کسے خبر تھی کہ معمولی وسائل و ذرائع سے شروع ہونے والامکتبہ ایک دن اردو کا ایک عظیم اشاعتی ادارہ بن جائے گا۔ ترقی کے اس سفر میں ایک پر اسرار ’’داستان جنوں ‘‘ پوشیدہ ہے ۔ایسی داستان جس میں حیرت و تجسس بھی ہے ،حسن و عشق بھی، طلسم و سحر بھی ہے ، رزم و بزم بھی ۔
1920 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی داغ بیل پڑی ۔ 1921ء میں اس کا شعبہ تصنیف و تالیف وجود پذیر ہوا اور 1922ء میں شعبۂ اشاعت کا قیام عمل میں آیا جس کا نام ’’ مکتبہ جامعہ ‘‘ رکھا گیا ۔کہنے کو تو یہ جامعہ کا ایک اشاعتی ادارہ تھا مگر تاریخی شہادت کچھ اورکہتی ہے ۔ اور سچ یہ ہے کہ اگر جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک تحریک تھی تو مکتبہ جامعہ اس تحریک کی زبان تھا ۔اگر جامعہ ایک تہذیب تھی تو مکتبہ اس تہذیب کا دھڑکتا دل تھا ۔اگر جامعہ ایک دانش گاہ تھی تومکتبہ اس کا روشن اور تر و تازہ دماغ تھا ۔
مکتبہ جامعہ نے چھ ہزار سے زائد علمی و ادبی کتابیں شائع کیں اور کتابیں صدیوں کا حافظہ ہوتی ہیں ۔مکتبہ نے اردو کو دلہن کی طرح سجایا ،سنوارا اور اردو ’’زبانوں کا تاج محل ‘‘ ہے۔ مکتبے نے بچوں کی نفسیات و میلانات کو پیش نظر رکھ کر بیش بہا کتابی ذخیرہ تیار کیا اور بچے ملک و قوم کے معمار بھی ہیں ، مستقبل کی امانت و ضمانت بھی۔ مکتبے نے جامعہ ملیہ کے پیغام علم و عمل اور درس اخوت و محبت کو گھر گھر عام کیا اور جامعہ ملیہ ملک و ملت کا مشترک ورثہ ہے ۔مکتبے نے سینکڑوں علما،ادبا اور شعرا کے جوہر سے دنیا کو روشناس کیا اور یہ اہل علم ودانش اور تخلیق کار ہماری زبان اور قوم کے لئے قیمتی اثاثہ ہیں ۔
بھلا علم و اب کا وہ کون سا گوشہ ہے جو مکتبہ جامعہ کی روشن کتابوں سے منور نہ ہو۔ مذہب وفلسفہ ،تاریخ وتہذیب ، سائنسی و سماجی علوم وفنون اور خصوصاً شعر و ادب کی وہ کون سی صنف ہے جس پر مکتبہ جامعہ کے نقوش مرتسم نہ ہوئے ہوں ۔تحقیق ، تنقید ، قواعد، انشا ، داستان ، ناول ، افسانہ ، ڈراما ،سفر نامہ ،خود نوشت ، رپورتاژ طنز و مزاح ، تذکرہ ،کلاسیکی اور جدید شعر وادب کے علاوہ غالبیات اور اقبالیات کا ایک وافر سرمایہ ۔
مکتبہ جامعہ کے سلسلے میں جامعہ کے قدیم طالب علم غلام حیدر اپنی مشہور کتاب’ نقوش جامعہ ‘میں رقم طراز ہیں:
’’جامعہ کے کچھ سب سے زیادہ فعال اداروں میں مکتبہ جامعہ کا بھی نام ہے ۔
بیسویں صدی میں باوقار اور معیاری اردو ادب کی اشاعت اور پھیلاو میں اتنابڑا یوگ دان ہے کہ فی الحقیقت اس کی تاریخ ایک مکمل تحقیق کی متقاضی ہے ۔
جامعہ کی خوش نصیبی سے چونکہ اسے شروع سے ہی ملک کے بہتر کشادہ ذہن اور ترقی پسند افراد کا تعاون ، تحریک اور شمولیت حاصل تھی ۔اس لئے مکتبہ تصنیف و تالیف اور اس کی اشاعت کا کام جامعہ کے ابتدائی دنوں سے شروع ہو گیا تھا ۔ جہاں مولانا محمد علی جوہر جیسا علم کا شائق ،مولانا اسلم جے راج پوری اور کچھ بعد میں ڈاکٹر ذاکر حسین ، ڈاکٹر عابد حسین اور پروفیسر محمد مجیب جیسے صاحبان قلم موجود ہوں۔ ایسے ادارے سے کتابوں کی تصنیف تالیف ، طباعت و اشاعت میں یوں بھی زیادہ دیر نہیں لگنی چاہئے تھی ۔ چنانچہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ 1922 ء میں ہی شعبہ ٔ تصنیف تالیف کا قیام عمل میں آگیا تھا اور اسی سال جامعہ کے پریس نے کام شروع کر دیا تھا یعنی اس طرح مکتبہ جامعہ کی ابتدا ہو گئی تھی لیکن غالبا اسے بیو پاری روپ نہیں دیا گیا تھا ـ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ایک اور بات بھی جامعہ کے دوسرے شعبوں کے مقابلے میں مکتبہ کے سلسلے میں مختلف تھی ۔جب یہ کاروباری ادارہ ہو اتھا ۔یہاں کی تنخواہوں کا معیا ر بھی نسبتا بہتر تھا اور تنخواہ کے مقررہ وقت پر ملنے کا بھی اعتبار رہتاتھا ۔ گو کہ جب جب مکتبے پر برے وقت آئے تو اس کے کارکنوں نے بھی جامعہ کی روح اور طرز عمل میں اس طرح ساتھ دیا کہ اپنی تنخواہوں میں رضا کارانہ طور پر کٹوتی کر لی ۔‘‘(۱)
