زَاویے‘: ایک مطالعہ/ ناز قادری – ڈاکٹر انوار الحق
ہر ادب اپنے زمانے کا عکاس ہوتا ہے۔ شاعری ہو، افسانے، ناول، مثنویاں، حکایات ہوں یا پھر مصوری یا نقاشی، چند فن پارے اُن میں سے ہر عہد میں ایسے ہوتے ہیں جو زمان ومکان کے حدود میں مقید نہیں کیے جاسکتے۔ مثنوی’ سحر البیان‘ ایک ایسی مثنوی ہے جس میں مزاج کے اعتبار سے وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو پُرانی حکایتوں، داستانوں اور مثنویوں میں پائی جاتی ہیں تاہم اس مثنوی سے آج کی نسل بھی لطف اندوز ہوتی ہے۔
اگر آج کا ناقد اِس فن پارے کو پرکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے تقاضے اور اس کے پرکھنے کے ’’زاویے‘‘ بھی آج کے ہی ہوتے ہیں۔ ناز قادری نے بھی ’’سحر البیان‘‘کا مطالعہ کیا ہے البتہ انہوں نے جن زاویوں کو ملحوظ رکھا ہے وہ زاویے ’مثنوی‘ کے زمانے اور آج کے عہد دونوں کے درمیان ایک کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی فن پارہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں احساسات وجذبات کی کارفرمائی نہ ہو۔ فن کار کی پروازِ تخیل جتنی بلند ہوگی اوراس کے قلبی احساسات کے سمندر میں جتنا زیادہ تموج ہوگا اتنی ہی خوبی اور پُرکاری کے ساتھ اس کے الفاظ صفحہ قرطاس پر جلوہ بکھیریں گے۔
دوسری بڑی خصوصیت جو فن پارے کی تنقید کے وقت ایک ناقد مدّ نظر رکھتا ہے وہ ہے طریقۂ اظہاراور لفظوں کا انتخاب۔ جو جذبات کی ترجمانی کو سحر انگیز یا پھر سحر البیان بنا دیتا ہے۔
’’سحر البیان‘‘ پر بات کرتے وقت نازؔ قادری کی تنقیدی بصیرت اور ان کے تنقیدی زاویوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ان کا یہ خیال کافی ہے :
’’اس مثنوی (سحر البیان) میں خاصہ تنوع اور رنگا رنگی ہے۔ شاعر نے اپنے رنگ و روغن سے نقوش کو ایسا تابناک بنایا ہے کہ آج بھی اس کے نقوش مدھم نہیں پڑے ہیں۔‘‘
(زاویے: ص۱۱)
نازؔ قادری کے تازہ ترین مجموعۂ مضامین ’’زاویے‘‘ میں شامل مضمون ’مثنوی سحر البیان ایک مطالعہ‘ کے لئے موضوع کا انتخاب ہی ناقد کی شخصیت کا پتہ دیتا ہے۔ مثنوی ایک ایسی صنف ہے جو افسانوی ادب اور شعری ادب کے درمیان پُل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مجموعہ مضامین ’’زاویے‘‘ میں کل چودہ مضامین شامل ہیں جن میں اولیت مذکورہ مضمون کو حاصل ہے۔ پروفیسر نازؔ قادری کا دوسرا مضمون ’’اردو میں جدید نظم نگاری اور حالی‘‘ بھی اردو ادب کے اہم موضوعات میں ہے۔ یہ ایک ایسا عنوان ہے جس کو شاید ہی کسی نظم کے ذی ہوش ناقد نے نظر انداز کیا ہو۔ باوجود اس کے کہ جدید نظم نگاری پر نظم کے ہر ناقد نے لکھا ہے۔ مگر ’’جدید سے کیا مراد ہے؟ اور کس سن سے کس سن تک کی تحریر کو جدید کہنا چاہیے؟ اور آیا ادوار کا تعین سنین اور شہور سے ممکن ہے بھی یا نہیں۔ اِن تمام سوالات کے سلسلے میں نازؔ قادری کی بحث عالمانہ ہے۔ دور اور زمانے کے بارے میںاُن کا خیال ہے کہ ’’صحیح معنوں میں ادوار کا تعین سنین اور شہور سے ہو بھی نہیں سکتا، اورنہ کوئی دور اچانک شروع ہوتا ہے۔