور کے عمل سے برسر پیکار رہتا ہے۔ تخلیقی میکانزم کا یہ ایک ایسا پروسیس ہے جس سے ہر ایک تخلیق کار خواہ وہ کسی بھی زمرے کا ہو، خود کو گزارتا ہے۔ ظفر صدیقی ایک شاعر کا نام ہے، جو دبستان عظیم آباد کی ترجمانی کرنے والا صوبہ بہار کے ضلع مظفرپور، پوکھڑیرا اور اب سیتا مڑھی میں 10/نومبر 1956 عیسوی کو پیدا ہوا۔ ان سے منسوب مندرجہ ذیل تصانیف ہیں۔ اس میں ’’بعد از خدا، نعتیہ مجموعہ، سال اشاعت 2008 / لہجہ ہمارا، غزلوں کا مجموعہ، سال اشاعت 2008 / چہرہ بولتا ہے، شعری مجموعہ، سال اشاعت 2018 اور پیاس کا لشکر‘‘ بہ زبان ہندی تخلیقیت کی عمدہ مثالیں ہیں۔ اول الذکر تصانیف ناشر علمی مجلس بہار سے اور آخرالذکر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی اور شعری اکیڈمی بھوپال سے شائع ہوئی ہیں۔ اردو شعر و ادب کے قارئین نے ظفر صدیقی کو مشہور اور مقبول شاعر کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ میرے سامنے ان کی شاعری، شاعرانہ خصائص اور حالات زندگی کے چند انمٹ نقوش بھی ہیں، اس سے معلوم پڑتا ہے کہ ظفر صدیقی واقعی شاعری کرتے ہوئے شعور، تحت الشعور اور لاشعور میں ڈوبتے، ابھرتے رہے ہیں اور اپنے اس عمل سے ہندوستان کی تہذیبی، ثقافتی، مادی اور ارضی حقائق سے استخراج و استدلال کرتے رہے ہیں۔ میں نے مطالعہ کرتے ہوئے موصوف کو ’’طنزیہ اسلوب کا انوکھا شاعر‘‘ گردانا ہے۔
میرے پاس اسکا جواز بھی ہے۔ لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ طنزیہ اسلوب کسے کہتے ہیں اور ظفر صدیقی کی شاعری میں طنزیہ اسلوب سے کیا مراد ہے۔ موصوف، جب اپنے اس انداز کو اظہار کا جامہ پہناتے ہیں تو ان کی شاعری میں کہاں کہاں ’طنزیہ اسلوب‘ معلوم پڑتا ہے اور یہ اردو زبان و ادب کے لئے کس حد تک انوکھا ہے۔
طنزیہ اسلوب (SatiricalStyle) انداز پیشکش کا ایسا طریقہ جو سماج کی ناہمواریوں پر ضرب کرتا ہو۔ بہ الفاظ دیگر طئے شدہ حقائق کی طرف بلانے کے انداز کو طنزیہ اسلوب کہیں گے۔ ادبی اصطلاح میں شاعر کے اظہار کا ایسا طریقہ جس سے انکی شناخت طئے کیا جا سکے۔ اس طرز کا اطلاق سماجی، سیاسی یا اخلاقی بُرائیوں، کمزوریوں اور تضادات کو طنز و مزاح کے ذریعے اجاگر کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ہنسانا نہیں، بلکہ اصلاح، تنقید اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ اس میں شائستہ زبان، گہرے مشاہدے اور طنزیہ جملوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ طنزیہ اسلوب کی اہم خصوصیات معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ اس میں مزاح کا پہلو بعض دفعہ مضمر ہوتا ہے اس لئے کہ اس سے طنز کو تلخ بنانے کے بجائے مزاح کے ساتھ ملا کر پیش کیے جانے میں باتیں ناگوار نہ لگے اور باتیں دل پر اثر کرے۔ یہ براہِ راست لعن طعن کے بجائے اشاروں، کنایوں اور رمز و ایمائیت سے کام لیتا ہے۔ طنز نگار معاشرے کے چھپے ہوئے نقائص اور تضادات کو عیاں کرتا ہے۔ اردو میں اکبر الہٰ آبادی، رشید احمد صدیقی، رضا نقوی واہی، اسرار جامعی، پطرس بخاری، کنہیا لال کپور، انجم مانپوری، مشتاق احمد یوسفی، مجتبٰی حسین اور اعجاز علی ارشد جیسے ادیبوں نے اس اسلوب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ واضح رہے کہ طنزیہ اسلوب اور مزاحیہ اسلوب کے مابین افتراق بھی ہیں۔ یہ فرق طنز اور مزاح کے لفظی خصائص ہیں۔ اس لئے کہ طنز (Satire) منفی پہلوؤں پر تنقید کرتا ہے، جبکہ مزاح (Humour) صرف ہنسانے اور تفریح کے لئے ہوتا ہے، لیکن ادب میں دونوں کے امتزاج سے تخلیقی میکانزم کا ہیولی ادبی حسن کو وا کر دیتا ہے۔
دبستان عظیم آباد میں یہ انداز صرف رضانقوی واہی اور اسرار جامعی کے یہاں نظر آتا ہے۔ ظفر صدیقی اس سے کوسوں دور ہیں۔ انکے یہاں اشعار میں طنز کا پہلو تو ہے لیکن مزاح نہیں۔ موصوف جا بہ جا اس سے گریز کرتے ہیں اور اپنے ذہنی اعصاب پر سنجیدگی کو غالب رکھتے ہیں۔ یہ غلبہ اس قدر ہے کہ کلام کی موزونیت، صنائع بدائع کا پاس اور لحاظ شعری واقعیت اور ماجرائیت پر ٹھہر جاتا ہے۔ ایسا اس لئے ہوا کہ دبستان عظیم آباد کی ترجمانی کرتے ہوئے موصوف نے رضا نقوی واہی یا اسرار جامعی کے طرز کو نہیں اپنایا، بلکہ سماج میں اخلاقی، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی برائیوں کو غیر فطری اور غیر حقیقی جانا، اور اس سے گریز کرنے کی تلقین میں دستور ادب سے قدرے دور ہوگئے۔ موصوف کا یہ انداز، غزلیہ شاعری میں اِنہیں انفراد و انجماد عطا کرتا ہے۔ اسی طرح جس طرح ہندوستان میں مولوی اور پنڈت معاشرے میں سماجی، اخلاقی، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی برائیوں کو جانتے ہیں اور بہت سنجیدگی کے ساتھ اس سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مزاح کے بغیر شعر کہنے والا ظفر صدیقی کا انداز منفرد اور انوکھا ہے۔
آئیے انکے مجموعوں سے بطور نمونہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
وہ پہلی شان و شوکت جا چکی ہے
جو عزت تھی وہ عزت جا چکی ہے
بزرگوں کا جنازہ اٹھ گیا ہے
ترے گھر سے شرافت جا چکی ہے
عداوت پل رہی ہے سب کے دل میں
زمانے سے محبت جا چکی ہے
دشمن قوم ہیں قوموں کی امامت والے
مفت بدنام ہیں دنیا میں سیاست والے
سب کچھ تھا جس کے پاس خدا کا دیا ہوا
اوّل نہ آ سکا وہ سخاوت کے ڈور میں
اک میں نمود و نام کی خاطر نہیں اٹھا
احباب دوڑتے رہے شہرت کی ڈور میں
نفرت کی آگ جس نے لگائی گلی گلی
وہ بھی ہیں پیش پیش محبت کی ڈور میں
میں نے قدم خلاف قبیلہ اٹھایا ہے
زحمت نہیں اٹھائی خطرہ اٹھایا ہے
وہ شخص کہہ رہا تھا کہ رشوت حرام ہے
پیسہ کہاں سے آیا کہ بنگلہ اٹھایا ہے
سب کو روکیں گے غریبوں کا لہو پینے سے
ہم کسی کو بھی درندہ نہیں ہونے دیں گے
سبھوں سے مختلف جذبہ ہمارا
الگ تیور الگ لہجہ ہمارا
زمانہ داد میرے فن کی ایک دن دے گا
کہ تیرگی سے اجالے نچوڑتا ہوں میں
روکنا مشکل ہے مجھ کو میں ہوں لفظ احتجاج
چپ رہیں گے لب تو نظروں سے بیاں ہو جاؤں گا
مجھ پہ الزام رکھا جاتا ہے غداری کا
میرا لہجہ ہوا جاتا ہے بغاوت والا
مصلحت کوش ہیں سب ہونٹ سِئے بیٹھے ہیں