جامعہ کے دینیات کے استاد مولانا عبد الحئی فاروقی متبحر عالم تھے ۔انھوں نے قران کی کچھ سورتوں کی تفسیر لکھی تھی۔ انھیں بھی مکتبہ جامعہ نے کتابی صورت میں شائع کیا ۔ جامعہ کے ابتدائی دور کے طالب علم ثروت صولت نے مکتبہ جامعہ کے سلسلہ میں جو کچھ لکھا ہے، وہ اس لئے بھی اہم ہے کہ انھوں نے اس وقت طالب علم اور مکتبہ جامعہ کے ملازم دونوں حیثیت سے مکتبہ جامعہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ چنانچہ اسی اہمیت کے پیش نظر ان کا ایک طویل اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے :
’’مکتبہ جامعہ بھی جامعہ کے منصوبے کا ایک حصہ تھا اور جب میں وہاں پہنچا ہوں تو مکتبہ جامعہ بر صغیر میں اردو مطبوعات کا صف اول کا ادارہ بن چکا تھا ۔اگر چہ بیش تر کتابیں جامعہ کے اساتذہ کی لکھی ہوئی ہوتی تھیں ۔لیکن باہر کے لوگو ں کی کتابیں بھی شائع کی جاتی تھیں ۔ جگر مرادآبادی کا’ شعلۂ طور‘ سب سے پہلے مکتبہ جامعہ ہی سے شائع ہوا ۔اسی طرح جوش ملیح آبادی کے کلام کے کئی مجموعے بھی یہاں سے شائع ہوئے ۔اور بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم کے کئی اردو ڈرامے بھی مکتبہ جامعہ ہی سے شائع ہوئے تھے ۔ ( یہ بھی پڑھیں جامعہ اور مطالعۂ اقبال – ڈاکٹر معیدالرحمن )
لیکن میرے خیال میں مکتبہ جامعہ کا سب سے اہم کارنامہ بچوں کی کتابوں کی اشاعت تھی ۔ بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر ابتدائی جماعت سے لے کر اعلی جماعتوں تک کے طلبا کے لئے ہر عمر کے لحاظ سے جتنی اچھی ، موزوں اور مفید کتابیں مکتبہ جامعہ نے شائع کیں ، میرے خیال میں کسی اور ناشر نے نہیں کیں ۔یا کم ازکم اس وقت تک نہیں کی تھیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کی یہ کتابیں خود جامعہ کے اساتذہ اپنے تجربوں اور مشاہدوں کے تحت لکھتے تھے۔ ان میں قصہ کہانیوں کی کتابیں بھی تھیں ۔ تاریخ اسلام اور اسلام سے متعلق کتابیں بھی تھیں اور سائنس اور عام معلومات سے متعلق بھی ۔ ان کتابوں میں خیال رکھا جاتا تھا کہ طلبا میں کھوج اور جستجو کا جذبہ پیدا ہو ، ان کے کردار کی تعمیر ہو اور ان کے حوصلے بڑھیں ۔ ’کائنات ‘،’ایورسٹ کی کہانی ‘اور’ ننگا پربت‘ اسی قسم کی کتابیں تھیں اور مجھے خاص طور پر بہت پسند تھیں ۔
میرے اندر حوصلہ اور امنگ پیدا کرنے میں ان کتابوں کا بھی بڑا حصہ ہے ۔عبد الواحد سندھی صاحب کی کتابوں کا پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے ۔ ماہ نامہ ’پیام تعلیم ‘ کے اڈیٹر حسین حسان صاحب نے ’نامواران اسلام‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پچاس ساٹھ مشاہیر کے حالات تھے ۔مکتبہ جامعہ کا بچوں کا ماہ نامہ ’ پیام تعلیم ‘ اس زمانے میں بچوں کا سب سے اچھا ماہ نامہ تھا اور اس کا تاثر ذہن پر اتنا گہرا ہے کہ آج بھی بچوں کے موجودہ رسالے مجھ کو اتنے اچھے نظر نہیں آتے ۔ پیام تعلیم میں بچوں کے لئے شفیع الدین نیر صاحب نظمیں لکھا کرتے تھے اور انھو ں نے بچوں کے شاعر کی حیثیت اختیا ر کر لی تھی۔ اب میں ان نظموں کو بھو ل چکا ہوں ،لیکن دل یہ کہتا ہے کہ شاید اسماعیل میرٹھی کے بعد شفیع الدین نیر صاحب کے پائے کی بچوں کی نظمیں اس کثرت سے کسی نے نہیں لکھیں ۔‘‘ (۲)
