مطالعات میر اور پروفیسر احمد محفوظ کی ’’بیان میر‘‘- مبصر: ڈاکٹر محمد مقیم
احمد محفوظ ایک اچھے استاد تو ہیں ہی عمدہ شاعر بھی ہیں۔ کلیات اکبر الٰہ آبادی اور کلیات میر کی تدوین سے نہ صرف ان کی ادبی سرگرمی کا پتہ چلتا ہے بلکہ ان کی تنقیدی و تحقیقی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور مدون کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت قائم ہوتی ہے۔ علم عروض پر گہری دسترس ان کے ادبی وقار میں مزید اضافہ کا باعث اور نشانِ امتیاز ہے۔ احمد محفوظ کی نثر میں سادگی اور صراحت ہے۔ وضاحتِ بیان، منطقی طرز استدلال اور معروضیت ان کی نثر کا بنیادی وصف ہیں۔ وہ سلجھی ہوئی فکر کے حامل ہیں۔ مسائل کی پیش کش میں ان کے یہاں کسی قسم کی کشمکش اور تذبذب کا پتہ نہیں ملتا اور وہ بات کو پورے اعتماد کے ساتھ واضح کردیتے ہیں۔ ان کے جملوں کی در و بست کچھ ایسی ہوتی ہے کہ اگر ایک کے بعد دوسرے جملے کو حذف کردیا جائے تو مفہوم سمجھنے میں دشواری پیدا ہونے لگے۔ احمد محفوظ کا یہ وصف اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ عبارت آرائی اور لفاظی سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ایک جملوں کی ترتیب ہی پر کیا منحصر ہے فعل، فاعل، مفعول اور علامت فاعلی وغیرہ کی نشست بھی اس طور پر ہوتی ہے کہ گویا کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ ان باتوں کا ذکر یہاں غیر ضروری معلوم ہو لیکن، غور کرنے کی بات ہے کہ اگر نثر ان خوبیوں سے عاری ہو تو علمی و تنقیدی نثر کسے کہا جائے گا؟ آج جب نثر کی طرف سے بے پروائی کی کیفیت عام ہے اور محض ترسیل ہی کو سب کچھ سمجھا جارہا ہے تو یہ بات بڑی اہم اور لائق توجہ ہے۔
اس تمہیدی گفتگو کا سبب 2013 میں ایم آر پبلی کیشنز ، دہلی سے شائع احمد محفوظ کی کتاب ’’بیان میر‘‘ ہے۔ جنوری 2019 میں اس کتاب کا اضافہ شدہ ایڈیشن پاکستان میں عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ ایسٹرن ٹائمز بک ریویو کے مبصر نے اس کتاب کو میر کے بارے میں کلیشے توڑنے والی کتاب قرار دیا اور یہ رائے ظاہر کی کہ ’’بیان میر‘‘ کا پاکستان سے شائع ہونا اہمیت کا حامل ہے۔ عنقریب اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن ایم آر پبلی کیشنز دہلی سے یقینی ہے۔ 2013 میں جب ’’بیان میر‘‘ شائع ہوئی تو پاکستان میں اردو کے قابل قدر اور مایہ ناز شاعر جناب ظفر اقبال نے اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کیا اور کتاب کے مشمولات کو سراہا۔ ( یہ بھی پڑھیں مولانا محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات – ڈاکٹر عمیر منظر)
یہ کتاب دراصل میر سے متعلق مضامین پر مشتمل ہے۔ یہ مضامین مختلف اوقات میں مختلف موقعوں پر معرض تحریر میں آئے۔ اس کتاب کے مشمولات پر نظر ڈالنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ احمد محفوظ نے میر پر جتنے مضامین لکھے ہیں وہ سب اس کتاب میں شامل نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات کتاب کی ضخامت پر افادیت اور منطقی ربط و تسلسل کی فوقیت کا شعوری اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مضامین کا مجموعہ ہونے کے باوجود یہ کتاب ایک تسلسل میں پروئی ہوئی اور یک موضوعی ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر تمام مضامین میں مشترک بات بس اتنی ہی نہیں ہے کہ، اس میں کسی نہ کسی طور پر میر ہی موضوع بحث ہیں بلکہ، مواد کی پیش کش کا انداز کچھ اس قسم کا ہے کہ متن کی سطح پر ایک مخصوص اشتراک (میر کا جہانِ دیگر) محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ میر کے بارے میں بہت مشہور ہے کہ ان کا کلام آپ بیتی کی صورت میں جگ بیتی، رنج و الم، غم و اندوہ، سادگی وسلاست اور سہل ممتنع (یہ الگ بات ہے کہ سہل ممتنع کا عام تصور ہی گمراہ کن ہے) کا بحر بیکراں ہے، گویا ایک ایسی اثر آفرینی ہے کہ دل میں تیر ترازو ہوجائے۔ یعنی مضمون اور تخلیقی طرز گذاری کو فنی خوبی باور کرلیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر احمد محفوظ نے میر کے جہانِ دیگر کو نشان زد کرنے کے علاوہ فنی خوبیوں اور تخلیقی طرزگذاری اور سروکار کے فرق کی صراحت کرتے ہوئے مغالطہ آمیز مسلمات پر کاری ضرب لگائی ہے۔ انھوں نے جن بنیادی اور اصولی باتوں (جو زمانے کی گرد سے اٹی ہوئی تھیں) سے سروکار رکھا ہے وہ بدیعی یا اختراعی نوع کی نہیں بلکہ احیا اور بازیافت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’بیان میر‘ مجھے ایک رجحان ساز کتاب معلوم ہوتی ہے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کے مندرجات پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مواد پر کچھ گفتگو کی جائے۔
اس کتاب میں مصنف کے پیش لفظ کے علاوہ کل سات مضامین ہیں (پاکستانی ایڈیشن میں نو مضامین ہیں، یعنی دو مضمون اضافہ شدہ ہیں)۔ پہلے چار مضامین وہ فضا ہموار کرتے ہیں جس میں بعد کے تین مضامین کے مباحث سے احیا، بازیافت، نئے زاویۂ نظر اور صاحب کتاب کے فکری گوشوں کا نشان ملتا ہے۔ پہلا مضمون ’تذکروں میں محاکمۂ میر‘‘ کتاب کا دوسرا طویل ترین مضمون ہے۔ یہ مضمون تحقیقی نوعیت کا ہے اور بڑی محنت سے لکھا گیا ہے، جو دراصل تذکروں میں میر کے محاکمے کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ہمارے یہاں تذکروں میں مندرج مخصوص فقروں، تراکیب اور اصطلاحات کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ ان فقروں کے حوالے سے ہمارا رویہ دو طرح کی انتہا پسندی کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔ ایک کی نمائندگی کلیم الدین احمد اور دوسرے کی نمائندگی عابد علی عابد کے رویوں سے ہوتی ہے۔ احمد محفوظ ان دو رویوں کے بیچ اعتدال کی راہ قائم کرتے ہیں اور معروضی نقطۂ نظر اپناتے ہیں۔ انھوں نے تذکروں کے مخصوص فقروں کو دو خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک تو وہ ہے جنھیں تنقیدی کہا جاسکتا ہے اور دوسرا وہ جنھیں تاثراتی کہہ سکتے ہیں (واضح رہے کہ عبارت آرائی کہنے سے شعوری طور پر گریز کیا گیا ہے۔)۔ احمد محفوظ نے اسی حصے سے سروکار رکھا ہے جس میں تنقید کی رمق ملتی ہے۔ اس ضمن میں خاص بات یہ ہے کہ وہ محض یہ بتانے پر اکتفا نہیں کرتے کہ فلاں فلاں فقرہ تنقیدی ہے اور فلاں غیر تنقیدی بلکہ بحث اور دلائل سے اپنی بات کو ثابت بھی کرتے ہیں۔ تذکروں کے اس پہلو پر ایسی معروضی گفتگو شاید اس سے قبل نہیں کی گئی۔ مثلاً عابد علی عابد نے ’’مضامین رنگیں‘‘ کو ان معاملاتِ عاشقی سے تعبیر کیا ہے جن کا تعلق جذبے کی جنسی شکل سے ہے۔ احمد محفوظ ’’مضامین رنگیں‘‘ کی اس تعبیر سے اختلاف کرتے ہوئے عابد علی عابد کی چوک کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
عابد علی عابد نے لفظ ’’رنگیں‘‘ کے ایک فرضی معنی کو سامنے رکھ کر ’’مضمون رنگیں‘‘ کی جو تعبیر پیش کی ہے، اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اس اصطلاح میں جنسی جذبہ اور راگ و رنگ وغیرہ کی جو دلالتیں انھوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اس کی کوئی معقول وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔
واضح رہے کہ احمد محفوظ نے لفظ ’رنگین‘ کے عوام میں مروج معنی کو یوں ہی بلا دلیل ’فرضی‘ نہیں کہا ہے بلکہ مختلف لغات میں درج معنی کی بنیاد پر ایسا کہا ہے۔ اس کے بعد وہ لغات میں درج ’رنگیں‘ کے معانی اور اس لفظ کے سابقے کے ساتھ درج بہت سی تراکیب کا جائزہ لینے کے بعد ’’مضامین رنگیں‘‘ کے معنی اور تنقیدی مقام کا تعین کرتے ہیں:
مضامین رنگیں‘‘ سے ایسے مضامین مراد ہیں، جن سے خوش گوار لطف و انبساط حاصل ہو۔ ملحوظ رہے کہ نوراللغات میں ’’رنگیں‘‘ کے ایک معنی ’’گوناگوں‘‘ بھی درج ہیں، اس لیے اگر ’’مضامین رنگیں‘‘ سے مضامین کا تنوع بھی مراد لیا جائے تو شاید نامناسب نہ ہوگا۔
اس مضمون میں انیس تذکروں کا جائزہ تاریخی ترتیب کے ساتھ لیا گیاہے اور تذکروں میں میر کے تنقیدی محاکمے کے تعلق سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
معنی ایجاد، تلاش معنی بیگانہ، معنی پروری، تلاش مضامین رنگیں اور تازگی مضمون (ان فقروں میں معنی کو مضمون کے مرادف استعمال کیا گیا ہے۔)۔ اس کے علاوہ چند اور فقرے سامنے آئے ہیں مثلاً
معنی آفرینی یا تہ داری، شور انگیزی، کیفیت، حرف آشنا، نازک خیالی، خیال بندی، بندش کی چستی، ادا بندی اور صنائع بدائع کا بکثرت استعمال۔ ان تمام فقروں یا تراکیب پر مدلل بحث کی گئی ہے اور ان کی تنقیدی حیثیت کا تعین کیا گیا ہے۔
اس مضمون سے شعرا کے بارے میں تذکروں میں درج تنقیدی آرا کی نہ صرف تفہیم آسان ہوگئی بلکہ نئی نسل کے لیے کلاسکی شعرا کے بارے میں قائم مفروضات کو توڑنے اور مغالطہ آمیز تنقیدی بیانات پر ازسرِ نو غور کرنے کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔ مثلاً یہی لفظ مضمونِ رنگیں کو لیں، اگر اس کے معنی ’’جنسی جذبہ اور راگ و رنگ‘‘ لیے جائیں تو ظاہر ہے شاعر کے کلام پر جن خیالات کا اظہار ہوگا وہ نہایت گمراہ کن ہوگا، نتیجتاً شاعر کی تعین قدر بھی مخدوش ہوگی۔ بالخصوص اس صورت میں جب یہ معنی ہی ’’فرضی‘‘ ہوں۔ احمد محفوظ نے تراکیب کے معنی کے تعین میں جن لغات کا سہارا لیا ہے وہ ہمارے کلاسکی شعری مذاق اور بامحاورہ زبان میں رچی بسی ہیں، لہٰذا جب احمد محفوظ مضامین رنگیں کے معنی ’’ایسے مضامین مراد ہیں، جن سے خوش گوار لطف و انبساط حاصل ہو‘‘ اور ’’مضامین کا تنوع‘‘ متعین کرتے ہیں تو یہ زیادہ بامعنی اور معروضی ہوجاتا ہے۔
دوسرا مضمون ’’میر کا جہانِ دیگر‘‘ کتاب کا سب سے طویل مضمون ہے۔ دراصل یہ وہ مقدمہ ہے جو احمد محفوظ نے اپنے مرتب کردہ کلیات میر (جلد دوم)کے لیے تحریر کیا تھا۔ جناب شمس الرحمن فاروقی کی نگرانی میں کلیات میر کا یہ کام انجام پذیر ہوا جو بڑا محنت طلب تھا اور جسے بڑی خوش اسلوبی سے پورا کیا گیا اور میر کا مستند کلام بہ شکل کلیات وجود میں آیا۔ ظاہر ہے اس مضمون میں ان مشکلات اور مسائل پر گفتگو کی گئی ہے جو کلیات میر بالخصوص جلد دوم کی ترتیب و تحشیہ کے دوران پیش آئے۔ انتہائی عرق ریزی اور باریک بینی سے لکھے گئے اس مقدمہ کا تحقیق و ترتیب میں مقام الگ لیکن میری نظر میں اس مجموعے میں اس کی شمولیت کا جواز اور ہی طرح کا ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں کہا ہے ان مضامین میں مخصوص منطقی ربط کا احساس ہوتا ہے تو سابقہ مضمون میں یہ بات سامنے آئی کہ تذکروں میں میر کے تنقیدی محاکمے کے لیے ایک لفظ حرف آشنا ؍مانوس الفاظ کا استعمال بھی آیا ہے۔ تاثراتی نوعیت کے بیانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میر کا کلام سعدی کے کلام کی طرح بظاہر آسان نظر آتا ہے، لیکن ایسا ہے نہیں۔ لہٰذا دوسرے مضمون میں مقدمہ جاتی گفتگو کے دوران جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ میں یہاں صرف دو ایک مثالیں پیش کروں گا۔ احمد محفوظ نے مثنوی ’شعلۂ عشق‘ سے ایک شعر درج کیا ہے ؎
اگر ہے یہ قصہ بھی حیرت فزا
ولے میر یہ عشق ہے بدبلا
مندرجہ بالا شعر پر گفتگو کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لفظ ’’اگر‘‘ حرف شرط یعنی if کے معنی میں نہیں بلکہ ’’اگرچہ‘‘ کے معنی میں ہے۔ اسے محض ’’اگر‘‘ کے معنی میں پڑھا جائے تو شعر کے معنی مخدوش ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے سامنے سوال یہ تھا کہ لفظ ’’اگر‘‘ کے معنی ’’اگرچہ‘‘ ہیں بھی یا نہیں۔ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ لغات میں عموماً یہ معنی درج نہیں ہیں۔ پھر مزید تلاش و تحقیق کے بعد ’’اگر‘‘ بمعنی ’’اگرچہ‘‘ کی سند امیر خسرو کے یہاں نظر آئی۔
اسی طرح ایک اور شعر مثنوی ’’خواب و خیال‘‘ سے درج کیا گیا ہے ؎
غلط کاری وہم کچھ کم ہوئی
وہ صحبت جو رہتی تھی برہم ہوئی
بہار عجم میں ’’غلط کاری‘‘ کے معنی ’’درمغالطہ انداختن‘‘ درج ہیں، یعنی ’’دھوکے میں ڈالنا‘‘ یا ’’دھوکا دینا‘‘۔ اگر یہ معنی پیش نظر نہ ہوں تو مصرعے کے صحیح معنی پوری طرح واضح نہ ہوں گے۔ ’’غلط کاری‘‘ کا فقرہ بظاہر اتنا سہل ہے کہ ہم سرسری اس سے گذر جاتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ دھوکے میں ڈالنے کے معنی میں یہاں صرف ہوا ہے۔
میر تقی میر کے بارے میں راہ پانے والی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کا پست کلام حد درجہ پست اور بلند کلام بے انتہا بلند ہے۔ اس مشہور و مقبول بات کی اساس فارسی فقرہ ’’پستش بغایت پست و بلندش بسیار بلند‘‘ ہے۔ کتاب کا تیسرا مضمون ’’میر تقی میر اور پست و بلند کا مسئلہ‘‘ اسی غلط فہمی کا ازالہ کرتا ہے۔احمد محفوظ اس فقرے کا تعاقب کرتے ہوئے تقی اوحدی تک پہنچتے ہیں اور یہ انکشاف ہوتا ہے کہ تقی اوحدی نے امیر خسرو کے کلام پر رائے دیتے ہوئے لکھا تھا ’’پستش اگرچہ اندک پست است اما بلندش بغایت بلند‘‘۔ اسی فقرے کو خان آرزو نے تقی اوحدی کے حوالے سے امیر خسرو کے بارے میں ہوبہو نقل کیا ہے اور اس فقرے پر تبصرہ بھی کیا ہے۔ اسی فقرے کو مفتی صدرالدین آزردہ نے میر کے بارے استعمال کیا ہے اور پھر شیفتہ نے بھی اسے میر کے بارے میں اپنے تذکرے میں من و عن نقل کیا۔ اس کے بعد احمد محفوظ نے پہلی بار فقرے کی تبدیل شدہ صورت مولانا الطاف حسین حالی کے یہاں دریافت کی۔ حالی نے ’’پستش بغایت پست و بلندش بسیار بلند‘‘ والی بات مولانا آزردہ کے حوالے سے کہی ہے اور اس پر کوئی حکم نہیں لگایا ہے۔ حالاں کہ آزردہ کے حوالے سے کہی گئی بات غلط محض ہے اور نقل کرنے کے بجاے حافظے کے سہارے یا پھر سنی سنائی پر مبنی ہے۔ مولوی عبدالحق نے حالی کے یہاں سے نقل کر کے اور صحیح کا حکم لگا کر اس غلط فقرے کو بے انتہا شہرت عطا کردی۔ بہر حال میر کے بارے میں قدما کی اصل رائے کا پتہ چل جانے کے بعد کلام میر کا وہ تصور ہوا ہوجاتا ہے جو ایک غلط فقرے کے دم سے قائم تھا۔ اب مطالعۂ میر کے باب پر نئی تعبیریں دستک دینے لگیں اور اس کا آغاز اثر لکھنوی سے ہوتا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ آج بھی میر کی معنویت کو کلیات کی روشنی میں طے کرنے والے اور ہر رنگ پر گفتگو کرنے والے معدودے چند ہی لوگ ہیں۔
چوتھا مضمون ’’مقدمۂ ’’مزامیر‘‘ پر ایک نظر‘‘ عمدہ تجزیاتی اور انتخابی مطالعے کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اثر لکھنوی نے یہ مقدمہ اس مشہور اور عام رائے کو مسترد کرنے کے لیے لکھا تھا جس کے تحت میر کے یہاں سادگی و سلاست اور درد و خستگی ہی سب کچھ ہے۔ گویا یہی میر کا بنیادی امتیاز ہے۔ اس تعلق سے احمد محفوظ نے بجا طور پر یہ اہم نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اثر صاحب کے بیانات عموماً تاثراتی نوعیت کے ہیں جن میں اپنے پسندیدہ شاعر کے لیے جوش عقیدت کا وفور پایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اثر صاحب نے ایسی باتیں بھی کہی ہیں جن سے میر کے کلام کے کچھ ایسے پہلو نمایاں ہوتے ہیں جو اس عہد تک بے توجہی کا شکار تھے۔ احمد محفوظ نے مثبت انداز میں اثرلکھنوی سے نہ صرف اختلاف کیا ہے بلکہ ان کوششوں کو سراہا بھی ہے جو اثر صاحب اپنے زمانے میں غالباً تن تنہا کررہے تھے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس مضمون میں اثر صاحب سے بیشتر اختلاف کا تعلق ان کے تنقیدی نتائج سے نہیں بلکہ طریقۂ استدلال سے ہے۔ مثلاً میر کے یہاں تصوف کے تعلق سے اثر صاحب اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں:
میں نے بعض مقتدر ادیبوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ میر کے یہاں تصوف ہے تو، مگر اس پائے کا اور اس کثرت سے نہیں جتنا خواجہ درد علیہ الرحمہ کے کلام میں ہے۔ اس عقیدے کا سنگ بنیاد غالباً اس حسن ظن پر رکھا گیا ہے کہ چوں کہ خواجہ صاحب درویش اور صاحب سجادہ صوفی تھے، لہٰذا وہ رموز و مسائل تصوف سے زیادہ آگاہ تھے اور متصوفانہ اشعار کہنے میں میر سے بڑھے چڑھے تھے ۔ ۔ ۔میر کے والد بھی بڑے خدا رسیدہ درویش تھے، ان کے مرید خاص میر امان اللہ جن کی آغوش میں میر نے تربیت پائی، کامل فقیر تھے۔
درج بالا اقتباس میں بظاہر ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جو اختلاف کو راہ دے۔ اگر کسی بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے تو یہ کہ صاحب میر کے یہاں متصوفانہ اشعار نہیں ہیں یا ہیں تو خواجہ درد کے کلام کی سی بات نہیں۔ لیکن جو لوگ میر کے یہاں مضامین کی علویت اور عمدہ متصوفانہ اشعار کی وافر مقدار کے قائل ہیں ان کے لیے اثر صاحب نے جواز پیش کردیا۔ احمد محفوظ اور خود راقم الحروف کا بھی یہی خیال ہے، لیکن اثر صاحب نے جو دلیل دی ہے اس کے بارے میں احمد محفوظ لکھتے ہیں:
میر کے تصوف کے بارے میں اثر صاحب کا استدلال تقریباً وہی ہے، جو ان کے بقول ’’بعض ادیبوں‘‘ کا تھا۔ یہاں اثر صاحب کو غالباً یہ احساس نہ رہا کہ کسی شاعر کے کلام میں متصوفانہ اشعار کے وجود وعدم کا اثبات اس کے کلام کی روشنی میں ہونا چاہیے، نہ کہ شاعر کے بذات خود درویش یا صوفی ہونے اور نہ ہونے کی بنیاد پر، یعنی اس بنا پر کہ شاعر طبعاً متصوفانہ مزاج کا حامل ہے یا نہیں۔
احمد محفوظ کا کہنا ہے کہ اثر لکھنوی کے ’’مقدمۂ ’’مزامیر‘‘ کو پڑھ کر پورے کلام میر کو پڑھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اثر لکھنوی کے مقدمے کو کامیاب ٹھہراتی ہے لیکن یہ کہنا بھی نامناسب نہ ہوگا کہ احمد محفوظ کے اس تجزیاتی مطالعے کو پڑھنے کے بعد وہ لوگ جنھوں نے اب تک ’مزامیر‘ کا مطالعہ نہیں کیا، اسے ضرور پڑھنا چاہیں گے۔
’’میر کی خیال بندی‘‘ کتاب کا پانچواں مضمون ہے۔ اس مضمون پر گفتگو کرنے سے پہلے میں، سابقہ مضمون کی طرف قارئین کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور اس بات کا اعادہ بھی کہ مجھے اس کتاب کے سارے مضامین میں ایک خاص قسم کا منطقی ربط نظر آتا ہے۔ سابقہ مضمون یعنی ’’مقدمۂ ’’مزامیر‘‘ پر ایک نظر‘‘ میں احمد محفوظ نے ایک جگہ لکھا ہے:
اثر صاحب تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ’’وہ طرز جو غالب سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کی بھی داغ بیل میر ڈال گئے تھے۔‘‘ یہاں اگر ہم یہ نہ بھی تسلیم کریں کہ اس طرز کی بنیاد میر نے ڈالی تھی، پھر بھی یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ اس طرز پر مبنی اشعار میر کے یہاں خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ لہٰذا اس طرز کو صرف غالب سے منسوب کرنا مکمل حقیقت نہیں ہے۔
