by adbimiras
1 comment

اردو ڈرامے کی تنقید/ ڈاکٹر جاوید حسن –  مبصر:خان محمد رضوان

ڈراماایک قدیم صنف ادب ہے-عالمی ادب میں اس کا شمار فنون لطیفہ کی قدیم ترین ہیئتوں میں کیاجاتاہے-اصناف ادب میں یہ واحد صنف نہیں ہے جو اپنی وسعت،ہمہ گیری اور تہہ داری کی وجہ سے ہرعہد میں باعث کشش اورباعث دلچسپی رہی ہے-مگر معدودے چند اصناف میں یہ صنف بھی ہے- باوجود اس کے ڈرامے کی کوئی جامع تعریف نہیں کی جاسکتی- ماہرین ادب نے اپنے زاویہ فکر کے اعتبار سے اس کی مخلتف النوع تعریفیں کی ہیں-
ایس-ٹی-کالرج کے مطابق
"ڈراماحقیقت کا عکس نہیں،بلکہ فطرت کی نقالی ہے-”
جب کہ نقالی انسانی جبلت کا اہم خاصہ ہے- اور انسان اپنی اسی فطری جبلت نقل وحرکت کی وجہ سے جانا پہچانا جاتاہے-بہرطور یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ڈرامے کا تعلق صرف پڑھنے پڑھانے اور سننے سنانے سے نہیں ہے، اورنہ ہی لفظوں کا گورکھ دھندا ہے- علاوہ بریں اس کا تعلق دیکھنے اوردکھانے سے بھی ہے-جس کے لیے اسٹیج کا سجنا ہے حد ضروری ہوتاہے-اس کو اس طرح سمجھیے کہ ڈراما اور اسٹیج دونوں لازم وملزوم ہیں-
"اردو ڈرامے کی تنقید” ڈاکٹر جاوید حسن کی تحقیقی کتاب ہے-پیشتر ان کی ایک کتاب”محمد حسن کی ڈرامانگاری”کے عنوان سے شائع ہوکر مقبول ہوچکی ہے-جس میں انہوں نے محمد حسن کی ڈراما نگاری اور ان کے ڈراموں کا خوبصورت تجزیاتی مطالعہ  پیش کیا ہے-ان کا خاص میدان کار ڈراما تھئیٹر اور صحافت ہے-اس کے علاوہ ان کی کئی اہم کتابیں زیر طبع ہیں-امید ہے کہ انشاء اللہ یہ عنقریب ہی زیور طبع سے آٰراستہ ہوکر نذر قارئین کی جائیں گی-
"اردو ڈرامے کی تنقید” کے عنوان سے یہ کتاب کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے- اس میں فن ڈراما نگاری،ڈراما کے موضوعات، اسالیب، امکانات،عناصر ڈراما اور ڈراما کے ارتقائی سفر میں درپیش مسائل کا خوبصورت محاکمہ پیش کیا گیاہے-
اس کتاب کو مصنف نے تین شق میں تقسیم کیاہے- وہ اس طرح ہیں-1- ڈرامے کا فن اور ارتقا-اس عنوان کے تحت ڈرامے کی خوبی بحثیت فن کیاہے؟ دیگر اصناف فن اور ڈرامے کے مابین اساسی فرق کیاہے؟ساتھ ہی ماہرین فن نے ڈرامے کی کیا تعریفیں کی ہیں؟ ڈرامے کے اجزائے ترکیبی کی توضیح بھی کی گئی ہے-اور مدلل طریقے سے بتایاگیا ہے کہ ڈرامے کے اجزائے ترکیبی میں پلاٹ کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟ اور اس کے ایک ایک جز کی صراحت بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے-ڈرامے میں کردارکئی اعتبار اہمیت کے حامل ہوتے ہیں-اس میں کرداروں کی گوں نہ گوں اہمیت اور ضرورت کو بھی واضح کیاگیاہے-ساتھ ہی ڈرامے کی روایت اور ارتقا،اردرڈراما بنگال میں،اردو ڈراما بمبئی میں اور ڈرامے کی اقسام کے تعلق سے مفصل اور مدلل گفتگو کی گئی ہے-اس شق کی خاص بات یہ ہے کہ ذیلی عناوین قائم کرکے ایک ایک جز کو شامل کرنے کی سعی کی گئی ہے-مصنف نے اس بات کی بھی کوشش کی ہے ڈرامایا اس کے زیلی عنوانات سے متعلق اگر کوئی مختلف فیہ مسئلہ ہے تو وہ بھی اس بحث کا حصہ بن جائیں تاکہ کتاب کو تحقیقی اور تنقیدی حوالے سے اعتبار حاصل ہوسکے-
2-اردو ڈرامے کی تنقید:پس منظر اور ارتقا-اس ضمن میں ڈاکٹر جاوید حسن نے ڈرامے کے پس منظر کو بیحد خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیاہے- اور واضح کیا ہے کہ تخلیق اور تخلیق کار کاسماج سے رشتے کی نوعیت کیا ہوتی ہے اوریہ بھی کہ ڈراما کس طرح وجود میں آتاہے-اس سے احساس ہوتاہے کہ یہ عمل سے معرض وجود میں آنے والا فن ہے-اس کی تفصیل کی گنجائش تو نہیں مگر مصنف نے اس کا مطالعہ باریک بینی سے کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ڈرامے کاپس منظر سماجی،معاشی اور سیاسی بھی ہوتاہے-
اس کے بعد ڈرامے کے ارتقااور اس حوالے سے لکھی گئی کتابوں پر بھی عمدہ گفتگو کی گئی ہے- مصنف نے دوٹوک انداز میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اب تک ڈرامے کی منصفانہ تنقید نہیں کی گئی ہے-اور اس بات پر بھی تاسف کااظہار کیاہے کہ بحیثیت فن اس صنف پر زیادہ کام نہیں کیا گیا ہے-بلکہ اس فن کی جانب سے بے توجہی برتی گئی ہے-پروفیسر کوثر مظہری نے کتاب کی پشت پر لکھا ہے کہ:
"دراصل ڈراما نگاری تکنیکی اعتبار سے شاعری اور فکشن کی بہ نسبت قدرے دشوار ہے-جب ڈرامے ہی کم لکھے گئے توڈرامے کی تنقید بھلا کہاں لکھی گئی ہوگی-لیکن،اس فقدان اور بے توجہی کے باوجود گاہے گاہے ڈراموں پر تنقیدی نگارشات منظر عام پر آتی رہی ہیں-”
مصنف نے اس عنوان کے ذیل میں 19ویں اور20ویں صدی کے حوالے سے ڈرامے پرسیر حاصل گفتگو کی ہے-اور اس بات کا اظہارکیاہے کہ آزادی کے بعد اردوڈرامے کی تنقید میں واضح طور پر تبدیلی نظر آئی ہے جوکہ خوش آئند پہلو ہے-
3-اردو ڈرامے کی تنقید:تحقیقی تنقیدی مطالعہ-یہ کتاب کا آخری حصہ ہے-اس میں انہوں نے سب سے پہلے اردو ڈرامے کی ابتدا سے متعلق مختلف نظریات سے بحث کی ہے-اور اسلم قریشی،مسعود حسین رضوی ادیب،ڈاکٹر اخلاق اثر اور ابراہیم یوسف کے نظریات کو بھی نقل کیاہے-مزید برآں ان کے نظریات کے علی الرغم مختلف دیگر ناقدین کے نظریات کو بھی دلیل کے طور پرشامل کیاہے- تاکہ موازنہ کے دوران آسانی ہو،اسی کے ساتھ پارسی تھئیٹرکے تحت لکھے گئے اردو ڈراموں کی تنقید اور جدید اردو ڈرامے پر لکھی گئی تنقید کے حوالے سے مبسوط اورمدلل تھیسس قائم کی گئی ہے-اس طور پر اگراس کتاب کے تینوں حصوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے توکہاجاسکتاہے کہ اس کا پہلا حصہ روایتی انداز کاہے-روایتی اس معنی میں کہ فنی اعتبار سے ڈرامے پرکتابی صورت میں مواد بآسانی دستیاب ہیں،بس اس کوبالترتیب یکجا کرنا ایک ذہن رساکا کام ہے- اس کا دورسرا اور تیسرا حصہ بہت اہم،معلوماتی اور قابل قدر ہے-وہ اس طورپر کہ اس تعلق سے مواد عرق ریزی اور محنت شاقہ کے بعد ہی دستیاب ہوسکتا ہیں-اور بحیثیت ڈراما نگار اور اسٹیج فن کار کے نئے زاویے اور تنقیدی نظریے سے ڈراما کے پس منظر، ارتقا اور تنقید کی تنقید کو دیکھنے کی ضرورت ہے جو کہ مشکل طلب کام ہے،جسے مصنف نے بخوبی کیا بھی ہے-
ڈاکٹر جاوید حسن جامعہ ملیہ کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر(کنٹریکٹ)ہیں- علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی میں کرنے کے بعد جامعہ ملیہ سے ایم اے اردو اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے- وہ بے حد سنجیدہ،صابر وشاکر، وفا شعار ، مخلص اورذہین ادب کے طالب علم ہیں- میرا ان سے دیرینہ تعلق( تقریبا بیس سال)ہے، اس اثنا میں میں نے انہیں ہر اعتبار سے اپنے سے بہتر پایا-ہماری نئی نسل میں ایسے معتبر،معتمد اور صالح فکر کے نوجوان خال خال ہی نظر آئیں گے- وہ جتنے نستعلیق انسان ہیں اتنی ہی ان کی زبان بھی نفیس ہے-وہ انسانی رشتوں کی پاسداری اپنی جان سے بھی عزیز سمجھتے ہیں-غالب کا یہ شعر ان پر صادق آتا ہے کہ:
وفاداری بشرط استواری اصل ایما ہے
مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
ڈاکٹر جاوید حسن کاخاصہ یہ ہے کہ وہ عمدہ ڈراما لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،وہ جتنی ہنر مندی اورچابک دستی کے ساتھ ڈراما اسٹیج کرتے ہیں، اتنے ہی دلچسپی کے ساتھ ڈراما پڑھاتے بھی ہیں-ڈراما کی فلڈ میں وہ ایک امید کی کرن بن کر نمودار ہوئے ہیں-میں تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے میدان میں کامیاب ہیں-پروفیسر شہپر رسول نے کتاب کی پشت پر لکھا ہے کہ:
"جاوید حسن ڈراما لکھتے ہیں،ڈراماکرتے ہیں اور ڈرامے کی تنقید پر تحقیقی تنقید اور تنقیدی تحقیق کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں-اردو میں ڈرامے پر ہی زیادہ کام نہیں ہواہے-جاوید حسن نے یہ کتاب لکھ کر اس کمی کو کسی حد تک پورا کرنے اور ایک ادھوری لائن کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہیجس کی داد ان کو بجاطورپر ملنی چاہیے-”
حیرت ہوتی ہے اس بات پر کہ یہ واحد ایسی صنف ہے جو انسانی جبلت سے باہم پیوست ہے-باوجود اس کے اس جانب سے بے اعتنائی برتنانہ صرف افسوس ناک ہی نہیں بلکہ تشویش ناک بھی ہے-
اس طور پر یہ کتاب”اردو ڈرامے کی تنقید”ایک عمدہ کاوش ہے-اور ڈرامے کی تنقید پر لکھی گئی کتابوں میں ایک اہم اضافہ بھی تصور کی جائےگی-ممکن ہے اس کتاب کے بعد صنف ڈراما اور اس کی تنقید کی جانب اہل علم توجہ فرمائیں گے-امید ہے کہ آنے والی نسل یہ شکایت نہیں کریگی کہ ڈرامے پر کام کم ہواہے-میں اس عمدہ کوشش کے لیے ڈاکٹر جاوید حسن کو مبارک باد پیش کرتاہوں-

 

You may also like

1 comment

- Adbi Miras نومبر 21, 2020 - 10:18 صبح

[…] کتاب کی بات […]

Reply

Leave a Comment