مکتبہ جامعہ ایک مشن اور ایک تحریک ہے اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ مکتبہ نے آغاز سے ہی منصوبہ بند انداز سے بچوں کے لئے کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کردیا تھا ،جو ہنوز جاری ہے۔ بچوں کی ذہنی و فکری نشو ونما ، اچھی تعلیم وتربیت ،صحت ، تفریح ، غذاو لباس اور طور طریقے ۔۔۔۔کون سا موضوع ہے جس کو مکتبہ جامعہ نے تشنہ رکھا ہو ۔اس کے علاوہ تعلیم بالغان اور درسی کتب کی بڑے پیمانے پر اشاعت بھی مکتبہ جامعہ کی گراں قدر خدمت رہی ہے ۔ پروفیسر محمد مجیب 1956میں جامعہ کالج کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر کہتے ہیں :
’’1938میں بنیادی قومی تعلیم کی اسکیم شروع کی گئی ۔ جامعہ ملیہ نے اپنے وہاں اساتذہ کا مدرسہ قائم کیا۔ اس کے شعبہ ٔ ٔ نشر و اشاعت مکتبہ جامعہ نے ابتدائی اور ثانوی اسکولوں کے لئے بہتر نصابی کتابیں تیا ر کرنے کا کام شروع کیا ۔‘‘(۳)
مکتبہ جامعہ کا ایک اہم اختصاص معیاری اور اعلی درجے کے تراجم کی اشاعت بھی ہے۔سیدعابدحسین نے مہاتما گاندھی کی خود نوشت تلاش حق ، پنڈت جواہر لال نہرو کی خود نوشت تلاش ہند اور کانٹ کی کتاب ’ تنقید عقل محض‘ کے نام سے ترجمہ کیا ۔ افلاطون کی کتاب’ریاست ‘ مترجمہ ڈاکٹر ذاکر حسین اور جان اسٹورٹ مل کی کتاب ’آزادی ‘ مترجمہ سعید انصاری مکتبہ جامعہ کے اہم تراجم ہیں ۔ پروفیسر محمد مجیب کا تصنیفی و تالیفی دائرہ تاریخ ، سیاست اور شعر وادب کو محیط ہے ۔مکتبہ جامعہ نے ان کی کتابیں تاریخ تمدن ، تاریخ فلسفہ، سیاسیات اور دنیا کی کہانی شائع کی ہیں ۔
مکتبہ جامعہ کو صرف ایک منفعت بخش تجارتی، اشاعتی ادارہ سمجھ لینا بہت بڑی بھو ل ہے ۔مکتبہ کا اپنا ایک علمی مشن تھا۔ اس کی سب سے عمدہ مثال یہ ہے کہ مشہور مورخ اور مکتبہ جامعہ کے ملازم ثروت صولت کو ہند و پاک تقسیم کے حوالے ایک تحقیقی اور دستا ویزی کتاب لکھنے کے لئے مکتبہ جامعہ نے با تنخواہ رخصت کی منظوری دے دی ۔ اس سلسلہ میں خود ان کا بیان ملا حضہ فرمائیں :
’’ذاکر صاحب کا ایک احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا ۔ یہ طالب علمی کے زمانے کے بعد کی بات ہے، جب میں مکتبہ جامعہ کا ملازم تھا ۔ قرار داد پاکستان منظور ہو چکی تھی اور ڈاکٹر راجندر پرشاد نے تقسیم کے خلاف ایک کتاب لکھی تھی ۔ایک دن میں نے حامد علی خاں صاحب مرحوم سے جو مکتبہ جامعہ کے مہتمم تھے کہا کہ اگر مجھے فرصت ملے تو میں پاکستان پر ایک ایسی کتاب لکھوں جس میں ڈاکٹر راجندر پرشاد کی کتاب INDIA DEVIDED کا مدلل جواب دیا گیا ہو۔ حامد صاحب نے پوچھا کہ تم یہ کتاب کتنی مدت میں مکمل کر لو گے ۔ میں نے جواب دیا تین ماہ میں مکمل کر لوں گا ۔ چنانچہ حامد صاحب نے یہ معاملہ مکتبہ جامعہ کی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جس کے سر براہ ذاکر صاحب تھے ۔شاید اسی دن حامد صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھ سے کہا کہ ذاکر صاحب نے پاکستان پر کتاب لکھنے کے لئے تم کو تین ماہ کی با تنخوا ہ رخصت دینامنظور کر لیا ہے ‘‘ ۔ (۴)
مکتبہ جامعہ نے اپنے آغاز سے ہی رسائل و جرائد کا زریں سلسلہ قائم رکھا تاکہ زبان و ادب اشاعت کے ساتھ ملک و ملت کی صلاح و فلاح اور ذہنی بیداری کا ماحول ساز گار ہو سکے ۔شروع میں رسالہ جامعہ ((1923اور پھر بعد میں ماہ نامہ پیام تعلیم (1926)اور رسالہ کتاب نما (1932)سے اردو دنیا خوب واقف رہی ہے ۔’کتاب نما ‘نے بے شما ر ادیب و شعرا سے دنیائے ادب کو متعارف کیا اور ’پیام تعلیم ‘کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس کے وسیلے سے جہاں اردو میں بچوں کے بڑے ادیب و شعرا کو شہرت ملی، وہیں پیام تعلیم نے ہزاروں ننھے منے ادیب و شاعر بھی پیدا کئے۔
رسالہ’ پیام تعلیم ‘پہلے اپریل 1926ء پندرہ روزہ اخبار کی شکل میں نکلتا تھا اور اس وقت اس کا مقصد جامعہ کی سرگرمیوں کی روداد شائع کرنا ہوتا تھا ۔اس کے پہلے نگراں ڈاکٹر سید عابد حسین اور منیجر عبدالغفار مدھولی تھے ۔ لیکن 29اکتوبر 1932ء کو’ پیام تعلیم ‘بچوں کا ایک ماہ نامہ بنا دیا گیا اور اس کے مدیر حسین حسان مقررکئے گئے ۔’پیام تعلیم ‘کی خدمات کے حوالے سے غلام حیدر لکھتے ہیں :