ظاہر ہے یہ وہی طرز ہے جس کا تعارف جناب شمس الرحمن فاروقی نے اپنی کتابوں ’’شعر شور انگیز’’، ’’اردو غزل کے اہم موڑ‘‘ اور ’’غالب پر چار تحریریں‘‘میں کیا ہے۔ ’’غالب پر چار تحریریں‘‘ میں تو شمس الرحمن فاروقی نے غالب اور اقبال کے مابین اسی طرز یعنی ’خیال بندی‘ کو رشتۂ اتحاد قرار دیا ہے۔ یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ ولی اور میر نے تقریباً ہر رنگ میں شاعری کی ہے اور آنے والوں کو راہ دکھائی ہے۔ اردو کے بیشتر شعرا کا ایک مخصوص رنگ رہا ہے جس سے ان کی شناخت کی جاتی ہے۔ اسی طرح خیال بندی کے رنگ کو مکمل طور پر اپنانے والے پہلے اردو شاعر شیخ امام بخش ناسخ ہیں اور کلام غالب اس رنگ کی معراج ہے۔ اقبال نے اسی رنگ میں نئی حسیت اور کائناتی حقیقت کو پیش کیا۔ اثر لکھنوی کو میر کے یہاں اس طرز کی موجودگی کا احساس تھا لیکن اس کا ثبوت احمد محفوظ نے اپنے اس مضمون کے ذریعے پیش کردیا ہے۔ مضمون کی ابتدا میں وہ لکھتے ہیں:
مجھے یقین ہے کہ اس مضمون کا عنوان عام طور سے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ پریشانی کا سبب ضرور ہوگا۔ یہ پریشانی کچھ اس قسم کی ہوگی جیسے اگر کسی مضمون کا عنوان ’’غالب کی سہل پسندی‘‘ قراردیا جائے تو لوگ ضرور پریشان ہوجائیں گے ۔ ۔ ۔ میر جو کہ اصلاً خیال بند شاعر نہیں ہیں ان کی خیال بندی کی بات کرنا جہاں دوسروں کو پریشانی میں مبتلا کرنا ہے وہیں اپنی جان بھی جوکھم میں ڈالنا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے خیال بندی کے حوالے سے کلام غالب کا محاکمہ کیا تھا اور یہ خیال بھی پیش کیا تھا کہ میر کی سادگی اور سلاست محض ایک دھوکہ ہے۔ احمد محفوظ کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ادعائیت سے گریز کرتے ہیں اور فاروقی صاحب اور دیگر صاحبان فہم و فراست کی خدمات اور نکتہ آفرینی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بات ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ انھوں نے پہلے خیال بندی، مضمون آفرینی اور معنی آفرینی ایسی اصطلاحات کی وضاحت کی ہے اور ان کے درمیان واقع باریک فرق کو بھی واضح کیا ہے۔ ان بنیادی اور اہم باتوں کی صراحت کے بعد وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ میر نے خیال بندی جیسی پیچیدہ طرز میں بھی اشعار کہے ہیں۔ اس مضمون کا اختتام بڑی سچی بات پر ہوتا ہے، وہ لکھتے ہیں:
۔ ۔ ۔ میر کے پورے کلام کے ساتھ حد درجہ توجہ اور انہماک کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب یہ رشتہ استوار ہوجائے گا اور میر کے تمام رنگوں سے ہماری شناسائی ہوجائے گی تو ’’میر کی خیال بندی‘‘ جیسے عنوان سے لوگ پریشان نہیں ہوں گے بلکہ اس پہلو پر خود بھی غور و فکر کرنا شروع کردیں گے۔
شمس الرحمن فاروقی نے جس کلاسکی شعریات کی بازیافت اور احیا کیا، احمد محفوظ کی تنقیدی طرز اس کی نہ صرف صراحت ہے بلکہ مزید پیش رفت بھی ہے۔
چھٹا مضمون ’’میر کے کلام میں عام انسانی صورت حال‘‘ ہے۔ اس مضمون میں احمد محفوظ نے عام انسانی صورت حال کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی اس نکتے کو دریافت کیا ہے جس کے تحت کسی شعر کو عام انسانی صورت حال کا حامل کہا جاسکے۔ نیز کیفیت؍اثر آفرینی اور عام انسانی صورت حال کے مابین جو باریک فرق ہے اسے بھی واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
