آئندہ کی شاعری: ایک مشعلِ راہ – صابر
مبصر: صابر، اورنگ آباد 9890449515
اردو شاعری بالخصوص غزل کے تاریخی اور ارتقائی سفر پر گہری اور تنقیدی نظر رکھنے والے ناقدینِ فن، موجودہ سوشل میڈیائی دور کو اردو غزل کے ایک سنگین بحرانی عہد سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔ کلاسیکی اور جدید اردو شاعری کا سرسری مطالعہ کیا جائے تو اردو غزل حسن و عشق کے محدود دائروں سے نکل کر فلسفہ، اجتماعیت، سیاسی شعور، اور انسان کے داخلی و خارجی وجود کے پیچیدہ مسائل کا احاطہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ولیؔ اورنگ آبادی، سراجؔ اورنگ آبادی، میرؔ تقی میرؔ، مرزا غالبؔ، داغؔ دہلوی، علامہ اقبالؔ، فیضؔ احمد فیضؔ، فراقؔ گورکھپوری، ناصرؔ کاظمی اور عرفانؔ صدیقی سے محمد علوی اور ظفرؔ اقبال تک غزل کے موضوعات کا دائرہ مسلسل وسعت پذیر رہا ہے لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا کی تیز رفتاری نے غزل کے اس تعمیری ارتقا کے سفر کو یو ٹرن دے دیا ہے۔ آج غزل کے موضوعاتی تنوع کا دائرہ تیزی سے سکڑ رہا ہے اور شاعرانہ کاوشیں محض سطحی رومانوی تجربات، لچھے دار فقرہ بازی اور جذباتی لفاظی کے گرد چکر کاٹنے تک محدود ہو گئی ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل منظر نامے میں حسن و عشق، وفا و جفا، ہجر و وصال جیسے روایتی موضوعات یا سیاسی و سماجی ہنگاموں پر محض دو دو سطریں موزوں کر کے اسے "غزل کی شاعری” کا نام دے دیا جاتا ہے حالانکہ اہلِ نظر کے نزدیک غزل گوئی کا فن صرف لفظی بازی گری یا سستے اور ہنگامی جذبات کے سطحی اظہار کا نام نہیں ہے بلکہ انسانی رویوں اور کائنات کے مظاہر کی باریک بین عکاسی کا متقاضی ہے۔ یہ فن شاعر کے داخلی و خارجی احساسات کو ایک گہرے، متوازن اور پختہ شعور کے ساتھ پیش کرنے سے عبارت ہے۔ غزل گوئی میں کمال حاصل کرنے کے لیے زبان و بیان پر عبور کے ساتھ ساتھ سنجیدہ فنی ریاضت بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ موجودہ نسل کے بیشتر شعرا ان بنیادی فنی تقاضوں، مطالعے کی گہرائی، اور علمی مشقت سے ناقابلِ عبور فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیائی پلیٹ فارمز پر کسی شعر کا دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو جانا اور اس پر سیکڑوں لائکس اور کمنٹس کا مل جانا شاعر کو ایک عارضی خوش فہمی میں مبتلا تو کر سکتا ہے مگر ایسی سہل پسندی اور فوری داد کی خواہش کے بطن سے پائیدار ادب جنم نہیں لے سکتا۔ جو نوجوان شعرا اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے فوری داد و تحسین کی طمع میں اپنا قیمتی وقت ورچوئل مشاعروں اور آن لائن نشستوں میں ضائع کر رہے ہیں، ان کے لیے سلیم محی الدین کا شعری مجموعہ "آئندہ” ایک مشعلِ راہ ہے اور غزل کے شائقین کے لیے ایک گراں قدر تحفہ۔
"آئندہ” کے بیک کور پر درج ناشر کے نوٹ سے پتا چلتا ہے کہ سلیم محی الدین کا یہ دوسرا شعری مجموعہ یے۔ پہلا مجموعہ "وابستہ” تقریباً پچیس سال پہلے شائع ہوا تھا۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ "آئندہ” سلیم محی الدین کے پچیس سالہ تخلیقی سفر اور فکری مشقت کا نتیجہ ہے۔ مقدار پر معیار کو ترجیح دینے کا یہ مزاج ثابت کرتا ہے کہ سلیم محی الدین ہر سنجیدہ فنکار کی طرح شاعری کو ایک محترم فریضہ گردانتے ہیں اور سستی شہرت کے لیے مسلسل کتابیں چھاپنے کے بجائے ایک طویل خاموش ریاضت کے بعد اپنے تخلیقی تسلسل کو نئے اور توانا انداز میں پیش کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ایک چوتھائی صدی کے وقفے کے بعد منظر عام پر آنے والی یہ شعری پیشکش جہاں ایک باشعور انسان کے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے وہیں ایک کہنہ مشق شاعر کے فنی ارتقا کی گواہ بھی ہے۔
سلیم محی الدین نے انتہائی بالیدہ ذہنی اور فنی پختگی کے ساتھ حیاتِ انسانی کے تقریباً سبھی مانوس و کم مانوس امور، انسانی نفسیات، اور معاصر زندگی کی تلخیوں سے معاملہ کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ ان کی غزلیں پڑھتے ہوئے یہ حقیقت صاف محسوس کی جا سکتی ہے کہ اپنے خیالات کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے سے قبل وہ زبان و بیان کے تمام ممکنہ سانچوں کو پوری علمی توجہ اور دیانتداری کے ساتھ کھنگالتے ہیں۔ ان کا اسلوبِ بیاں بظاہر نہایت سادہ، شستہ، رواں اور پر لطف دکھائی دیتا ہے لیکن معنوی سطح پر اتنا ہی گہرا اور فکر انگیز بھی ہے۔ وہ اپنے اندرونی کرب اور ذاتی و اجتماعی جذبات کو ایک ایسی ہلکی پھلکی اور طمانیت بھری غزل میں تبدیل کر دیتے ہیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے نہایت سرعت سے پڑھنے والے کے ذہن و دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کا کلام موجودہ دور کے سہل پسند شعرا کو یہ باور کراتا ہے کہ کامیاب شاعری محض سطحی ذوق رکھنے والے افراد میں عارضی مقبولیت حاصل کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا مقدس اور ریاضت طلب فن ہے جو ادبی منظر نامے پر دیرپا اثر چھوڑ جاتا ہے لہٰذا سخت محنت اور گہرے فکری شعور کا تقاضا کرتا ہے۔ سلیم محی الدین عارضی مقبولیت اور دیرپا اثر کے اس فرق سے کماحقہ واقف ہیں اسی لیے "آئندہ” کے ایک ابتدائی صفحے پر ہمیں مرزا غالبؔ کا یہ فارسی شعر پڑھنے کو ملتا ہے:
کوکبم را در عدم اوجِ قبولی بودہ است
شہرتِ شعرم بہ گیتی بعدِ من خواہد شدن
(میرے ستارے کو عدم میں اوجِ قبول حاصل تھا
اس دنیا میں میری شاعری کی شہرت بھی میرے بعد ہی ہو گی)
آگے ایک شعر میں سلیم محی الدین نے اسی مضمون کو اپنے منفرد اسلوب میں اس طرح برتا ہے:
اگلی صدی میں جاگیں گے
ہم سوزِ آئندہ ہیں
نحوی اعتبار سے یہ شعر بھی نہایت سادہ لیکن معنوی لحاظ سے نہایت گہرا ہے۔ ادبی اور نفسیاتی، دونوں سطحوں پر درد کے جاگنے سے مراد دراصل لاشعور میں دبے ہوئے یا سوئے ہوئے غم کی بازافتاد ہے۔ یہ ایک تعلی آمیز مضمون ہے کہ اگرچہ عصرِ حاضر میں ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے لیکن اگلی صدی ہمارے نام اور فن کی معترف ہو گی۔ شاعر کا اپنی مکمل شاعری کو "سوز” قرار دینا اس لیے بھی اعتبار حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اردو شاعری بالخصوص غزل کی تنقیدی روایت میں "سوز” کلیدی اہمیت کا حامل تصور ہے جو عموماً "گداز” کے ساتھ ملا کر "سوز و گداز” کی کیفیت کے طور پر بکثرت سراہا جاتا رہا ہے۔ تعلی کے ایسے اشعار دراصل شعرا کے ایک ایسے احساس کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں وہ وقت کی بے رحمی کے سامنے اپنے فن کی ابدیت کا جشن مناتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان کا تخلیق کردہ ادب لازوال ہے۔ یہ فخریہ انداز دراصل ایک طویل فنی سفر کی کامیابی کا وہ اعلان ہے جو ایک پختہ کار شاعر اپنے حریفوں کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں کرتا بلکہ یہ اپنے فن کی انفرادیت منوانے کا ایک انتہائی شائستہ اور پُروقار طریقہ ہے۔ شاعری کی وادی میں ایک عمر گزارنے کے بعد استاد شاعر کو اپنے اسلوب، زبان اور تخیل پر جو غیر معمولی گرفت حاصل ہوتی ہے، تعلی اسی کا فطری اظہار ہوتا ہے۔ سلیم محی الدین کے یہاں ہمیں تعلی کے اور بھی کئی خوبصورت اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں:
ہم نے پامال زمینوں پہ مشقت کی ہے
ہے کوئی ہم سا یہاں شعر اگانے والا
۔۔۔
لگتا ہے کہنے کا قرینہ آ ہی گیا
سنتا ہوں مِرے شعر چرائے جاتے ہیں
۔۔۔
قافیوں میں دل بیاں میں نے کیا
اس زمیں کو آسماں میں نے کیا
۔۔۔
مضامین ہیں ہاتھ باندھے سلیمؔ
نئے سے بھی ہوتا ہے بہتر نیا
یہ اشعار اپنے خونِ جگر سے سینچے گئے فن کی قدر و قیمت کا سچا ادراک ہیں۔ سلیم محی الدین کہتے ہیں:
عکس چسپاں کر دیا دیوار پر
آئنوں کو خوش گماں میں نے کیا
بظاہر سادہ سا دکھائی دینے والا یہ شعر وجودی فکر کے بنیادی موضوعات یعنی خود ساختہ امیج، خارجی دنیا کے مغالطے اور فرد کی خود اختیاری کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ آئینہ اسی کا عکس دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہو۔ متکلم کا سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو آئینے میں منعکس کرنے کے بجائے دیوار پر اپنا عکس چسپاں کرنا درحقیقت اپنی ایک "خود ساختہ امیج” یعنی شناخت تیار کرنا ہے۔ آئینہ (یعنی خارجی دنیا) اس خوش فہمی یا مغالطے میں مبتلا ہے کہ وہ متکلم کی اصل شناخت سے واقف ہو چکا ہے۔ یہاں فرد کی خود اختیاری اس قدر ہے کہ انسان اکثر و بیشتر اپنی پسندیدہ خود ساختہ امیج کے ذریعے دنیا کو اس دھوکے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ یہی اس کی حقیقت ہے۔ اسی شعر کی تفہیم ایک بالکل مختلف اور نسبتاً دردناک تناظر میں بھی کی جا سکتی ہے۔ زندگی اور موت یا وجود و عدم کے تناظر میں۔ سچے آئینے کو جھوٹی شبیہہ دکھا کر یہ فریب دینا کہ زندگی کا تسلسل ابھی ٹوٹا نہیں ہے یا معتدل انداز میں کہیں تو غیر موجود کی موجودگی کا وہم پیدا کرنا۔ کسی شخص کے جسمانی طور پر عدم ہو جانے کے بعد اس کو تصویر کی صورت میں باقی رکھ کر اس کی یادوں کے سہارے یوں خوش گمان رہنا اس کی جدائی کا مداوا بھی ہو سکتا ہے اور محض سچائی سے فرار بھی۔
"آئندہ” میں ایسے معنی آفریں اشعار جا بجا دکھائی دیتے ہیں البتہ کہیں کہیں معنوی یا فنی اعتبار سے کمزور اشعار دیکھ کر دل کٹھا بھی ہوجاتا ہے۔ مثلاً یہ شعر:
سینہ اس لیے بھاری ہے
سارے درد چنندہ ہیں
اس شعر میں مفعول "چنیدہ” (یا چیدہ) کے معنیٰ میں فاعل "چنندہ” کا استعمال محلِ نظر ہے۔ چنندہ کسی چیز کا انتخاب کرنے والے کو کہتے ہیں ہے جبکہ انتخاب کی گئی چیز کو چنیدہ کہا جاتا ہے۔ مظفر حنفی نے 79 برس کی عمر میں اپنی شاعری کا ایک جامع انتخاب”چنیدہ” نام سے شائع کیا تھا۔ البتہ فارسی زبان میں کوئی مصدر "چنیدن” نہیں ہے۔ وہاں "چیدن” سے مفعول "چیدہ” بنایا جاتا ہے اور اردو کے کلاسیکی شعرا مثلاً میرؔ، غالبؔ، اقبال وغیرہ کے کلام میں بھی پڑھنے کو ملتا ہے۔ اردو میں کثرت سے استعمال ہونے والے الفاظ "چنندہ” اور "چنیدہ” دراصل اردو اور فارسی کے دلچسپ ملاپ کا نتیجہ ہیں۔
یہ الگ بات در نہیں کھلتا
دستکیں تو لگا رہا ہوں میں
۔۔۔
مَیں دستک پہ دستک لگاتا رہا
جو کھلتا نہیں تھا وہی در کھلا
ان اشعار میں محاورہ "دستک لگانا” غلط طور پر "دستک دینے” کے معنیٰ میں استعمال ہو گیا ہے۔ "دستک لگانا” کے معنیٰ "ٹیکس عائد کرنا” کے ہوتے ہیں۔
اک فصل آنسوؤں نے کاٹی تھی
اک فصل چاندنی اگاتی ہے
یہاں لفظ "فصل” بفتح دوم باندھا گیا ہے اور حاشیے میں درج ہے کہ یہ دکنی تلفظ ہے۔ عام اردو تلفظ کے مقابلے میں علاقائی تلفظ کا استعمال کوئی نئی یا غلط بات نہیں ہے لیکن اسے دکنی زبان کی مستند تلفظی صورت قرار دینے کے لیے مضبوط داخلی شواہد درکار ہوں گے۔ بلاشبہ قدیم دکنی شاعری میں اردو کے بعض الفاظ کے حرکات اور صوتی صورتوں میں مقامی تبدیلیاں ملتی ہیں لیکن فصل کے اس تلفظ سے متعلق مجھے ابھی تک ایسا کوئی لغوی یا متنی ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر یہ قطعی طور پر کہا جا سکے کہ دکنی زبان میں فصل کا باقاعدہ تلفظ "فَصَل” ہے۔ مستند قدیم دکنی شعری ماخذ میں بھی فصل کا عام اردو تلفظ ہی مستعمل دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً
چمن میں دہر کے ہرگز نہ مجھ ہوا معلوم
کہ کب ہے فصلِ ربیع اور کدھاں ہے فصلِ خریف
(ولیؔ اورنگ آبادی)
۔۔۔
فصلِ گل کا غم دلِ ناشاد پر باقی رہا
حشر لگ یہ مظلمہ صیاد پر باقی رہا
(سراجؔ اورنگ آبادی)
۔۔۔
اس بہارِ بے بقا سیں جز فنا حاصل نہیں
فصلِ گل میں بلبلوں کی شعر خوانی ہیچ ہے
(سراج اورنگ آبادی)
۔۔۔
فصلِ خزاں میں بلبل ہے گل کا مرثیہ خواں
مرغِ چمن ہیں جتنے سب ہیں جوابیوں میں
(سراجؔ اورنگ آبادی)
۔۔۔
چمن کا شہر فصلِ گل میں جب آباد تھا عزلتؔ
صبا کے رنگ میں گلگشت کر حظِ جنوں پایا
(ولی عزلتؔ دکنی)
۔۔۔
دھوم سوں فصلِ بہار آتی ہے اے مطرب چلی
میکدے میں بلبلِ گلزار کہتا ہے کہ بول
(شاہ ترابؔ علی دکنی)
عوام میں (اور خواص کی بات چیت کی زبان میں بھی) صوتی تغیرات کا پایا جانا دکن اور شمال دونوں طرف عام ہے لیکن یہ معیاری اردو زبان میں داخل نہیں ہوتے۔ "آئندہ” کی ایک غزل میں یہ شعر بھی دیکھیے:
کچھ نا کچھ تو کہنا ہے
یارو زندہ رہنا ہے
کسی مصرِع میں بحر کا وزن پورا کرنے کے لیے "نہ” کی حرکت کو کھینچ کر دو حرفی "نا” کے وزن پر باندھنا فنِ عروض کی رو سے عیب مانا جاتا ہے، چاہے اس کا املا "نا” ہی کیوں نہ لکھا جائے۔ البتہ دو حرفی وزن میں "نا” اور "ناں” کا استعمال عام بول چال اور ادبی زبان میں درج ذیل صورتوں میں بالکل درست اور کثرت سے رائج ہے:
بھائی! کبھی اورنگ آباد آؤ نا۔ (حرفِ اصرار کے طور پر)