’’ پیام تعلیم اور اس کے مدیر حضرات بذات خود ایک اتنا بڑا موضوع ہے کہ اس پر ایک مکمل تحقیقی کام ہونا چاہئے ۔ اردو کے بچوں کے ادب کی تخلیق ، فروغ ، تجدید ، اصلاح اور دلچسپی پیدا کرنے میں رسالہ’ پیام تعلیم ‘ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے فیض سے نہ صرف پرانے لکھنے والوں کو بچوں کے لئے اپنی تخلیقات چھپوانے اور متواتر لکھتے رہنے کا موقع مل گیا ۔بلکہ اس نے طالب علموں ۔نوجوانوں ،نو آموزوں کو لکھنے کی ترغیب فراہم کی ۔اور فل حقیقت ان کی ایسی تربیت اور اصلاح کی کہ وہ بچوں کے ادیب اور شاعر کہلانے کے مستحق ہو گئے ،۔ بچوں کی معلومات میں اضافہ کی غرض سے بڑے بڑے عالموں ،ادیبوں اور شاعروں کو مجبورکیا کہ وہ بھی بچوں کے لئے لکھیں ۔ چنانچہ 1947ء سے پہلے کے پرچوں میں اس میں لکھنے والوں میں گاندھی جی ، جواہر لال نہرو ، مختار احمد انصاری ، اقبال ، پریم چند ، کنھیا لال کپور ، ڈاکٹر محمد اشرف ، راہل سنکر تائن ، پروفیسر علیم ، رشید احمد صدیقی ، کرنل بشیر حسین زیدی، ظ۔ انصاری ، قراۃالعین حیدر جیسے بے شمار نام مل جاتے ہیں ۔ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر محمد مجیب، ڈاکٹر عابد حسین ، صالحہ عابد حسین ، الیاس احمد مجتبی ، عبد الواحد سندھی ،عبد الغفار مدھولی ،شفیع الدین نیر ،برکت علی فراق ا ور جامعہ کے بیش تر استاد جامعہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس رسالہ کے لئے ’گھر کے لوگ‘ مانے جاتے تھے ۔
ڈاکٹر عابد حسین کے علاوہ حسین حسان صاحب اور ان کے بعد محمد ولی صاحب تو اس کے ان اڈیٹرروں میں سے تھے کہ جنھوں نے ان گنت نئے لکھنے والوں کی اصلاح کر کرکے ان کو پختہ کار لکھنے والا بنا دیا ۔پیا م تعلیم کی سب سے بڑی خصو صیت یہ تھی کہ اس نےخالص کاروباری رخ کبھی نہیں اپنایا ،ہمیشہ تعلیمی، تربیتی اور تعمیری رخ پیش نگاہ رکھا ۔
یہ رسالہ اکتوبر 1947ء سے جولائی 1947ء اکیس سال متواتر پابندی سے نکلتا رہا ۔پھر 1947 ء کے انقلاب کے بعد چند سال کے وقفے کے بعد اب تک متواتر نکل رہا ہے ۔
پیامی برادری ،اسی رسالے میں شروع میں ایک قلمی دوستی کی برادری تھی جس کے ذریعے سے دور بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے واقفیت حاصل کرتے تھے ۔جامعہ کے چھوٹے بڑے بچوں کی ’جرمن آپا جان ‘(مس گیر ڈافلپس بورن )بچوں کے لئے چھوٹے چھوٹے دلچسپ نوٹ لکھتی تھیں ،جو ترجمہ کر کے پیامی برادری کے تحت پیام تعلیم میں شائع ہوتے تھے ۔پیامی برادری کے توسط سے بچے دلچسپی کے مشغلوں ، جیسے ٹکٹ ،سکے ، تصویریں جمع کرنے وغیرہ میں ایک دوسرے کے معاون ہوتے تھے ۔کچھ عرصہ مختلف مقامات پر اس کی منظم انجمنیں بھی بنیں مگر 1947ء کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا ۔ ‘‘(۵)
مکتبہ جامعہ کو اپنی ابتدا میں جہاں ڈاکٹر ذاکر حسین ،داکٹر سید عابد حسین ، پروفیسر سید محمد مجیب اور خواجہ غلام السیدین جیسی نابغہ ٔ روزگار ہستیوں کی سر پرستی حاصل رہی ، وہیں مکتبہ کو اس پر بھی فخر ہے کہ مہاتما گاندھی ، جواہر لال نہرو ،اور مولانا آزاد جیسے تحریک آزادی کے قافلہ سالاروں کی زریں تصانیف بھی مکتبہ سے شائع ہوئیں ۔ اس طرح معروف ادیبوں میں پریم چند کا شاہکار ناول گودان پہلی بار مکتبہ سے ہی شائع ہوا ۔دیوان غالب کا نسخہ ٔبرلن بھی مکتبہ ہی کے ذریعے منظر عام پر آیا۔ نیز مکتبہ کو فراق گورکھپوری ،مجنوں گورکھپوری ، جگر مرادآبادی ، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس، مالک رام اور قرۃالعین حیدر جیسے سربر آوردہ فن کاروں اور مصنفوں کی کتابیں شائع کرنے کابھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قدیم استاد اور جامعہ برادری کے اہم رکن شمس الرحمن محسنی کی خدمات نا قابل فراموش ہیں ۔