بڑے معصوم، خلوص و محبت نچھاور کرنے والے ،نورانی چہرے اور ہلکے پھلکے جسم و جثے والے ، سید جمال احسن گیلانی بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
وہ علامہ سید مناظر احسن گیلانی کے رازدار اور منجھلے بھائی سید مکارم احسن گیلانی کےمنجھلے صاحبزادے تھے۔وہ انگلش سےایم اے تھے ۔ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے رہے اور سبکدوشی کے بعد کلہڑیا کامپلکس نزد گاندھی میدان پٹنہ میں مستقل سکونت پذیر ہو گئے تھے ۔ ان کے بڑے بھائی جناب سید صلاح الدین احسن گیلانی علامہ سید مناظر احسن گیلانی کی اکلوتی صاحبزادی محترمہ زرینہ سے منسوب تھے۔ جمال گیلانی مرحوم کو اپنے بڑےا با علامہ گیلانی سے بڑا لگاؤ تھا، گو کہ وہ علمی آدمی نہیں تھے تاہم وسعت بھر علامہ کی علمی وراثت کو سجونے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہتے اور اگر کوئی اس سلسلے میں پیش رفت کرتا تو اس میں بھی دلچسپی لیتے اور چیزوں کو دیکھ کر خوش بھی ہوتے اور دعائیں بھی دیتے۔
پہلی بار غالباًان کا نام محترم سید مشہود صاحب (خدا بخش لائبریری، پٹنہ) یا لائبریری ہی کے کسی اور صاحب منصب سے سنا ۔ یہ اس وقت کی بات جب میری کتاب مناظر ِ گیلانی (2007) نئی نئی چھپ کے منظر عام پر آئی تھی۔جیسا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ پٹنہ کے میرے رفیق محترم مولانا سعید احمد کریمی کے توسط سے میری کتاب ان تک پہنچی اور اسی بہانے ان سے باضابطہ بات ملاقات کا سلسلہ جاری ہوا، ان سے فون سے بھی رابطہ رہتا ۔میں جب بھی پٹنہ حاضر ہوتا تو کوشش یہ ہوتی کہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی جمال گیلانی صاحب کی خدمت میں حاضری دوں۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوتی تو بڑی گرم جوشی سے ملتے اور دیر تک باتیں ہوتیں ،بطور خاص علامہ گیلانی کے بارے میں ۔ یوں تو مناظر گیلانی شائع ہوگئی تھی تاہم میرا عزم یہ تھا کہ علامہ کا اور بھی کلام ہاتھ آجائے تو دوسرا ایڈیشن لے آؤں ۔ جمال گیلانی مرحوم نے اس سلسلے میں بھی بڑا تعاون فرمایا اورکئی نظمیں عطا کیں جو دوسرے ایڈیشن میں شامل ہیں۔ بہت سی گھریلو باتیں خاص طور پر خاندان سے متعلق چیزوں کا علم ان ہی کی زبانی معلوم ہوئیں۔ایک دفعہ میں نے انھیں ذاتی نوعیت کے کچھ سوالات تیار کرکے دیے ،انھوں نے بڑی محنت سے اس کا جواب تحریر فرما کر مجھے جے این یو (دہلی) بھیجا لیکن افسوس کہ لفافہ ملا لیکن وہ مراسلاتی انٹرویو ندارد ۔اور طرہ یہ ہوا کہ وہ سولات محفوظ بھی نہ رکھ سکا جب کہ میرا معمول ہے کہ میں اپنی چھوٹی سے چھوٹی تحریر کی نقل رکھنے کا اہتمام کرتا ہوں اور یہ میں نے ڈاکٹر وارث مظہری قاسمی سے سیکھا۔ (یہ بھی پڑھیں سلطنت ادب کا سلیمان :سید سلیمان ندوی – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی )
اسی طرح سےایک بار میں نے جمال گیلانی صاحب سے علامہ کے فوٹو کے بارے میں استفسار کیا تو انھوں نے اثبات میں جواب دیا تاہم اسے دینے میں انھیں تامل تھا ۔جب میں نے اصرار کیا تو علامہ کا فوٹو اس شرط کے ساتھ عطا کیا کہ اسے عام نہ کیجیے گا ۔ میں نے اس وقت تک یہ وعدہ نبھایا جب تک ڈاکٹر اعجاز علی ارشد کی کتاب بہار کی بہار (دوم) منظر عام پر نہ آگئی ۔ اس لیے کہ پہلی بار اس کتاب کے سرورق پر علامہ گیلانی کی تصویر چھپی تھی اور یہ وہی تصویر تھی جس کی ایک کاپی مجھے بھی دی گئی ۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ میرے بڑے بزگ کہا کرتے تھے کہ جس نے علامہ گیلانی کو نہیں دیکھا وہ تمہیں دیکھ لیں۔
گزشتہ دسمبر 2018میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹدیز (IOS)نئی دہلی کے زیر اہتمام علامہ سید مناظر احسن گیلانی کی حیات و خدمات پر ایک دوروزہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی ، میں بھی مدعو تھا ، اس کے افتتاحی اجلاس میں جمال احسن گیلانی مرحوم بھی تشریف لائے تھے اور اپنی مترنم آواز میں علامہ گیلانی کی مشہور زمانہ نعت پاک پیارے محمد جگ کے سجن ۔۔۔سنائی تھی اور سامعین کو کیف و سرور بخشا تھا۔
اس دوران وہ کئی بار زبردست بیمار بھی پڑے لیکن ہر بار صحت و شفا پاکر اپنے معمول پر گامزن ہوجاتے ۔تقریباً پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے ان سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا ، موبائل بھی بند بند رہتا ، بڑی تشویش ہوتی کہ نہ معلوم وہ کس حال میں ہیں ۔کئی بار ان سے ملاقات کی خواہش ہوتی اور یوں بھی اس میں شدت پیدا ہورہی تھی کہ میری کتاب مناظر گیلانی کا دوسرا ایڈیشن بازار میں آگیا تھا اور اس کی ایک کاپی ان کے لیے محفوظ تھی ،پٹنہ حاضری کی کوشش کرتا لیکن کوئی سبیل نہیں نکل پارہی تھی۔ بالآخر گزشتہ 8فروری 2021کو کتاب لے کر بھائی عبد الماجد (سبزی باغ)کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا، یقین جانیے ان کی حالت دیکھ کر دل رو اٹھا اوربے ساختہ دل سے یہ آواز نکلی کہ الہی! ان کے ساتھ عافیت کا معاملہ فرما۔بڑی کسمپرسی کی کیفیت سے وہ دوچار تھے ، ذہن و دماغ بھی ان کا ماؤف ہوچکا تھا ، وہ مجھے پہچان نہیں پائے ، کچھ دیر ان کی بےترتیب باتیں سن کر ہم ان سے رخصت ہوگئے ، لیکن کافی دیر تک ان کی پچھلی مجلسیں ذہن میں گھومتی رہیں ۔ان سے میری یہ آخری ملاقات تھی ۔
اللہ ان کی سیئات کو حسنات سے مبدل فرما اورانھیں کروٹ کروٹ جنت عطا فرما۔
ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی
RLSY. College Bettiah, W.Champaran
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

