پچھلے کچھ برسوں میں یہ روایت عام ہونے لگی ہے کہ ہم نے فکشن نگاروں کو مختلف حصار میں قید کر کہ دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ کچھ ایسی مِتھ تشکیل کی جا چکی ہے جس سے باہر آنے کی سخت ضرورت ہے۔ ہم عام طور پر فنکاروں کو ان کے کسی ایک شاہکار کے حوالے سے جاننے لگتے ہیں اور اس شاہکار پر اس قدر وقت صرف کرتے ہیں کہ اس فن کار کے دوسرے فن پاروں یا دوسری اصناف جس میں وہ طبع آزمائی کر رہا ہے اس کو سرے سے خاطر میں نہیں لاتے اور اگر لاتے بھی ہیں تو اس کے ساتھ وہ انصاف نہیں کر پاتے جو کیا جانا چاہیے۔
قرۃالعین حیدر کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا جب آگ کا دریا شائع ہو کر منظرِ عام پر آئی تو ناقدین نے اس پر اس قدرتوجہ کی کہ بعد میں ایک کلیشے بن کر رہ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب بھی قرۃ العین حیدر کا نام آتا ہے ہم آگ کا دریا کے امپریشن سے باہر نکل ہی نہیں پاتے۔ایسے میں ان کے دیگر فن پاروں سے نا انصافی فطری ہے۔ خاص کر ان کے افسانوں کے سا تھ تو ناقدین نے ظلم کی حد تک نا انصافی کی۔ تھوڑا اور پیچھے چلے جائیں تو ٹیگور کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ٹیگور کو بھی لوگوں نے گیتانجلی میں قید کر کے رکھ دیا۔ ان کے ناول اور خاص کر ان کے افسانوں کے ساتھ تو ظاہر ہے ناروا سلوک کیا گیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آگ کا دریا یا گیتانجلی ہندوستانی ادب کے بیش بہا سرمائے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ ان ادیبوں کی دوسری تحریروں کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ یہی قصہ ابھی عبدالصمد کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔
عبدالصمد کو ۱۹۹۰ میں ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا ۔اس وقت سے اب تک ہم جب بھی عبدالصمد کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے ناولوں کے تعلق ہی سے ان کا نام لیتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے ان کو ’’دوگز زمین ‘‘ سے باہر نکلنے ہی نہیں دیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۲ میں جب ان کا دوسرا ناول’ مہاتما‘ شائع ہوا تو ناقدین کی اس بے توجہی کی گاج اس ناول پر بھی گری۔ اس ناول کو بھی حق بجانب توجہ نہیں ملی۔ حالانکہ بہت سے معاملات میں یہ ناول دو گز زمین سے آگے نکل جاتا ہے (یہ میری ذاتی رائے ہے)۔ اب اگر ان حالات میں عبدالصمد کے افسانوں کی بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم ان تخلیقات کی بات کر رہے ہیں جن پر قارئین یا ناقدین کی توجہ نہیں ہے یا بہت کم ہے۔ حالانکہ اردو افسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ جب بھی کسی فن کار کے سلسلے میں کوئی مِتھ بنا لیا جاتا ہے یا اس کے نام کو کسی ایک صنف کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے تو پتہ نہیں کیوں اکثر صنفِ افسانہ ہی کو واجب القتل سمجھا جاتا ہے۔ چاہے وہ معاملہ ٹیگور کا ہو ، قرۃالعین حیدر کا ہو یا آج عبدالصمد کا ۔ نا انصافی افسانوں ہی کے ساتھ کی جاتی۔
آخر کیا وجہ ہوتی ہے کہ عام طور پر جب کوئی فکشن نگار فکشن لکھنے کی شروعات کرتا ہے تو وہ افسانوں کی دنیا سے اپنی تخلیقی سفر کا آغاز کرتا ہے۔ اور پھر کچھ برسوں کے بعد آخرایسا کیا ہو جاتا ہے کہ وہ ناو ل نگاری میں خود کو اس قدر مستغرق کر دیتا ہے کہ وہ پھر افسانوں کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا۔ کینڈا میں مقیم عبدالصمد کے معاصر ایک انگریزی ناول نگارGreg Hollingshead کی رائے اس معاملے میں بے حد اہم معلوم ہوتی ہے البتہ ان کی رائے سے متفق ہونا یا نہ ہونا دوسری بات ہے۔ Greg کہتا ہے