بھائی! اورنگ آباد آ رہے ہو نا؟ (حرفِ استفہام کے طور پر)
نا بابا، ہم اورنگ آباد نہیں آرہے۔ (تاکیدِ نفی کے طور پر)
نایاب، ناخوش، ناممکن، وغیرہ (بطورِ سابقہ)
"آئندہ” میں ان کے علاوہ اور بھی کئی اشعار ایسے ہیں جن میں الفاظ اپنے عام معیاری تلفظ سے ہٹ کر برتے گئے ہیں مثلاً
آدمی اس لیے بھی بھلا تھا
(کہ) زمیں اور زر کا نہیں تھا
۔۔۔
کھلا بادباں (کہ) مقدر کھلا
بپھرنے لگا تھا سمندر کھلا
۔۔۔
مری شاعری اس (عہد) کی نہیں
کہا میں نے کب (کہ) معاصر کہو
۔۔۔
(سطح) پر تیرتے کردار ملتے ہیں
کہانی کا سفینہ ڈوب جاتا ہے
۔۔۔
مرے (مہرباں) تو جانتا ہے
کہانیوں کی کتاب ہوں میں
مذکورہ بالا اشعار میں حرفِ بیان "کہ” حرفِ اضافت "کے” کے وزن پر باندھا گیا ہے جبکہ عروضی اعتبار سے لفظ "کہ” کو دو حرفی وزن (یعنی طویل یا "فع” کے وزن پر) باندھنا ناجائز ہے۔ اساتذہ نے بھی حرفِ بیان "کہ” کو ہمیشہ یک حرفی (یعنی کوتاہ) ہی برتا ہے۔ "عہد”، "سطح” اور "مہرباں” میں حروف دوم غلط طور پر متحرک باندھے گئے ہیں۔
کچھ مصرِع ساقط الوزن بھی ہیں مثلاً
پتا ہے اسے اس کی تصویر ہوں (مَیں)
مجھے ڈھانپ لے گا وہ چادر صفت
۔۔۔
محتا(ط) رہو اس بار بڑی دھوپ کڑی ہے
سائے سے کہو سایۂ دیوار میں آئے
۔۔۔
وسائل لاکھ ہوں مٹھی میں یارو (–)
نجانے کیوں وسیلہ ڈوب جاتا ہے
۔۔۔
دیکھ چکے ہیں موت بچھی ہے چاروں اور (-)
اس سے کہہ دو ہم نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے
۔۔۔
آج پھر (–) دور تک دیکھا اسے
آج پھر شیشہ کھلا تھا کار کا
ان دنوں ایطائے خفی/شائگاں کو اہلِ فن نظر انداز کر رہے ہیں لیکن "آئندہ” کی کئی غزلوں میں مجھے ایطائے جلی کا عیب بھی دکھائی دیا۔ اگر مطلع میں واقعی کوئی اچھوتا خیال نہایت عمدگی سے برتا گیا ہو تو ایطائے جلی بھی گوارا کیا جا سکتا ہے لیکن ایک غزل تو ایسی بھی ہے کہ جس کے تین شعروں میں قافیے ہی بدل گئے ہیں۔ غزل کا مطلع ہے:
چہرے کا انکار پڑھو
دوست مرے اخبار پڑھو
آگے کے اشعار میں بجا طور پر بار، ہار، چار اور دیوار قافیے لائے گئے ہیں لیکن تین اشعار یہ ہیں:
دھوپ نگر کے باشندو
آنکھ نگر برسات پڑھو
رنگ برنگی تحریریں
چہرہ بھر جذبات پڑھو
پانچ زمینیں لکھ رکھو
اور سمندر سات پڑھو
چند ایسے اشعار کی نشاندہی بھی ضروری ہے جو غالباً سہوِ کاتب کی نذر ہو گئے ہیں۔ آجکل اسے "ٹائپو” کہا جاتا ہے۔
میں جیون میں قسطوں کا قائل نہیں
بیک وقت پڑھنا ہے ساری کتاب
(درست صورت: بیک وقت "پڑھنی” ہے ساری کتاب)
۔۔۔
اب وہ خوش ہے کہ ناراض خدا ہی جانے
میرے سائے کو مِرے ساتھ جگا دیتا ہے
(درست صورت: اب وہ خوش ہے کہ "ہے” ناراض خدا ہی جانے)
۔۔۔
خرچ بھی کرتا ہوں خود کو
تنہائی میں گنتا بھی ہوں
(درست صورت: خرچ بھی کرتا ہوں "مَیں” خود کو)
۔۔۔
پرکھوں میں تھا حسنِ ظن
چھوڑی زمیں نا زر چھوڑا
(درست صورت: چھوڑی زمیں "نہ” زر چھوڑا)
اگر اشاعت سے قبل مسودے کی توجہ سے پروف ریڈنگ کی جاتی تو شاید ان اغلاط سے بچا جا سکتا تھا۔ "آئندہ” ریختہ پبلی کیشنز نے شائع کی ہے اور ویبسائٹ ریختہ بکس پر دستیاب ہے۔ سر ورق دیدہ زیب، طباعت معیاری اور قیمت مناسب ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

