Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

پاکستان میں اردو افسانہ(ساٹھ کی دہائی میں) – محمد غالب نشتر

by adbimiras نومبر 6, 2020
by adbimiras نومبر 6, 2020 1 comment

قیام پاکستان کے ساتھ ہی ظلم ،بربریت،فساد اور قتل وغارت گری کاجو بازار گرم ہوا،اس کی مثال برصغیرکی تاریخ میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ان فسادات کے پسِ پشت کون سے عوامل سرگرمِ عمل تھے اورآزادی کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے کا یہ عمل کن وجوہات کی بنا پر نمودارہوا،یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔دراصل ہندوستان میں جب فرنگی تجارت کی غرض سے آئے تو انہوں نے یہاں کے عوام کوبہت معصوم جانا۔یہاں انہوں نے عوام اوراُن کی ذہنیت کوسمجھنے کی کوشش کی اوراس ملک پرقابض ہونے کی تدابیرپر غور و فکر کرنے لگے ۔جستہ جستہ انہوں نے ہندوستان کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنابھی شروع کردیا۔جب تک ہندوستانیوں کے عقل ٹھکانے آئے ،فرنگی اپناکام کرچکے تھے ۔ یہاں کے عوام نے غلامی کو تحقیر جانا اور اسی سبب ۱۸۵۷ء میں پہلی ناکام جنگِ آزادی ہوئی ۔اس کے بعد غیرمنقسم ہندوستان نے یہ فرض کرلیاکہ اب ہمیں فرنگیوں کی غلامی کرنی ہوگی اورایسا ہی ہوا۔مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہندوستانیوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک کیے گئے ۔چوںکہ فرنگیوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی لہٰذااس میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ جانی ، مالی ،علمی اور عملی سطح پروہ تنزل کا شکارہوگئے ۔اس کے علاوہ فرنگیوں نے ایک کام یہ کیاکہ مسلمانوں کے رُوبہ رُوخودنہ ہوکر ہندوؤں کو لا کھڑا کیا ۔ اس معاملے میں وہ دور اندیش واقع ہوئے ۔فرنگیوں کو معلوم تھاکہ دونوں قومیں مذہب کے نام پرکچھ بھی کرنے کو تیار ہوسکتی ہیں اوریہ بھی کہ دونوں کے مذہب میں زمین آسمان کافرق ہے بلکہ تضادہے ۔اس طرح فرنگی مسلم ہندوکے نام پرچھوٹے موٹے فساد کرانے لگے اوریہ سلسلہ چل نکلا۔

بیسویں صدی کے اوائل میں جب مسلمانوں کی حیثیت مسلّم ہوگئی اور اُن کے ساتھ انصاف کامعاملہ روا نہیں رکھا گیا تو انہوں نے مذہب کی بنیادپرایک الگ ریاست کانعرہ بلندکیا۔ایک ایسی زمین کاجس کاخواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا ۔ جہاں مسلمانوں کومساوات کی تعلیم دی جائے ،محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوں اور خدا کے دین پرعمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی ہو۔لہٰذا ۱۹۴۰ء میں قرار داد لاہور سے آغاز پانے والاآزادی کی کوشش کاعمل رفتہ رفتہ اپنے انجام کی طرف سفرکرنے لگا اور ۱۹۴۷ء میں اپنے انجام کو پہنچ گیا اور۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو ایک نیا اسلامی ملک پاکستان کی صورت میں نمودار ہوا۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کے علاقے سے ہندوحضرات ہندوستان اور ہندوستان سے مسلمانوں کی آبادی پاکستان منتقل ہونے لگی ۔اس کہرام میں قتل وغارت گری ،عصمت دری اوردرندگی کاوہ حشر بپا ہواجس کی مثال یہاں کی تاریخ میں مشکل سے ہی ملتی ہے ۔مذہب وملت کے نام پرکسی ملک کی تقسیم کایہ عمل انوکھا بھی تھا اور جذباتی بھی ۔انوکھا اس لیے کہ اس ملک کاقیام جغرافیائی یالسانی بنیادپرنہیں ہوا تھا بلکہ مذہبی بنیاد پرہوا تھا اور مذہبی حوالہ اکثرشدت اختیار کرجاتا ہے ۔کبھی کبھی زبان وکلچر کا حوالہ بھی اس سے شدیدترہوتاہے جس کی واضح مثال ۱۹۷۱ء میں قیام ِبنگلہ دیش ہے۔

مذہبی حوالہ جب تقسیم کی بنیاد بن جاتاہے تواس کاتعلق براہِ راست انسان کی داخلی نفسیات اور ایمان سے ہوتاہے جو دیرپا ثابت ہوتا ہے ۔دشمنوں کے سوچنے کا انداز اور نفرت کے تیورجذباتی اندازکے ہوتے ہیں۔قیام پاکستان کے ساتھ بالکل یہی صورتِ حال تھی ۔آزادی کی خوشی کاجشن منایا ہی جارہا تھا کہ فسادات کاسیلاب امڈ پڑا۔گاؤں گاؤں،شہر شہر قتل و غارت گری کی آندھی چل پڑی ۔ مذہب کے نام پردوستوں،پڑوسیوں اور محلّے والوں کا خون بہایاگیا،بے گناہوں کی جانیں تلف ہوئیں۔باپ کے سامنے بیٹیوں کی اوربھائی کے سامنے بہنوں کی عصمت دری کی گئی ۔کمینگی ،درندگی اورلوٹ مار کا ایسا بازارگرم ہواکہ انسانی تہذیب شرم سار ہوگئی ۔بہت سے لوگ بادلِ ناخواستہ نقلِ مکانی پرمجبور ہوئے ۔اس طرح قیامِ پاکستان  کا آغاز فسادات سے ہوا۔فسادات نے زندگی کے ہرشعبے کو بری طرح متأثرکیا لیکن ادب میںاس کے اثرات سب سے زیادہ مرتب ہوئے ۔پاکستانی عوام نے بس اس بات کومدنظر رکھ کرصبرسے کام لیاکہ کم ازکم ان کاایک نیااسلامی تو وجود میں آگیاجس کے لیے لوگ ایک عرصے سے کوشاں تھے ۔وہاں کے عوام نے مہاجرین کو پناہ یںدیں اوراُن کی ہرطرح سے مددکی کیوںکہ نقلِ مکانی میں لوگوں نے گھربار،جائیداد اور پرانی یادیںسب چھوڑ چھاڑکرفقط اسلام کے نام پرایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کیا تھالیکن یہاں ایک بات وضاحت طلب ہے کہ پاکستان کاقیام جن حالات کومدنظررکھ کرعمل میں آیا تھا، وہاں کے عوام کوکہیں دکھائی نہ دیا۔فسادات کے بعدسیاسی اتھل پتھل نے پاکستانی عوام سے سکون سے جینے نہ دیاحتی کہ ۱۹۵۸ء میں مارشل لالگ گیا۔ سوچنے والا ذہن ماؤف ہوگیا۔ سارا منظرنامہ نظروں سے اوجھل ہوگیا اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوگئی ۔آزادی کے ساتھ وابستہ تمام خواب چکناچور ہوگئے ،آزادیٔ اظہارپرپابندی عائدہوگئی ۔ اس ضمن میں پروفیسر رشید امجد کا قول زیادہ موزوں معلوم ہوتاہے۔ان کے بہ قول:

’’۱۹۵۸ء میں ملک میں پہلا مارشل لالگا۔۱۹۴۷ء سے۱۹۵۸ء تک غیرمستحکم سیاسی صورتِ حال اورطبقاتی نظام کی خرابیوں  نے پاکستانی معاشرے کو گوناگوں سماجی اور فکری مسائل سے دوچار کردیا تھا۔مارشل لاکوان کاحل سمجھا گیا لیکن مارشل لانے ابتر معاشرے کو سنبھالادینے کے بجاے ٔاسے اورتباہ کردیا۔ایک سیاسی اورفکری خلاپیدا ہوگیا۔ ہرمیدان میں ایک بے سمتی کااحساس ہونے لگاجس کانتیجہ یہ نکلا کہ پورے معاشرتی سفر کا رُخ خارج سے باطن کی طرف مڑگیا‘‘۔(1)

فسادات کے بعد ’’ہجرت‘‘افسانے کاسب سے بڑاموضوع تھا لیکن مارشل لاکے نفاذکے بعدیہ موضوع سردپڑنے لگااور اس کی جگہ مارشل لانے لے لی۔مارشل لاکے زمانے میں سیاسی اتھل پتھل نے سوچنے والے حسّاس ذہن کوماؤف کردیا،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوگئی اور سارا منظرنامہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔یہی وہ زمانہ ہے جب نئے افسانے نے موڑ کاٹا اورجدیدافسانے کا آغاز ہوا۔جدید افسانے سے مرادعلامتیت اورتجریدیت ہی نہیں بلکہ فرسودہ روایات سے دوری اورکسی حدتک کنارہ کشی بھی ہے ۔ پچپن اورساٹھ کے درمیانی عرصے میں ہی پاکستان میں جدید افسانے کاآغازتصور کیاجاتاہے۔البتہ جدیدیت کے حوالے سے فقط علامت نگاری کوہی نیاتصورکریں تو ہندوستان میں منٹو کا’’پھندنے‘‘،کرشن چندرکا’’غالیچہ ‘‘اوراحمدعلی کا’’میراکمرہ ‘‘وغیرہ افسانے ساٹھ کی دہائی سے قبل ہی تحریرکیے جاچکے تھے ۔اس طورپریہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نیاافسانہ فقط علامتی نہیں ہوتا،کچھ اوربھی ہوتاہے ۔ پاکستان میں مارشل لاکے بعدجب افسانے کی ہیئت وتکنیک میں تبدیلی آئی تواس نے ادب کے علاوہ سیاست اورسماج پربھی اپنا نقش چھوڑا۔یہی وجہ ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں یہ تمام شعورپوری طرح جلوہ گرہے ۔جدیدیت کے دورمیں تین نسلیں ایک ساتھ چل رہی تھیں۔ افسانہ نگاروں کاایک طبقہ وہ تھاجنہیں تقسیم سے قبل ہی شہرتِ دوام حاصل ہوچکی تھی۔دوسرے وہ جنہیں تقسیم کے بعدشہرت نصیب ہوئی ۔ تیسری نسل کے وہ افسانہ نگار تھے جنہیں اپنی شخصیت کا لوہا منوانا تھا۔لہٰذا انھوں نے نئے طرزسے افسانے کی بنیاد رکھی ۔ احمدجاوید کے خیال میں:

’’قیام پاکستان کے بعد پچاس کی دہائی میں افسانے کی تین نئی نسلیں موجود دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف تو وہ نامور افسانہ  نگار تھے جنہیں چالیس کے عشرے میں ہی ہندوستان گیرشہرت حاصل ہوچکی تھی ۔دوسراگروہ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے قیام پاکستان سے قبل لکھناشروع کردیاتھا مگرجن کی شناخت آزادی کے بعدبنناشروع ہوئی جب کہ ایک نئی نسل بھی سامنے آگئی تھی جنہیں آئندہ برسوں میں اپنامقام بنانا تھا ‘‘ ۔ (2)

ساٹھ کی دہائی میں جن افسانہ نگاروں نے اپنی شناخت قائم کی اورافسانے میں نئی طرزکی بنارکھی ان میں انور سجاد ، خالدہ حسین ، محمدمنشایاد ، رشیدامجد،سمیع آہوجا اورکئی دوسرے افسانہ نگاروں کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ ان کے افسانوں کااختصاص یہ ہے کہ انہوں نے پرانی روش سے انحراف کرتے ہوئے اپنے فن پاروں میں ان مسائل کو پیش کیاجن سے اس عہد کاانسان نبرد آزما تھا۔فردیت ، بیگانگی ، وجودیت اوراسی طرح کے دوسرے تلخ حقائق نے انسان کولامرکزیت ،جمودیت اوراذیت ناک کرب میں مبتلا کردیاتھا۔پاکستان میں ساٹھ سے قبل افسانہ نگاروں کی فہرست تیارکی جائے تواندازہ ہوگاکہ افسانہ نگاروں کا ایک گروپ ایساہے جنہوں نے تقسیم سے قبل ہی اپنی حیثیت منوالی تھی اورنئے افسانہ نگاروں نے ان کی تقلید بھی شروع کردی تھی ۔ممتازمفتی،غلام عباس ،ابوالفضل صدیقی ، عزیزاحمد،احمدندیم قاسمی ،محمدحسن عسکری ،وغیرہ کاشمار اسی نسل میں ہوتاہے جنہیں افسانہ نگاروں کی پہلی نسل سے تعبیرکر سکتے ہیں ۔ان افسانہ نگاروں میں اکثر وہ تھے جن کاتعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔پاکستان میں دوسری نسل کے افسانہ نگاروں نے لکھنے کی ابتدا تو تقسیم سے قبل ہی کردی تھی مگران کی شناخت آزادی کے بعدقائم ہوئی ۔انہوں نے تقسیم کے کرب کوشدت سے محسوس کیااسی لیے ان کے افسانوں میں جذبات نگا ری پورے طور پر موجودہے ۔قیام ِپاکستان کے بعداپنی حیثیت منوانے والوں میں محمدخالد اختر،ممتازشیریں، انتظارحسین ، اشفاق احمد،،عرش صدیقی ،مسعود اشعر وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔  ( یہ بھی پڑھیں  افسانوی روایت کا منفرد راوی: نیر مسعود – نثار احمد )

پاکستان میں تیسری نسل کے افسانہ نگاروں کے سامنے ترقی پسند تحریک کانظریہ بھی موجود تھا اور فسادات کے حوالے سے لکھی گئی تحریریں بھی۔اب ان کے سامنے یہ مسئلہ درپیش تھاکہ وہ اپنی علاحدہ شناخت کیسے قائم کریں اورکن موضوعات کو افسانے کی بنیاد بنائیں۔ ۱۹۵۸ء میں جب ملک میں مارشل لا لگا تو عوام کے رہے سہے تمام خواب چکنا چور ہوگئے۔ آزادیٔ اظہار پر پابندی عائدہوگئی ۔ لہٰذااس کا اثرادب پربراہِ راست پڑا اورافسانے نے توسب سے زیادہ اثرقبول کیا۔پاکستان میں نئے افسانہ نگاروں نے فردیت ، وجودیت ،خودشناسی اوربیگانگی جیسے موضوعات کوفنی مہارت کے ساتھ برتا اورصنفِ افسانہ کوبلندی تک پہنچادیا۔افسانوں میں اس حوالے سے فن پارہ تخلیق کیاہی جارہاتھاکہ پاکستان میں دوسرا سانحہ ۱۹۶۵ء میں ہندوپاک جنگ کی صورت میں سامنے آیا۔مارشل لا کی طرح اس سانحہ کے اثرات بھی شعرو ادب پرپڑے ۔پاکستانی افسانہ نگاروں نے اس پسِ منظرمیں کئی ایک اچھے افسانے لکھے ۔ غلام الثقلین نقوی کاافسانہ’’نغمہ اورآگ‘‘، خدیجہ مستورکا’’ٹھنڈامیٹھاپانی‘‘،فرخندہ لودھی کا’’پاروَتی‘‘اورصادق حسین کا’’ایک رات‘‘ وغیرہ ایسے افسانے ہیں جن میں وطن سے محبت کاجذبہ صاف طورپرجھلکتاہے ۔افسانہ نگاروں کی بہ نسبت نظم گو شعرانے اس صف میں بازی ماری اورسترہ روزہ جنگ کے دوران اوراس کے بعدجس کثرت سے انہوں نے والہانہ جذبے کوپیش کیا،وہ قابلِ دادہے ۔ افسانہ نگار اس دوڑ میں پیچھے اس لیے رہ گئے کہ یہ صنف ثبات،گہرائی اوراستقلال کاتقاضاکرتاہے۔اس حوالے سے مرزاحامدبیگ رقم طرازہیں:

’’۱۹۶۵ء کی پاکستان بھارت جنگ نفسیاتی اعتبارسے کتھارسس کاحوالہ تھا جودراصل اپنی سماجی اورسیاسی محرومیوں کی صورت میں ارتقاکرتے ہوئے اس سطح پر تھا جہاں کوئی بھی تصادم اسے راس آتا۔صدرایوب خاں اورڈھاکاکا زوال بلاشبہ مختلف طرح کی جبریت کاتسلسل تھا۔بعدکے تمام سیاسی وقوعے اسی تناظرمیں اپنا ایک مفہوم رکھتے ہیں کہ آدمی ابھی تک آزادی کاطالب ہے ‘‘۔(3)

پاک بھارت کی جنگ کے بعدایوب خان کااقتداکم زورپڑناشروع ہوگیا۔یہاں تک کہ عوام نے اقتصادی وجمہوری آزادی کے لیے ۱۹۶۸ء میں سرکارکے خلاف نعرہ بلندکیا اوراس طرح سے مارشل لاکاخاتمہ ہوا۔عوام میں خوشی کی لہردوڑی ،انہیں اپنا مستقبل تاب ناک نظرآنے لگا مگر۱۹۷۱ء میں جب بنگلہ دیش کاقیام عمل میں آیا تواس واقعے نے تخلیقی ذہن کوایک نئے المیے سے دوچارکیا۔ کیوں کہ یہ المیہ زبان وتہذیب کی شکست وریخت کاتھا۔عالمِ اسلام کی تاریخ میں یہ پہلاواقعہ ہوگاجس میں کسی ملک کی تقسیم زبان کو بنیاد بناکر ہوئی ہو۔بنگلہ دیش کاقیام نظریۂ پاکستان پربھی ایک ضر ب تھی۔

قیامِ پاکستان سے اردوادب کوایک فائدہ توضرورہواکہ اس میں وسعت پیداہوئی اوردوطرح کاادب لکھاجانے لگا۔مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کے مسائل کو ہندوستانی ادیبوں نے اپنے طورپربرتا اورپاکستان کے حالات کی عکّاسی پاکستان کے ادبانے اپنے طریقے سے کی لیکن اس طرح کی روایات ومیلانات کااثرساٹھ کی دہائی میں زیادہ واضح طورپرنمودارہوتاہے ۔اگراس کادائرہ صرف افسانے تک محدود رکھیں تو اس کے نشانات اورواضح طورپردیکھے جاسکتے ہیں۔تقسیم ہندسے قبل ان افسانہ نگاروں کی فہرست بنائی جائے جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعدہندوستان سے تارکِ وطن ہوکرپاکستان کواپنامستقل ٹھکانا بنایا تھا تواس فہرست میں ممتاز مفتی ،غلام عباس ،ابوالفضل صدیقی ،عزیزاحمد،احمدندیم قاسمی اورمحمدحسن عسکری کے نام نمایاں طور پر لیے جاسکتے ہیں۔مقالے کے عنوان کی مناسبت سے ضروری معلوم ہوتاہے کہ مندرجہ بالاافسانہ نگاروں کا اجمالاً تذکرہ کردیاجائے تاکہ ان کے موضوعات اوراسلوب نگارش کا اندازہ ہوسکے ۔اس ضمن میں سب سے پہلا نام ممتاز مفتی (۱۹۰۵ء۔۱۹۹۵ء)کاہے ۔انہوں نے ترقی پسندی کے زمانے میں افسانہ نویسی کی ابتداکی لیکن ان کے افسانے ترقی پسندی پرمینی فیسٹوکاچربہ نہیں ہیں بلکہ اس معاملے میں انہوں نے اس روایتی اسلوب کو نئی شکل دی ہے ۔تقسیم سے قبل ممتازمفتی کے تین افسانوی مجموعے چھپ چکے تھے جواس طرح سے ہیں:’’اَن کہی‘‘(۱۹۴۳ء)، ’’گہما گہمی‘‘ (۱۹۴۴ء) اور ’’چپ‘‘(۱۹۴۷ء)۔ممتازمفتی کے افسانوں کااختصاص یہ ہے کہ انہوں نے ذی شعورکی نفسیاتی پے چیدگیوں اور ذہنی مسائل کواپناموضوع خاص بنایاہے اوران میں جنسی عناصرکوشامل کرکے ایک خاص کشش پیداکردی ہے ۔ان کاافسانہ ’’آپا‘‘میں تشنگی ،ناکام محبت ،پرانی تہذیب کارکھ رکھاؤ اورنفسیاتی کش مکش کونہایت خوب صورتی سے بیان کیاگیاہے ۔

