غزل ایک ہردل عزیز صنف سخن ہے۔اس کی ہر دل عزیزی نے ہی اسے اوج ثریا سے ہم کنار کیاہے۔ اگرچہ وہ ایک عہد کی مطعون صنف بھی رہی ہے اور نثر کے مقابلے میں قلت الفاظ کی متقاضی بھی۔اس کے باوجود اس نے اپنے وسیع تر خصوصیات اور وساطت سخن سے سارے عیوب والزام دھو ڈالے۔یہ صحیح ہے کہ غزل کاتعین قدراس کے مواد کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ موضوع کی بنیادپر،بلکہ اس میں ہیئت کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔ چونکہ غزل کا انحصار ایک مخصوص ہیئت پرہوتا ہے۔ اس لیے اس میں ہیئت کی بالادستی ہردورمیں تسلیم کی گئی ہے، جس کی وجہ سے غزل میں کسی بھی خاص ذہن وفکر کے رویے کے رچاؤ کاامکان نہیں رہتا،جب کہ دوسری اصنافِ سخن میں یہ امکان برقرار رہتاہے۔ دراصل غزل تاحال اپنے فنی برتاؤ کے اعتبار سے ایک ہی نظام ہیئت کے تحت برتی جارہی ہے،مگریہ ضرور ہے کہ غزل کے تہذیبی و ثقافتی منظرنامے میں ایک ایسی وحدت کارفرماہے، جوذہن و فکر کو ایک ہی مرکز پر مرکوزرکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزل میں جغرافیائی حوالہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا، جس کی بنیاد پر ہم کسی بھی فکر اور موضوعات کے تنوع کوکسی علاقے یا سرحد سے جوڑکر نہیں دیکھ سکتے۔ چونکہ غزل پوری دنیا میں کہی جارہی ہے۔ اگر ہم دنیا کے کسی بھی خطے کاجائزہ لیں گے توہمیں اس اعتبار سے کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوگا،اگرہوگا بھی توصرف، احساس اظہار،خیال اور اسلوب وبیان کا، اس سے زیادہ غزل میں سرحد کے مخل ہونے کی شاید کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سرحدوں کے اعتبار کوختم کرنے کے بعد ایک بڑا مسئلہ علاقائیت کاآتاہے جوکسی نہ کسی حد تک کارفرما رہتاہے۔کیوں کہ وہ لوگ جوگاؤں، دیہاتوں، قصبات اور چھوٹے شہروں اور صوبوں میں رہ کر فن کو اپنا خون جگر پلارہے ہیں انھیں ان کا معاوضہ کماحقہ اس طور نہیں مل پاتاکہ وہ مرکز یابڑے شہروں میں قیام پذیر شخص کی طرح شہرت پاسکے اور نہ انھیں وہ مقام ومرتبہ ہی میسر آ پاتا ہے جو ان کاحق ہے۔ دراصل یہ کلونیل(Colonial)عہد کا عذاب ہے۔ اس میں شاعر کی صلاحیت، فن اور تخلیقیت کاکوئی دخل نہیں ہے۔
طارق متین صوبہ بہار کاہنرمند، باصلاحیت اورفن کارانہ صلاحیت سے پُر ایسا شاعر ہے، جس میں بے پناہ تخلیقی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں، جس کی شاعری میں لسانیاتی اوراسلوبیات کی سطح پر حیرت انگیز امکانات موجود ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک دنیاخلق کی ہے، جس میں وہ مجذوبانہ طورپر زندگی بسرکررہے ہیں۔
طارق متین کی شاعری کاسفر تین دہائی پرمحیط ہے، اس پورے سفر میں انھوںنے شاعری کوبطور فن ایک چیلنج کی صورت میں اختیار کیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1980ء کے بعد کے شعرا میں ان کانام نمایاں طورپر لیا جاتاہے۔ مجھے طارق متین کے سوانحی حالات کاعلم نہیں۔ اس لیے میں اس کی تفصیل میں جانے کے بجائے صرف اس سے بحث کروں گا کہ ان کی شاعری میں یہ رنگ اورآہنگ کس طرح اورکیوں کرآب دار ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے انھیں ’حاشیائی شاعر‘سے تعبیر کیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں رسالہ ’شاہراہ‘ کا ناولٹ نمبر- ڈاکٹر نوشاد منظر )
