اور پھر ‘المترا’ نے کہا: ہمیں محبت کے بارے میں بتائیے
اس (پیغمبر) نے اپنا سر اٹھا کر لوگوں کی طرف دیکھا،لوگوں پر جمود طاری ہو گیا، اور پھر اس نے بلند آواز میں کہنا شروع کیا:
جب محبت آپ کو اشارے کرے،تو اس کی اتباع کرو
گرچہ اس کے راستے دشوار گزار اور پتھریلے ہیں
جب محبت کے پنکھ تمہیں اپنے اندر چھپالیں،تو تم اسے قبول کرو
گرچہ ان پروں میں چھپی تلوار تمہیں زخمی کر سکتی ہے
اور جب یہ تم سے بات کرے تو اس پر یقین کرو
گرچہ اس کی آواز تمہارے خوابوں کو چکناچور کر سکتی ہے،جس طرح باد شمال چمن کو تاراج کر دیتی ہے
محبت جس طرح تمہارے سر پر تاج سجاتی ہے،اسی طرح تمہیں سولی پر بھی لٹکا دیتی ہے، یہ جس طرح تمہاری ترقی کا راز بنتی ہے اسی طرح تمہاری تباہی کا سبب بھی ہے
محبت کبھی تو اوپر اٹھتی ہے، یہاں تک کہ دھوپ میں جھومتی تمہاری نرم شاخوں کو مس کرتی ہے
اسی طرح یہ کبھی نیچے گرتی ہے، یہاں تک کہ زمین سے جڑی تمہاری جڑوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے
کبھی یہ مکئ کی بالیوں کی طرح تمہیں اپنے چھلکوں سے ڈھانپ لیتی ہے
کبھی بری طرح جھنجھوڑ کر یہ تم سے تمہارا لباس تک چھین لیتی ہے
یہ تمہیں تمہارے چھلکوں سے آزاد کر دیتی ہے
یہ تمہیں پیس کر سفید آٹا بنا دیتی ہے
اور پھر گوندتی ہے، یہاں تک کہ تم ملایم ہو جاؤ
اور پھر یہ تمہیں اپنی مبارک آگ کے حوالے کر دیتی ہے، یہاں تک کہ تم خدا کی مبارک غذا کے لیے مبارک روٹی بن جاؤ
محبت تمہارے ساتھ یہ تمام کھیل کھیلتی ہے، یہاں تک کہ تم اپنے دل کا راز معلوم کر لو، اور اس آگہی کی بدولت قلب حیات کا ایک ٹکڑا بن جاؤ
لیکن اگر خوف کے سبب تم محبت سے محض سکون اور خوشی کے طالب ہو
تو تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی عریانیت کو چھپاتے ہوئے محبت کی پیس ڈالنے والی چکی سے پرے ہو جاؤ
اور ایک بے موسمی دنیا میں چلے جاؤ، جہاں تم ہنسنا چاہو، تو کھل کر ہنس نہ سکو، اور رونا چاہو، تو کھل کر رو نہ سکو
محبت اپنے سوا کسی کو کچھ دیتی ہے اور نہ اپنے سوا کسی سے کچھ لیتی ہے
محبت کے قبضے میں کچھ نہیں، اور نہ ہی کوئی محبت پر قابض ہو سکتا ہے
کیوں کہ محبت خود محبت کے لیے کافی ہے
جب تم محبت کرو تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہیے "خدا میرے دل میں ہے” بلکہ یہ کہو” میں خدا کے دل میں ہوں”
اور یہ مت سوچو کہ تم محبت حاصل کرنے کے لیے محبت کا کوئی نصاب پڑھا دوگے، بلکہ محبت خود جسے لائق سمجھتی ہے اسے اپنا نصاب پڑھا دیتی ہے
اپنی تکمیل کے سوا محبت کی کوئی خواہش نہیں
لیکن اگر تم محبت کرو اور تمہارے اندر خواہشات پیدا ہوں ، تو وہ خواہشات کچھ یوں ہونی چاہیئں:
تم پگھل کر اس بہتی ہوئی ندی کی طرح بننا چاہو جو راتوں میں نغمہ سرائ کرتی ہے
تم حد درجہ بڑھی ہوئی شفقت کا درد محسوس کرنا چاہو
تم محبت کے متعلق اپنی ہی واقفیت سے زخمی ہونا چاہو
خوشی خوشی اور اپنی مرضی سے خون بہانا چاہو
تم چاہو کہ ہشاش بشاش دل کے ساتھ تمہاری صبح ہو، اور تم محبت کے ایک اور دن کا شکریہ ادا کرو
دوپہر میں آرام کرنے اور محبت کی غایت درجہ کی خوشی حاصل کرنے کا ارادہ رکھو
تم چاہو کہ شام کے وقت احسان مندی کے ساتھ گھر واپس ہو
اور پھر اپنے محبوب کے لیے دعا کرتے ہوئے، اس حال میں سو جاؤ، کہ اس کی تعریف کا نغمہ تمہارے ہونٹوں پر تیر رہا ہو
******************
ماخوذ از : دی پرافٹ، از خلیل جبران
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