The minds of older writers have slowed down and stopped jumping around so uncontrollably, they have grown familiar if not necessarily easy with their own contents, their spiritual hunger has been dulled by time and its accommodations, and they are now interested more in the inexorable laws of moral implication than in perfect artistic moments of drunken poise. Also, of course, having more personal history to survey, they have more to work with. They have the material. Young writers are rarely able to maintain the perspective necessary to write good novels, but they do often write good short stories,
)——"Short Story vs Novel,” University of Toronto Quarterly, 68 No. 4 (Fall 1999). Pp. 878-79.(
یہ بات درست ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مشاہدے میں اضافے اور فن کار کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہونااس کو ناول کی طرف مائل کرتا ہے۔ گریگ کی اس رائے سے ممکن ہے کہ آپ متفق نہ ہوں لیکن پھر بھی اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ اکثر فکشن نگار افسانوں سے اپنے تخلیقی سفر کی شروعات کرتے ہیں اور ناول کی طرف ان کا رجحان پھر اس قدر بڑھتا ہے کہ افسانے کی صنف ان کے مشاہدات کی متحمل نہیں ہوتی۔ فنی اعتبار سے ان دونوں اصناف کی اپنی خوبیاں اور خرابیاں ہیں جس کا بیان یہاں مقصود نہیں۔ بہ شمول ایک انگریزی ناول کہ عبدالصمد نے اب تک کل آٹھ ناول اور کل 77 افسانے تخلیق کیے ہیں۔ یہ باور کرانے کے لیے کہ عبدالصمد زیادہ کامیاب ناول نگار ہیں یاافسانہ نگار ان کے افسانوں پر تجزیاتی بحث کرنی ضروری ہے۔ ان کے افسانوں میں ان کا اسلوب ناول ہی کی طرح سادہ ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کو پڑھنے کے بعد گریگ کے مندرجہ بالا خیالات کی بھی نفی ہوتی ہے کہ افسانہ نگار کے پاس کہنے کو زیادہ کچھ نہیں ہوتا اس لیے وہ افسانے کے فن کا انتخاب کر تا ہے اور جب وہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو چونکہ اس کے پاس مشاہدات زیادہ ہوتے ہیں اور اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے اس لیے وہ ناول کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ان کے افسانہ ’’بہ قلم خود‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’میرے بیٹے کو زبردست شکایت تھی کہ میں نے پہلے کبھی ان کا ذکر کیوں نہیں کیا اور قریبی رشتہ رہتے ہوئے بھی ان سے تعلقات کیوں نہیں رکھے ، وہ تو اتنی بڑی چیز ہیںکہ ان سے رشتہ استوار رکھنا ہی بہت فخر کی بات ہوتی۔ وہ تو اس پوزیشن میں ہیں کہ ذرے کو چاہیں تو آفتاب بنا دیں۔
رشتہ۔۔۔۔!
میں چپ چاپ اس کا منہ تکتا رہا ۔ اس کی باتوں کا کیا جواب دیتا۔ بہت کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو کہی نہیں جاتیں، سمجھی جاتی ہیں۔ بہت سی کہانیاں زبان نہیں آنکھون آنکھوں میں کہی جاتی ہیں، سنی جاتی ہیں اور سمجھی جاتی ہیں۔ ‘‘
‘‘لیکن تم میرے بیٹے ۔۔۔۔ان باتوں کو نہیں سمجھ سکوگے۔’’
(عبدالصمد کے منتخب افسانے، مرتبین محسن رضا رضوی، افسانہ خاتون، صفحہ 42)
عبدالصمد کی افسانہ نگاری کا یہ انداز یہ باور کراتا ہے کہ مندرجہ بالا بیانیہ بغیر غائر مشاہدے کے ممکن ہی نہیں۔ اور یہ بھی سمجھنا دشوار نہیں کہ موصوف کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ ان کم الفاظ میں بہت کچھ بیان کر دیا گیا ہے۔ ان جیسے الفاظ کی تخلیق کے لیے بلا شبہہ مشاہدہ درکار ہے ، اور اگر کسی شخص کو یہ نہ بتایا جائے کہ بیانیہ کا یہ حصہ افسانے سے لیا گیا ہے یا ناول سے تو یہ کسی کے بس کی بات نہیں کہ وہ یہ اندازہ لگا سکے کہ یہ اقتباس ناول کا نہیں افسانے کا ہے۔ اسی افسانے کا ایک اور حصہ ملاحظہ کیجیے۔