کیفیت کے ذریعے شاعر ہمارے احساس اور جذبے کو گرفت میں لیتا ہے اور ہم شعر کی اثر آفرینی میں محو ہوجاتے ہیں۔ کیفیت کے اشعار ہمارے جذبہ و احساس پر تو اثر انداز ہوتے ہی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان اشعار سے ہم ذہنی ہم آہنگی بھی محسوس کریں ۔ ۔ ۔ کسی شعر سے ذہنی ہم آہنگی اور قربت کا احساس اس وقت ہوتا ہے، جب شعر میں کوئی ایسی بات کہی جائے جو ہمارے تجربے اور فکری صورت حال سے مطابقت رکھتی ہو، یعنی بات ہماری سطح پر لا کر بیان کی جائے۔ اسی کو ہم عام انسان صورت حال سے تعبیر کرسکتے ہیں۔
میر نے روز مرہ گفتگو کے لہجے کے ذریعے بھی شعر کو عام انسانی صورت حال سے قریب کرنے کا کام لیا ہے۔ ذہنی ہم آہنگی اور قربت کا احساس،ہمارے تجربے اور ہماری فکری صورت حال سے مطابقت اور بات قاری کی سطح پر لاکر بیان کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اور میر کا کمال کیا ہے؟ ان امور کی مضمون میں پوری صراحت کی گئی ہے۔ مثلاً میر کا ایک شعر ہے ؎
ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاں
نکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا
احمد محفوظ لکھتے ہیں:
یہاں جس شخص کو مزاروں کے سیر کی ترغیب دی جارہی ہے، وہ محبوب بھی ہوسکتا ہے اور کوئی عام آدمی بھی۔ ہم بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں اگر محبوب کی تخصیص کردی جاتی تو یہ شعر انسانی سطح پر ہوتے ہوئے بھی ہمارے تجربے کے اتنا قریب نہ ہوتا جتنا موجودہ صورت میں ہے۔
اس کتاب کا ساتواں مضمون ’’میر کی غزلوں میں ہندوستانی تہذیب کے عناصر‘‘ کے عنوان سے ہے۔ عام انسانی صورت حال ہو یا ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے عناصر ان مضامین پر کچھ میر ہی کا اختصاص نہیں بلکہ بیشتر اردو شعرا نے اپنے اپنے طور پر ان عناصر کو اپنے فکری سروکاروں میں جگہ دی ہے۔ احمد محفوظ کے نزدیک دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ’’میر نے ایسے مضامین کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تخلیقی اور فنی مہارت کا کس طرح اظہار کیا ہے۔‘‘ یہ بات بڑی حد تک مبنی برحقیقت ہے اور کسی بھی شاعر کی قدروقیمت پرکھنے کے لیے اساس کا درجہ رکھتی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے احمد محفوظ نے اس مضمون میں یہ بات پیش کی ہے کہ تہذیب و ثقافت کے عناصر کسی شعوری کوشش کے تحت شاعر کے کلام میں نہیں آتے بلکہ یہ بالکل فطری طور پر براہ راست اور بالواسطہ طور پر شعر و ادب میں اپنا جلوہ دکھاتے ہیں۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے پہلے ایرانی غزل کا جائزہ لیا اور دریافت کیا کہ ایران میں غزل کا مزاج عرب ایران ثقافت کا مظہر ہے اور ہندوستان میں ہند ایرانی تہذیبی تصورات کی شمولیت نظر آتی ہے خواہ فارسی غزل ہو یا اردو۔ ظاہر ہے کسی مخصوص خطے کی زبان خود بھی اس علاقے کی تہذیبی و ثقافتی تصور کی مظہر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر احمد محفوظ نے مضمون کا اختتام میر کے درج ذیل شعر پر کیا ہے ؎
آتش عشق نے راون کو جلا کر مارا
گرچہ اس دیو کا لنکا سا تھا گھر پانی میں
اس شعر کے ذریعے میر صاحب کا مقصود رامائن کا کوئی منظر پیش کرنا نہیں بلکہ وہ یہاں آتش عشق کی تیزی و تندی کا مضمون باندھ رہے ہیں۔ راون اور لنکا کی استعاراتی و علامتی حیثیت نے ان کے شعر کو کمال بخشا ہے، مضمون ایک ہی ہے لیکن گمان سو سو طرف جاتا ہے۔ اس شعر کی بڑائی کلاسیکی تصور شعر ہی میں ڈھونڈی جاسکتی ہے۔ اور انھی کی بنیاد پر میر کی عظمت قائم ہوسکتی ہے اور ان کی انفرادیت کو نشان زد کیا جاسکتا ہے۔ آتش عشق، راون اور لنکا محض چند الفاظ ہیں، یہ الفاظ اگر استعارہ نہ بنتے تو بات کیا تھی، کچھ بھی نہیں۔ ماقبل مضمون میں احمد محفوظ نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ:
روز مرہ زندگی کی صورت حال یا عام انسانی سطح کا بیان اور بول چال کا لہجہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں، جن کے بغیر بھی کامیاب اور بلند پایہ شعر کہے جاسکتے ہیں۔ کیوں کہ شعر کی اچھائی یا خرابی مذکورہ خصوصیات پر موقوف نہیں ہے۔
اسی مضمون میں انھوں نے ایک اور اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، وہ لکھتے ہیں:
۔ ۔ ۔ غزل کے اشعار کی تفہیم میں اکثر یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ شعر میں موجود خصوصیت کو لازمی طور پر شعر کی فنی خوبی کا سبب سمجھ لیا جاتا ہے۔ مثلاً میر کے کلام میں بات کو اگر انسانی سطح اور روز مرہ زندگی سے قریب کر کے بیان کیا گیا ہے تو یہ میر کے اشعار کی ایک خصوصیت ہے اور ان اشعار کی فنی خوبی لازماً اس خصوصیت کی رہین منت نہیں کہی جاسکتی۔ ۔ ۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ میر اپنے شعروں میں جو کچھ بیان کرتے ہیں، اس میں کن چیزوں سے وہ زیادہ سروکار رکھتے ہیں؟ یا یہ کہ وہ شعر کہتے وقت کس طرح کی تخلیقی طرز گذاری اختیار کرتے ہیں؟
کلاسیکی ادب اور تصور ادب سے ہماری دوری نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ آج شور انگیز، کیفیت، حرف آشنا، خیال بندی اور معنی آفرینی جیسی اصطلاحات کے مفاہیم سے ہم بیگانہ ہیں۔ یہ کتاب ان چند کتابوں میں سے ایک ہے جو کلاسیکی ادب سے ہماری بیگانگی اور دوری کو کم کرتی ہے اور یگانگت پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔آخر کے تین مضامین کتاب کی جدت اور بالخصوص آخری دو مضامین صاحب کتاب کی فکری ندرت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کتاب یعنی ’’بیان میر‘‘ کو پڑھنے کے بعد یہ بات بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ ’’میر کے کلام میں عام انسانی صورت حال‘‘ اور ’’میر کی غزلوں میں ہندوستانی تہذیب کے عناصر‘‘ جیسے عنوان پر مصنف نے تقریباً نئے زاویے سے روشنی ڈالی ہے جس کی وجہ سے ان موضوعات میں بھی تازگی کا احساس ہوتا ہے اور شعر کی افہام و تفہیم کے لیے معاون بہت سی اہم اور اساسی باتوں کا علم ہوتا ہے۔ الغرض احمد محفوظ نے تنقیدی ہنر مندی اور تحقیقی جفاکشی کو کام میں لاتے ہوئے مثالوں کے ساتھ اپنی باتوں کو پیش کیا ہے۔ آخر میں احمد محفوظ نے بڑی توجہ طلب بات لکھی ہے، وہ لکھتے ہیں:
میر کی حقیقی عظمت کا احساس ہمارے زمانے میں لوگوں کو اب ہونے لگا ہے لیکن یہ احساس ابھی اتنا عام نہیں ہوا ہے جتنا کہ اسے ہونا چاہیے۔ اب ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس احساس کو مزید مستحکم کریں۔ اس لیے کہ میر کے پورے کلام کے ساتھ حد درجہ توجہ اور انہماک کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب یہ رشتہ استوار ہوجائے گا اور میر کے تمام رنگوں سے ہماری شناسائی ہوجائے گی تو ’’میر کی خیال بندی‘‘ جیسے عنوان سے لوگ پریشان نہیں ہوں گے بلکہ اس پہلو پر خود بھی غور و فکر کرنا شروع کردیں گے۔
درج بالا بیان میر کی خیال بندی کے بارے میں ہے۔ چونکہ میر کی حیثیت ہماری کلاسیکی شاعری میں سرخیل کی ہے لہٰذا اس کا اطلاق پورے قدیم شعری سرمایے پر کیا جاسکتا ہے۔ ’’بیان میر‘‘ میں شامل مضامین میر کے توسط سے پوری کلاسیکی شاعری کے بارے میں ہماری فکر کو مہمیز کرتے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