غلام عباس (۱۹۰۹ء۔۱۹۸۲ء)کاشماران افسانہ نگاروں کی فہرست میں اول ہے جنھوں نے خود کوکسی تحریک ،رویّے یاگروہ سے  وابستہ نہیں کیا۔غلام عباس اپنے افسانوں کی تشہیرکے لیے کبھی کوشاں نہیں رہے پھربھی برصغیرمیں ان کانام محترم ہے اوران کے افسانوں کو اعتبارحاصل ہے ۔ان کے افسانوں میں’’آنندی‘‘،’’اوورکوٹ‘‘،’’نواب صاحب کابنگلہ‘‘، ’’کتبہ‘‘اور’’جواربھاٹا‘‘کوکسی بھی طرح نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔افسانہ ’’آنندی‘‘میں یوں تو طوائف کی زبوں حالی اوران کی بدقسمتی کاتذکرہ ہے لیکن افسانہ کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے ایسامحسوس ہونے لگتاہے کہ طوائف کو بنیاد بناکرپورے معاشرے کی زبوں حالی کابیان ہے اوریہ بات بھی مسلّم ہے کہ طوائف کوجتنا بھی معاشرے سے دوررکھارجائے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ بھی معاشرہ کاناگذیرحصہ ہیں۔غلام عباس کاپہلا مجموعہ تقسیم کے ایک سال بعد۱۹۴۸ء میں’’آنندی‘‘کے نام سے شائع ہوا۔

ابوالفضل صدیقی (۱۹۱۰ء۔۱۹۸۷ء)کااختصاص دوحوالوں سے ہے ۔اول یہ کہ انہوں نے جاگیردارانہ تہذیب کی مخصوص فضا، رئیس  زادوں کی مستیاں اوران کے زوال کی عکاسی اپنے افسانوں میں کی ہے ۔دوم یہ کہ انہوں نے شکاریات کے حوالے سے کئی اچھے افسانے تخلیق کیے ۔ابوالفضل صدیقی کے سینئرافسانہ نگارسیدرفیق حسین(۱۸۹۴ء۔۱۹۴۶ء)نے بھی تقریباً اسی موضوع پر افسانے لکھے ہیں اوردونوں کازمانہ بھی تقریباً ایک ہی ہے ۔سیدرفیق حسین کاتعارف کراتے ہوئے نیرمسعود رقم طرازہیں:

’’سیدرفیق حسین کو اردو کاتقریبااُمّی افسانہ نگارسمجھاجاتاہے جس کااردوادب کامطالعہ صفر کے آس پاس تھااورجس کواردو لکھنا بھی ٹھیک سے نہیں آتاتھا‘‘۔(4)

نیرمسعود کے قول میں کتنی صداقت ہے ،یہ الگ مسئلہ ہے۔ فی الحال یہ بتاناضروری ہے کہ رفیق حسین کاافسانوی مجموعہ ’’آئینۂ حیرت‘‘۱۹۴۴ء میں اورابوالفضل صدیقی کا’’اہرام‘‘۱۹۴۵ء میں اشاعت سے ہم کنارہوا۔

عزیزاحمد(۱۹۱۳ء ۔۱۹۷۸ء)نے بھی دوسرے ہم عصرافسانہ نگاروں کی طرح افسانہ نگاری کاآغاز تراجم سے کیا۔تقسیم سے قبل ایک مجموعہ ’’رقص ناتمام‘‘کے نام سے ۱۹۴۵ء میں چھپاجس میں گیارہ افسانے شامل تھے ۔ان کی ابتدائی کہانیوں میں حیدرآباد کی تہذیب ، وہاں کے رؤسا کی فراخ دلی اوراسی طرح کے دوسرے مناظرکی عکاسی اچھی طرح سے کی ہے ۔’’مدن سینااورصدیاں‘‘ ، ’’رقص ناتمام ‘‘ اور’’جادو کا پہاڑ‘‘ان کے وہ نمائندہ افسانے ہیں جن کاچرچاتقسیم سے قبل ہی ہوچکا تھا۔ویسے توان کی شہرت کادارومدار ناول اورناولٹس ہیں۔جن میں’’ایسی بلندی ایسی پستی ‘‘،’’گریز‘‘اور’’جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں‘‘اہمیت کے حامل ہیں۔

احمدندیم قاسمی (۱۹۱۶ء۔۲۰۰۶ء)ایک دبستان ہے اوران کافن فقط افسانوں تک محدودنہیں ہے بلکہ انہوں نے شاعری میں اپناسکّہ جمایاہے ۔اگر زود نویسی عیب نہیں ہے تویہ بات کہی جاسکتی ہے کہ احمدندیم قاسمی زود نویس تھے اور انہوں نے ادب کوہی اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا تھا۔ان کایہ خیال تھاکہ جب تک ان کاقلم چلتارہے گاوہ متحرک اورزندہ رہیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے لکھنے پڑھنے سے بخالت سے کام نہیں لیا۔تقسیم سے قبل ان کے سات افسانوی مجموعے چھپ چکے تھے جواس طرح ہیں:’’چوپال‘‘ (۱۹۳۹ء)، ’’بگولے‘‘ (۱۹۴۱ء)،’’طلوع وغروب‘‘ (۱۹۴۲ء)، ’’گرداب‘‘(۱۹۴۳ء)، ’’سیلاب‘‘(۱۹۴۳ء)، ’’آنچل‘‘(۱۹۴۴ء)،  اور ’’آبلے‘‘ (۱۹۴۶ء)۔ احمدندیم قاسمی نے مشرقی پنجاب کے دیہی کسانوں، غریبوں اور مظلوموں کا نقشا اچھی طرح سے کھینچا ہے ۔گاؤں کے سکھوں کی معصومیت اور بھولے پن کااندازہ ان کے افسانوں کوپڑھ کراچھی طرح سے لگایا جاسکتاہے ۔’’ہیروشیما سے پہلے ،ہیروشیماکے بعد ‘‘ ، ’’الحمدللہ‘‘، ’’گنڈاسا‘‘ اور’’رئیس خانہ‘‘وغیرہ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔

اس ضمن میں ایک اور اہم نام محمدحسن عسکری(۱۹۲۱ء۔۱۹۷۸ء)کاہے ۔اپنے تخلیقی سفرکے آغازمیں یوں تو وہ ترقی پسند تھے لیکن اس تحریک کی جذباتیت اورنعرہ بازی سے اکتا کرانہوں نے علاحدہ اختیارکرلی اوراپنی الگ راہ نکالی ۔یہ بات بھی قابلِ ذکرہے کہ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد افسانہ نگاری ترک کردی تھی اورتنقیدکی راہ میں چل پڑے تھے ۔ان کے شائع شدہ افسانوں کی تعداد فقط گیارہ تک پہنچتی ہے جواُن کے دونوں مجموعوں’’جزیرے‘‘(۱۹۴۳ء)اور’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘ (۱۹۴۷ء)میں شامل ہیں۔افسانے ’’چائے کی پیالی‘‘اور’’حرام جادی‘‘کوہمارے ناقدین نے کچھ زیادہ ہی وقعت دی ہے جب کہ دونوں افسانے چیخوف کے افسانوں سے متأثرہوکر لکھے گئے ہیں۔جنسی تشنگی اورنفسیاتی انتشارکے حوالے سے جتنی اچھی کہانیاں محمدحسن عسکری نے لکھی ہیں،اس کے عہدکے افسانہ نگاروں میں خال خال ہی نظرآتی ہے ۔

مندرجہ بالاوہ افسانہ نگارہیں جنہوں نے ترقی پسند تحریک کے زمانے میں افسانہ نویسی کاابتداکی اورقیامِ پاکستان سے قبل ہی ان کی حیثیت مسلم ہوگئی ۔بعضوں نے ترقی پسندی کالبادہ اوڑھاتوبعض ایسے بھی تھے جنہوں نے آزادانہ طور پر افسانہ نویسی کی ۔ ہرادیب کاذہن ایک سانہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ ترقی پسندتحریک کے قیام کے کچھ ہی عرصے بعدبزمِ داستاں گویاں(حلقۂ ارباب ذوق )کاقیام عمل میں آگیا۔یہ وہ پہلی نسل تھی جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعدہندوستان کو خیرآباد  کیااورپاکستان میں مستقل سکونت اختیارکرلی ۔افسانہ نگاروں کادوسراگروپ وہ ہے جنہوں نے ۱۹۴۷ء کے آس پاس افسانے لکھنے کی ابتداکی لیکن قیامِ پاکستان کے بعدان کی شناخت قائم ہوسکی ۔ ان افسانہ نگاروں کی فہرست تیارکی جائے توقدرت اللہ شہاب، محمد خالد اختر،ممتازشیریں،انتظار حسین اوراشفاق احمدکے نام خصوصیت سے لیے جاسکتے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان کی افسانوی خدمات پرایک نظرڈال لی جائے ۔

اس ضمن میں پہلا اوراہم نام قدرت اللہ شہاب (۱۹۱۹ء۔۱۹۸۶ء)کاہے۔ان کانام آتے ہی فوراًذہن ’’یاخدا‘‘ اور ’’ماںجی‘‘ جیسے افسانوں کی طرف منتقل ہوجاتاہے ۔افسانہ ’’یاخدا‘‘کوپہلا مکمل پاکستانی افسانہ کہہ سکتے ہیں جوفسادات کے بعدہونے والے کرب ناک منظرکابیانیہ ہے ۔ اس میں مظلوم عورت’’ دلشاد‘‘کی جذبات نگاری ،قاری کواس حد تک متأثرکرتی ہے کہ وہ اسی عہد میں سانس لیتاہوا محسوس کرتاہے ۔شہاب نے جنسی اظہارکوبھی افسانوں کاموضوع بنایاہے ۔خاص طورسے ’’شلوار‘‘ اور ’’تلاش‘‘ میں ان کاجنسی اظہار رومان کی حدکوبھی عبورکرجاتاہے ۔

محمدخالداختر(۱۹۲۴ء۔۲۰۰۲ء)کے دوافسانوی مجموعے چھپے ۔ایک مجموعہ’’کھویا ہوا اُفق‘‘کے عنوان سے ۱۹۶۸ء میں شائع ہوا۔ ان کے مطبوعہ افسانوں کی کل تعداداُنیس تک پہنچتی ہے ۔’’چچاسام کے نام آخری خط‘‘،’’زندگی کی کہانی‘‘، ’’لالٹین‘‘ وغیرہ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔ان کے افسانوں میں طنزیہ اسلوب صاف طورپرجھلکتاہے البتہ کچھ افسانوں میں تنہائی، افسردگی اور ملال کا رنگ بھی نمایاں ہے۔انسانی زندگی میں رونما ہونے والے بنیادی المیوں کو انہوں نے زیادہ واضح طور پر بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ محمد خالد اختر نے سائنس فکشن کے حوالے سے بھی افسانے لکھے ہیں جن میں ’’مقیاس المحبت‘‘ اس کا عمدہ نمونہ ہے۔

ممتازشیریں (۱۹۲۴ء ۔۱۹۷۳ء)کاشماریوں تو اردو ادب کے معتبرناقدین میں ہوتاہے اور’’منٹو:نوری نہ ناری‘‘لکھ کراپنی تنقید کا لوہا منوایا ہے لیکن ان کے افسانے بھی کسی طرح کم نہیں ہیں چہ جائے کہ انہوں نے فقط چودہ ہی افسانے تحریرکیے ہیں۔ ’’اپنی نگریا‘‘،’’دیپک راگ‘‘اور’’میگھ ملہار‘‘ان کے نمائندہ افسانے ہیں لیکن ان میں وہ بات نہیں ہے جس کی بہ دولت اردوکے اہم افسانوں میں شمار کیاجا سکے ۔ان کے افسانے مردوزن کے اہم ترین جذبات کاپروپیگنڈہ ہیں البتہ ’’انگڑائی ‘‘ہم جنسیت پرلکھاجانے والا ایساافسانہ ہے جس میں لذتیت کاشائبہ تک نہیں۔محمدحسن عسکری نے اس افسانے پراظہارِ خیال کرتے ہوئے بجاطورپرلکھاہے :

’’انگڑائی میں تو براہِ راست میلانِ ہم جنسی کاذکرہے لیکن اس موضوع کی تمام ترغیبات کاممتازشیریں نے بڑی دلاوری سے مقابلہ کیاہے ۔انھوں نے میلانِ ہم جنسی کے افعال پرنہیں بلکہ احساسات پراپنے افسانے پرکی بنیاد رکھی ہے ‘‘۔(5)

اس ضمن میں سب سے اہم نام انتظارحسین (۱۹۲۵ء)کاہے ۔تہذیب کی شکست وریخت ،یادِماضی ،فسادات اورپاکستان کی سیاسی ،سماجی اورمعاشی صورت حال کاجتناتونااظہارانتظارحسین نے کیاہے ،ان کے ہم عصروں میں کم ہی نظرآتا ہے ۔اس حوالے سے انہوں نے کئی لازوال افسانے تخلیق کیے ہیں جن میں’’ وہ جوکھوئے گئے‘‘ ،’’بن لکھی رزمیہ‘‘ ،’’ہندوستان سے ایک خط‘‘ ،’’اجودھیا‘‘،’’قیوما کی دکان‘‘،’’ خریدوحلوابیسن کا‘‘وغیرہ قابل ذکرہیں۔ایک لحاظ سے دیکھاجائے توان کی اکثر کہانیاں فساداوراس کے نتیجے میں انسانی زندگی میں آنے والے مصائب مثلاً ٹاسٹیلجیایعنی یادِ ماضی اورپاکستان کی سیاسی ومعاشی حالات کانوحہ کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ انتظارحسین کی افسانے اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ انہوں نے ہرعہداورہرسیچویشن کو اپنے افسانوں میں سمو دیاہے ۔خواہ وہ ہجرت کاکرب ہو،فسادہو،مارشل لا ہو،قیامِ بنگلہ دیش ہو یا اسی طرح کے دوسرے سیاسی مسائل ۔اس طرح سے انہوں نے گویااپنے افسانوں میں ایک جہان آبادکردیا ہے۔

اس حوالے سے ایک نام اشفاق احمد(۱۹۲۵ء ۔۲۰۰۴ء)کابھی ہے ۔پچاس کی دہائی میں دو مجموعے ’’ایک محبت سوافسانے‘‘ ۱۹۵۱ء میں اور’’اجلے پھول‘‘۱۹۵۷ء میں شائع ہوئے۔ان کے افسانوں کا بنیادی حوالہ یوں تو محبت ہے لیکن تقسیم کے بعدہونے والے فسادکے حوالے سے انہوں نے افسانے کی شکل میں جس ’’گڈریا‘‘کو پیش کیاہے وہ لائق تحسین ہے ۔اس افسانے میں داؤ جی کاکردارعجیب رومانی اندازلیے ہوئے ہے جو مذہباً تو ہندو ہے لیکن اسلامی رکھ رکھاؤ اس کی روح میں سرایت کیے ہوئے ہے ۔

ساٹھ سے قبل مندرجہ بالاافسانہ نگاروں کے علاوہ اوربھی کئی ایسے افسانہ نگارہیں جن کاذکرناگزیر تھا لیکن موضوع کی طوالت سے احترازکرتے ہوئے اُن کا ذکر نہ ہوسکا۔سردست ان کے نام سے یہاں اکتفاکیاجاتاہے ۔اکرام اللہ ،عرش صدیقی ، غلام الثقلین نقوی ، شوکت صدیقی ،آغاسہیل،اے حمید،مسعو اشعروغیرہ کے نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اپنے عہدکی زبوں حالی کاذکراپنے اپنے طورپرکیاہے ۔بعض بل کہ اکثرافسانہ نگاروں نے ساٹھ کی دہائی میں اوراس کے بعدبھی افسانے لکھے ہیں لیکن اس ضمن میں ان افسانہ نگاروں کاذکرزیادہ تفصیل سے ہوگاجنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں افسانہ نویسی کی ابتداکی اوراپنی حیثیت بھی قائم کی ۔انورسجاد،خالدہ حسین ، منشایاداوررشیدامجداس دہائی کے ایسے فن کارہیں جنہوں نے جدیدیت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اوران کے فن کوبھی سراہاگیا۔علامت وتجریدکووسیلۂ اظہاربناکرجدیدافسانہ نگاروں نے موضوعات سے لے ہیئت و تکنیک میں بھی تبدیلی کی ۔

اس حوالے سے پہلااوراہم نام ڈاکٹرانورسجادکاہے ۔انورسجاد(۱۹۳۴ء)نے افسانہ نگاری کی ابتدا روایتی اندازسے کی ۔ ۱۹۵۳ء میں ان کاپہلاافسانہ ’’ہواکے دوش پر‘‘ نقوش ،لاہورسے چھپااوریہ سلسلہ ۱۹۵۷ء تک چلتارہا۔مارشل لاکے بعدان کی افسانہ نویسی میں تبدیلی آئی اورجب ان کاپہلا افسانوی مجموعہ ’’چوراہا‘‘۱۹۶۴ء میں منظرعام پرآیاتب ان کی شناخت بہ حیثیت علامتی افسانہ نگارکے ہوئی ۔پاکستان میں انورسجاد اور خالدہ حسین ایسے افسانہ نگارہیں جنہوں نے علامتی وتجریدی افسانے جسے ہم اصطلاحاًجدید بھی کہہ سکتے ہیں،کی بنارکھی ۔ انورسجادکے ابتدائی افسانے ’’پہلی کہانیاں‘‘کے عنوان سے ۱۹۹۰ء میں چھپے۔اس کے بعد’’چوراہا‘‘اور’’استعارے‘‘ ایسے مجموعے ہیں جو ساٹھ کی دہائی میں منظرعام پرآئے ۔جن کاسنہ اشاعت بالترتیب ۱۹۶۴ء اور۱۹۷۰ء ہے ۔انہوں نے اپنے افسانوں میں جس نئے اسلوب کو ایجادکیاہے وہ ایک حدتک شاعری سے مختص رہے ہیں۔اس حوالے سے وہ حضرت بہاء الدین نقشبندی ؒکاقول نقل کرتے ہیں:

’’ایک عالم …

’’سرکار،آپ کہانیاں سناتے رہتے ہیں لیکن ابلاغ نہیں ہوتا۔یہ بھی توبتائیے کہ آپ کی کہانیوں کوسمجھیں کیسے؟

حضرت بہاء الدین نقش بندیؒ …

’’آپ یہ پسندفرمائیں گے کہ پھل فروش ،پھل کاگوداتوخودکھالے اور چھلکا آپ کو فروخت کردے ؟‘‘(6)

اس قول سے یہ بات توواضح ہوئی ہے کہ انورسجادنے جو امیجز،علامات اوراستعارے استعمال کیے ہیں وہ ایک خاص عہد سے تعلق بھی رکھتے ہیں اوراس کی تفہیم قاری کے ذہن پرچھوڑدیتے ہیں۔ان کایہ مقصدہرگزنہیں ہوتاکہ ہربات کوعیاں کر دیا جائے بلکہ ان کے مفاہیم ایک دبیزغلاف کے اندرڈھکے ہوتے ہیں اورقاری کے ذہن کی رسائی حقیقت تک مشکل سے ہی ہوپاتی ہے ۔ ترسیل ، ابلاغ اورتفہیم میں مشکلیں پیش آتی ہیں اور انورسجادپریہی بنیادی اعتراض کیاجاتاہے کہ نہ ان کے ہاں واقعات کاتسلسل ہوتا ہے نہ ہی کردارکی تجسیم ہی ہوپاتی ہے ۔اس کی واحد وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ کرداراورواقعہ کے بہ جائے فضا اور ماحول کوزیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ان کے افسانوںکوپڑھ کریہ بات بلاتردد کہی جاسکتی ہے کہ انورسجاداپنے عہد کا باشعور اورسنجیدہ فن کار ہے اوران کے افسانے عصری حسیت کے حامل ہیں۔ان کاعلامتی افسانہ ایسے عہدکاآئینہ دارہے جب پاکستان میں تشخص کاسوال اٹھ رہاتھااور بے باکی سے کوئی بات کہنا معیوب سمجھاجاتاتھا۔اسی لیے ساٹھ کی دہائی کے فن کاروں نے علامت وتجرید کواپنا وسیلۂ اظہاربنایا تا کہ حقیقت حال کی عکاسی ڈھکے چھپے اندازمیں ہو اور ان فن کاروں کی انفرادیت بھی قائم ہوسکے ۔

انورسجادکے بیش ترافسانے تجریدی پیراے میں سماج کی شکست وریخت ،فردکی تنہائی اورگھٹن کے احساس کوبیان کرتے نظر آتے ہیں۔ان افسانوں میں ایسے کرداربھی ہیں جن کاکوئی نام نہیں ہے اوراپنی شناخت کے لیے سرگرداں ہیں۔انورسجاد اپنے متعلق اس بات پراصراربھی کرتے ہیں کہ وہ تمام عمرایک ہی افسانہ لکھتے رہے جس کاموضوع جبرکے خلاف احتجاج ہے ۔خوف،جبر،اجنبیت و تنہائی ان کے بنیادی استعارے ہیں جن کے سہارے وہ کہانی کا تانا بانا بُنتے ہیں۔ان کے نمائندہ افسانوں کا ذکر کیا جائے تو’’چوراہا‘‘، ’’سنڈریلا‘‘،’’گائے ‘‘،’’کونپل‘‘ اور’’چھٹی کادن‘‘ وغیرہ کوضرورشامل کیا جائے گا۔انہوں نے اپنے افسانوں میں دیومالا، اساطیر او ر داستانی عناصر سے بھی کام لیاہے ۔اساطیرکے حوالے سے انہیں کمال حاصل ہے ۔ سنڈریلا، کیکراورپرمیتھس اس حوالے کی بہترین کہانیاں ہیں۔ اس ضمن میں قاضی عابدرقم طرازہیں:

’’اس امرمیں کوئی شک نہیں کہ ان کہانیوں میں انورسجاد نے غیرمانوس تہذیبی منطقوں کی اساطیری روایات کوتجریدی اورغیرمانوس اسلوب میں بیان کرکے جو انفرادیت حاصل کی وہ زیادہ لایعنیت کوہی جنم دے رہی ہے ‘‘۔(7)

انورسجادکے نمائندہ افسانوں میں’’گائے‘‘کوکافی مقبولیت حاصل ہے ۔اس کاشمارجدیدیت کے نمائندہ افسانوں میں ہوتا ہے ۔اس کی شہرت کادارومدارغالباً اسی وجہ سے ہے کہ اس کی تفہیم میں دشواری پیش نہیں آتی اورقاری کسی حدتک حظ بھی اٹھاتاہے لیکن کہانی کودوسرے زاویے سے دیکھی ںہ تو گائے نہ صرف استعارہ ہے بل کہ ہمارے ہاں کے سیاسی نظام پرطنز بھی ہے ۔بات صرف یوں ہے کہ ایک دبلی پتلی سی گائے ہے جو دبلی ہوچکی ہے اورگھرکے افراداسے بوچڑخانہ بھیجنے پر غور و فکرکررہے ہیں۔’’نکّا‘‘اس بات کی مخالفت کرتاہے اورعلاج کرانے کامشورہ دیتاہے لیکن گھرکے بزرگوں کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی ہے بالآخرگائے کو بوچڑ کانہ بھیج دیاجاتاہے ۔

اس افسانے میں’’گائے‘‘علامت ہے مظلوم عوام کی اورنکّا ان مظلوم ومعصوم عوام کے رہنماکی ،جومظالم کے سامنے مزاحمت کررہاہے کہ مظلوم کی سزامیں تخفیف کی جائے لیکن ظالم وجابرحکم راںاس کی ایک نہیں سنتا بلکہ وہ اب اس فکرمیں ہے کہ ان رہنماؤں کا کیاجائے تاکہ ظلم کے خلاف کوئی بھی احتجاج نہ کرسکے ۔افسانے کاآخری اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اس نے کھلی آنکھ سے دیکھا۔بچھڑ اٹرک سے باہرگائے کے گرائے ہوئے پٹھوں میں منہ مار رہاتھا۔ٹرک میں بندھی گائے باہر منہ نکال کربچھڑے کودیکھ رہی تھی ۔ا ن میں سے ایک گائے کولے جانے کے لیے ٹرک میں بیٹھا تھااورباباایک ہاتھ سے اپنی داڑھی میں عقل کوسہلاتاہواباہرکھڑے ڈرائیورسے ہاتھ ملارہاتھا۔پھرمجھے پتانہیں کیاہوا۔نکّے نے کسے نشانہ بنایا۔گائے کو،بچھڑے کی ڈرائیور کو،باباکو،اپنے آپ کویاوہ ابھی تک نشانہ باندھے کھڑاہے ۔

کوئی وہاں جاکے دیکھے اورآکے مجھے بتائے کہ پھرکیاہوا۔مجھے توصرف اتنا پتا ہے کہ ایک روزانھوں نے فیصلہ کیاتھاکہ……‘‘۔(8)

ابتداسے کہانی صحیح سمت کی طرف گامزن تھی لیکن آخری جملے سے انورسجادنے تجسس پیداکردیا۔وہ یہ کہ انہوں نے ایک دن کیافیصلہ کیاتھااوراس کااثرآج کے سماج پرکیاپڑاہے ۔اگرقاری کانظریہ بدل جائے اوراس افسانے کوآزادی کے تناظر میں دیکھیں تو گائے پرہونے والے ظلم وستم انگریزوں کی یادتازہ کرتی ہے ۔اس طرح ہم دیکھتے ہیںکہ انورسجاد کاکوئی بھی کہانی ایک وسیع منظرنامہ رکھتی ہے ۔انہیں علامات پرعبورحال ہے اوروہ معاشرتی دکھ کوعلامتوں کے وسیلے سے بہترین روپ میں پیش کرنے کاہنر رکھتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک اہم نام خالدہ حسین (۱۹۳۸ء)کاہے ۔انہوں نے بھی علامات کونیاآہنگ عطاکیا۔خالدہ حسین افسانوی افق پرجس وقت نمودارہوئیں اس وقت علامت نگاری کے حوالے سے بلراج مین را اورانورسجادسے لوگ پہلے ہی متعارف ہوچکے تھے ۔ البتہ خالدہ حسین اورسریندرپرکاش اس صف میں بعدمیں شامل ہوئے لیکن جلدہی توجہ کامرکزبن گئے ۔خالدہ حسین نے علمی وادبی فضامیں آنکھیں کھولیں۔ والدڈاکٹراصغر،سائنس کے شعبے سے منسلک ہونے کے باوجوداعلاادبی ذوق رکھتے تھے ۔۱۹۵۴ء میں افسانہ نگاری کاآغازکیا۔ابتدائی دنوں میں ان کی کہانیاں روایتی انداز کی تھیں لیکن ۱۹۶۲ء میں افسانہ ’’منی‘‘چھپاتوادبی حلقوں میں دھوم مچی ۔۱۹۶۲ء اور۱۹۶۵ء کے درمیانی عرصے میں پے درپے کئی اہم کہانیاں لکھیں جن میں’’ہزارپایہ‘‘ ، ’’نام کی کہانی‘‘ اور’’آخری سمت‘‘ خاص طورپرقابل ذکرہیں۔۱۹۶۵ء کے بعدتقریباًتیرہ برس تک انھوں نے لکھنا لکھانابالکل ترک کردیا۔ ۱۹۷۹ء میں افسانوی دنیامیں ان کی دوبارہ واپسی ہوئی اور’’آدھی عورت‘‘لکھ کرسب کوخوش گوار حیرت میں مبتلا کردیا۔ادبی دنیامیں انہوں نے خالدہ اصغراورخالدہ اقبال کے نام سے افسانے لکھے لیکن خالدہ حسین ایسانام ہے جس سے زیادہ معروف ہیں۔

خالدہ حسین کی افسانوی زندگی نصف صدی پرمحیط ہے اوران کی افسانہ نگاری کودوحصوں میں بانٹاجاسکتاہے ۔پہلادور ۱۹۵۴ء  سے ۱۹۶۵ء تک محیط ہے جس میں انہوں نے اپنی شناخت قائم کی اورصنف افسانہ کونئے موضوعات دیے ۔ ’’سواری‘‘،’’ہزارپایہ‘‘ ، ’’آخری سمت ‘‘اور’’منی‘‘ جیسی کہانیاں اسی دورسے تعلق رکھتی ہیں۔دوسرا دور۱۹۷۹ء سے تاہنوزجاری ہے ۔اس لحاظ سے دیکھاجائے توان کے دوامتیازات ہیں۔اول یہ کہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے جدیدافسانے کی دنیامیں اس وقت قدم رکھاجب یہ ابتدائی منزلیں طے کررہاتھا اوردوم یہ کہ جدیدافسانے کواعتباردلانے اورعلامتی افسانوں کو تسلسل کے ساتھ بیان کرنے میں انہوں نے بخالت سے کام نہیں لیا ۔ان کے علامتی اندازپرگفت گوکرتے ہوئے طاہر مسعود لکھتے ہیں:

’’خالدہ حسین کااسلوب علامتی اورتجریدی ہے البتہ علامت ان کے ہاںعجز اظہار کانتیجہ نہیں ہے ۔ان کی ہرکہانی میں کہانی موجودہے ۔کیوںکہ ان کے بہ قول ’’کہانی کا سحر وہ سحرہے جوازل سے انسان کو مسحورکرتاچلاآرہاہے اورکرتارہے گاخواہ اس میں رستہ بھول جانے کاخطرہ ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ان کے افسانے معلوم سِراہیں جنہیں پکڑ کرہم نامعلوم حقیقتوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔ چہرے شناسا ہوتے ہوئے بھی اجنبی ہوجاتے ہیں اور جانی بوجھی چیزیں انجانی سی لگنے لگتی ہیں۔ان کی بھید بھری کہانیوں میں تشکیک ،ایہام ، بے یقینی اوراستعجاب کی فضاملتی ہے ‘‘۔(9)

خالدہ حسین کااختصاص یہ ہے کہ انہوںنے علامت نگاری کواپناوسیلۂ اظہاربنایااورافسانے کوایک نئی معنویت عطاکی ۔ان کی کہانیاں فکرکے ایک نئے لہجے سے متعارف کراتی ہیں جس سے قاری محظوظ ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔یہ حظ اسی وقت اٹھایا جاسکتاہے جب وہ وجودیت ،فردیت اورسماجی نظام سے گہری واقفیت رکھتاہو۔کیوںکہ خالدہ حسین کی کہانیاں کچھ اسی طرح کی ہیں کہ اپنے اندر سماج کاگہرا شعوررکھتی ہیں۔ان کہانیوں میں عصری آگہی بھی ہے اورایک شخص کے اندر پنپنے والے مسائل بھی ۔ان کے نمائندہ افسانوں میں ’’ہزارپایہ ‘‘کااطلاق سماجی حوالے سے بھی کیاجاسکتاہے اوردوسری طرف فردیت کے حوالے سے بھی اس کے دریچے واکیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان میں مارشل لاکے بعدسماجی صورت کا نقشا بھی اس افسانے میں موجودہے کہ ایک ملک جوبہت تگ ودوکے بعدآزادتوہو گیا لیکن اس ملک کے اندرلوٹ گھسوٹ اور دوسری بیماریاں اس قدرعام ہوگئی ہیں کہ سوائے آپریشن کے اس کاکوئی علاج نہیں ہے ۔ اورجہاں تک ہزارپایے کاسوال ہے تویہ ایک ایساجرثومہ ہے جس کاعلاج تقریباً ناپیدہے ۔اگرناپیدنہیں توناممکن ضرورہے ۔ ایسی صورت حال میں اگروہ خودیہ چاہے کہ اس کے اندرکاہزارپایہ اس سے چمٹارہے ۔تب تواس کے علاج کا کوئی جواز ہی نہیں۔

خالدہ حسین کی اس کہانی کووجودیت کے حوالے سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔اس علامتی وتجریدی کہانی میں ان تمام امکانات کے حوالے موجودہیں جس سے اس وقت کامعاشرہ زیر و زبر کی حالت میں تھا۔افسانے کے کردار’’میں‘‘کایہ بیان بھی قابلِ  غورہے جب ڈاکٹرہزارپایہ سے متعلق یہ کہتاہے کہ یہ تواُس کے وجودکاحصہ ہے ۔ملاحظہ ہویہ اقتباس:

’’اس لیے اس کے بعدمیری تمام ترتوجہ اپنے اندرپلنے والے ہزارپایہ پر مرکوز ہوئی ۔ میں اسے جاننا،دیکھناچاہتاتھامگر ڈاکٹر کا کہنا تھاکہ وہ کسی ایکس رے میں نہیں آسکتا کہ وہ ایک جان ہے ۔پھیلتی ،جبڑوں بھری،سرسراتی جان‘‘۔(10)

خالدہ حسین کی کہانیاں ذات کے حوالے سے عدم تحفّظ کاحوالہ بن کراکثرجگہوں پر سامنے آتی ہیں۔’’ایک رپورتاژ‘‘،’’سواری ‘‘، ’’پہچان‘‘ وغیرہ میں سماج کی مظلومیت ،عورتوں کی بے بسی ،انسانی زندگی کے آلام اپنے کریہہ منظرنامے کے ساتھ موجودہیں اور پاکستانی معاشرے کی صورت حال کااندازہ بھی صحیح طورپرہوتاہے۔

ساٹھ کی دہائی کاایک اہم نام منشایاد(۱۹۳۷ء۔۲۰۱۱ء)کاہے ۔یوں تو منشایاد پیشے سے انجینئر تھے لیکن انہوں نے اپنی ادبی ذوق کوماندپڑنے نہیں دیا بلکہ ساری عمرادب کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ان کاپہلاافسانہ ۱۹۵۹ء میں’’کہانی‘‘کے عنوان سے لاہورکے ادبی جریدے’’داستان گو‘‘میں چھپا۔اس کے بعدتواترکے ساتھ انہوں نے لازوال افسانے تحریرکیے ۔یوں انہوں نے روایتی اندازسے افسانہ نگاری کا آغازکیااورقدرے تاخیرسے جدیدیت کی دوڑمیں شامل ہوئے پھربھی کئی لازوال کہانیاں لکھیں۔ان کویہ اعزازحاصل ہے کہ وہ اردوکے ساتھ پنجابی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔

منشایادکے افسانوں کامطالعہ کریں تو وضاحت ہوتی ہے کہ انہوں نے افسانہ نگاری کاآغاز تو روایتی اندازسے کیااور ان کا فن پارہ نیم علامتی ،علامتی اوراستعاراتی کی منزلوں تک پہنچ گیا۔انہوں نے افسانہ نگاری توساٹھ کی دہائی میں شروع کردی تھی لیکن ان کے مجموعے سترکی دہائی میں اوراس کے بعدشائع ہوئے ۔وہ نظری اعتبارسے کسی تحریک سے وابستہ نہیں تھے بلکہ انسان دوست کے ناطے سماج اورفردکی زبوںحالی کااحساس ان کے ہاں کچھ زیادہ واضح طورپرنمایاں ہوتاہے ۔دیہی مناظرکی عکاسی میں ان کاکوئی ثانی نہیں۔بھوک،جبلّت اورمحبت کے حوالے ان کے افسانوں میں بار بار آتے ہیں۔’ ’سارنگی‘‘،’دنیاکاآخری بھوکاآدمی‘‘،’’تماشا‘‘، ’’راستے بندہیں‘‘اور’’ماس اورمٹی‘‘ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔ان کہانیوں میں وہ کردار زیادہ جاذب نظرہیں جو تیسری دنیاکے مصائب اورمفلوک الحال زندگی گزارنے پرمجبورہیں۔جنہیں زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ ان کے افسانوں پراقبال آفاقی نے بجاطورپرکہاہے:

’’منشایادکی کہانیوں میں ہمارے عہدکی سیاہ کاریوں کی پوری روایت موجودہے ۔ وہ صرف افسانہ نگارہی نہیں،اپنے عہدکا گواہ بھی ہے ۔اس کاکارنامہ یہ ہے کہ اس نے تاریخ کوگرے پڑے ،محروم اوراستحصال زدہ لوگوں کی نظرسے دیکھااورجذبے کی پوری سچائی کے ساتھ کسی لگی لپٹی کے بغیرعلامت اورتجریدکی دانش ورانہ سو فسطائیت سے بچ بچا کر ان کا استغاثہ پیش کیا۔اپنے عہدکی تصویر کا دوسرارخ پیش کرنے اور وقوعہ کودبائے گئے روزن کومنظرعام پرلانے میں منشایادکی کردارنگاری کو فراموش نہیں کیا جا سکتا‘‘۔(11)

