نوٹ: ایلن پٹن دکھن افریقہ کے مشہور مصنف گزرے ہیں۔وہ رنگ و نسل کی بنیاد پر تعصب کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ ان کو1948میں ان کے پہلے ناول Cry the Beloved Country کی وجہ سے شہرت ملی۔یہ ناول نسلی تعصب کی ایسی جذبات انگیز کہانی پر مشتمل ہے جس نے اپنے زمانے میں دکھن افریقہ کے اندر نسلی تعصبات کے سنگین مسائل کی طرف پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔ ایلن پٹن 1903میں دکھن افریقہ کے نتال میں پیدا ہوئے۔ ان کی وفات گلے کے سرطان سے 1988میں ہوئی۔ان کا یہ مختصر افسانہ ’Ha’penny‘ پہلی مرتبہ ان کے افسانوی مجموعہ ’(1961)Tales from a Troubled Land‘ میں شائع ہوا۔افسانہ ایک لاوارث یتیم بچے کے تصورِخاندان،اس کے داخلی جذبات اوررنگ و نسل سے پرے کسی بھی خاتون کو ماں سمجھ لینے کی چاہت پر مبنی ہے۔انگریزی ادب میں یہ افسانہ آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔(وسیم احمد علیمی)
نابالغ مجرموں کی تادیب گاہ کے چھ سو بچوں میں سے تقریبا سو بچے دس سے چودہ کی عمر کے تھے۔میرے شعبہ نے وقت بہ وقت ان ننھے بچوں کو علاحدہ رکھنے اور ان کے لیے الگ ادارہ قائم کرنے کی نیت کا اظہار کیا تھا جو ادارہ نابالغ مجرموں کی تادیب گاہ نہ ہوکر کسی صنعتی اسکول کی طرح ہو۔یہ اقدام بہتر ہوتا۔ کیوں کہ ان بچوں کا جرم بہت معمولی تھا اور وہ ازخود اصلاح پذیر ہو سکتے تھے۔اگر ایسا کوئی اسکول وجود میں آتا تو میں خود اس کا پرنسپل بننا پسند کرتا کیوں کہ یہ کام زیادہ آسان ہے۔ننھے بچے فطرتاََ شفقت کی طرف مائل ہوتے ہیں۔کوئی بھی انہیں شفقت سے بہ آسانی قابو کر سکتاہے۔
پریڈ،اسکول یا فٹ بال کے دوران جب میں ان کے قریب جاتا تو ان میں سے کچھ بچے مجھے بے حد توجہ سے دیکھتے،براہ راست نہیں بلکہ دُزدیدہ نظروں سے۔میں کبھی کبھی ان کی طرف اچانک آجاتا تاکہ وہ مجھے دیکھنا چھوڑ کر پورا دھیان اپنے کا م میں لگائیں۔لیکن میں واقف تھا کہ اس طرح میرا اقتدار اور بھی مستحکم ہو رہا تھا۔
ان بچوں سے مخفی لگاؤ میرے لیے پیہم مسرت کا ذریعہ تھا۔کاش وہ میرے اپنے بچے ہوتے تو میں یہ جملہ اور زیادہ موثر پیرایے میں بیان کر سکتا۔لیکن میں اکثر و بیشتر چپ چاپ سلسلہ وار پریڈ سے ہو کر گزرتا اور ان بچوں میں سے ایک کے قریب کھڑ اہو جاتا۔وہ اپنے ماتھے پر ہکلا بَل ڈال کر سیدھا تَن جاتا جس سے اس کی بچکانہ آگہی اور میری قربت میں اس کی دلچسپی کی کمی کا اظہار ہوتا۔میں اس کی گوشمالی کرتا اورجواب میں وہ ہلکا سا مسکرا دیتا یا اپنی توجہ مزید گہری کر دیتا۔میرے خیال سے ان خارجی تاثرات کو کم سے کم تر کرنا فطری تھا۔لیکن ان تاثرات کو رمز کے طور پر دیکھا گیا اور یہی دیکھ کر کچھ بڑی عمر کے بچوں نے بھی خود کو اس عمل میں شامل کر لیا۔
ایک ایسے وقت میں جب وہ تادیب گاہ مشکل دور سے گزر رہی تھی۔اور جب انتظامیہ اور بچوں کے درمیان بیگانگی کا خطرہ اور بڑھ گیا تھا،اس طرح کے سہل اور فطری اشارے ایک قسم کی راحت تھے۔مجھے اور ان بچوں کو یقین دلا رہے تھے کہ ابھی زیادہ کچھ نہیں بگڑا ہے۔
اتوار کی دوپہر جب میں کام پر تھا،اپنی کار تادیب گاہ لے گیا اور وہاں میعاد گزار کر رہا ہو رہے لڑکوں کو گیٹ پر اپنا نام درج کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ان کی آزادی وہ بچے بڑی حسرت سے دیکھ رہے تھے جنہیں ابھی بھی تادیب گاہ میں ہی رہنا تھا۔وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے ”میری رہائی کو ابھی کافی ہفتے باقی ہیں“۔
ان میں ہمیشہ کچھ چھوٹے بچے تھے جن کو میں باری باری اپنی کار میں بٹھا کر سیر کراتا تھا۔ہم ’پوچسترم‘ روڈ کے بے پناہ جام سے گزر کر ’بارگواناتھ‘ چوراہا ہوتے ہوئے ’وان وِسکرس‘ سڑک سے تادیب گاہ لوٹ آئے۔میں نے ان بچوں سے ان کی فیملی،والدین،بہن اور بھائیوں کے بارے میں باتیں کیں۔اور میں نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے ان بچوں کے سامنے ڈربن،پورٹ ایلزا بیتھ،پوچسترم اور کلوکلان شہروں کے بارے میں عدم آگہی کا اظہار کیا۔میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ مقامات ’جوہینس برگ‘ سے بھی بڑے ہیں۔
ان میں ہاپینی نام کا ایک ننھا سا لڑکا تھا۔وہ عمر کی بارہویں دہلیز پر تھا۔وہ بولیم فونٹین کا رہنے والا تھا اور ان سبھی بچوں میں سب سے زیادہ باتونی تھا۔اس کی ماں ایک گورے کے یہاں کام کرتی تھی۔اس کے دوبھائی رچرڈ اور ڈائکی اور بہنیں انّا اور مِینا تھیں۔
”رچرڈ اور ڈائکی؟“ میں نے پوچھا۔
”یَس سر“
”انگریزی میں تو رچرڈ اور ڈائکی ایک ہی نام ہیں؟“ میں نے کہا۔
تادیب گاہ لوٹ کر میں نے ہاپینی کے کاغذات طلب کیے جس میں صاف صاف درج تھا کہ ہاپینی ایک بے گھرلڑکا ہے جس کے کسی بھی رشتے دار کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔وہ ایک گھر سے دوسرے گھر بھیجا جاتا رہا ہے۔چونکہ وہ ایک شریر اور بے لگام بچہ تھا اس لیے رفتہ رفتہ بازار میں ہلکی پھلکی چوری چپاٹی کرنے کا عادی ہو گیا تھا۔
پھر میں نے اس کے خطوط منگوائے۔انکشاف ہواکہ ہاپینی بولیم فونٹین کے ولاک علاقے کی گلی نمبر 48کی محترمہ بیٹّی مارام کو مسلسل خطوط لکھ رہا تھا۔مزید یہ کہ کوئی اس کے لیے خط لکھے وہ خود لکھ لیا کرتا تھا۔لیکن محترمہ مارام نے اس کے کسی خط کا جواب نہیں دیا تھا۔جب اس سلسلے میں ہاپینی سے دریافت کیا گیا تو اس نے کہا شاید وہ بیمار ہیں اس لیے جواب نہیں لکھ رہی ہیں۔
میں نے فوراََ بولیم فونٹین کے شوسل ویلفیئر افسر کو خط لکھ کر معاملے کی تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا۔الگی دفعہ جب میں ہاپینی کو اپنی کار سے سیر کرانے لے گیا تو میں نے ایک بار پھر اس سے اس کی فیملی کے متعلق جاننے کی کوشش کی۔اور اس نے وہی بتایا جو وہ پہلے بتا چکا تھا۔رچرڈ اور ڈائکی۔انّا اور مینا۔لیکن اس دفعہ اس نے ’ڈائکی‘ کے ’ڈ‘ کو نرمی سے اداکیا تاکہ ’تائکی‘ کی طرح سنائی دے۔(وہ بچہ افریقی نسل کا تھا اور افریقی لوگ ’ڈ‘ کا تلفظ نہیں ادا کر سکتے)۔
”تم نے ڈائکی کہا؟“ میں نے پوچھا۔
”میں نے تائکی کہا“اس نے جواب دیا۔
اس نے مجھے خفیہ طور پر شک کی نگاہ سے دیکھا جس سے میں فوراََ نتیجہ تک پہنچ گیا کہ بولیم فونٹین کا وہ بے گھر لڑکا بہت ہوشیار ہے جس نے مجھے اپنی فیملی کے بارے میں بالکل خیالی افسانہ سنایا ہے۔اور احتیاطاََ اپنے بھائی کے نام کا ایک حرف بدل لیاہے تاکہ جھوٹ پکڑا نہ جائے۔
