بہت نازک سا اک پودا تھا گندم
خدا نے جس کو کھا لینے سے
آدم خاکی کو جنت سے نکالا تھا
بڑی شرمندگی کے ساتھ آدم دشت دنیا میں
حیا سے اپنے جسم بے ردا کو ڈھانپتے گزرے
زمیں پر ان کی آمد سے بھی جانے کتنے دن پہلے
خدا کے دست قدرت سے سجی دنیا
بنی آدم کے بھوکے پیٹ بھرنے کے لیے
بساط کاشت پر گندم اگاۓ ہنس رہی تھی۔۔۔!!
بنی آدم کا خالی پیٹ…… اسی گندم کی روٹی
عطاۓ حسن رزاقی سمجھ کر کھا رہا ہے!
تشکر سے نگاہیں جھک رہی ہیں..!!
مگر کس پل بنی آدم کے دل میں یہ خیال آیا
کہ یہ گندم کی روٹی۔۔۔۔ ہمارے پیٹ میں جا کر
دوبارہ ایک پودے کی شکل میں جڑ پکڑتی ہے
شاخیں جسم میں رگوں کی صورت پھیل جاتی ہیں
اور وہ گندمی خوشے نکیلے
ہماری روح میں نیزے چبھوتے
ہماری موت تک ہم میں ہی پلتے ہیں۔۔۔!!
فیضان الحق