ان کی کتاب ’’ہندوستانی مسلمانوں کی قومی تحریک جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘‘ کو جامعہ کی تاریخ و تہذیب کے حوالے سے دستاویزی حیثیت حاصل ہے ۔ انھوں نے اس کتاب میں مکتبہ جامعہ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ، وہ یہاں من و عن نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔وہ لکھتے ہیں :
’’28ء میں جامعہ کی تعمیر و ترقی کے جس نئے نقشے پر عمل در آمد ہوا اس میں مکتبہ کو خاص اہمیت دی گئی ۔ اس سے پہلے اس کی حیثیت ایک بک ڈپو کی تھی ۔وہ جامعہ کے شعبۂ تصنیف و تالیف کا ناشر ضرور تھا ، مگر اس کا کا روبار زیا دہ تر دوسرے ناشروں کی درسی اور غیر درسی کتابوںکی خرید و فروخت پر قائم تھا ۔ وہ ایران ، مصر ، جرمنی اور انگلستان سے براہ راست کتابیں منگاتا تھا اور جامعہ میں اور جامعہ سے باہر سپلائی کرتا تھا ۔مکتبہ جامعہ شروع سے کاروباری اصول پر قائم تھا۔ شعبۂ تصنیف و تالیف اور اس کے تجارتی اصولوں میں ٹکر ہوتی تو تجارتی اصولوں کو ترجیح دی جاتی ۔24 19ء میں جب جامعہ کی مالی حالت خراب ہوگئی تو اس کا اثر مکتبہ جامعہ پر بھی پڑا اور وہ آہستہ آہستہ جامعہ ملیہ کا ایک ایسا شعبہ بن گیا ، جس کو اپنے ہر چھوٹے برے خرچ کے لئے جامعہ کے مرکزی دفتر سے اجازت لینا پڑتی تھی ۔
جامعہ کی نئی اسکیم میں مکتبہ جامعہ کے کا موں کو پھر از سر نو تجارتی اصولوں پر منظم کرنے کی کوشش کی گئی ۔اپنے پچھلے تجربے سے جامعہ کے کارکنوں پر یہ حقیقت واضح ہو گئی تھی کہ علمی کتابیں شائع کرنے کا کام صرف ایسے ادارے انجام دے رہے ہیں۔ جن کے پاس سرمایہ کی فراوانی ہو اور جو اس سے بے فکر ہوں کہ وہ بکتی ہیں یا نہیں ِ، علمی کتابیں شائع کرتے رہیں ۔ اول تو جامعہ کے پاس اتنا وافر سرمایہ نہ تھا اوردوسرے وہ اس کے لئے تیار نہ تھی کہ کتابیں چھپوا کر الماریوں میں مقفل کی جاتی رہیں۔ اسے پچھلے تجربوں سے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اردو داں طبقے کو بلند معیا رکی علمی کتابوں سے زیادہ ابھی دوسری قسم کی کتابوں کی ضرورت ہے ۔ اس لئے مکتبہ جامعہ کے پروگرام میں بچوں کی درسی کتابیں اور غیر درسی کتابوں اور عام مطالعہ کے لیٹریچر کی نشر واشاعت پر زیادہ زور دیا جانے لگا ۔28ء میں جامعہ ملیہ نے اپنے پھیلے ہوئے کام کو سمیٹ کر بچوں کی تعلیم کو اپنی خصوصی توجہ کا مرکز بنا لیا تھا ۔ اس سے یہ انکشاف ہوا کہ اردو میں بچوں کے لئے اچھی کتابوں کی بہت کمی ہے ۔مکتبہ جامعہ نے اس ضرورت کے پیش نظر بچوں کے لئے کتابوں کی تیاری اور اشاعت کا کام بڑے پیمانے پر شروع کر دیا ۔مختلف عمر کے بچوں کی نفسیات کا خیال رکھ کر ان کے لئے علاحدہ کتابیں تیار کرائی گئیں اور اس بات کا خیال رکھا گیا کہ انداز بیان دلچسپ اور دلکش رہے تاکہ بچے اپنے خالی اوقات میں شوق سے پڑھیں اور ان میں عام مطالعے کا مذاق پرورش پاتا رہے ۔بچوں کے لئے عام مطالعے کی کتابیں تیار کرنے کے علاوہ مکتبہ جامعہ نے درسی کتابوں کے میدان میں بھی بڑا کام کیا ۔اس نے مختلف صوبوں کے محکمات تعلیم کے لئے درسی کتابیں تیار کرا کر شائع کیں ۔ اس کام سے جو تجربے ہوئے ان کی روشنی میں مکتبہ جامعہ نے درسی کتابوں کا ایک نیا سلسلہ تیار کیا جسے تعلیم کے اکثر محکموں نے اپنے نصاب میں شامل کر لیا ۔
30 19ء سے بڑے لوگوں کے لئے عام مطالعے کی کتابوں کی نشر واشاعت کی طرف بھی خاص توجہ دی گئی اور مکتبہ نے عام دلچسپی کے موضوعات پر بہت سی کتابیں شائع کیں ،جن کے ذریعے لوگوں میں کتب بینی کا مذاق پرورش پا سکے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اشاعت علوم کا مقصد بڑ ی حد تک مکتبہ جامعہ کی کتابوں اور اس کے رسالوں نے یقینا اردو داں طبقے میں عام ذہنی بیداری اور طلبہ اورعوام دونوں میں علوم و ادب کا ذوق پیدا کرنے کی بے نظیرخدمت انجام دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکتبہ جامعہ نے ملک کے ہر حصے میں نام اور شہرت پائی ۔اس ملک گیر شہرت کا راز یہ بھی تھا کہ اس نے کتابوں کو سلیقے اور خوبصورتی کے ساتھ شائع کرنے کا ایک نیا اور اعلی معیا ر قائم کر دیا ۔ مکتبہ جامعہ پہلا اشاعتی ادارہ تھا جس نے اردو کتابوں کی ظاہری حیثیت کی طرف توجہ کی ۔ کتابت و طباعت کی پاکیزگی ،جلدوں کی نفاست و خوب صورتی، سرورق اور گرد پوش کی رنگینی کا معیار قائم کرکے اس نے ہندوستان کے ناشرین کتب کی رہنمائی کا جو کام انجام دیا ، اسے ملک کے اہل ذوق حضرات نے بہت سراہا ۔‘‘ (۶)
مکتبہ جامعہ کی تاریخ اسلاف کی بے نظیر قربانیوں سے عبارت رہی ہے ۔1921ء میں صرف شعبۂ تصنیف و تالیف ہوا کرتا تھا جس کے ناظم نور الرحمن صاحب تھے ۔پھر1922ء میں مکتبہ جامعہ جامعہ قائم ہوا ۔1925جامعہ ملیہ علی گڑھ سے جب دہلی منتقل ہوئی تو مکتبہ بھی یہں آ گیا ۔ اس کے انچارج چوہدھری اکبر علی صاحب اور پھر حاجی منظور صاحب مقرر ہوئے ۔ پھر ڈاکٹر ذاکر حسین نے حامد علی خاں کو مکتبہ کا جنرل منیجر مقرر کیا ۔آغاز میں مکتبہ نے اپنی جاذب نظر کتابوں کے حوالے سے اردو دنیا میں دھوم مچائی۔ مکتبہ کی کتابوں نے بہت جلد نفاست اور دل کشی کے باوجود نہایت کم قیمت کی وجہ سے اپنی علاحدہ شناخت قائم کر لی۔مکتبہ میں ڈاکٹر ذاکر حسین نے خصوصی دل چسپی لی ۔ بچوں کے لئے وہ اور ان کے رفقا مجیب صاحب اور سید عابد حسین وغیرہ خود لکھنے لگے ۔ ذاکر صاحب نے اپنی بیٹی رقیہ ریحانہ کے نام سے زریں سلسلہ شروع کیا ۔حامد علی خاں کے زمانے میں درسی کتب اور جیبی کتب کی اشاعت پر خاص توجہ دی گئی اور یہاں کی کتابیں مختلف ریاستوں میں شامل نصاب ہونے لگیں ۔
حامد علی خاں کے حوالے سے غلام حیدر لکھتے ہیں :
’’مکتبہ جامعہ کو سب سے فعال اور جوشیلے کار کن حامد علی خاں (بی اے جامعہ اور حیاتی رکن) مل گئے جن میں ایک بیوپاری ادارہ چلانے کی زبردست صلاحیت تھی ۔ لکھنے میں تو کوئی بہت زیادہ دخل نہیں تھا مگر کاروباری تنظیم میں بہت مضبوط اور فعال انداز تھا ۔ فی الحقیقت مکتبہ کی ترقی میں جہاں اور بھی بہت سے عوامل شامل ہیں ان میں ایک اہم کردار حامد علی خاں صاحب کا بھی ہے ۔ ‘‘(۷)
حامد علی خا ں کے سلسلہ میں عبد الغفار مدھولی نے اپنی کتاب ’ایک معلم کی زندگی ‘ میں لکھا ہے :
’’۔۔۔۔۔۔۔۔ان سے کبھی نچلا نہیں بیٹھا جاتا ہے ـــــــ۔۔۔۔۔خودتوکبھی کوئی کتاب نہیں لکھی مگر دنیا بھر کے لوگوں سے سینکڑوں کتابیں لکھوا ڈالیں ۔ ابتدا کی لڑکوں کی کتابوں سے اس لئے برکت بھی ہوئی ۔ شروع میں ہی افلاطون کی کتاب چھپوا دیتے تو دیوالہ نکل جاتا ‘‘۔ (۸)
1947 ء سے پہلے مکتبہ جامعہ کی شاخیں لاہور ، لکھنو اور دہلی کے قرول باغ میں بھی قائم تھیں ۔لیکن تقسیم اور فسادات کے زیر اثر یہ شاخیں بند ہو گئیں ۔حتی کہ قرول باغ کی شاخ کو شر پسندوں نے نذر آتش کر دیا ۔ لیکن اس کے بعد آج بھی یونیورسٹی مارکیٹ (علی گڑھ)،
اردو بازار( دہلی)،علامہ اقبال چوک( ممبئی) اور بھوپال گراونڈ (جامعہ ملیہ ) میں مکتبہ کی شاخیں نہایت زندہ ، متحر ک اور فعال ہیں ۔ 1933ء میں یونیسکو نے جامعہ کو بطور تحفہ دو پرنٹگ مشینیں نذر کی تھیں ۔ پروفیسر مجیب نے یہ مشینیں مکتبہ جامعہ کے حوالے کر دیں ۔ یہی پریس دریا گنج میں لیبرٹی آرٹ پریس کے نام سے کام کرنے لگا ۔لیکن بوجوہ گذشتہ اٹھارہ برسوں سے یہ پریس بند پڑاہے ۔ حالاں کہ پریس کی وجہ سے اشاعت کا سلسلہ بہت تیز تر ہو گیا تھا ۔
قرول باغ آتش زنی مکتبہ جامعہ کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ تھا اس میں مکتبہ کا سارا سرمایہ خاکستر ہو گیا ۔ بقول شمس الرحمن محسنی اس وقت مکتبہ جامعہ کے پاس سات لاکھ روپئے سے زائد کا اسٹاک تھا اور شائع شدہ کتابوں کی تعداد سات سو سے اوپر ہو گئی تھی ۔ لیکن سب کچھ جل کر راکھ ہو جانے کے بعد ڈاکٹر ذاکر حسین اور مکتبہ کے منیجر حامد علی خاں نے اس عظیم ادارے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے مکتبہ جامعہ کو پرائیویٹ لمیٹڈ بنانے کی تجویز پیش کی ۔چنانچہ انجمنِ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی منطوری کے بعد جنوری 1950ء میں مکتبہ جامعہ اب مکتبہ جامعہ لمٹیڈ بن گیا۔ جس میں نوے فی صد حصص جامعہ کے پاس رہے اور دس فی صد کے حصے دار کئی ہمدردان جامعہ ہو گئے ۔
1947ء میں قرول باغ میں مکتبہ کی تباہی کے بعد جامعہ نگر میں اس کا از سر نو احیا ہوا۔ اس کے پیچھے عابد صاحب کا جذبہ بقول شاہد علی خاں ملاحظہ فرمائیں :
’’۔۔۔ وہ (یعنی حامد صاحب ) پاکستان جا چکے تھے ۔۔۔ کچھ دن بعد ذاکر صاحب اور عابد صاحب نے ان کو واپس بلایا ۔۔۔۔ تو عابد صا حب نے اپنی اسٹیشنر ی اور میز کرسی دی تھی مکتبہ شروع کرنے کو۔۔۔۔۔۔۔عابد صاحب کا احسان مکتبہ والے نہیں مانتے ، پہلے بھی نہیں مانتے تھے ۔۔۔۔۔‘‘ (۹)
حامد علی خاں ) 1949ء تا1957ء)کے بعد مشہور ترقی پسند شاعر غلام ربانی تاباں (1958ء تا 1970ء)جنرل منیجر مقرر کئے گئے ۔ ان کے دور میں ’’معیا ری سیریز‘‘کی کتابوں کی اشاعت قابل ذکر ہے ۔ پھر 1970 ء تا 2006ء کے عرصہ میں شاہد علی خاں نے جنرل منیجر کا فریضہ انجام دیا ۔انھو ں نے اپنے دور میں نہایت نفاست اور لگن سے کام کیا ۔ ’کتاب نما‘ کے درجنوں خصوصی شمارے نکالے ۔مشہور ادیبوں اور نقادوں سے مہمان اداریے لکھوائے اور کثیر تعداد میں کتابیں چھپوائیں ۔
شاہد علی خاں کے حوالے سے غلام حیدر لکھتے ہیں :
’’۔۔۔۔۔52ء میں مکتبہ جامعہ کی بمبئی شاخ کے انچارج ہوئے۔ پھر جب غلام ربانی تاباں کے دور میں داخلی اور خارجی اثرات میں مکتبہ کے حالات بہت خراب ہوئے تو انھیں بمبئی سے بلا کر مکتبہ کا جنرل منیجر بنا دیا گیا ۔ ان کی محنت ،کاروباری صلا حیتوں اور مکتبہ کے بورد آف ڈائرکٹر س کی کوشش سے مکتبہ کو نئی زندگی ملی۔ کام کے بے حد شوقین ہیں اور اپنی صحت کی پروا کئے بغیر متواتر کام میں مصروف رہتے ہیں ۔ ‘‘(۱۰)
پھر ہمایوں ظفر زیدی مرحوم (2006 ء تا2008ء)نے جنرل منیجر کے بطور خدمات انجام دیں اور کچھ ہی عرصہ بعد مشہور ماہر تعلیم پروفیسر محمد میاں (سابق وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد) کو منیجگ ڈائرکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ انھوں نے اکتوبر 2008ء سے 2010 ء تک خدمات انجام دیں ۔
یکم ستمبر 2010ء میں معروف ادیب و شاعر پروفیسر خالد محمود کو یہ منصب تفویض ہوا ۔جن حالات میں پروفیسر خالد محمود نے مکتبہ جامعہ کی سربراہی قبول کی وہ نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مکتبہ کے پاس اپنا کوئی دفتر نہیں تھا ،ہزاروں قیمتی کتابوں کا ذخیرہ کباڑ خانے میں دیمکوں کی غذا بن رہا تھا ،مکتبہ جامعہ کا مشہور زمانہ بمبئی برانچ بند ہو نے کے دہانے پر تھا، مدت سے کتابوںکی اشاعت کا سلسلہ تقریباً بند تھا، مکتبہ لاکھوں کے خسارے میں چل رہا تھا اور ایسا اندیشہ تھا کہ شاید یہ مکتبہ اپنی جاں کنی کی آخری سانسیں گن رہا ہے ۔ ایسی صورت حال میں پروفیسر خالد محمود نے اس وقت کے وائس چانسلر نجیب جنگ کی سر پرستی میں مکتبہ میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ اس سلسلے میں ان کے درج ذیل کارنامے مکتبہ کی تاریخ میں ناقابل فراموش ہیں :
(۱ )وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے توسط سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ساتھ مکتبہ جامعہ نے ایک ایسے MoU پر دستخط کیا جس کے تحت کونسل نے مکتبہ کے اشراک سے چار سو ٹائٹلس کی گیارہ گیارہ سو کاپیاں یعنی کل چار لاکھ چالیس ہزار کتابیں شائع کیں او ر اس معاہدے کے تحت تمام مطبوعات کی حق ملکیت مکمل طور پر مکتبہ جامعہ کے پاس محفوظ ہے۔ کونسل صرف منافع میں پچاس فی صد کا حصہ دار ہے ۔
(۲ )دہلی کے علاقہ بوانہ میں مکتبہ جامعہ کا کروڑوں کی ملکیت کا قطعۂ اراضی کا بیعانہ بہت پہلے دیا جا چکا تھا لیکن زمین کی قیمت ادا نہ کرنے کے سبب مکتبہ جامعہ کے نام سے رجسٹری نہیں ہو سکی تھی ۔ چنانچہ 35 لاکھ روپئے جامعہ سے قرض لے کر وہ زمین خرید لی گئی ۔
(۳) وائس چانسلر نجیب جنگ سے اجازت نامہ حاصل کرکے مکتبہ جامعہ کو جامعہ ملیہ کی ایک شان دار دو منزلہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا ۔
(۴) مکتبہ جامعہ کی آمدنی میں اضافہ کے لئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تمام دفاتر کو یہ ہدایت جاری کی گئی کہ ا سٹیشنر ی کی تمام خریداریاں مکتبہ جامعہ سے ہی کی جائیں ۔
(۵) بمبئی برانچ جو کہ تقریبا ًجاں بلب ہو چکا تھا اس کو نئے سرے سے زندہ کیا۔
2014 ء کو پروفیسر خالد محمود نے مکتبہ جامعہ کے منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔
2015ء میں اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد ڈاکٹر عمران احمد عندلیب کو منیجنگ ڈائرکٹر مقررکیا ۔اس وقت مکتبہ پھر ایک بحرانی دور سے گزر رہا ہے ۔مکتبے کا مشہور ماہ نامہ’ کتاب نما‘ بھی پابندی سے نہیں نکل پا رہا ہے۔ ابھی ماہ دسمبر میں بھی اگست کا شمارہ منظر عام پر نہیں آسکا اور ابھی یہ ادارہ لاکھوں کے خسارے میں چل رہا ہے ۔ امید ہے کہ مکتبے کے ذمہ داران اس عظیم تاریخی ادارے اور قیمتی علمی ورثے کے تحفظ اور ترقی و استحکام کے لئے سعی کریں گے ۔
٭٭٭
حوالہ جات :
(۱) نقوش جامعہ ،غلام حیدر ،مکتبہ جامعہ لمٹیڈ، 2012ء ،ص179تا 180
(۲)جامعہ ملیہ میں میرے 3+4 سال کچھ یادیں ،کچھ تاثرات،ثروت صولت ، مشمولہ جامعہ ملیہ اسلامیہ تحریک، تاریخ، روایت، جلد اول ،مرتبہ شمیم حنفی ، شہاب الدین انصاری، شمس الحق عثمانی ،29 اکتوبر 2003ء، ذاکرانسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی ،ص270 تا 271
(۳)جامعہ کالج کی تاریخ اور اس کی اہمیت ، پروفیسر محمد مجیب ،ترجمہ پروفیسر محمد ذاکر ، ، مشمولہ جامعہ ملیہ اسلامیہ تحریک، تاریخ، روایت، جلد اول ،مرتبہ شمیم حنفی ، شہاب الدین انصاری، شمس الحق عثمانی ،29 اکتوبر 2003ء، ذاکرانسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی، ص191
(۴)جامعہ ملیہ میں میرے 3+4 سال کچھ یادیں ،کچھ تاثرات،ثروت صولت ، مشمولہ جامعہ ملیہ اسلامیہ تحریک، تاریخ، روایت، جلد اول ،مرتبہ شمیم حنفی ، شہاب الدین انصاری، شمس الحق عثمانی ،29 اکتوبر 2003ء، ذاکرانسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی ،ص258تا259
(۵) نقوش جامعہ ،غلام حیدر ،مکتبہ جامعہ لمٹیڈ، 2012ء ء ص135 تا 136
(۶) ہندوستانی مسلمانوں کی قومی تعلیمی تحریک جامعہ ملیہ اسلامیہ ،شمس الرحمن محسنی ،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،2012،ص 86تا 88
(۷) نقوش جامعہ ،غلام حیدر ،مکتبہ جامعہ لمٹیڈ، 2012ء ء ص180
(۸)ایک معلم کی زندگی جلد ،1،عبد الغفار مدھولی ، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ ، ص271تا272
(۹) نقوش جامعہ ،غلام حیدر ،مکتبہ جامعہ لمٹیڈ، 2012ء ء ص282
(۱۰) نقوش جامعہ ،غلام حیدر ،مکتبہ جامعہ لمٹیڈ، 2012ء ء ص414
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

