Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

ننھا گنہگار /ایلن پٹن – مترجم: وسیم احمد علیمی

by adbimiras ستمبر 30, 2020
by adbimiras ستمبر 30, 2020 0 comment

نوٹ: ایلن پٹن دکھن افریقہ کے مشہور مصنف گزرے ہیں۔وہ رنگ و نسل کی بنیاد پر تعصب کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ ان کو1948میں ان کے پہلے ناول Cry the Beloved Country کی وجہ سے شہرت ملی۔یہ ناول نسلی تعصب کی ایسی جذبات انگیز کہانی پر مشتمل ہے جس نے اپنے زمانے میں دکھن افریقہ کے اندر نسلی تعصبات کے سنگین مسائل کی طرف پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔ ایلن پٹن 1903میں دکھن افریقہ کے نتال میں پیدا ہوئے۔ ان کی وفات گلے کے سرطان سے 1988میں ہوئی۔ان کا یہ مختصر افسانہ ’Ha’penny‘ پہلی مرتبہ ان کے افسانوی مجموعہ ’(1961)Tales from a Troubled Land‘ میں شائع ہوا۔افسانہ ایک لاوارث یتیم بچے کے تصورِخاندان،اس کے داخلی جذبات اوررنگ و نسل سے پرے کسی بھی خاتون کو ماں سمجھ لینے کی چاہت پر مبنی ہے۔انگریزی ادب میں یہ افسانہ آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔(وسیم احمد علیمی)

نابالغ مجرموں کی تادیب گاہ کے چھ سو بچوں میں سے تقریبا سو بچے دس سے چودہ کی عمر کے تھے۔میرے شعبہ نے وقت بہ وقت ان ننھے بچوں کو علاحدہ رکھنے اور ان کے لیے الگ ادارہ قائم کرنے کی نیت کا اظہار کیا تھا جو ادارہ نابالغ مجرموں کی تادیب گاہ نہ ہوکر کسی صنعتی اسکول کی طرح ہو۔یہ اقدام بہتر ہوتا۔ کیوں کہ ان بچوں کا جرم بہت معمولی تھا اور وہ ازخود اصلاح پذیر ہو سکتے تھے۔اگر ایسا کوئی اسکول وجود میں آتا تو میں خود اس کا پرنسپل بننا پسند کرتا کیوں کہ یہ کام زیادہ آسان ہے۔ننھے بچے فطرتاََ شفقت کی طرف مائل ہوتے ہیں۔کوئی بھی انہیں شفقت سے بہ آسانی قابو کر سکتاہے۔

پریڈ،اسکول یا فٹ بال کے دوران جب میں ان کے قریب جاتا تو ان میں سے کچھ بچے مجھے بے حد توجہ سے دیکھتے،براہ راست نہیں بلکہ دُزدیدہ نظروں سے۔میں کبھی کبھی ان کی طرف اچانک آجاتا تاکہ وہ مجھے دیکھنا چھوڑ کر پورا دھیان اپنے کا م میں لگائیں۔لیکن میں واقف تھا کہ اس طرح میرا اقتدار اور بھی مستحکم ہو رہا تھا۔

ان بچوں سے مخفی لگاؤ میرے لیے پیہم مسرت کا ذریعہ تھا۔کاش وہ میرے اپنے بچے ہوتے تو میں یہ جملہ اور زیادہ موثر پیرایے میں بیان کر سکتا۔لیکن میں اکثر و بیشتر چپ چاپ سلسلہ وار پریڈ سے ہو کر گزرتا اور ان بچوں میں سے ایک کے قریب کھڑ اہو جاتا۔وہ اپنے ماتھے پر ہکلا بَل ڈال کر سیدھا تَن جاتا جس سے اس کی بچکانہ آگہی اور میری قربت میں اس کی دلچسپی کی کمی کا اظہار ہوتا۔میں اس کی گوشمالی کرتا اورجواب میں وہ ہلکا سا مسکرا دیتا یا اپنی توجہ مزید گہری کر دیتا۔میرے خیال سے ان خارجی تاثرات کو کم سے کم تر کرنا فطری تھا۔لیکن ان تاثرات کو رمز کے طور پر دیکھا گیا اور یہی دیکھ کر کچھ بڑی عمر کے بچوں نے بھی خود کو اس عمل میں شامل کر لیا۔

ایک ایسے وقت میں جب وہ تادیب گاہ مشکل دور سے گزر رہی تھی۔اور جب انتظامیہ اور بچوں کے درمیان بیگانگی کا خطرہ اور بڑھ گیا تھا،اس طرح کے سہل اور فطری اشارے ایک قسم کی راحت تھے۔مجھے اور ان بچوں کو یقین دلا رہے تھے کہ ابھی زیادہ کچھ نہیں بگڑا ہے۔