کون اس شہر میں قاتل کا پتہ دیتا ہے
زبان جس کو چھپانا چاہتی ہے
وہ ساری بات چہرہ بولتا ہے
دشمن ہو اگر حق پر تو ہم ساتھ ہیں اس کے
بھائی جو غلط ہو تو حمایت نہیں کرتے
جب سے سنبھالا ہوش سکندر بنے رہے
محکومیت میں ہم نے گزارا نہیں کیا
میری پوشاک پر کیوں ہنس رہا ہے
یہ اپنی ہے تری اترن نہیں ہے
فصیل اچھی نہیں لگتی یہ در اچھا نہیں لگتا
وہ دہشت ہے مرے گھر میں کہ گھر اچھا نہیں لگتا
سجاتی ہے لہو سے مانگ اپنی
بہت آگے سیاست جا چکی ہے
میں ہر منظر سے کٹتا جا رہا ہوں
یہاں کوئی سیاست کر رہا ہے
یہ مذکورہ اشعار ظفر صدیقی کے ہیں جو ان کے شعری مجموعے سے بطور نمونہ درج کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ایسے کئی اشعار ہیں جسے میں نے باعث طوالت درج نہیں کیا ہے اس لئے کہ ابتدا میں ہی ان کی تصانیف، سال اشاعت اور ناشر سے متعلق باتیں مندرج ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایک ذمّہ دار قاری کے لئے معلومات سے متعلق جب کسی طرح کے اشکال پیش نظر ہوں تو اسے اپنی ذاتی لائبریری سے نکال کر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ افکار و نظریات کے سلاسِل کبھی بھی حرف آخر نہیں۔
یوں بھی ظفر صدیقی کے افکار و آرا سے متعلق باتیں بہت مشہور بھی نہیں، صرف ان کی تصانیف میں چند ایسے اسکالرز ہیں، جنہوں نے خامہ فرسائی کی ہیں۔ اس میں انور پاشا، علیم اللہ حالی، طلحہ رضوی برق اور ظفر انصاری کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس میں میری معلومات کے لئے آسانیاں یہ ہوئیں کہ ظفر صدیقی کو ان لوگوں نے جس طرح دیکھا، سمجھا اور پرکھا میرا مطالعہ اس سے قدر جدا ہے۔
ظفر صدیقی 1980 عیسوی کے بعد کی غزلیہ شاعری میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اسے کچھ لوگ مابعد جدیدیت اور جدیدیت کے رد عمل کی توسیع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس میں خورشید اکبر، عالم خورشید، خالد عبادی، جمال اویسی، فرحت احساس، طارق متین اور شمیم قاسمی جیسے لوگ سر فہرست نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی شاعری میں جن موضوعات کو برتنے اور پیش کرنے کی کوششیں کی ہیں، اصل میں اس کا رشتہ ترقی پسندانہ مزاج کی تبدیلیوں سے بہت گہرا رہا ہے۔ بہ الفاظ دیگر مابعد جدید ایّام کے شاعرانہ خصائص کی بنیاد ترقی پسندانہ مزاج کی کروٹوں میں پوشیدہ ہیں۔
یہ زمانہ ہندوستان میں تحریک آزادی، غلامانہ زندگی سے بیزاری، انگریزوں کے ذریعے نظریاتی اور صنعتی یلغاریں، سیاسی اقتدار کے لئے علاقائی کشمکش، دیہی اور شہری زندگی کے مابین امتیازات، ذہنی پسماندگی، عوام کا عالمی شعور و آگہی سے بے خبری، مذہبی تعلیمی اور اخلاقی ذرائع پر مولویوں، پنڈتوں اور پادریوں کا غیر ضروری قبضہ یہ سب ایسے نکات ہیں، جس کے رد عمل میں یا اس کے انتظار میں مختلف طرز کے سماجیانے کا عمل شروع ہوا۔ ابتدا میں یہ عمل اور اسکے اثرات بہت پھیکا اور پُھس پُھسا نظر آئے لیکن جدید اور ما بعد جدید کے ایّام میں اسکے اثرات بہت گہراتا چلا گیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ سماج کے اندرون تک نئی نسل کے نجی مسائل اور اس کے تار و پود کی بنیاد میں بھی متذکرہ نکات مضمر اور پوشیدہ ہیں۔ ظفر صدیقی کی شاعری میں بھی اس کے اثرات ترتیب پائے ہیں۔اسی لئے موضوع کے اعتبار سے ان کے یہاں جلوہ صدرنگ کا پہلو نظر آتا ہے۔
عالمی تبدیلیوں کے پیش نظر ایشیا اور پوروپ کا سیاسی منظر، منقسم ہندوستان کے نقشے پر آج تگ سرگرم ہے۔ سماج میں آئے دن جو تبدیلیاں نظر آتی ہیں اس کی بنیاد دراصل وہی ہے۔ تبدیلیوں کے زیر اثر معاشرے نے جس طرح کروٹیں لی ہیں اس کے واضح نقوش پورے ہندوستان میں ہیں۔ 1980 تک اس کے اثرات ایک چھتناور پیڑ کی طرح چھوٹے، چھوٹے شہروں، گاؤں اور قصبوں میں وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے گئے ہیں۔ آپکو میری یہ باتیں پہیلی لگتی ہونگی۔ لیکن تاریخی روایت کی بنیاد پر حقائق سے آنکھیں چار کرنا سنجیدگی کی علامت ہے۔ اس تعلق سے ہندوستان کا حالیہ منظر، عصری حسّیت اور مینوفیکچرنگ ہب جیسی سوسائٹی کے رنگ و مزاج کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ تعلیمی، مذہبی اور تنظیمی ادارے سیاسی اقتدار کے آگے جمورے بنے ہوئے ہیں۔ صنعتی کارخانوں میں نقل مکانی، مہاجرین کے کرب و کیف اور خاندانوں سے دوری کی داستانیں سر گرم رہتی ہیں۔ انگریزوں سے عطا کیا ہوا ذہنی غلامی، مغربی تہذیب کی یلغاریں اور اس کے ردعمل سے اخلاق و اطوار کی تنزلی یہ سب سماجی اور معاشرتی سطح پر رقصاں اور پیچاں ہیں۔ بظاہر یہ چھوٹی اور فروعی باتیں ہیں، لیکن ارباب عصر کا ایک بڑا طبقہ اس کی جسامت کو تسلیم کرتا ہے۔ ہندوستانی سماج کا حالیہ منظر بڑا ہولناک اور جان لیوا ہوا ہے۔ یہ سب افکارو آرا ہیں جس سے شاعر ظفر صدیقی شعور، تحت الشعور اور لاشعور کے خانوں میں رکھ کر ایک مدت سے تجزیہ کر رہے تھے اور اب شعری تصانیف کی شکل میں ”چہرہ بولتا ہے” اور ”لہجہ ہمارا” میرے سامنے ہے۔ اسے ہم ظفر صدیقی کا آرٹ، فن پارہ اور شاعرانہ خصائص کہتے ہیں۔
معاصر شعر و ادب میں ایسے شاعر بھی ہوئے جنہوں نے صرفی، فعلی، مفعولی اعتبار سے عبارت آرائی اور لفظیات سے متعلق تراکیب پر بہت زیادہ سوچنے سمجھنے کی کوشش نہیں کیا، لیکن انداز پیشکش اور تخلیقی میکانزم کے پروسیس سے ایسے گُل بوٹے کھِلائے ہیں کہ قارئین آج بھی لطف اٹھاتے ہیں۔ شاعری میں بھی شاعرانہ حسن کا احساس قارئین کے ذہن پر گزرتا ہے۔ ظفر صدیقی کی شاعری چونکہ غزلیہ شاعری سے عبارت ہے اسلئے انکے یہاں بھی غزلیہ اشعار سے متعلق پاس، لحاظ، اصول اور دستور کا ہونا ضروری سمجھا گیا۔ لیکن ظفر صدیقی نے بھی اپنے چند معاصرین کے پیش نظر وضاحت و صراحت سے کام لیا اور بغیر قیل و قال کے اپنے ارد گرد معاشرے کا جائزہ لیا اورحرکت پذیر عناصر کو عبارت آرائی کا ایسا جامہ عطا کیا کہ جس میں مزاح کے بغیر، طنزیہ اسلوب کا سنجیدہ آہنگ قارئین کی سماعت سے ٹکرانے کی جرات کرتا ہے۔ مثال کے طور پر شاعری میں عبارت آرائی اور تخلیقی میکانزم کے تراکیب سے ڈکشن اور دائمنشن کو دیکھیں!
چہرہ بولتا ہے/ حمایت نہیں کرتے/ سکندر بنے رہے/ گزارا نہیں کیا / میری پوشاک پر/ کیوں ہنس رہا ہے / اترن نہیں ہے/ فصیل اچھی نہیں لگتی/ در اچھا نہیں لگتا/ میرے گھر میں دہشت ہے/ گھر اچھا نہیں لگتا/ سیاست کا آگے نکلنا / قدم کا خلاف قبیلہ اٹھانا/ زحمت پر خطرہ کو ترجیح دینا/ رشوت حرام ہے / بنگلہ اٹھایا ہے/ لہو پینے سے روکنا / درندہ ہونے سے باز رکھنا / مختلف جذبہ ہمارا / الگ لہجہ ہمارا / تیرگی سے اجالے نچوڑنا / میں ہوں لفظ احتجاج / نظروں سے بیاں ہو جاؤں گا / لہجہ کا باغی ہونا /مصلحت کوش ہونا/ ہونٹ کا سِیے بیٹھنا/ قاتل کا پتہ بتانا/ شان و شوکت کا جانا/ بزرگوں کا جنازہ اٹھنا / گھر سے شرافت کا جانا / عداوت کا پلنا/ قوموں کی امامت والے/ قوم کا دشمن ہونا/ سیاست والے/ خدا کا دیا ہوا/ سخاوت کے ڈور میں /شہرت کی ڈور میں/ محبت کے ڈور میں/ نام و نمود کی خاطر ۔
اس میں موضوعات کے استخراج و استدلال کے امکانات مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن میں یہاں آپ پر جو واضح کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ اسم، ضمیر، حاضر اور متکلم کے انداز پیشکش سے ماجرائیت اور واقعیت کا ایسا منظر خلق ہوتا ہے جس سے شاعری بالخصوص غزلیہ شاعری کا حسن مجروح ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ظفر صدیقی کا کلام پڑھوانے کے لائق ہے،تو اس کا جواز بھی ہے۔ در اصل انکے کلام میں صرفی، نحوی، فعلی، فاعلی اور مفعولی اعتبار سے لفظوں کے انتخاب میں کوئی نیا پن نہیں ہے، بلکہ عامیانہ اور بہاری پن ہے۔ اس کے علاوہ تخلیقی پروسس اور اس کے میکانزم میں انوکھے انداز کا احساس ہوتا ہے۔ مصادر کے استعمال میں صوتیات کے زیرو بم پوشیدہ ہیں۔ یہ طرز بعض دفعہ اپنے پیش رو سے مختلف نظر آتے ہیں۔ تشبیہات و استعارات میں حد درجہ صفائی اور ستھرائی ہے۔ بحروں کے انتخاب کا انداز قارئین کے لئے دلچسپی کا ذریعہ ہے۔ اس لئے کہ نغمگی، موسیقی اور کیف و آہنگ کے آمیزش سے غزلیہ موڈ کا حسن بہتر واقع ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر صدیقی کا کلام قارئین سے پڑھوانے کی طاقت رکھتا ہے۔ میرا خیال ہے یہ ان کے انوکھے انداز پر دال ہے۔ظفر صدیقی غزلیہ شعری روایت سے آشنا ہیں۔ ان کی آشنائی کا یہ ثبوت ”لہجہ ہمارا” کہ حرف آغاز میں درج ملتا ہے۔ اس سے استنباط کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ ظفر صدیقی شاعری کرتے ہوئے پرعزم نظر آتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ:
’’ جس صنف کو میر، غالب، اقبال اور فیض جیسے عظیم شعراء نے تابانی بخشی ہو مجھ جیسے کم مایہ کا شمار کس قطارمیں ہوگا لیکن اس کے باوجود میں نے اپنے دل میں یہ خوش فہمی پالی کہ اس سمت میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور کروں گا اور اسی جذبے کے تحت میں نے اپنی شاعری کی ابتدا کی اور نئے رنگ و آہنگ اور نئے لہجے کی باز یافت میں لگا رہا; کیونکہ مضامین کے اعتبار سے غزل جیسی فرسودہ و پامال صنف میں کچھ نیا کر دکھانا ناممکن کی حد تک مشکل ہے اس میں اپنی پہچان بنانے کا میری سمجھ سے ایک ہی راستہ ہے کہ لہجے میں ندرت اور رنگ و آہنگ میں جدت پیدا کی جائے‘‘ (لہجہ ہمارا :ص ۶)
دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ :
’’شاعری کو زندگی کی توانائیوں سے بھرپور ہونا چاہیئے۔ وہ شاعری جس کے سینے میں زندگی کی دھڑکن موجود نہ ہو میرے نزدیک کامیاب شاعری نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے اشعار بجھے ہوئے جذبات اور منفی قدروں کے امین و پاسدار ہرگز نہیں، ان میں اثباتیت اور رجائیت کے عناصر ملتے ہیں جو زندگی کو روشن مستقبل کی بشارت دیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ بڑی شاعری میں افہام و تفہیم اور ترسیل کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ میں نے حقیقت کا اظہار دو ٹوک انداز میں کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میرے شعروں میں تند و تیز لہجے کی آنچ کچھ زیادہ ہو گئی ہے‘‘ (لہجہ ہمارا:ص ۷)
معنوی سطح پر غزلیہ شاعری کو انتشار و افتراق زیب دیتا ہے لیکن شاعرانہ مزاج و آہنگ مطلع، قافیہ اور ردیف کے ساتھ اختتام تک ایک ہی موڈ میں پائے تکمیل کو پہونچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیف و آہنگ کی سطح پر بعض شارحین غزلیہ موڈ کو یکسانیت اور باہمی نسبت کے تناظر میں شاعر اور شاعری کے لئے کامیابی کی دلیل بھی سمجھتے ہیں۔ اس تناظر میں انور پاشا رقمطراز ہیں کہ:
’’ غزل میں فکری، عدم وحدت اور عدم تنظیم کے باوجود موڈ کی سطح پر وحدت لازمی ہے اور یہی موڈ غزل کے متفرق اشعار میں باہم ربط پیدا کرنے کا کام کرتا ہے۔ غزل کے اس موڈ کے تعین میں مطلع کا بنیادی رول ہوتا ہے۔ مطلع سے ہی قاری اور سامع کو پوری غزل کی فکری ساخت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ظفرصدیقی کی غزلوں میں یہ صنف نمایاں طور پر موجود ہے ان کی بیشتر غزلوں کا مطلع قاری پر خوشگوار تاثر قائم کرتا ہے اور پوری غزل پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے‘‘
(لہجہ ہمارا:ص۱۳)
لہذا، میں نے ذاتی طور پر ظفر صدیقی کی غزلوں کا مطالعہ کیا اورخوشگواریت سے ہمکنار ہوا۔ آخر میں، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ظفر صدیقی کے یہاں بحر اور عروضی نظام سے متعلق اشکال نہیں ہیں۔ ان کے یہاں غیر مروج تراکیب، ثقیل قافیوں اور مشکل ردیفوں کا استعمال نہیں ملتا ہے۔ اس طرح ان کی شاعری میں عصری حسّیت کے ساتھ معنوی اور موضوعی خوبیوں کا انوکھا امتزاج ملتا ہے۔ انہوں نے شاعری کے ذریعے معاشرے کی تنقید جس انداز سے کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔
٭٭٭
Dr. Mustafiz Ahad Arfi
Assistant Professor
Department of Urdu
Langat Singh College
Muzaffarpur 842001
Mob:- 9472079131
ahadmustafiz@gmail.com
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

