ترقی پسند افسانے میں ہئیت اور تکنیک کے تجربے/ ڈاکٹر مخمور صدری – ڈاکٹر نوشاد منظر
اردو زبان و ادب کے نشو ونما میں مختلف تحریک و رجحان کا جو رول رہا ہے اس سے ادب کا ہر طالب علم واقف ہے۔ہاں جہاں تک ترقی پسند ادبی تحریک کا تعلق ہے تو اس ضمن میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس تحریک کے زیر اثر فکشن کو جو ترقی ملی وہ مثالی ہے۔ترقی پسند ادبی تحریک کا دائرہ خواہ جو بھی رہا ہو مگر اس دور میں افسانے کو جو ترقی ملی وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ترقی پسند دور سے قبل کے افسانوی مزاج کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ رومانیت اور تخیل پسندی کا غلبہ ضرور تھا مگر اس کے ساتھ دوسرا گروپ بھی تھا جسے ہم اصلاح پسند کہہ سکتے ہیں۔ رومانیت کو اپنے افسانوں میں پیش کرنے والوں میں سجاد حیدر یلدرم، نیاز فتح پوری اور مجنوں گورکھ پوری وغیرہ پیش پیش تھے تو حقیت نگاری سے اپنے افسانوں کو مزین کرنے والوں میں پریم چند، علی عباس حسینی، سدرشن اور اعظم کریوی جیسے افسانہ نگار تھے۔پریم چند ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اصلاح معاشرہ کے لیے تمثیل کے بجائے حقیقت نگاری کو اختیار کیا اور پھر چند برسوں بعد 1936 میں ایک تاریخ ساز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں پریم چند کی حقیقیت نگاری کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ترقی پسند تحریک کا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔
بہرحال میرے پیش نظر ڈاکٹر مخمور صدری کی کتاب‘‘ترقی پسند افسانے میں ہئیت اور تکنیک کےتجربے’’ ہے۔اس کتاب کو مصنف نے پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ کتاب کا پہلا باب‘‘ترقی پسند تحریک کے عوامل و محرکات’’ ہے۔ اس باب میں ترقی پسند تحریک کی تاریخ اور ہندوستانی ادبا میں اس کی مقبولیت کے اسباب کی جانب اشارے کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر مخمور صدری کا خیال ہے کہ ترقی پسند تحریک کا آغاز گرچہ 1936 میں ہوا ہو مگر اس کے ابتدائی نقوش 1857 یا علی گڑھ تحریک کے دوران بھی نظر آتے ہیں۔سرسید ، حالی، مولانا آزاد، شبلی اور نذیر جیسے تخلیق کار اور قائد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے یہ لوگ صرف اصلاحی فکر کے حامل نہیں تھے بلکہ دیکھا جائے تو مستقبل کے فکری اور نظریاتی تغیرات بھی ان کی تحریروں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ڈاکٹر مخمور صدری نے ترقی پسند تحریک کے مینی فیسٹو، پریم چند کے خطبۂ صدارت مختلف رہنماؤں کی تقاریر کی روشنی میں ترقی پسند تحریک کے مختلف پہلووں کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
کتاب کا دوسرا باب‘‘اردو افسانے میں سماجی حقیقت نگاری’’ ہے۔حقیقت نگاری سے مراد زندگی کی تصویر کشی یا عکاسی ہے۔گو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ واقعات کو پیش کرتے ہوئے کسی بات کو پوشیدہ رکھنا حقیقت نگاری کے اصولوں کے خلاف ہے۔حالانکہ ممتاز شیریں کے خیال میں حقیقت نگاری کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ جو سامنے ہے اسے من و عن پیش کردیا جائےبلکہ تخلیق کار کو چاہیے کہ واقعات کے انتخاب ،ترتیب اور انداز بیان کو فن کاری کے ساتھ پیش کرے ۔ڈاکٹر مخمور صدری نے اردو افسانے میں حقیقت نگاری کے رجحان کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
1۔ سماجی حقیقت نگاری
2۔ طبقاتی یا اشتراکی حقیقت نگاری
3۔رومانی و علامتی حقیقت نگاری
4۔ نفسیاتی و جنسی حقیقت نگاری
مخمور صدری نے ترقی پسند تحریک سے قبل لکھے گئے افسانوں کا جائزہ بھی لیا ہے اور اس عہد کے ادبی رجحانات کا ذکر بھی کیا ہے۔ترقی پسند افسانہ نگاری کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ‘انگارے’ کی اشاعت دراصل ترقی پسند افسانے کے لیے بشاررت تھی۔ پروفیسر قمر رئیس نے بھی ‘ انگارے’ کی اشاعت کو ترقی پسند افسانے کا غیر رسمی اعلان نامہ بتایا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو ڈرامے کی تنقید/ ڈاکٹر جاوید حسن – مبصر:خان محمد رضوان)
زیر تبصرہ کتاب کا تیسرا باب‘‘ ترقی پسند تحریک کے نمائندہ افسانہ نگار’’ ہے۔ اس باب میں مصنف نے ترقی پسند افسانہ نگا بلکہ اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں مثلاً کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی اور حیات اللہ انصاری کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیا ہے۔ڈاکٹر مخمور صدری نے ترقی پسند افسانوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان افسانوں میں زندگی کے احساسات و تجربات اور عام انسان کے جذبات کی کو حقیقی رنگ میں پیش کیا گیا ہے، یہی نہیں ان کا خیال ہے کہ اس دور کے افسانوں میں رومانیت کے بجائے عصری زندگی کی تڑپ، گرمی اور توانائی کا ذکر ملتا ہے۔ یہ باب اردو افسانہ نگاری کے عروج میں ترقی پسند تحریک کے کردار کو پیش کرتا ہے۔ساتھ ہی ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے درمیان کے رشتے کو بھی اس باب کے ذریعے ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں۔
کتاب کا چوتھا باب‘‘ہئیت اور تکنیک کا مفہوم’’ہے۔ اس باب میں مصنف نے ہئیت اور تکنیک کے مفہوم اور ان کے مختلف اقسام پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔مصنف نے تکنیکی اصطلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے شعور کی رو، علامت نگاری، تجریدیت، فلیش بیک جیسے تکنیک کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔کتاب کا آخری باب ‘‘ اردو افسانے میں ہئیت اور تکنیک کے تجربے’’ ہے۔ اس باب میں 1936 سے 1947 کے درمیان لکھے گئے افسانوں میں ہئیت کے تجرنے کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر مخمور صدری نے نہایت محنت سے ترقی پسند افسانے ، ہئیت اور تکنیک کی تعریف کے ساتھ ساتھ ترقی پسند اور اردو کے اہم افسانہ نگاروں کے فن کا جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے ہم ترقی پسند افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ افسانے کے مختلف تکنیک سے بھی بخوبی واقف ہوسکتے ہیں۔کتاب کی طباعت دیدہ زیب ہے اور قیمت بہت ہی مناسب ہے۔ میں ڈاکٹر مخمور صدری کو ان کی اس کاوش کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
(تبصرہ میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] کتاب کی بات […]