میں بھی اس کی پوری کہانی سمجھ گیا کہ اس نے دنیا کی نظر سے اپنی یتیمی کا داغ چھپانے کے لیے یہ تمام کہانیاں گڑھی ہیں تاکہ دنیا کا کوئی بھی انسان اس کی حیات و موت کی فکر نہ کرے۔اس واقعہ کے بعد اس کے لیے میرا احساس مزید گہراہوگیا۔اور میں حکومت کے سپرد کردہ اس کام میں،اگرچہ ان لفظوں میں نہیں، اپنے طریقے سے باہر نکل کر اس بچے پر پدرانہ شفقت نچھاور کرنے لگا۔
ادھر بولیم فونٹین کے سوشل ویلفیئر افسر کا خط بھی آگیا جس میں جانکاری دی گئی تھی کہ ولاک گلی نمبر 48کی محترمہ بیٹّی مارام کی شناخت ہو گئی ہے۔اس کے چار بچے ہیں۔رچرڈ،ڈائکی،انّا اور مینا۔لیکن ہاپینی اس کا بچہ نہیں ہے۔وہ اس لڑکے کو محض ایک لاوارث بچے کے طور پر جانتی ہے۔اس خاتون نے کبھی ہاپینی کے خط کا جواب بھی نہیں لکھا ہے۔کیوں کہ ہاپینی اس کو اپنے خط میں ”ماں“ کہہ کر خطاب کرتاہے اور چونکہ وہ ایک عزت دار خاتون اور کلیسا کی وفادار ممبر ہے اس لیے وہ کبھی بھی کسی ایسے لاوارث بچے کو اپنی طرف منسوب کر کے اپنے کنبے کو بد چلن ٹھہرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے۔
لیکن ہاپینی مجھے محض ایک معمولی سا نابالغ مجرم ہی لگتا تھا۔اس کے دل میں گھر بار رکھنے کا ارمان اتنا شدید تھا،تادیب گاہ میں اس کا ریکارڈ اتنا بے الزام تھا اور وہ اصولوں کی پابندی اس قدر فکر مندی سے کرتاتھا کہ میں اس کے تئیں بڑی ذمہ داری محسوس کرنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس کی حقیقی ”ماں“ کاسراغ لگانے میں جُٹا تھا۔
وہ اپنی ماں کے متعلق زیادہ نہیں بولتا تھا،نہ ہی تعریف کے پُل باندھتا تھا۔”وہ مایا محبت والی،ایمان دار اور تند مزاج تھیں،ان کا گھر صاف ستھرا رہتا تھا،انہیں اپنے تمام بچوں سے شفقت تھی“۔
یہ بات بالکل صاف تھی کہ جس طرح اس بے گھر بچے نے میرے دل میں اپنی جگہ بنالی تھی،وہ اس خاتون کے دل میں بھی گھر کر سکتا تھا۔اس نے اس خاتون کو بھی اتنے ہی قریب سے دیکھا تھا جتنا قریب سے مجھے۔لیکن وہ بے چارہ اس خاتون کے دل کی راہ کھولنے کا راز نہیں جانتا تھا کہ وہ خاتون اس کو اپنا لے اور قید تنہائی سے نجات دلائے۔
”اتنی رحم دل والدہ کا سایہ سر پر ہونے کے باوجود تم نے چوری کیوں کی؟“ میں نے ٹوہ لگائی۔
وہ لاجواب ہو گیا۔اس کی تمام تر ذہانت اور ہمت مل کر بھی ایسے سوال کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں جُٹا سکی۔کیوں کہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ جن بچوں کی ماں اس قدر رحم دل ہوتی ہیں وہ کبھی چوری نہیں کرتے۔
”بچے کا نام ڈائکی ہے ٹائکی نہیں“ میں نے کہا۔
اسی لمحے اس کو معلوم ہو گیا کہ اس کے جھوٹ کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔کسی لڑکے نے اس سے کہا ہوتا ”میں نے کہا نا تم سے کہ یہ نام ٹائکی ہے“۔لیکن وہ بڑا ہوشیار تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر میں نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ لڑکے کا نام ڈائکی ہے تو میں نے دیگر معلومات بھی اکٹھا کر لیے ہوں گے۔
میں اپنی تحقیق کے فوری اور نمایاں رد عمل سے حیران ہو گیا۔اس بچے کا یقین اس کے وجود میں ہی کہیں دفن ہو گیا۔وہ بے یارو مددگارکھڑا تھا۔ایک جھوٹے کی طرح نہیں بلکہ ایک بے گھر بچے کی طرح جس نے اپنے ارد گرد خیالی ماں،بھائی اور بہن کی کہانی بُن لی تھی۔میں نے اس کے ناز اور انسانی وقار کی بنیادیں متزلزل کر دی تھیں۔
وہ اچانک بیمار پڑ گیا۔حکیموں نے بتایا کہ وہ تپِ دق (T.B.) کا شکار ہو گیا ہے۔میں نے فورا محترمہ مارام کو خط لکھ کر صورت حال سے واقف کیا۔اور اس کو بتایا کہ اس ننھے بچے نے کس قدر قریب سے اس کا مشاہدہ کیا تھا اور دل ہی دل میں مان لیا تھا کہ وہی خاتون اس کی ماں ہے۔لیکن جواب میں اس نے لکھا کہ وہ اس بچے کی کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔کیوں کہ ایک تو وہ بچہ ’موسوتو‘ یعنی سیاہ فام افریقی نسل کا ہے اوروہ دوسری نسل کی۔دوسرے یہ کہ اس کے اپنے بچے کبھی کسی تکلیف سے نہیں گزرے تو وہ اس بچے کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں کر پائے گی۔
تپ دق ایک عجیب و غریب بیماری ہے۔کبھی کبھی یہ سب سے زیادہ خلاف قیاس میزبان پر اچانک حملہ آور ہوتی ہے اور تیزی سے اختتام کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ہاپینی نے خود کو دنیا سے الگ کر لیا۔سبھی پرنسپلوں اور ماوؤں سے الگ۔حکیموں نے کہہ دیا کہ امید کی لَو بُجھنے لگی ہے۔ناامیدی میں میں نے محترمہ مارام کو وہاں آنے کا کرایہ بھیج کر بلا لیا۔
وہ ایک باعزت خانہ دار خاتون تھی۔وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے بنا چوں چرا ہاپینی کو قبول کر لیا۔تادیب گاہ کے ہر فرد نے اس خاتون کو ہاپینی کی والدہ تسلیم کیا۔وہ دن بھر اس کے سراہنے بیٹھ کر رچرڈ،ڈائکی،انا اور مینا کی باتیں کرتیں۔اور کہتی کہ وہ لوگ اپنے بھائی ہاپینی کے گھر لوٹنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔وہ ہاپینی پر شفقت ِ مادری لٹانے لگی۔وہ ہاپینی کے مرض سے بالکل بھی خائف نہیں تھی۔اس نے خود پر ہاپینی کی ملکیت ثابت کرنے لینے کی بھوک کو انجام تک پہنچانے کی مکمل کوشش کی۔وہ ہاپینی سے کہتی تھی کہ جب وہ صحت یاب ہوکر گھر لوٹے گا تو کتنی خوشی ہوگی۔وہ اسکول کیسے جائے گا اور دیوالی کی رات وہ لوگ کیا کیا خریدیں گے۔
ہاپینی اس کی باتیں ہمہ تن گوش ہوکر سنتا تھا۔جب میں عیادت کے لیے اس کے پاس گیا وہ احسان مند تھا لیکن میں اس کی دنیا سے پرے نکل چکا تھا۔میں فیصلہ کن انداز میں تصور کرنے لگا کہ میں تو بس اس کے خارجی وجود کو ہی محسوس کر سکا ہوں،اس کے داخلی ارمانوں کی پیمائش مجھ سے کہاں ہوسکی ہے۔کاش میں نے یہ دانشمندی اور سخاوت پہلے دکھائی ہوتی۔
ہم نے اس کو تادیب گاہ کے ایک احاطے میں دفن کیا۔محترمہ مارام نے ہم سے کہہ دیا تھا کہ جب اس کی قبر پر کتبہ نصب کریں تو نشان زد کریں وہ محترمہ مارام کا بیٹا تھا۔
”میں شرمسار ہوں کہ میں اس کو قبول نہیں کر سکی“۔
”گود لیے جانے کے بعد بھی بیماری اس کو آلیتی“ میں نے کہا۔
”نہیں!“ وہ اپنے ماتھے کو جنبش دیتے ہوئے یقین سے بولی۔
”اور گھر پر بیماری آتی بھی تو صورت حال الگ ہوتی“۔
تادیب گاہ کا ایک اجنبی سا دورہ کر کے وہ بولیم فونٹین چلی گئی۔میں نے بھی حکومت کے ذریعے سپرد کردہ کام میں،اگرچہ ان تمام الفاظ میں نہیں، مزید دریادلی اور سخاوت کا وعدہ کر کے رختِ سفر باندھ لیا۔
٭٭٭
انگریزی افسانہ: Ha’penny
افسانہ نگار: ایلن پٹن (1903-1988)
انگریزی سے اردو ترجمہ: وسیم احمد علیمی،
شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی
SRK Hostel, Room No.17, JMI, New Delhi, 110025
Email: wasimahmadalimi@gmail.com
Mobile:7835961294
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