80کے بعد کے شعری منظرنامے میں طارق متین کی شاعری کے امتیازات روشن اور نمایاں ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جوان کی شاعری کو انفرادیت سے ہم کنار کرتاہے۔ مگرافسوس صرف اس بات پرہے کہ اتنے باوصف شاعرکو حاشیائی بستی کاہونے کی وجہ سے اس کی تخلیقی خدمات کا اب تک اعتراف کماحقہ نہ ہوسکا۔ اس میں جہاں ادبی گروہ بندی کا دخل ہے وہیں اس میں ان کی بے نیازی بھی شامل ہے۔ طارق متین کی پوری شاعری کامطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کی تخلیقی بصیرت اور عصری آگ وآگہی معراج کمال تک پہنچی ہوئی ہے اور ان کی اَنتھک ریاضت نے شعری منظرنامے کو انفرادیت عطاکی ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے یہ احساس اُبھرتا ہے کہ اجتماعی لاشعورکا وہ احساس اور آہنگ جو اب ناپیدی کی ڈگر پرگامزن ہے،جس سے انسانی مستقبل مربوط ہے وہ طارق متین کے یہاں ابھی باقی ہے اور یہ بڑی بات ہے۔ داخلی اورخارجی جذبۂ واحساس اورتخلیقی وژن اتناواضح ،خدااورانسان سے اتنامربوط ہے کہ فکری رویے کی جڑتک پہنچنا آسان ہوجاتاہے۔
ضروری ہے چراغوں کی حفاظت
نہ رکھیے سامنے پاگل ہوا کی
٭
ہر ایک دل ہے فسردہ ،ہر ایک چہرہ اداس
جلا سکو تو جلاؤ شگفتگی کے چراغ
٭
میرے تاریک مکاں میں وہ مرا رب کریم
روزنِ تابش خورشید و قمر کھولتا ہے
٭
زندگی جیسی بھی گذاری غم نہیں طارقؔ مگر
اپنے بچوں کے لیے اک گھر بنا نا چاہیے
٭
ترا ہی آسرا کافی ہے میرے ربِ کریم
مری جبینِ وفا تیری بارگاہ میں ہے
٭
بجھتے بجھتے بجھ گیا طارقؔ چراغ آرزو
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سا نحہ میرے لیے
٭
یہ فکر و آگہی کے سارے سرچشمے اسی کے ہیں
عنایت ہے کہ مجھ کو اپنا محرم کردیا اس نے
٭
یوں ہی نہیں ملا مجھے طارقؔ یہ امتیاز
یہ فن شعر گوئی ریاضت سے آیا ہے
آٹھویں دہائی کے آواخر میں غزل کے اسلوب اورفکری رویے میں جس تیزی سے تبدیلی واقع ہوئی ہے،اس سے عمررسیدہ شعرابھی متاثر ہوئے بغیرنہ رہے۔ خداکی ذات وصفات، وجودکائنات کااعتراف ایک بڑی حقیقت ہے ،جسے عرصے سے جھٹلایا جاتا رہا تھا،اب قبول کیاجانے لگا ہے ۔یہ امتیاز آٹھویں دہائی کا ہے جسے جدیدغزل کے متوازن اسلوب و رویے کا نام دیاجاتاہے۔
دراصل طارق متین غزل کے رمزشناس ہیں۔انھوں نے اپنے فکر و خیال کو کسی بھی رجحان کے زیراثرلاکر مجروح ہونے سے بچائے رکھا ہے۔ انھوںنے اپنی شاعری کا علاقہ غزل کے اس داخلی تصوروخیال سے استوارکیاہے،جو اس کی روح قرار دی جاتی ہے۔ یہی جذبہ و خیال کبھی خارج سے داخل کی سمت سفر کرتاہے۔ انفرادی شاعری کا امتیازی وصف یہی ہے کہ اس میں شاعر اپنے تجربات ومشاہدات،خیالات وافکار کے ساتھ عصری حسیت اور آگہی، عرفانِ ذات وکائنات کاادراک بھی ہو۔ اسی ادراک نے طارق متین کو فنی اظہار کے لیے مہمیز کیاہے:
عذاب جاں کا سفر اتنا جان لیوا تھا
میں ایک پل کی خوشی کو ترس گیا یارو!
