خوشۂ گندم کے نیزے – فیضان الحق

by adbimiras
0 comment

بہت نازک سا اک پودا تھا گندم
خدا نے جس کو کھا لینے سے
آدم خاکی کو جنت سے نکالا تھا
بڑی شرمندگی کے ساتھ آدم دشت دنیا میں
حیا سے اپنے جسم بے ردا کو ڈھانپتے گزرے
زمیں پر ان کی آمد سے بھی جانے کتنے دن پہلے
خدا کے دست قدرت سے سجی دنیا
بنی آدم کے بھوکے پیٹ بھرنے کے لیے
بساط کاشت پر گندم اگاۓ ہنس رہی تھی۔۔۔!!
بنی آدم کا خالی پیٹ…… اسی گندم کی روٹی
عطاۓ حسن رزاقی سمجھ کر کھا رہا ہے!
تشکر سے نگاہیں جھک رہی ہیں..!!
مگر کس پل بنی آدم کے دل میں یہ خیال آیا
کہ یہ گندم کی روٹی۔۔۔۔ ہمارے پیٹ میں جا کر
دوبارہ ایک پودے کی شکل میں جڑ پکڑتی ہے
شاخیں جسم میں رگوں کی صورت پھیل جاتی ہیں
اور وہ گندمی خوشے نکیلے
ہماری روح میں نیزے چبھوتے
ہماری موت تک ہم میں ہی پلتے ہیں۔۔۔!!

فیضان الحق

You may also like

Leave a Comment