‘‘ پروفیسر نازؔ قادری کے خیال سے اتفاق کرنا ناگزیر ہے کیونکہ یہ جگ ظاہر ہے کہ ادب میں یہ قطعی ممکن نہیں کہ تمام ناقدین ایک میٹنگ کریں اور یہ طے کرلیا جائے کہ بھئی فلاں تاریخ کے بعد جو بھی نظم نگاری ہوئی ہے اُن کو اب سے جدید نظم کہاجاوے گا۔ ادب میں کوئی بھی اصول، کوئی بھی نظریہ یا کوئی بھی رائے آخری نہیں ہوتی۔ ہاں! البتہ جس خیال کو بیش تر نقاد تسلیم کرلیتے ہیں اُس کو عموماً مان ہی لیا جاتا ہے۔جدید نظم کے حوالے سے بیش تر ناقدین کا خیال یہ ہے کہ حالی اور آزاد کے بعد جدید شاعری وجود میں آئی اور نظم نگاری بھی شاعری کے دائرے میں آتی ہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ بھی جدید اردو شاعری کی ابتدا آزاد اور حالی ہی سے مانتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’جدید اردو شاعری کی حد بندی آزاد اور حالی کے کلام سے ہوتی ہے۔ جدید شاعری میں آزاد کی اہمیت جتنی تاریخی ہے اتنی ادبی نہیں۔ حالی نظم کے امام ہیں۔ انہوں نے زبان وبیان کے نئے سانچے بنائے ۔۔۔‘‘
(ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری، ص:۳۲۱)
نئی نسل سے تعلق رکھنے والے جدید اردو نظم کے ناقد کوثر مظہری کے خیال کو اگر تسلیم کیا جائے تو ۱۸۷۴ء میںجدید نظم کی پیدائش ہوئی اور آزاد نے پہلی جدید نظم ’شب قدر‘ کہی۔ کوثر مظہری کا ماننا ہے:
’’انجمن پنجاب کے قیام کے بعد (آزاد نے) ۱۵؍ اگست ۱۸۶۷ء کو اپنا ایک لکچر بعنوان ’’نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات پیش کیا۔ اس لکچر کے سات برسوں بعد ۱۸۷۴ء میں پہلی نششت ہوئی جس میں آزاد نے لکچر کے بعد نمونے کے طور پر اپنی نظم ’’شب قدر‘‘ سنائی۔‘‘
(جدید نظم حالی سے میراجی تک، ص۱۰)
حاصل کلام یہ کہ اکثر ناقدین کا خیال ادب میں جمہوریت کے قانون کی طرح مجموعی خیال تصور کر لیاجاتا ہے۔ سو پروفیسر نازؔ قادری بھی اسی خیال سے متفق نظر آتے ہیں:
’’عام طور سے جس بات پر اکثر ناقدین اتفاق کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اردو شاعری کا نیا دور انیسویں صدی عیسوی کے آخری ربع میں رونما ہوا۔‘‘ (زاویے، ص:۲۹)
جدیدنظم نگاری پر بات کرتے ہوئے نازؔ قادری کا ’زاویہ تنقید‘ آزاد، حالی، اسماعیل میرٹھی، عبد الحلیم شرر اور عبد الحق وغیرہ کے نظم معریٰ اور مدّ وجزرِ اسلام پر مرکوز ہے۔ مصنف نے اِن حضرات پر الزام عاید کیا ہے کہ ان لوگوں نے مغرب سے خوب خوب استفادہ کیا اور یہ الزام بہت حد تک درست بھی ہے۔ نازؔ صاحب کا خیال ہے کہ حالی نے انگریزی ادب سے استفادے کی تعلیم تو دی مگر خود انگریزی شاعری سے بہت کم متاثر ہوئے بمقابلہ دوسرے معاصرین کے۔ حالی کے جن معاصرین کی فہرست نازؔ قادری نے دی ہے جنہوں نے مغرب سے ترجمے اور استفادے کیے وہ بھی توجہ طلب ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’حالی کے ہم عصروں میں جن لوگوں نے انگریزی سے ترجمے کیے ہیں ان میں آزاد اور اسماعیل میرٹھی کے علاوہ نادر کاکوروی، ظفرعلی خاں، سرور جہان آبادی، عبدالحلیم شرر لکھنوی، سجاد حیدر یلدرم، ضامن کشوری وغیرہ ہیں۔ آخر الذکر نے اپنے ترجموں کا ایک مجموعہ بھی ’’ارمغان فرہنگ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ حالیؔ کے مابعد آنے والے شاعروں میں جن مشاہیر نے انگریزی سے ترجمے کیے ہیں ان میں متعدد دوسروں کے علاوہ اقبال، حسرت موہانی، حافظ محمود شیرانی اور عزیز لکھنوی وغیرہ ہیں۔‘‘ (زاویے، ص:۳۶)
کل ملاکر ڈاکٹر نازؔ قادری نے اس مختصر سے مضمون میں جدید نظم کی ادبی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی جدید نظم کے حوالے سے مسدس حالی کی اہمیت پر بھی مدلل بحث کی ہے۔ نازؔ قادری پوری بحث کے بعد اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں کہ جدید نظم کا Conceptاردو ادب میں مغرب سے آیا۔ اُن کے مطابق جدید نظم کا Concept نہ مغرب کی دین ہے نہ مشرق کے کسی مصنف کا عطیہ۔ یہ در اصل حالی کے تخیل کی فطری اپج ہے جو ان کے مشاہدات وتجربات کی بنیادوں پر استوار ہے۔جدید شاعری کو نازؔ قادری نے ایک لمبی تاریکی کے بعد حد نظر تک پھیل جانے والا اجالا کہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اصل میں حالی کے افکار نہ کسی مغرب کے فلسفی کی دین ہیں اور نہ کسی مشرق کے مصنف کا عطیہ، خود حالی کو زمانے نے جو کچھ سمجھایا اور مستزاد کے طور پر سر سید کی تشویق و ترغیب نے جو اثر دکھایا وہ مسدس حالی کی صورت میں نئے عہد کی شاعری کا ابھرنے والا آفتاب بن گیا۔ ہمیں تسلیم ہے کہ طویل رات کی تیرگی نے فضا میںجو دھندلکے چھوڑے تھے اُن سے اس آفتاب کی کرنین بارہا کجلا گئیں لیکن یہ کرنیں بہر حال کرنیں تھیں، تیز اور تاریکی کا جگر چاک کردینے والی جب پھیلیں تو حد نظر اجالا ہوگیا۔‘‘
(زاویے، ص:۵۰)
’’اقبال کا نظریہ دین وسیاست‘‘ کے عنوان سے اس مجموعہ مضامین کا ایک اور مضمون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اقبالیات کے شعبہ میں یہ مضمون ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اقبال سے پہلے اردو شاعری میں فلسفے کا چلن بہت کم تھا اور اشعار میں ادیان کا فلسفہ سوچنا بھی محال تھا۔ اقبال سے پہلے فن پر زور دیا جاتا تھا فکر کی اہمیت نہیں تھی۔ فکر وفن کا حسین امتزاج اردو شاعری میں سب سے پہلے اقبال کے یہاں ہی نظر آتا ہے۔ اقبال کی شاعری شعبہ حیات کے بہت سے ان چھوئے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ زندگی کے دوسرے اہم نکات کی طرح اقبال نے اپنی شاعری میں دین وسیاست کو بھی موضوع بنایا۔ اقبال نے مسلمانوں کو قرآن پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے شعر کو ایک مستحسن آلہ اصلاح کے طور پر استعمال کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شاعری محض لا یعنی شغل نہیںبلکہ اس سے معاشرہ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اقبال کی شاعری کا بیشتر حصہ دین وسیاست کے گرد گھومتا ہے۔ نازؔ قادری نے جن ان چھوئے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے ان میں اقبال کی شاعری کے حوالے سے یہ موضوع بے حد اہم ہے۔ مصنف نے اس مضمون میں اقبال کے فن اور فکر پر پُر مغز بحث کی ہے۔ اقبال کی پوری شاعری کااگر بنظرغائر مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں ہر چند کہ دیگر موضوعات موجود ہیںتاہم دین اور سیاست پر فوکس بہت زیادہ ہے لہذا اقبال کی شاعری میں سب سے زیادہ موضوع بحث رہنے والے نظریۂ خودی، مرد مومن، جمہوریت وغیرہ میںسارے نظریات یا تو دینی ہیں یا سیاسی۔ اس طرح سے ناز قادری نے جو موضوع منتخب کیا وہ تنقید کے حوالے سے بہت ہوش مندانہ ہے اس لیے کہ وہ تمام نظریات کا احاطہ کرجاتا ہے۔
نازؔ قادری چوں کہ شاعر بھی ہیں، افسانہ نویس بھی ہیںاور ناقد بھی تو جب بھی وہ کسی فن پارے پر تنقید کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کی تخلیقی صلابت قدم بہ قدم ان کی رہبری کرتی ہے۔ ’جو ایک اچھا تخلیق کار نہیں وہ ایک اچھا ناقد نہیں ہوسکتا‘ البتہ اس قول سے اختلاف کی گنجائش ہے پھر بھی یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ایک تخلیق کار جب ناقد ہوتا ہے تو وہ دیگر غیر تخلیق کارنقادوں کے مقابلہ میں ادب کی تفہیم میں زیادہ ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے۔ جب نازؔ صاحب کسی شعری فن پارے پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کے اندر کا شاعر ان کی یعنی ناقد کی انگلی پکڑ کر رہبری کرتا ہے اور جب کسی افسانوی ادب پر تنقید کرتے ہیں تو ان کے اندر کا افسانہ نگار منصب رہبری پر فائز ہوکر ان کے تنقیدی ’’زوایے‘‘ کا تانا بانہ بننے میں ان کی مدد کرتا ہے۔
نازؔ قادری نے ادب کے تینوں ادوار ترقی پسند، جدید اور مابعد جدید میں اردو کی خدمت کی مگر اپنے قلم پر کسی خاص فلسفے کو حاوی نہ ہونے دیا۔ فن پاروں کی تنقید کے دوران کسی بھی عینک کا استعمال نہیں کیا۔ پروفیسر نازؔ قادری عملی تنقید کو تنقید کے دبستانوں میں سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ مندرجہ بالا خصوصیات ایک اچھے ناقد کی پہچان ہوا کرتی ہیں۔ نئی نسل کے ناقد ڈاکٹر مولا بخش ایک اچھے ناقد کی خصوصیت یوں بیان کرتے ہیں:
’’در اصل ادب کی تفہیم کا جس دن سے مجھے ایک اندازِ نظر ملا اسی دن سے میں نے اردو کے ایک نقاد کی تلاش شروع کردی جس کے تنقیدی کارناموں میں لچک ہو، ادعائیہ نہ ہو، اس کے اقداری فیصلوں میں متن کی تفہیم کا ایک ہمدردانہ رویہ نظر آتا ہو ، جس کے یہاں ایک عینک سے ادب کو پرکھنے کی جگالی نظر نہیں آتی ہو اور اس کے یہاں متن کی قرات پر کھلا ڈلا زاویہ ہو۔‘‘
(جدید ادبی تھیوری اور گوپی چند نارنگ، ص:۲۰)
مندرجہ بالا معیار پر نازؔ قادری کی تنقید کھری اترتی ہے۔ کبیر داس کے کلام میں عصری آگہی کے عنوان سے اگر ہم ڈاکٹر نازؔ قادری کے تنقیدی ’’زاویے‘‘ پر بحث کریںتو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کبیر نے جس عہد میں جنم لیا وہ عہد مذہب، سیاست اور سماج کے مختلف مفروضوں کو بنیاد بناکر غریبوں کے استحصال کا زمانہ تھا، اور پورا کا پورا سماج ریاکاریوں میں مبتلا تھا۔ نازؔ صاحب نے کبیر پر بات کرتے ہوئے کسی نظریاتی ڈکشن کا سہارا نہیں لیا بلکہ جو بھی اُن کا اپنا تاثر کبیر کے بارے میں تھا اس کو پیش کیا۔ یعنی Original thoughtنہ مستعار نظریہ اور نہ مانگے کے اجالے کا فلسفہ۔ ( یہ بھی پڑھیں ترقی پسند افسانے میں ہئیت اور تکنیک کے تجربے/ ڈاکٹر مخمور صدری – ڈاکٹر نوشاد منظر )
پروفیسر نازؔ قادری کا ایمان ہے کہ کسی بھی فلسفے کو قبول یا رد کرنے میںجلد بازی دکھانا محض بیوقوفی ہے۔ ’’سقوطِ ماسکو اور ترقی پسند ادب‘‘ پر بحث کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
’’کسی نظریہ یا فلسفہ کو بہ یک جنبشِ قلم ردّ نہیںکرنا چاہیے۔ اس کے محاسن اور معائب کا غائر مطالعہ کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ صادر کرنا چاہیے اور ہر فیصلہ کو حق بجانب یا حرفِ آخر نہیں کہا جاسکتا۔‘‘
(زاویے، ص:۱۷۴)
نازؔ قادری کو اس بات کا اقرار ہے کہ ترقی پسند تحریک اپنے مقصد سے بھٹک گئی تھی اور بعد میں کچھ انتہا پسند اشتراکیوں نے اس کی شبیہ بگاڑدی اور مخصوص فکر وفلسفہ کو اس قدر منوانے کی کوشش کی کہ وہ دیگر مصنفین کے لیے گلے کا طوق بن گیا۔ پروفیسر قادری اس سلسلے میں بالکل صاف شفاف نظریہ رکھتے ہیں۔ ایک اچھا ادب کیسا ہونا چاہیے اِس بارے میں اُن کی یہ رائے ملاحظہ کیجیے:
’’ادب میں دل آویزی ہی نہیں انقلاب آفرینی کا وصف ہوتا ہے۔ ادب کے لیے جمالیاتی عنصر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن محض جمالیات سے ادب کا فریضہ ادا نہیں ہوتا۔ فن کی عظمت اسی میں ہے کہ جمالِ فن کے اندر متاثر کرنے اور انقلاب برپا کرنے کا جوہر پوشیدہ ہو۔‘‘(۹)
’’زاویے‘‘ میں شامل تمام مضامین دلچسپ، عالمانہ اور پڑھنے کے لائق ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں تو یہی کہوں گا کہ اگر انہوں نے پہلے اس کتاب کو شائع کرایا ہوتا تو آج اُن کے چاہنے والوں کی تعداد اور زیادہ ہوتی۔ ویسے ابھی بھی اُن کے چاہنے والے کم نہیں ہیں۔ ہندوستان کا شاید ہی کوئی صوبہ ایسا ہو جہاں اُن کی نعتیں اور غزلیں نہ گنگنائی جاتی ہوں۔ ’زاویے‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ہی یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ نازؔ قادری کا جو قد میدانِ شاعری میں ہے اس سے کم تنقید کے میدان میں بھی نہیں۔ انتظار تو اس دن کا ہے جب اُن کے افسانوں کا مجموعہ ’’وہ ایک بات‘‘ منظرِ عام پر آئے گا۔
کل ملاکر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نازؔ قادری ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ’’زاویے‘‘ اُن کے تنقیدی اور تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جس سے اُن کی تنقیدی بصیرت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] کتاب کی بات […]