٭
بہاریں آئیں گی پھر سے کھلیں گے پھول یہاں
کہ دشت کے تونہیں گلستاں کے ہم بھی ہیں
٭
ہے مری روح میرے جسم میں بے چین بہت
کوئی صورت ہو کہ آسودئہ بستر ہو جاؤں
٭
زندہ رہنا ہے تو کچھ ایسا کرو طارق ؔکہ تم
داستاں در داستاں در داستاں زندہ رہو
٭
سب دوریاں طے ہوگئیں گھر ہی نہیں آیا
کیا کہیے کہ انجام سفر ہی نہیں آیا
٭
بے گھری اپنا مقدر بن گئی طارق متینؔ
ہم نے اپنے کارواں کوجب سے ہجرت پر رکھا
٭
اک نئی صبح کی امید لیے
ہم چراغوں کے ساتھ جلتے ہیں
٭
خود کو سمیٹنے کے جتن تو کیے بہت
پر یوں ہوا کہ اور بھی ٹوٹے بکھر گئے
طارق متین کی شاعری میں روانی، سوز،گداز اور کرب کے نئے احساس سے عبارت ہے۔ لفظیات کی سطح پرانھوں نے کوئی چونکا دینے والا کارنامہ نہیں انجام دیا ہے مگرکہیں کہیں اسلوب اورلہجے کی سطح پر بے ساختگی ضرور ملتی ہے۔ جہاں اظہار بیانیہ ہے،وہاں روانی قابل داد ہے۔ پوری شاعری الجھاؤ، پیچیدگی اور تشکیک سے پاک ہے۔ بیان عام فہم اور سادہ ہونے کے ساتھ ہی اصلاحی پہلو سے مملو ہے۔
طارق متین کی شاعری کے دوحصے ہیں ایک حصہ درد سے عبارت ہے اور دوسرادر سے عبارت ہے۔ درد،خلق خدا کا، بے ثباتی دنیا، نارسائی، لب کشائی احساس، یاری اورمہجوری کادرد ہے،جوحیات بے ثبات کومزیدبے ثباتی سے ہم آغوش کرتی جاتی ہے۔ دوسرا حصہ در کا ہے۔ یہ درد اور در معنویت اورادراک فہم کے کمال کے نتیجہ میں شاعر کو حاصل ہواہے جو انمول گنجینہ اور سرمایۂ حیات کی صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں اسلوبیاتی پہلوکافی ابھراہوا بلکہ نمایاں ہے۔ ان کے یہاں امکانات کی دنیا کافی کشادہ اور وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر کا حس بیدار اورجمال بے داغ ہے، جس کے نتیجے میں وہ محسوسات اور جذبوں کے عمل سے گزر کر اپنی شاعری کوذوق اورفن کا بہترین نمونہ بنانے میں کامیاب ہے۔
کہاں لے آ ئی ہیں یہ مصلحت اندیشیا ں ہم کو
زباں پر مہر ہے قا تل کو قاتل کہہ نہیں سکتے
٭
اب نہ جینے کی تمنا ہے نہ مرنے کا ملال
سا نس با قی ہے سو کچھ اور جیے لیتے ہیں
٭
یہ عیش کی دنیا ہو مبارک تمھیں طارقؔ
ہر چیز ہے آسودگیِ غم تو نہیں ہے
٭
کچھ بھی نہیں ملا مجھے اس درد کے سوا
کیا کیجیے کہ وقت کے محو ر میں کچھ نہیں
٭
یہی مو قع ہے چلو حد سے گذر جانے کا
راستہ کوئی نہیں لوٹ کے گھر جانے کا
٭
عذاب جھیلتے رہتے ہیں زندگی کا مگر
یہ حوصلہ ہے کہ ہم مسکراتے جا تے ہیں
٭
جانے کس کام کے ہیں کیا ہے ہمارا مصرف
ہم کسی گھر کے لیے ہیں نہ سفر کے لیے
٭
مدتوں خود کو جلایا کڑی دھوپ میں جب
ایک دیوار ملی تھو ڑا سا سایہ ہوا ہے
طارق متین کی شاعری احساس کی شاعری ہے، ان کامطالعہ وسیع ہے،جہاں وہ مذہب سے قریب نظر آتے ہیں،وہیں سیاست و قیادت بھی ان کی رگ وپے میں سرایت ہے۔ ان کالہجہ توانا اور مضبوط ہے۔ اپنے احساس کے اظہار میں وہ سیاسی، مذہبی اور سماجی ہرطرح کے غورو فکر کووسیلہ بناتے ہیں۔ ان کے لہجے کا زیروبم،لفظوں کا دروبسط، تخیل کا تسلسل اورفکری عمق آئینۂ حساس کو مزید بیدار کردیتاہے۔ ادراکی داعیہ ایک المیے کی صورت میں ابھرتاہے۔ غموں سے ٹوٹ کر بکھرنا ان کی شاعری میں کارِثواب ہے اورجہانِ درد کو ڈھونڈے پھرنا ذکاوتِ سخن ہے۔ جذبوں کے سہارے شاعری کے سفر کوآگے بڑھائے رکھنے کا جو عزم و حوصلہ طارق متین نے کیاہے، وہ ہم عصر شعری منظرنامے میں مفقود نظر آتاہے۔ پوری شاعری میں انھوں نے لفظوں کے انضمام اور تسلسل بیان کاجوتاروپود بُناہے وہ صرف ان کاہی کمال ہے۔
ان کے یہاں غم والم اور دکھ دردجاں گُسل نہیں ہوتے بلکہ ان سے زندگی کا ذوق حاصل ہوتاہے اورایک نئے جذبے اور جوش جنوں کی کیفیت نمودہوتی ہے۔
ان کے یہاں لفظوں کاوافرذخیرہ تونہیں مگر برتنے کے جدلیاتی اندازِ فکر نے اس کی تلافی کردی ہے۔ان کی شاعری میں جن الفاظ کو احساس کازیور عطاکیاگیاہے اور زیورِفکر وخیال سے آراستہ کرکے شاعری کی مرکزیت حاصل ہوتی ہے ان میں ہجر، وصال، تنہائی، محبت، شب ہجر، سفینہ، دشت، صحرا، جنوں، چراغ، عشق، دیوار ودر، ساحل، سمندر، رات، تاریکی، مقدر، محرومی، فلک، شیشۂ بدن، چراغِ سخن، غزال ختن، رفتگاں، دشت ِ بیکراں، رنج وغم، محو خواب،ظلمت شب، نالۂ دل وغیرہ۔
طارق متین کی شاعری کادوسر اخوش آئند پہلو علویت کلام اوربلند آہنگی ہے، جو حسی اظہار کے پہلو کوحزنیہ رنگ میں رنگ جانے سے محفوظ رکھتا ہے۔یہ کمال کسی غیبی قوت کے ادراک سے ہی ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کا رنگ وآہنگ کہیں کہیں مجذوبانہ ہوگیاہے۔ بہرطور جب کسی شاعری میں اظہار کے پہلو کوادراک سے ملتبس کردیاجائے تو وہ شاعری معنوی اعتبار سے اچھی تصور کی جاتی ہے اور طارق متین کے مجموعہ ’غزال درد‘ میں یہ احساس ہمیں باربار ہوا ہے۔ ساتھ ہی شعری رویہ کی صلابت ان کے پختہ کارہونے پردلالت کرتی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