’’تمہیں شاید ہرگز یاد نہ ہو، لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ہمارے چھوٹے سے شہر کا ایک بدحال بس اسٹینڈ تھاجس پر بسوں سے زیادہ تانگے اور رکشے کھڑے رہتے تھے ۔ ہمارا چھوٹا سا شہر زیادہ تر شہروں سے جڑا ہوا نہیں تھا۔جوڑنے والی سڑکیں ہی نہیں تھیں ۔پندرہ بیس میل کے فاصلے تو تانگے اور رکشے طے کر لیا کرتے تھے‘۔گاؤں گھر تک پہنچنے کے لیے دو پہیئے کی سواری یعنی پیدل چلنا بھی بہت عام تھا۔ میں بارہ تیرہ سال کا بد حواس سا لڑکااپنے والد کا ہاتھ پکڑے بس کے انتظار میں کھڑا تھاکہ مجھے مڈل کا امتحان دینے ایک دوسرے شہر جانا تھا۔ اس وقت تم بھی اپنے والد کے ساتھ رکشہ سے اتریں ۔ تمہیں دیکھ کر مجھ پر ایسی بد حواسی طاری ہوئی کہ میں اپنے والد کی ٹانگوں کے پیچھے چھپنے لگا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں بھاگ کر کسی دیوار ، کوئی بس ، کسی رکشے یا تانگے کے پیچھے چھپ جاؤں، لیکن تمہارے والد یعنی میرے ماموں تمہارا ہاتھ پکڑے وہیں چلے آئے اور اپنے بہنوئی یعنی میرے والد سے بہت گرمجوشی سے ملے۔ مجھے بھی انہوں نے پیار کیا ۔ پھر تمہاری ذہانت اور ذکاوت کے قصے چھیڑ دیئے۔ یہ ان کا بہت ہی محبوب موضوع تھا۔ اس سے اور لوگوں کو بھلے کچھ اور ہوتا ہو ، ہم جیسے لوگ زبر دست احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ حالت یہ ہو جاتی کہ ہم کونوں کھدروں میں منہ چھپائے پھرتے۔ ماموں ہمارے سامنے اپنی بیٹی کی یعنی تمہاری کچھ زیادہ ہی تعریف فرماتے تھے۔ ہمیں اس میں خاصی مبالغہ آرائی نظر آتی تھی۔۔۔ ‘‘ (ایضاَ صفحہ42-43
اقتباسِ بالا میں کرداروں کی نفسیات کو کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اس سے ان کی نفسیات کے ساتھ ساتھ ناسٹلجیا کچھ اس طرح ابھرتا ہے کہ قاری اس میں غرق ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یعنی پڑھتے وقت اپنے بچپن کے قصے آنکھوں تلے پھر جانا بے حد فطری ہے اور یہی فن کار کی اصل فن کاری ہوتی ہے۔ عبدالصمد کے ناولوں میں جا بجا اس طرح کا بیانیہ موجود ہے جس کو پڑھ کر قاری نا سٹلجک ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔
ناول کے صنفی تقاضے کے مطابق اس کا پہلودار ہونا ناگزیر ہے ۔ یعنی اس میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لایا جاتا ہے۔ تو اس صنف میں فن کار کے سامنے ناول کے قرأت کے دوران قاری کی دلچسپی کو بنائے رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔اور یہ آسان ہے بھی نہیں۔ چونکہ پلاٹ پھیلا ہوا ہوتا ہے اس لیے یہ فطری ہے۔ ایسا ممکن نہیںکہ پورے ناول میں یکساں دلچسپی بنی رہے ۔ لیکن افسانہ نگار کے لیے افسانوں میں دلچسپی بنائے رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ ہاں البتہ کچھ خراب افسانے آپ کو ایسے بھی مل جائیں گے جس میں قاری کی دلچسپی کا خیال رکھے جانے کے بجائے فلسفے کے نام پر اس قدر غلاظتیں انڈیل دی جاتی ہیں کہ ان کو پڑھنا اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ حالانکہ ناولوں میں اس کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا افسانہ کیسا ہونا چاہیے اور ایک اچھے افسانہ نگار کو افسانے کی تخلیق کے وقت کن باتو ں کا خیال رکھنا چاہیے اس ضمن میں وارث علوی کی یہ رائے بہت مناسب معلوم ہوتی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
’’افسانہ نگار تخلیق کار ہوتا ہے او ر اس کا تخیل خارجی دنیا کے حقائق پر شہد کی مکھی کی طرح بھنبھناتا ہے، اس کا رس نچوڑتا ہے،اور ایک نئی حقیقت تخلیق کرتا ہے جو افسانوی حقیقت ہوتی ہے اور یہ حقیقت خارجی حقیقت کے مماثل ہوتی ہے لیکن کسی مخصوص خارجی حقیقت کا ہو بہو عکس نہیں ہوتی۔ افسانوی حقیقت کے لیے خارجی حقیقت سے مماثلت اتنی ضروری نہیں جتنا کہ اس کا اپنے تئیں coherent ہونا ضروری ہے۔ افسانوی حقیقت اپنا اعتبار خارجی دنیا سے نہیں بلکہ اس دنیا سے حاصل کرتی ہے جسے افسانہ نگاراپنے افسانے میں تخلیق کرتا ہے اور افسانے کی دنیا خارجی دنیا کا عکس نہیں ہوتی____ گو ہم اپنی سہولت کی خاطر ایسا کہتے ہیں____ بلکہ اس کی نئی ترتیب اور تعمیر ہوتی ہے، اور یہی ترتیب و تعمیرتخیل کے تجریدی عمل کا عطیہ ہے۔ افسانہ جب تخیل کے تجریدی عمل سے محروم ہوتا ہے تو خراب ہوتا ہے، صحافت اور دستاویز بنتا ہے اور فوٹو گرافک بھی اور پروپگنڈا بھی؛ لیکن اچھا افسانہ تخیل کے اسی تخلیقی اور تجریدی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو صحافتی اور دستاویزی حقائق کا انکار نہیں کرتا، بلکہ انہیں قبول کرتا ہے،انہیں جذب کرتا ہے، اور ان سے بلند ہو کراس حقیقت کی تخلیق کرتا ہے جسے ہم افسانوی کہتے ہیں۔(فکشن کی تنقید کا المیہ ، وارث علوی، صفحہ 94) ‘‘
اگر وارث علوی کے ذریعہ بیان کی گئی افسانے کی تعریف سے اتفاق کرلیا جائے اور اس زاویے سے اگر ہم عبدالصمد کے افسانوں کو پرکھنے کی کوشش کریں توہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ ان کا ہر ایک افسانہ تخیل کے تخلیقی اور تجریدی عمل کابہترین نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ بالا اقتباس کا وہ جملہ کہ ’ہمارا شہر زیادہ تر شہروں سے جڑا ہوا نہیں تھا ۔جوڑنے والی سڑکیں ہی نہیں تھیں۔‘کوئی عام جملہ نہیں ۔ اس جملہ پر غور فرمائیے کہ کہنے کو بہت کچھ ہے۔ عبدالصمد نے اس جملے میں سمند ر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔اس جملے کی تشریح ایک شعرکی طرح مختلف معنوں میں کی جا سکتی ہے۔ موصوف کے افسانوں کی یہ خوبی در اصل ان کا وصفِ خاص ہے۔ اس جملہ کا ایک سادہ سا مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں سڑکیں اتنی اچھی نہیں تھیں اس لیے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے میں دقت پیش آتی تھی۔ یا پھر اس معنی کے ساتھ ساتھ اس کا ایک اور مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا آج کی طرح ایک گلوبل گاؤں کی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ یا پھر ایک اور مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آج کی طرح تکنیکی ترقی اس زمانے میں نہیں تھی اور وہ آلات نہیں تھے جس سے ایک انسان دوسرے انسان سے آج اس قدر جڑا ہوا ہے۔ ان آلات کا مطلب سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ بھی ہو سکتا ہے۔ معنیات کا تہہ در تہہ ہونا یا بیانیہ اور مکالموں کا ایک سے زیادہ معانی کا حامل ہونا عبد الصمد کے افسانوں کا خاصہ ہے۔ وہ جملوں کے زیریں لہر میں بہت ساری باتیں کہہ جاتے ہیں۔
جہاں تک ان کے افسانوں کے موضوعات کا تعلق ہے تو ان کے موضوعات دوسرے تمام تخلیق کاروں کی طرح ان کی اپنی زندگی اور ان کے آس پاس رونما ہونے والے واقعات ہوا کرتے ہیں۔ وہ سماج کے ان معاملات کو اپنا موضو ع قطعی نہیں بناتے جن سے ان کا بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی سروکار نہ ہو۔ وہ ان حقیقی واقعات کو تخیل کی آمیزش کے ساتھ افسانوی رنگ عطا کرتے ہیں جو ان کے مشاہدات کا حصہ ہوا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں زیادہ تر ماحول اکیڈیمکس کے تعلق سے ہوتا ہے اور ان کا کوئی نہ کوئی کردار اکثر ٹیچر ، پروفیسر ، سائنسداں یا رائٹر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے کردار آسمانی یا خیالی نہ ہو کر حقیقی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا افسانہ پڑھتے وقت قاری کی آنکھوں میں مشرقی تہذیب کچھ اس طرح پھیل جاتی ہے کہ وہ خود کو کبھی ناسٹلجک تو کبھی اپنی مٹی کی خوشبو سے معطر پاتا ہے۔ عبدالصمد کرداروں کو گڑھتے وقت ان کی تعمیر میں ان کی نفسیاتی حالت کو ضرور شامل کر لیتے ہیں جس سے اس کردارکی ظاہری شکل و صورت کے ساتھ ساتھ اس کی باطنی کیفیت کا اندازہ بھی ہمیں ہوتا رہتا ہے۔
چھوٹے شہروں میں جہاں پیر پھیلانے کی جگہ نہیں ہوتی وہاں اگر مہمان آ جائے تو میزبان کا کیا حال ہوتا ہے۔ اس موضوع پر عبدالصمد کا ایک افسانہ ’کال بیل ‘ ہے۔ اس افسانے میں ۔ دروازے پر جوں ہی دستک ہوتی ہے میاں بیوی گھر کی صفائی میں لگ جاتے ہیں اور صفائی کے ہی دوران انہیں یاد آتا ہے کہ چائے کے لیے دودھ تو گھر میں ہے ہی نہیں۔ اب شوہر جھنجھلا کر بیوی پر چیختا ہے۔ بیوی اس کو یاد دلاتی ہے کہ وہ جا کر آئینہ دیکھے کہ دورانِ صفائی اس کے چہرے کی کیا حالت ہو گئی ہے۔ تب وہ فوراً غسل خانے میں جاتا ہے۔وہاں پانی ختم۔ یہ ایک متوسط طبقے کی عام زندگی میں رونما ہونے والے عام واقعات ہیں۔ جن کا مشاہدہ اور تجربہ ہم وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ کال بیل عبدالصمد کے چند عمدہ افسانوں میں سے ایک ہے جس کو پڑھ کر احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’گھر سے گھر تک‘ یاد آ جاتا ہے۔ البتہ وہاں افسانے کا پلاٹ بالکل مختلف ہے ۔
’آگ کے اندر راکھ ‘ ایک عجیب و غریب افسانہ ہے جس میں عبدالصمد کا ایک دوسرا رنگ سامنے آتاہے۔ عام طور پر ان کے افسانوں میں سیدھے سادے مکالمے ہوتے ہیں۔ لیکن اس افسانے میں عورت کا ایک ایسا روپ سامنے آتا ہے جو عبدالصمد کی دوسرے افسانوں میں نہیں ملتا۔ فکشن کے بڑے ناقدین حالانکہ اس کو فکشن کی خرابی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کردار کے احساسات تحریر کرتے وقت فکشن نگار اس سے وفا کر ہی نہیں سکتا کیوں کہ اس کی باطنی حالات کو بیانیہ کے ذریعہ قارئین کے سامنے پیش کرنا ممکن ہی نہیں۔ آخر ایک کردار کی اندرونی کشمکش سے ایک فن کا ر بھلا کس طرح واقف ہو سکتا ہے؟ہاں اگر خود کردار اپنی اندرونی حالات، جذبات، خوشی ، کرب وغیرہ کا بیان کرے تو یہ اور بات ہے۔ اس افسانے میں عبدالصمد نے ایک عورت کی سوچ کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر قاری کو افسانہ نگار کا علم نہ ہو تو وہ بالکل یہ سمجھ لے گا کہ یہ افسانہ کسی عورت نے ہی تحریر کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں زیریں لہر میں عورت پر ظلم و زیادتی کی ایک لمبی داستان اور اس کا کرب بھی اس کے اندر پوشیدہ ہے۔ اس افسانے کی شروعات ایک عورت کی خود کلامی سے کیا گیا ہے۔ اس افسانے کا یہ حصہ ملاحظہ کریں؛
’’خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتی ہوں کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو تھی۔اس سلسلے میں مجھے قسم کھانے کو کہا جائے تو میری پریشانی یہ ہوگی کہ میں کس کی قسم کھاؤں۔اپنی یا اس کی جو میری جگہ پر مجھ میں آ گئی ہے اور جسے اپنے آپ میں رہتے ہوئے بھی نہیں پہچانتی۔اس کی قسم تو میں کھا ہی نہیں سکتی جس کی وجہ سے لوگ کہتے ہیں کہ میں ہوں، حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ وہ ہوں ہی نہیں تو پھر اس کی قسم کیسے کھا سکتی ہوں۔
یا تو قسم کھاؤں ہی نہیں۔
یا پھر جھوٹ بولوں۔
یہ دونوں باتیں بھی صرف میں ہی کر سکتی ہوں، کسی دوسرے کو ان باتوں کی کیا خبر، کوئی دوسرا جان بھی کیسے سکتا ہے، تو پھر میں کیا کروں۔
ان لوگوں کو کیسے سمجھاؤں کہ وہ میرے بارے میں جو کچھ سوچ رہے ہیںنہ سوچیں۔ ہاتھوں میں مہندی رچانا اور مانگ میں سندور بھرناصرف ایک رسم نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے انسانی تاریخ کا سب سے اہم باب پوشیدہ ہے، جس کی ورق گردانی میں نہیں کر سکتی۔ میرے اندر وہ حس باقی ہی نہیں رہی جواپنی اور دوسرے کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے ۔میرے اندر، میرے اندر کی گہرائیوں میں وہ تار کہیں بھی موجود نہیں جو دوسرے کا لمس پا کرجھنجھنا اٹھتے ہیں۔یہ لوگ جو کچھ سوچ رہے ہیں وہ ظلم ہے۔۔۔۔میرے ساتھ نہیں، اس کے ساتھ جس کا دامن وہ ایک مرد ہ کے ساتھ باندھنے جا رہے ہیں۔
جس کے اندر زندگی کی کوئی رمق باقی ہی نہ رہی ہو۔
جس کے اندر کے سبھی حساس تار بے جان ہو چکے ہوں۔
جو کسی زندہ کو کچھ بھی دینے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔
اسے زندہ کہا جا سکتا ہے کیا۔۔۔؟ ‘‘(عبدالصمد کے منتخب افسانے، صفحہ 77)
افسانے کے اس حصے میں عبدالصمد کا کچھ اور ہی رنگ سامنے آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کا عام لہجہ نہیں ہے۔ اس طرح کے مکالمے ان کے افسانوں میں کم کم نظر آتے ہیں۔ یہ جملے بے حد اہم ہیں۔ عورت کا وجود، اس کی حسیت ، اور اس دنیامیں اس کی مجموعی حیثیت کو اتنے کم الفاظ میں، اتنے مؤثر انداز میں ادا کرنا کارِ محال ہے۔ مندرجہ بالا اقتباس کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ عبدالصمد کو اس فن پر بھی قدرت ہے جس کے ذریعۂ کردارنگاری کی تعمیر میں نفسیاتی تجزیے کو بروئے کار لا کر ایک تخلیق کار اپنے کردار کی امِٹ چھاپ قاری کے ذہن و دماغ پر چھوڑتا ہے۔
مندرجہ بالا اقتباس ایک ایسی کہانی کا حصہ ہے جس میں مرکزی کر دار ایک ایسی کنواری لڑکی کاہے جس کو ایک خوبرومرد کی تیمارداری پر مامور کر دیا جاتا ہے۔ وہ مرد اس قدر معذور ہے کہ اس کے جسم میں احساس کا مادہ بالکل نہیں ہے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے تعلق سے یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس قدر اہل ہے۔ اس کہانی کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس لڑکی کو ،جو پیشے سے ایک نرس ہے ،اس مرد کی تیمارداری پر اس کی بیوی نے مامور کیا ہے۔ اس کے لیے اس کو منہ مانگے پیسے مل رہے ہیں۔ مگر یہ نرس حیران و پریشان ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بیوی اپنے شوہر کی تیمار داری کے لیے ایک دوسری لڑکی کو مامور کر سکتی ہے۔ مزید برآں اس لڑکی کو اس مرد کے ساتھ اکیلے کمرے میں صرف رہنا ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کی خدمت کے لیے اس کے کمرے میں سونا بھی پڑتا ہے اور اس کا مشورہ خود اس شخص کی بیوی اس کو دیتی ہے۔ پھر اس نرس کو اس نوجوان کے ساتھ جن حالات سے گذرنا پڑتا ہے اس کا نقشہ بہت فن کارانہ ڈھنگ سے عبدالصمد نے اس افسانے میں کھینچا ہے۔ ایک دن جب وہ نرس اس خوبرو نوجوان کی تیمار داری میں مصروف رہتی ہے کہ اچانک اس کے سینے پر اس نوجوان کا ہاتھ پڑجاتا ہے۔ اس وقت اس کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ یہ شخص ایک مریض ہے اور اس طرح اس کا ہاتھ اس کے جسم پر پڑ جانا محض ایک غیر ارادی عمل ہے پھر بھی وہ جو کچھ محسوس کرتی ہے اس کا بیان ایک مرد کے لیے اگر ناممکن نہیں تو آسان بالکل بھی نہیں۔ ایک لڑکی کے احساسات کو اس طرح بیان کرنا در اصل فن کاری کی معراج کہی جا سکتی ہے۔مرکزی کردار کی اس کشمکش کو آپ بھی ملاحظہ فرمائیں؛
’’ایسا لگا جیسے مجھے تیز کرنٹ لگ گیا ہو۔اس وقت فوراً یہ ہونا چاہیے تھا کہ میں اس کے ہاتھ کو جھٹک دیتی اور کچھ دیر کے لیے ہی سہی، اپنے آپ کوسنبھال کر اٹھ بیٹھتی، لیکن میں نے یہ سب کچھ نہیں کیااور اتنا تیز کرنٹ لگنے کے باوجود ایک عجیب، نامعلوم خودسپردگی کے عالم میں اسی طرح پڑی رہی۔ پھر میرے ذہن میں یہ بات بھی کلبلائی کہ ممکن ہے اس عمل سے اس کی گمشدہ حس واپس آجائے۔ یہ تو میں اچھی طرح جانتی ہی ہوں کہ اس کا یہ عمل ارادی نہیں بلکہ غیر ارادی طور پرسر زد ہوا ہے۔ لیکن اس وقت دیر تک اس عمل کا یونہی بر قرار رہنا اہم ہے….. ممکن ہے وہ اس سے آگے بھی بڑھے۔
غیر ارادی طور پر ہی سہی…..
شاید وہ آگے بڑھ ہی جائے…..
میں دم سادھے اس بات کی منتظر رہتی ہوں
کچھ نہیں ہوتا….. بہت دیر تک کچھ نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ میرے ذہن میں ایک چھناکا سا ہوتا ہے اور ایک عجیب و غریب بلکہ لطیف احساس عدم تحفظ مجھے چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے۔
کیا میں کوئی ایسی چیزہوں جس کا دامن پکڑ کرآسانی سے کوئی گریبان تک جا پہنچے؟
ایک چھناکے کے بعد بھی فوراً یہ ہونا چاہیے تھاکہ میں اسے ایک طرف کو دھکیل کر اٹھ کھڑی ہوتی….
یہ بھی نہیں ہوا اور بارباراپنے آپ کو سمجھاتی ہوں کہ اس نے جان بوجھ کر تواپنا ہاتھ میرے سینے پر نہیں رکھا۔
‘‘(افسانہ آگ کے اندر راکھ، عبدالصمد)
ایک کنواری لڑکی کے احساسات و جذبات کو اس طرح بیان کرنا ایک مرد کے لیے آسان کام نہیں۔ علمِ نفسیات کی رو سے ایک نارمل آدمی کے لیے ایک عورت کے ذہن و دماغ میں اتر کر اس کی طرح سوچنا تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ وہ محض ذہنی کیفیت کی وجہ کر نہیں ہو سکتا اس میں خلیوں اور ہارمونس کو دخل ہوتا ہے۔ عبدالصمد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ علمِ حیاتیات اور علم نفسیات کی رو سے ناممکن سمجھے جانے والے معاملات ایک فن کار کے تخیل میں نہ صرف ممکن ہوتے ہیں بلکہ حقیقت سے بھی بڑھ کر ہو تے ہیں۔ ایک اچھے افسانے کی تمام خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کردار کی سوچ سمجھ اور ان کی ذہنی نشو نما اس طرح ہو کہ وہ بالکل اصلی معلوم ہوں۔
عبد الصمد کے لیے کردار میں اتر کر مکالمے تحریر کرنا اس افسانے کے تقاضوں کے مطابق ناگذیر تھا اور یہ ایک بے حد مشکل کام تھا کیوں کہ ایک ایسے شخص کے لیے جس کا زیادہ تر وقت کتابوں میں گذرا ہو ، جس کی زندگی کا زیادہ تر حصہ علم سیاسیات کی موٹی موٹی کتابوں کی ورق گردانی میں گذرا ہو اسے بھلا کہاں وقت ملا ہوگا کہ بیٹھ کر یہ سوچے کہ ایک کنواری لڑکی کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ یہ تو بس ایک خالص فن کارانہ صلاحیت کا کمال ہے کہ موصوف نے وہ کر دیا جس کا وہ فطری طور پر نہ کوئی تجربہ رکھتے ہیں اور نا کو ئی نفسیاتی مرض کے شکار ہیں۔ انہوں نے ایک لڑکی کی طرح سوچا ہی نہیں بلکہ اس افسانے کو پڑھنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک کنواری لڑکی کی نفسیات کو الفاظ میں اس خوبصورتی سے بیان کرنے پر قدرت رکھتے ہیں کہ اگر یہ واقعہ ایک سچا واقعہ ہوتا تو خود اس لڑکی کا حقیقی کردار بھی اتنی خوبصورتی سے اپنے نفسیات بیان کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ایک فکشن نگار کا فرضِ منصبی بھی یہی ہے کہ وہ ان کرداروں میں جان اور زبان ڈال دیتا ہے اور ان سے وہ کچھ ادا کروا دیتا ہے جو اصل کردار ادا نہیں کر سکتا۔
عبدالصمد کے افسانوں کی یہ خوبی محض ’آگ کے اندر راکھ ‘ ہی کا معاملہ نہیں بلکہ ان کے زیادہ تر افسانوں میں کردار نگاری کے اعلیٰ نمونے موجود ہیں۔ ان کے افسانوں میں مناظرِ فطرت کی عکاسی بہت کم ہے البتہ کسی واقعہ یا حالات کا نقشہ کھینچتے وقت کچھ اس طرح الفاظ کو سجاتے ہیں کے وہ پورا واقعہ اور نقشہ قاری کے ذہنوں میں ابھرنے لگتا ہے۔ افسانوں میں عموماً کہانی پن اور احساسات کا بہاؤ اسی واقعے کی واقعیت والی خوبی کی بدولت ہو پاتا ہے۔ عبدالصمد کی ایک کہانی’ اپ ہرن‘ ہے ۔ اس کہانی کی شروعات اس طرح سے کی گئی ہے:
’’جیسے کوئی بم پھٹا….
سارے بچے سہم کر دیوار سے لگ گئے۔ چم چم کر تی ہوئی جیپ بے نیازی سے گیٹ کے اندر چلی گئی۔ بنگلہ میں کچھ لوگ جیپ کے منتظر تھے۔جیپ پورٹیکو میں رکی۔ سب اس کی طرف دوڑ گئے۔پیچھے بیٹھے ہوئے مسلح سپاہی کودے اور آگے بیٹھے ہوئے حاکم کے لیے دروازہ کھول کراٹینشن کی حالت میں کھڑے ہو گئے۔حاکم ایک شان بے نیازی کے ساتھ اترااور ان پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال کرکمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ بنگلہ کا خانساماں اس کی اگوائی کے لیے بچھا جا رہا تھا۔
بھوندو کے سسکنے کی آواز سے اس کا باپ بالک رام چونک اٹھا۔‘‘ (افسانہ ’اپ ہرن ‘، عبدالصمد)
افسانے کی ایسی ابتدا اس بات کی ضامن ہے کہ قاری جب عبدالصمد کے افسانے کی چند سطریں پڑھ لے تو پورا افسانہ پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کسی بھی واقعے کے بیان کا یہ طریقہ اس واقعہ نویس یا داستان گو، یا فکشن رائٹر کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے۔ اب اگر افسانہ ایسا ہو کہ چند سطریں پڑھنے کے بعد قاری پورا افسانہ پڑھنے پر مجبور نہ ہو جائے تو ظاہر ہے کہ یہ فن کار کی کمی کے باعث ہوتا ہے اور فن پر اس کی قدرت نہ ہونے کا ثبوت بھی۔ کچھ افسانے تو ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں قاری پڑھنے کی نیت سے بیٹھتا تو ضرور ہے لیکن ایک دو پیرا گراف پڑھنے کے بعد مزید پڑھنے کی اس کی خواہش نہیں ہوتی۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ وہ افسانہ خراب ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ایک بہترین افسانہ ہو لیکن اگر قاری اس کو پڑھنے پر مجبور نہ ہو سکا، چند سطریں پڑھنے کے بعد اگر قاری اس افسانے کو ادھورا چھوڑ سکتا ہے، تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اس افسانے میں کہیں نہ کہیں فنی نا پختگی ضرور ہے۔
عبدالصمد کے افسانے اپنی قرأت پر قاری کو خود مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ ان کے ایک کامیاب افسانہ نگار ہونے کی دلیل ہے۔ ان کے افسانوں میں ، کہانی پن ہے، واقعیت ہے، احساسات ہیں، کردار نگاری کی عمدہ مثالیں ہیں اور سب سے اہم بات کہ ان میں حقیقی زندگی کا وہ عکس موجود ہے جس کا تجربہ ہم روزمرہ کی زندگی میں کرتے ہیں۔ عبدالصمد کے افسانوں میں جادوئی حقیقت نگاری یا موہوم حقیقت نگاری کی مثالیں نہیں ملتیں۔ ایک ہی افسانہ نگار سے تو ہم سارے توقعات وابستہ تو نہیں رکھ سکتے ہیں ۔
٭٭
نوٹ: مضمون نگار دی ونگس فاؤنڈیشن، نئی دہلی کے صدر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