اتوار کی دوپہر جب میں کام پر تھا،اپنی کار تادیب گاہ لے گیا اور وہاں میعاد گزار کر رہا ہو رہے لڑکوں کو گیٹ پر اپنا نام درج کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ان کی آزادی وہ بچے بڑی حسرت سے دیکھ رہے تھے جنہیں ابھی بھی تادیب گاہ میں ہی رہنا تھا۔وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے ”میری رہائی کو ابھی کافی ہفتے باقی ہیں“۔

ان میں ہمیشہ کچھ چھوٹے بچے تھے جن کو میں باری باری اپنی کار میں بٹھا کر سیر کراتا تھا۔ہم ’پوچسترم‘ روڈ کے بے پناہ جام سے گزر کر ’بارگواناتھ‘ چوراہا ہوتے ہوئے ’وان وِسکرس‘ سڑک سے تادیب گاہ لوٹ آئے۔میں نے ان بچوں سے ان کی فیملی،والدین،بہن اور بھائیوں کے بارے میں باتیں کیں۔اور میں نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے ان بچوں کے سامنے ڈربن،پورٹ ایلزا بیتھ،پوچسترم اور کلوکلان شہروں کے بارے میں عدم آگہی کا اظہار کیا۔میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ مقامات ’جوہینس برگ‘ سے بھی بڑے ہیں۔

ان میں ہاپینی نام کا ایک ننھا سا لڑکا تھا۔وہ عمر کی بارہویں دہلیز پر تھا۔وہ بولیم فونٹین کا رہنے والا تھا اور ان سبھی بچوں میں سب سے زیادہ باتونی تھا۔اس کی ماں ایک گورے کے یہاں کام کرتی تھی۔اس کے دوبھائی رچرڈ اور ڈائکی اور بہنیں انّا اور مِینا تھیں۔

”رچرڈ اور ڈائکی؟“ میں نے پوچھا۔

”یَس سر“

”انگریزی میں تو رچرڈ اور ڈائکی ایک ہی نام ہیں؟“ میں نے کہا۔

تادیب گاہ لوٹ کر میں نے ہاپینی کے کاغذات طلب کیے جس میں صاف صاف درج تھا کہ ہاپینی ایک بے گھرلڑکا ہے جس کے کسی بھی رشتے دار کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔وہ ایک گھر سے دوسرے گھر بھیجا جاتا رہا ہے۔چونکہ وہ ایک شریر اور بے لگام بچہ تھا اس لیے رفتہ رفتہ بازار میں ہلکی پھلکی چوری چپاٹی کرنے کا عادی ہو گیا تھا۔

پھر میں نے اس کے خطوط منگوائے۔انکشاف ہواکہ ہاپینی بولیم فونٹین کے ولاک علاقے کی گلی نمبر 48کی محترمہ بیٹّی مارام کو مسلسل خطوط لکھ رہا تھا۔مزید یہ کہ کوئی اس کے لیے خط لکھے وہ خود لکھ لیا کرتا تھا۔لیکن محترمہ مارام نے اس کے کسی خط کا جواب نہیں دیا تھا۔جب اس سلسلے میں ہاپینی سے دریافت کیا گیا تو اس نے کہا شاید وہ بیمار ہیں اس لیے جواب نہیں لکھ رہی ہیں۔

میں نے فوراََ بولیم فونٹین کے شوسل ویلفیئر افسر کو خط لکھ کر معاملے کی تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا۔الگی دفعہ جب میں ہاپینی کو اپنی کار سے سیر کرانے لے گیا تو میں نے ایک بار پھر اس سے اس کی فیملی کے متعلق جاننے کی کوشش کی۔اور اس نے وہی بتایا جو وہ پہلے بتا چکا تھا۔رچرڈ اور ڈائکی۔انّا اور مینا۔لیکن اس دفعہ اس نے ’ڈائکی‘ کے ’ڈ‘ کو نرمی سے اداکیا تاکہ ’تائکی‘ کی طرح سنائی دے۔(وہ بچہ افریقی نسل کا تھا اور افریقی لوگ ’ڈ‘ کا تلفظ نہیں ادا کر سکتے)۔

”تم نے ڈائکی کہا؟“ میں نے پوچھا۔

”میں نے تائکی کہا“اس نے جواب دیا۔

اس نے مجھے خفیہ طور پر شک کی نگاہ سے دیکھا جس سے میں فوراََ نتیجہ تک پہنچ گیا کہ بولیم فونٹین کا وہ بے گھر لڑکا بہت ہوشیار ہے جس نے مجھے اپنی فیملی کے بارے میں بالکل خیالی افسانہ سنایا ہے۔اور احتیاطاََ اپنے بھائی کے نام کا ایک حرف بدل لیاہے تاکہ جھوٹ پکڑا نہ جائے۔

میں بھی اس کی پوری کہانی سمجھ گیا کہ اس نے دنیا کی نظر سے اپنی یتیمی کا داغ چھپانے کے لیے یہ تمام کہانیاں گڑھی ہیں تاکہ دنیا کا کوئی بھی انسان اس کی حیات و موت کی فکر نہ کرے۔اس واقعہ کے بعد اس کے لیے میرا احساس مزید گہراہوگیا۔اور میں  حکومت کے سپرد کردہ اس کام میں،اگرچہ ان لفظوں میں نہیں، اپنے طریقے سے باہر نکل کر اس بچے پر پدرانہ شفقت نچھاور کرنے لگا۔

ادھر بولیم فونٹین کے سوشل ویلفیئر افسر کا خط بھی آگیا جس میں جانکاری دی گئی تھی کہ ولاک گلی نمبر 48کی محترمہ بیٹّی مارام کی شناخت ہو گئی ہے۔اس کے چار بچے ہیں۔رچرڈ،ڈائکی،انّا اور مینا۔لیکن ہاپینی اس کا بچہ نہیں ہے۔وہ اس لڑکے کو محض ایک لاوارث بچے کے طور پر جانتی ہے۔اس خاتون نے کبھی ہاپینی کے خط کا جواب بھی نہیں لکھا ہے۔کیوں کہ ہاپینی اس کو اپنے خط میں ”ماں“ کہہ کر خطاب کرتاہے اور چونکہ وہ ایک عزت دار خاتون اور کلیسا کی وفادار ممبر ہے اس لیے وہ کبھی بھی کسی ایسے لاوارث بچے کو اپنی طرف منسوب کر کے اپنے کنبے کو بد چلن ٹھہرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے۔

لیکن ہاپینی مجھے محض ایک معمولی سا نابالغ مجرم ہی لگتا تھا۔اس کے دل میں گھر بار رکھنے کا ارمان اتنا شدید تھا،تادیب گاہ میں اس کا ریکارڈ اتنا بے الزام تھا اور وہ اصولوں کی پابندی اس قدر فکر مندی سے کرتاتھا کہ میں اس کے تئیں بڑی ذمہ داری محسوس کرنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس کی حقیقی ”ماں“ کاسراغ لگانے میں جُٹا تھا۔

وہ اپنی ماں کے متعلق زیادہ نہیں بولتا تھا،نہ ہی تعریف کے پُل باندھتا تھا۔”وہ مایا محبت والی،ایمان دار اور تند مزاج تھیں،ان کا گھر صاف ستھرا رہتا تھا،انہیں اپنے تمام بچوں سے شفقت تھی“۔

یہ بات بالکل صاف تھی کہ جس طرح اس بے گھر بچے نے میرے دل میں اپنی جگہ بنالی تھی،وہ اس خاتون کے دل میں بھی گھر کر سکتا تھا۔اس نے اس خاتون کو بھی اتنے ہی قریب سے دیکھا تھا جتنا قریب سے مجھے۔لیکن وہ بے چارہ اس خاتون کے دل کی راہ کھولنے کا راز نہیں جانتا تھا کہ وہ خاتون اس کو اپنا لے اور قید تنہائی سے نجات دلائے۔

”اتنی رحم دل والدہ کا سایہ سر پر ہونے کے باوجود تم نے چوری کیوں کی؟“    میں نے ٹوہ لگائی۔

وہ لاجواب ہو گیا۔اس کی تمام تر ذہانت اور ہمت مل کر بھی ایسے سوال کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں جُٹا سکی۔کیوں کہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ جن بچوں کی ماں اس قدر رحم دل ہوتی ہیں وہ کبھی چوری نہیں کرتے۔

”بچے کا نام ڈائکی ہے ٹائکی نہیں“      میں نے کہا۔

اسی لمحے اس کو معلوم ہو گیا کہ اس کے جھوٹ کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔کسی لڑکے نے اس سے کہا ہوتا ”میں نے کہا نا تم سے کہ یہ نام ٹائکی ہے“۔لیکن وہ بڑا ہوشیار تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر میں نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ لڑکے کا نام ڈائکی ہے تو میں نے دیگر معلومات بھی اکٹھا کر لیے ہوں گے۔

میں اپنی تحقیق کے فوری اور نمایاں رد عمل سے حیران ہو گیا۔اس بچے کا یقین اس کے وجود میں ہی کہیں دفن ہو گیا۔وہ بے یارو مددگارکھڑا تھا۔ایک جھوٹے کی طرح نہیں بلکہ ایک بے گھر بچے کی طرح جس نے اپنے ارد گرد خیالی ماں،بھائی اور بہن کی کہانی بُن لی تھی۔میں نے اس کے ناز اور انسانی وقار کی بنیادیں متزلزل کر دی تھیں۔

وہ اچانک بیمار پڑ گیا۔حکیموں نے بتایا کہ وہ تپِ دق (T.B.) کا شکار ہو گیا ہے۔میں نے فورا محترمہ مارام کو خط لکھ کر صورت حال سے واقف کیا۔اور اس کو بتایا کہ اس ننھے بچے نے کس قدر قریب سے اس کا مشاہدہ کیا تھا اور دل ہی دل میں مان لیا تھا کہ وہی خاتون اس کی ماں ہے۔لیکن جواب میں اس نے لکھا کہ وہ اس بچے کی کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔کیوں کہ ایک تو وہ بچہ ’موسوتو‘ یعنی سیاہ فام افریقی نسل کا ہے اوروہ دوسری نسل کی۔دوسرے یہ کہ اس کے اپنے بچے کبھی کسی تکلیف سے نہیں گزرے تو وہ اس بچے کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں کر پائے گی۔

تپ دق ایک عجیب و غریب بیماری ہے۔کبھی کبھی یہ سب سے زیادہ خلاف قیاس میزبان پر اچانک حملہ آور ہوتی ہے اور تیزی سے اختتام کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ہاپینی نے خود کو دنیا سے الگ کر لیا۔سبھی پرنسپلوں اور ماوؤں سے الگ۔حکیموں نے کہہ دیا کہ امید کی لَو بُجھنے لگی ہے۔ناامیدی میں میں نے محترمہ مارام کو وہاں آنے کا کرایہ بھیج کر بلا لیا۔

وہ ایک باعزت خانہ دار خاتون تھی۔وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے بنا چوں چرا ہاپینی کو قبول کر لیا۔تادیب گاہ کے ہر فرد نے اس خاتون کو ہاپینی کی والدہ تسلیم کیا۔وہ دن بھر اس کے سراہنے بیٹھ کر رچرڈ،ڈائکی،انا اور مینا کی باتیں کرتیں۔اور کہتی کہ وہ لوگ اپنے بھائی ہاپینی کے گھر لوٹنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔وہ ہاپینی پر شفقت ِ مادری لٹانے لگی۔وہ ہاپینی کے مرض سے بالکل بھی خائف نہیں تھی۔اس نے خود پر ہاپینی کی ملکیت ثابت کرنے لینے کی بھوک کو انجام تک پہنچانے کی مکمل کوشش کی۔وہ ہاپینی سے کہتی تھی کہ جب وہ صحت یاب ہوکر گھر لوٹے گا تو کتنی خوشی ہوگی۔وہ اسکول کیسے جائے گا اور دیوالی کی رات وہ لوگ کیا کیا خریدیں گے۔

ہاپینی اس کی باتیں ہمہ تن گوش ہوکر سنتا تھا۔جب میں عیادت کے لیے اس کے پاس گیا وہ احسان مند تھا لیکن میں اس کی دنیا سے پرے نکل چکا تھا۔میں فیصلہ کن انداز میں تصور کرنے لگا کہ میں تو بس اس کے خارجی وجود کو ہی محسوس کر سکا ہوں،اس کے داخلی ارمانوں کی پیمائش مجھ سے کہاں ہوسکی ہے۔کاش میں نے یہ دانشمندی اور سخاوت پہلے دکھائی ہوتی۔

ہم نے اس کو تادیب گاہ کے ایک احاطے میں دفن کیا۔محترمہ مارام نے ہم سے کہہ دیا تھا کہ جب اس کی قبر پر کتبہ نصب کریں تو نشان زد کریں وہ محترمہ مارام کا بیٹا تھا۔

”میں شرمسار ہوں کہ میں اس کو قبول نہیں کر سکی“۔

”گود لیے جانے کے بعد بھی بیماری اس کو آلیتی“    میں نے کہا۔

”نہیں!“    وہ اپنے ماتھے کو جنبش دیتے ہوئے یقین سے بولی۔

”اور گھر پر بیماری آتی بھی تو صورت حال الگ ہوتی“۔

تادیب گاہ کا ایک اجنبی سا دورہ کر کے وہ بولیم فونٹین چلی گئی۔میں نے بھی حکومت کے ذریعے سپرد کردہ کام میں،اگرچہ ان تمام الفاظ میں نہیں، مزید دریادلی اور سخاوت کا وعدہ کر کے رختِ سفر باندھ لیا۔

٭٭٭

انگریزی افسانہ:      Ha’penny

افسانہ نگار:   ایلن پٹن (1903-1988)

انگریزی سے اردو ترجمہ: وسیم احمد علیمی،

شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی

SRK Hostel, Room No.17, JMI, New Delhi, 110025

Email: wasimahmadalimi@gmail.com

Mobile:7835961294

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراچ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
خطوطِ غالب: اردو جدید نثر کا نقطۂ آغاز – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
محبت/ خلیل جبران- مترجم: فیضان الحق

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں