میں ہوں ماتم کناں اپنے وطن کی موت پر جاناں
اگر چہ بستری، بیمار تھا وہ ایک مدت سے
مگر آہستہ آہستہ سبھی اندامِ تن اس کے
ہوئے، ہوتے گئے مفلوج اور بیمار بالآخر
کبھی سنتے ہیں ہوتا تھا بڑا خوش رو، تناور سا
کہ اس کے بازو و پا و سر و سینہ، شکم سب ہی
سلامت تھے، جواں تھا وہ، کہ دنیا رشک کرتی تھی
مگر پھر کیا ہوا، ہم کیا بتائیں، دن بہ دن دیکھا
کبھی دستِ وفا، پاے سیاست ہوگئے مفلوج
کبھی پھر سینہ سوزِ محبت بجھ گئی تن میں
مگر پھر آس تھی انصاف کا سر ہے، بچالے گا
کبھی ان بجھتے خلیوں میں دوبارہ جان ڈالے گا
مگر افسوس ایسا ہو نہ پایا آج یہ دیکھا
کہ سر نے مضمحل ہو کر لیا اک آخری ہچکی