کسی فن کارکی تخلیق کوفقط ایک خاص عہدکے تناظرمیں دیکھیں تو ایک طرف فن کارکے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی اورفن پارے کادائرہ بھی محدودہوجائے گاپھربھی کچھ تحریریںایسی ہوتی ہیں جوکسی خاص عہدمیں ہی ظہور پاتی ہیں اوراس عہدکے تناظرمیں اس کی تفہیم واضح اندازمیں ہوجاتی ہے ۔ساٹھ کے بعد پاکستان کی سماجی وسیاسی صورت حال پرکوئی واضح کہانی تو نہیں ہے البتہ اس دورانیے کی تخلیقات میں علامتی وتجریدی طورپراس کے نشانات ضرورمل جائیں گے ۔منشایادکے وہ افسانے جوبھوک کی شدیدکیفیت کوبیان کرتے ہیں ہوسکتاہے وہ اسی عہدکانوحہ ہوں۔افسانہ’’راستے بندہیں‘‘میں کچھ اسی طرح کی کیفیت جھلکتی ہے ۔ایک شخص جو میلہ دیکھنے آیاہے لیکن اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے وہ حلوائی،سوڈا واٹر اورپھل فروش کی دکانوں کے سامنے جاکھڑاہوتاہے اوران تمام اشیاکوگھورگھورکردیکھتاہے ۔جب کوئی اس سے یہ سوال کرتاکہ جب تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں توتم کیوں میلہ دیکھنے چلے آئے توجواباً وہ کہتاہے :

’’میں میلے میں نہیں آیا……میلہ خود میرے چاروں طرف لگ گیاہے اورمیں اس میں گھرگیا ہوں۔میں نے باہرنکلنے کی کئی بارکوشش کی مگرمجھے راستہ سجھائی نہیں دیا‘‘۔(12)

وہ دوکانوں پرکھڑا ہوکرمحسوس کرناچاہتاہے اورخواہش کااظہاربھی کرتاہے کہ اسے مل جائے توبری طرح ان لذیذ کھانوں پر ٹوٹ پڑے گا۔اس کے دوسرے دوست بھی میلے میں موجود ہیں جو اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔علیانائی اپنے ساتھ استرابھی لایا ہے۔ اس کاجب دل چاہتاہے لوگوں کے بال کاٹتاہے اورجب پیسے اکٹھاہوجاتے ہیں توسنیما دیکھنے چلاجاتاہے ۔منشایادنے اسی طرح کے دوسرے افسانوں میں مفلسی ،غریبی اوربھوک کی جبلت پرلازوال افسانے لکھے ہیں۔

اس ضمن میں چوتھا اہم نام رشید امجد کاہے ۔انہوں نے ابتدائی دنوں میں اختر رشیدناز کے نام سے جاسو سی دنیاکی سیرکی ۔ جاسوسی ناول پڑھنا، ان کے تراجم کرنااوراسی طرزکی کہانیاں لکھنا ان کامحبوب مشغلہ تھا۔اعجازراہی کے ایما پر ادبی افسانے لکھنے کی ابتداکی ۔ ’’لیمپ پوسٹ‘‘کے ذریعے علامتی دنیامیں داخل ہوئے ۔ان کے افسانوں میں ایک جہان آبادہے جس سے فن کارخودنبردآزماہے ۔ ان کے کردارکچھ توایسے ہیں جوداخلی کرب کی نمائندگی کرتے ،کچھ خارجی دنیا کے اورکچھ ایسے بھی ہیں جن کی شناخت بہ مشکل ہی ہوسکتی ہے ۔تلاش وجستجوکایہ عمل ان کے افسانوں میں بکھرا پڑاہے ۔اپنے افسانوں سے متعلق رشیدامجدرقم طرازہیں:

’’میں عام شخص کے لیے نہیں لکھتا،میراقاری مجھے خودتلاش کرتاہے ،میری لذتوں میں وہی شریک ہوسکتاہے جومیرے تجربے کی اسراریت کومحسوس کرسکتاہے ،میں کہانی جوڑتا نہیں ،ٹکڑے اکٹھے نہیں کرتا۔کہانی ایک خیال کی طرح میرے ذہن میں آتی ہے اور تخلیقی عمل سے گزرکرایک وحدت کی طرح کاغذپربکھرجاتی ہے ‘‘۔(13)

فن کارکے اضطراب کومحسوس کرنے کے لیے قاری کوان کے کرداروں کے قالب میں ڈھلناہوگاتب کہیں جاکر افسانے کی اصل روح تک رسائی ہوسکے گی کیوںکہ ان کی اکثرکہانیاں علامتی اورتجریدی ہیں۔ان کے یہاں واقعہ سے زیادہ خیال اہم ہوتاہے ۔ کسی ایک خیال کوافسانہ بنانے کاہنر وہ خوب جانتے ہیں۔دریا،قبر،موت اورجنازہ وغیرہ وہ خاص علائم ہیں جوانہی کی اختراع کردہ ہیں ۔دریا بہتے ہوئے وقت کی علامت ہے توقبر،خوف ودہشت کی ۔یوں تو رشیدامجدکے درجنوں افسانے ایسے ہیں جن میں خیال کی ندرت ہے اوراسلوب شاعرانہ ۔لیکن یہاں فقط تین افسانوں کاحوالہ ضروری ہے تاکہ ان کے علائم ،اسلوب اوراندازِ بیان کی وضاحت ہوسکے ۔’’لیمپ پوسٹ ‘‘،’’ڈوبتی پہچان‘‘اور’’دشت امکاں‘‘ایسے افسانے ہیں جن کاذکرافسانوں کی مجلس میں ہوتا رہے گا۔

افسانہ ’’لیمپ پوسٹ‘‘کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ رشیدامجداسی کہانی کے ذریعے علامتی افسانے کی دنیامیںواردہوئے تھے۔’’لیمپ پوسٹ‘‘ جوروشنی کی علامت ،کہانی کے مرکزی کرداریعنی واحدمتکلم کااس سے رشتہ زندگی کاہے ۔راحت ،محبت اورزندہ رہنے والی مخلوق کی علامت ہے تو’’سیاہ کپڑا‘‘اس جبرکی جسے انسان خارجی دنیامیںمحسوس توکرتاہے لیکن اس کااثرداخلی ہوتاہے ۔کہانی کے کردار کوجب بھی اپنے نہ ہونے کااحساس ہوتاہے تب وہ لیمپ پوسٹ سے گھنٹوںباتیںکرتاہے اورمشکل اوقات میںغم ہلکاکرنے کے لیے آنسوبھی بہاتاہے لیکن جب ہیروکی حّس مرجاتی ہے تواس کااثرلیمپ پوسٹ پرہوتاہے بل کہ قصبے کے لوگ اسے لیمپ پوسٹ سے لپٹتے دیکھ کرکھڑے ہوجاتے ہیں تب اسے خفّت ہوتی ہے اوروہ حویلی میںداخل ہوجاتا ہے وہاںبھی منظربدلاہواہے۔چودھری صاحب اورراحت کے رویّے میںتبدیلی توآگئی ہے لیکن ان کی داخلی حس مرچکی ہے ۔

رشید امجدکاایک اہم افسانہ ’’ڈوبتی پہچان‘‘ہے ۔جس کی بنیادتشخص اورتجسس پرہے ۔کہانی کے ہیروکی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماںکی قبر پکّی کرائے لیکن خالی جیب اس خیال کوتھپتھپاکرآنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتی ہے ۔گھرکی دیوارپرآویزاں تصورکووہ کسی طرھ بیچنے میں کام یاب ہوجاتاہے اوراگلی ہی صبح وہ گورکن سے بات بھی کرآتاہے ۔گورکن اسے تسلی دیتاہے کہ اس کی ماں کی قبردھنسی نہیں ہے اورنہ ہی اس کے اندربوندبوندپانی رس رہاے پھربھی اس کے اطمینان کے لیے وہ یہ کہہ دیتاہے کہ بارش ختم ہونے کے ساتھ ہی اس کی مزیدمرمّت کردے گا۔ہیرو کاتجسس تاہنوز برقرارہے ۔اب وہ قبرپکی کرانے کی ٹھان لیتاہے اورجب اگلی صبح اگر بتیاں جلاکروہ دعامانگ کرواپس ہورہاہوتاہے تواس کے ذہن پریہ شک رینگنے لگتاہے کہ وہ قبراس کی ماںکی ہے بھی یانہیں۔اسی شک میں وہ پورے قبرستان کی قبریں پکی کرادیتاہے پھربھی اس کاشک جوں کاتوں برقرارہے ۔اب وہ شہرکی تمام قبروں کوپکی کرانے کی ٹھان لیتاہے ۔اب اس کے تجسس نے پرندے کے پروں کی طرح پھڑپھڑاناشروع کردیاہے اوریہ سوالیہ نشان قائم کرتاہے کہ کیامعلوم یہ وہ شہرہی نہ ہوجہاں اس کی ماں دفن ہے ۔

رشیدامجدنے جس عہدمیںافسانہ نویسی کی ابتداکی وہ عدم تشخص ،بے گانگی اورتہذیبی اقدارکے شکست وریخت کاتھا۔اسی لیے ان کے افسانوںمیںیہ علامت کثرت سے استعمال کیے گئے ہیں۔’’قبر‘‘ان کامحبوب استعارہ ہے جوانہی نکات کی طرف اشارہ کرتاہے ۔اعجازلکھتے ہیں:

’’ہمارے کہانی کارکو’’قبر‘‘بہ طورعلامت واستعارہ بہت محبوب ہے ۔معروف معنوں میں ’’قبر‘‘خوف ،دہشت اورفناکی علامت ہے لیکن ہمارے کہانی کارنے ’’بیزارآدم کے بیٹے ‘‘سے ’’ایک عام آدمی کے خواب‘‘تک کوعلامتی اوراستعاراتی سطح پرمعنی ومفاہیم کے جونئے پیراہن عطاکیے ہیںاس کی معمولی نظیربھی پوری اردوافسانوی روایت میں نہیںملتی ‘‘۔(14)

اس ضمن کاتیسراافسانہ ’’دشتِ امکاں‘‘ہے ۔اس افسانے میں ماں اپنے بیٹے سے ایک خواب کاذکرکرتی ہے ۔ماں کاکہنا ہے کہ اس نے ایک خواب دیکھاہے کہ اس گھرکے اندرکہیں خزانہ دفن ہے ۔شروع میں تو اس کی اولاد ،ماں کا مذاق اڑاتی ہے لیکن جب ماں بارباراصرارکرنے لگتی ہے توان کاشک بھی یقین میں بدل جاتا ہے۔ ماں مرنے سے ایک دن قبل اس خواب کاذکر شدت سے کرتی ہے تب سے اس کا بیٹا چھینی اورہتھوڑا لے اس کی تلاش بھی شروع کردیتا ہے اوراسے بھی اسی طرح خواب آنے لگتے ہیں لیکن خزانہ ا س کے ہاتھ نہیں لگتا ہے۔اکثروقت گزرتاجاتااورخزانے کے ذکرپرکئی کئی مہینوں کی دھول پڑجاتی ۔اب وہ ریٹائرہو چلا ہے کہ اس کا لڑکا  بھی ناشتے کے بعدیہ خیال ظاہرکرتا ہے کہ ’’ابّو!میرا خیال ہے اس گھرمیں کہیں خزانہ ہے‘‘۔تب وہ چونک پڑتاہے ا ورسوچتے ہوئے کہتا ہے کہ شاید وراثت میں خواب بھی منتقل ہوجاتے ہیں۔

اس افسانے میں’’خواب‘‘بہ طورعلامت استعمال ہواہے جو بہتے ہوئے وقت کی طرف دال ہے کہ زمانے اوراقداربھی وقت کے دریاکی طرح یوں بہتے چلے جاتے ہیں اور بنی نوع انسان اسے محسوس بھی کرتاہے اوربرف کی طرح اس کے احساسات سردپڑجا تے ہیں۔’’خواب‘‘کوعلامت بناکررشیدامجدنے قاری کونئی لذت سے آشناکرایاہے ۔

جدیدیت کو فروغ دینے میں جن فن کاروں نے زیادہ زور صرف کیا اور اپنے فن کاروں کو جدیدیت کے لیے وقف کیا ان میں احمد ہمیش کا نام اہمیت کا حامل ہے۔احمد ہمیش کا شمار انور سجاد،انتظار حسین اور دوسرے علامتی و تجریدی افسانہ نگاروں کی صف میں ہوتا ہے۔انہوں نے افسانوں کے علاوہ نظموں کے حوالے سے اپنی حیثیت منوائی اور ’’تشکیل‘‘جیسے موقر جریدے کو نکال کر اردو ادب کو اعتبار بخشا لیکن ان سب کے باوجود احمد ہمیش کا نام اردو ادب کی تاریخ میں کہیں گم ہو گیا۔ اردو ادب کے ناقدین نے ان کو اور ان کی خدمات کو فراموش کردیا۔لوگوں کو ان کے فن پارے میں خامیاں ہی خامیاں نظر آئیں یا انہوں نے ہر خوبی کو خامی کی عینک لگا کر پرکھا اور اس میں ذاتی عناد بھی شامل ہے جب کہ ان کے دونوں افسانوی مجموعوں ’’مکھی‘‘ اور ’’کہانی مجھے لکھتی ہے‘‘میں کئی افسانے ایسے ہیں جنہیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں جا سکتا۔

ساٹھ کے بعد پاکستانی افسانہ نگاروں نے مروّجہ اصول و ضوابط کی عمارت کو منہدم کیا اور ہیئت و فنی اصول کے خلاف شعوری طور پر بغاوت کا اعلان کیا۔اسی لیے جدید افسانہ نگاروں کے ہاں استعارہ سازی و علامت نگاری کا عمل نمایاں طور پر ملتا ہے۔پاکستان میں سماجی ،سیاسی،اقتصادی اور ثقافتی مسائل کا سب سے توانا اظہار ساٹھ اور ستّر کی دہائی میں ہوا۔ اس کے پسِ پشت وہ اسباب و عوامل کارفرما تھے جو وہاں کے سیاست دانوں نے پیدا کیے تھے۔ان دو عشروں میں پاکستانی معاشرہ زیادہ سنگین صورت حال سے دو چار تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دورانیے کے فن کاروں نے علامت و تجرید کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا ۔ستّر کی دہائی میں اپنی حیثیت منوالے والے فن کاروں میں اسد محمد خاں،مظہر الاسلام،احمد جاوید، مرزا حامد بیگ،احمد داؤد،اعجاز راہی وغیرہ کافی اہم ہیں۔پاکستان میں ساٹھ اور ستّر کی دہائی کو افسانے کا عہد زریں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

٭٭٭

 

 

حوالہ جات:

1۔رشید امجد۔پاکستانی افسانے کا سیاسی و فکری پس منظر۔مشمولہ’’شاعری کی سیاسی و فکری روایت‘‘۔دستاویز مطبوعات، لاہور۔1993ء صفحہ نمبر 41

2۔ احمد جاوید۔پاکستانی افسانہ۔مشمولہ’’پاکستان میں اردو ادب کے پچاس سال‘‘۔گندھارا پبلشرز،راولپنڈی 2005ء صفحہ نمبر 221

3۔مرزا حامد بیگ؍ احمد جاوید۔تیسری دنیا کا افسانہ۔خالدین،لاہور 1982ء صفحہ نمبر 54

4۔ نیر مسعود۔افسانے کی تلاش۔شہر زاد،کراچی 2011ء صفحہ نمبر 126

5۔انوار احمد۔اردو افسانہ:ایک صدی کا قصہ۔مقتدرہ قومی زبان،اسلام آباد 2007ء صفحہ نمبر 196

6۔انور سجاد۔مجموعہ انور سجاد۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور 2011ء صفحہ نمبر 5

7۔قاضی عابد۔اردو افسانہ اور اساطیر۔مجلس ترقی ادب،لاہور 2009ء صفحہ نمبر 205

8۔انور سجاد۔مجموعہ انور سجاد۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور 2011ء صفحہ نمبر 163

9۔طاہر مسعود۔یہ صورت گر کچھ خوابوں کے۔مکتبہ تخلیق ادب،کراچی 1985ء صفحہ نمبر318

10۔خالدہ حسین۔مجموعہ خالدہ حسین۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور 2008ء صفحہ نمبر 78

11۔اقبال آفاقی۔اردو افسانہ:فن،ہنر اور متنی تجزیے۔فکشن ہاؤس،لاہور 2012ء صفحہ نمبر 200

12۔اقبال آفاقی۔منشا یاد کے منتخب افسانے۔مثال پبلشرز،فیصل آباد 2009ء صفحہ نمبر 50

13۔رشید امجد۔’’میں کیوں لکھتا ہوں؟‘‘۔مشمولہ’’عام آدمی کے خواب‘‘(کلیات)۔پورب کادمی،اسلام آباد 2007ء صفحہ نمبر 14

14۔احمد اعجاز (مرتب)۔رشید امجد کے منتخب افسانے۔پورب اکادمی،اسلام آباد 2009ء صفحہ نمبر 14

٭٭٭

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

pakistan mein urdu afsanaادبی میراثافسانہپاکستان کے افسانےجدید افسانےجدیدیت
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
خالی فریم –  غضنفر علی

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

1 comment

FAISAL HASHMI نومبر 10, 2020 - 5:51 شام

ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں لکھے جانے والے افسانوں پر آپ کامضمون پڑھا۔اس میں ایک جگہ آپ نے لکھا ہے:
”ابوالفضل صدیقی کے سینئر افسانہ نگار سید رفیق حسین نے بھی تقریباً اسی موضوع پر افسانے لکھے ہیں اور دونوں کا زمانہ بھی تقریباً ایک ہی ہے۔ سید رفیق حسین کاتعارف کراتے ہوئے نیر مسعود رقم طراز ہیں: ’سید رفیق حسین کو اردو کا تقریباً امی افسانہ نگار سمجھا جاتا ہے جس کا اردو ادب کا مطالعہ صفر کے آس پاس تھا اور جس کو اردو لکھنا بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔‘ نیر مسعود کے قول میں کتنی صداقت ہے، یہ الگ مسئلہ ہے۔ فی الحال یہ بتانا ضروری ہے کہ رفیق حسین کاافسانوی مجموعہ ’آئینہ حیرت‘۔۔۔“
حوالہ کے طور پر آپ نے نیر مسعود کی کتاب ’افسانہ کی تلاش‘ کا نام درج کیا ہے۔ چونکہ میں نے یہ کتاب پڑھی ہے، جس میں سید رفیق حسین کے بارے میں نیر مسعود کے دو مضامین شامل ہیں، اسی لئے اس بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
آپ نے اپنے مضمون میں نیر مسعود کے پہلے مضمون کا پہلاجملہ نقل کیا ہے(جو میں نے اوپر درج کیا ہے)۔ اور آپ یہ فرما رہے ہیں کہ سید رفیق حسین کے متعلق ان کی رائے سے آپ کو اختلاف ہے۔ حالانکہ اس جملہ میں نیر مسعود نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ لوگوں کے تاثر کو بیان کر رہے ہیں جس کواور باتوں کے علاوہ خود سید رفیق حسین کے بیانات نے تقویت دی تھی۔ نیر مسعود نے تو پورا مضمون اسی تاثر کی تردید میں لکھا ہے۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں