Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقیدنصابی مواد

کلیم الدین احمد:ایک مثالی نقاد – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras مئی 10, 2021
by adbimiras مئی 10, 2021 2 comments

اردو تنقید کی تاریخ میں حالی نے مغرب سے استفادہ کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا لیکن کلیم الدین احمد کی تنقید سے پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ مغرب میں تنقید کا کیا مذاق ہے۔ تخلیقات کو ادبی اصولوں کی بنیاد پر توجہ کی نظر سے دیکھنا اور ادب کے عالمی سرمایے کے آئنے میں ان کا جائزہ لینا کلیم الدین احمد کا اصل کارنامہ ہے۔ اپنے تنقیدی فیصلوں میں انھوں نے روایتی وضع داری نبھانے کے بجائے حقیقت پسندانہ بے باکی کامظاہرہ کیا اردو تنقید کے لیے یہ چونکانے والی بات تھی۔ خاص طور پر مسلمہ شخصیات اوراصناف کی تاریخ پرگفتگو کرتے ہوئے کلیم الدین احمد کے سخت اورشدّت کے ساتھ بیان کیے گئے، جملوں سے اردو کے ایوان تنقید میں ہنگامہ برپا ہوا۔ اختلافات کے باوجودکلیم الدین احمدکے ادبی رایوںکے خلوص ،سچائی اور ذہانت کوماناگیا۔ اوراسی لیے اردوتنقید میں انھیں ممتازمقام عطاکیاگیا۔

کلیم الدین احمد کی تعلیم مغرب کی مشہور یونیورسیٹی کیمبرج میں ہوئی۔ انگریزی کے معروف اوراہم ناقد ایف ۔آر۔لیوس کے وہ شاگردِخاص تھے۔ انھوں نے لیوس کی نگرانی میں ہی ٹرائی پوس کیا۔ مغربی ادب کے بہترین تنقیدی سرمایے کا گہرامطالعہ اورممتازاسکالرکی نگرانی میں تربیت کلیم الدین احمدکی تنقیدی شخصیت کی تشکیل میں نشان ِراہ رہے۔ اسی وجہ سے کلیم الدین احمد پر مغرب زدگی اور مرعوبیت کے اعتراضات کیے گئے۔ لیکن ہمیں معلوم ہے کہ وہ مشرقی شعر و ادب پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے۔ داستانوں سے لے کر اردو کی روایتی اصناف کا وہ جس گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس مشرق ومغرب دونوں دھاروں کے علوم کا ذخیرہ موجود ہے۔

کلیم الدین احمد کی تنقیدی زندگی کا آغاز ’’گل نغمہ‘‘ کے پیش لفظ سے ہوتا ہے۔ جب وہ پہلی بار غزل کو ’’نیم وحشی صنف شاعری‘‘ کہتے ہیں۔ اس جملے کا ردعمل ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے ’’اردو میں تنقید کا وجود محض فرضی ہے‘‘ کہہ کر ایک دوسرا ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ نظیر اکبر آبادی کو اردو کے شعری آسمان کا جب کلیم الدین احمد نے ’’درخشندہ ستارہ‘‘ قرار دیا تب بھی اردو کے ادبی حلقے میں کافی لے دے ہوئی۔ ’’اقبالؔ کا عالمی ادب میں کوئی مقام نہیں‘‘ اور ’’میر انیس ایک معمولی صنعت گر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ ان جیسی کئی اور ادبی رایوں پر اردو میں اب بھی چہ می گوئیاں جاری ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اب یہ کہنے والا کوئی نہیں ہے کہ کلیم الدین احمد نے صرف چونکا نے کے لیے یہ باتیں کہی تھیں۔ کلیم الدین احمد کی تنقیدی تحریروں کو گہری سنجیدگی سے پڑھاجاتا ہے اور ان کی کتابوں اور نظریات سے روشنی لے کر تنقید کی کئی نسلیں سامنے آچکی ہیں۔

ترقی پسند ادب کے دور عروج میں کلیم الدین احمد نے ہم عصر شعراء اور ناقدین کی شہرت سے متاثر ہوئے بغیر ابتدائی دور میں بھی اپنے تنقیدی فیصلے کیے۔ فیضؔ کی شاعرانہ اہمیت کا اقرار اور دوسرے کئی ترقی پسند شعراء کی بے جا اہمیت کے خلاف کلیم الدین کی راے اب عام طور پر مان لی گئی ہے۔ ترقی پسند تحریک اور اس کی اشتعال انگیزی کے بارے میں کلیم الدین احمد کے تنقیدی فیصلے صحیح ثابت ہوئے اور بعد کے دور میں ترقی پسند ادیبوں کے درمیان توازن اور احتیاط کی جھلک دکھائی دی، اس کے پیچھے کلیم الدین احمد کی سخت تنقیدوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ بعض ناقدین یہ مانتے ہیں کہ اردو ادب پر ترقی پسندوں کے غیر ادبی معیاروں کے حملوں کا تنہا مقابلہ کلیم الدین احمد نے اپنی تنقید ات سے کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔ ترقی پسندوں کا طوفان بالآخر  تھم گیا اور اس میں توازن پیدا ہوا۔

کلیم الدین احمد کی شہرت اولاََ ان کی بے باکی کی وجہ سے ہوئی۔ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۲ء کے دوران ’’گل نغمہ‘‘ ،’’اردو شاعری پر ایک نظر‘‘ ، ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ اور ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ جیسی کتابیں مختصر وقفے سے منظر عام پر آئیں۔ ادب کی تنقید میں شاید ہی یہ کبھی ممکن ہوا ہوگا کہ تمام اہل قلم ایک نوجوان لکھنے والے کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ کلیم الدین احمد کی عمر ۳۲، ۳۳ سال تھی۔ لیکن اردو کے بڑے لکھنے والوں، شاعروں، ادیبوں کی تحریروں پر ان کے بے لاگ اور سخت ترین اعتراضات اور پھر ان پر چھڑی بحث کی وجہ سے کلیم الدین احمد اپنی ابتدائی تحریروں کی ہی بدولت اردو تنقید کے مرکزی اسٹیج پر متمکن ہوگئے۔

اردو تنقید ابھی گومگو کا شکار تھی اور روایتی محبت داریوں کے ساتھ یہ مان لیا گیا تھا کہ ’’خطاے بزرگاں‘‘ کا اظہار مناسب نہیں لیکن کلیم الدین احمد نے اپنی ناقدانہ راے کے اظہار میں۔ جس کی بنیاد دلیل اور تجزیوں پر تھی، میں کوئی رعایت نہیں برتی۔ غالبؔ ، میرؔ، اقبالؔ، انیسؔ اور دوسرے بڑے شاعروں کے بارے میں تجزیہ کر کے انھوں نے بتایا کہ ان کی خامیاں کیا ہیں۔ اہم اضاف سخن اور بالخصوص غزل کے بارے میں وضاحت کے ساتھ اپنی تنقیدی راے رکھی۔ ’’میری تنقید ایک بازدید ‘‘ میں پھر سے دہرایا کہ غزل کے تعلق سے میری پرانی راے اب بھی قائم ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کلیم الدین احمد نے گول مٹول اور ’’ہاں بھی‘‘، ’’نہیں بھی‘‘ انداز کو نہیں اپنا کر اردو تنقید میں فیصلہ کن رجحان کو فروغ دیا۔

کلیم الدین احمد اردو کے پہلے ناقد ہیں جنھوں نے اپنی تنقید کو بھرپور مثالوں سے آراستہ کیا۔ اکثر نقاد کچھ اصولی نکتے طے کر کے اپنی بات کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیتے ہیں۔ عام طور سے ایسی تنقید اصل تخلیق سے بے نیاز اور الگ تھلگ رہتی ہے اور تنقید نگار کی راے دلیلوں کی کمی کی وجہ سے اکثر بے اعتبار ہو کر رہ جاتی ہے۔ کلیم الدین احمد نے پہلے دن سے ہی کہ کوشش کی جس تخلیق کو نشانۂ نقد بنانا ہے اس کے مکمل متن پر ان کی پوری گرفت ہو اور کسی نتیجے تک پہنچنے میں وہ تفصیل سے نبرد آزما رہیں۔ کبھی کبھی کلیم الدین احمد کی کتابوں میں مثالوں کی یلغار سے قارئین ہر اساں ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسی تنقید کا فائدہ یہ ہے کہ پڑھنے والے کے لیے یہ بھی موقع ہوتا ہے کہ ناقد کی راے کا خود بھی مثالوں کی مدد سے محاسبہ کرتا چلے۔ اسی وجہ سے کلیم الدین احمد کو اپنی تنقیدی رایوں میں وقت کے بدلنے کے ساتھ نہ کسی انقلابی تبدیلی کی ضرورت پڑی اور نہ ہی پڑھنے والوں کو ان کے اندازِ تنقید کو سمجھنے کے لیے تربیت چاہیے تھی۔ (یہ بھی پڑھیں وہاب اشرفی  بہ نام  کلیم الدین احمد – ڈاکٹر صفدرامام قادری )

کلیم الدین احمد نے حالیؔ پر لکھتے ہوئے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ کی نثر کی تعریف کی ہے۔ تنقیدی نثر کیسی ہو اور تخلیق کے سنجیدہ مطالعے میں کیسے اس کااستعمال ہو، اس موضوع پر انھوں نے بار بار اپنی راے کا اظہار کیا ہے۔ آل احمد سرور اور فراقؔ گورکھپوری یا محمد حسن عسکری کی زبان کو تنقید کے لیے نامناسب قرار دینا بھی یہ بتاتا ہے کہ کلیم الدین احمد اردو تنقید میں کس زبان کے خواہاں تھے انھوں نے اپنی نثر بالکل سادہ لکھی ہے، عام بول چال کی زبان کو اہمیت دی۔ آرائش اور سجاوٹ کے لیے الگ سے کوشش نہیں کی۔ جملوں کو مختصر بنایا اور بولنے کی رفتار میں تیزی لائی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس شخص پر وہ لکھ رہے ہیں اس کے ساتھ محوِ کلام بھی ہیں۔ تنقیدی نثر کی یہ سادگی کلیم الدین احمد کی کتابوں کے پڑھنے والوں کی تعداد بہت آسانی سے بڑھا ئی گئی۔ ان کے ہم عصروں میں شاید ہی کسی ناقد کی مکمل کتابیں اس سہولت اور مستعدی سے پڑھی گئی ہوں گی۔

تنقید کی بنیاد اصول پر ہونی چاہیے اور ناقد کے لیے یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنی تنقید کا اصولی چوکھٹا تیار کرلے پھر اس میں تخلیق کے مشتملات داخل کر کے طے کردے کہ کیا ٹھیک اور کیا غلط ہے۔ چوکھٹا تیار کرنا اگر اصولی تنقید ہے تو تخلیق کے متن کی خوبیوں اور خامیوں کی جانچ عملی تنقید ہے۔ اکثر ناقدین ان میں سے کسی ایک شعبہ کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن کلیم الدین احمد ابتدائی زمانے سے ہی اصولی اور عملی تنقید کے درمیان ایک نقطۂ اتصال تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ سب سے پہلے شعر و ادب کو جانچنے کے لیے کچھ اصولی نکات قائم کرتے ہیں اور اسی آئینے میں اپنا تنقیدی دائرئہ کار مخصوص کرتے ہیں۔ پھر تخلیق سے ضروری مثالیں اخذ کر کے بہ تفصیل جانچ پر کھ کرتے ہیں۔ تنقید کے اسی اسلوب کے وہ قائل بھی ہیں۔ احتشام حسین کی تنقید کو وہ اس لیے مناسب نہیں سمجھتے کہ وہ (احتشام حسین) اصول سازی کا کام جس مستعدی سے کرتے ہیں اسی تنومندی کے ساتھ تخلیقات کے جسم و جان میں اترنے کی کوشش نہیں کرتے نتیجے کے طور پر تخلیقات کی قدر شناسی کا کام آدھا ادھورا رہ جاتا ہے۔

کسی ناقد کا یہ اولین فریضہ ہے کہ اپنی زبان کے بنیادی سوالات پر غور و فکر کرے اور جو مسائل لوگوں کو الجھا رہے ہوں، انھیں سمجھنے سمجھانے میں مدد کرے۔ اس طور پر حالیؔ کے بعد کلیم الدین احمد پہلے ناقد ہیں جنھوں نے شعر و ادب کے بنیادی سوالات پر غور و فکر کرنے کی کوشش کی۔ الفاظ اور شاعری، اسلوب اور موضوع، ادب براے ادب، ادب براے زندگی، ادب اور اخلاق، ادب اور قومی زندگی، ادب اور سماج، ادب اور فرد کی زندگی، جیسے پریشان کن سوالات پر بار بار غور کرنے کے بعد کلیم الدین احمد نے اپنے نتائج سے ہمیں آگاہ کیا۔ یہ صحیح ہے کہ ان میں سے بیشتر سوالات پر اتفاق راے شاید ہی ممکن ہو لیکن کلیم الدین احمد نے اپنے خیالات کی وضاحت سے کبھی گریزنہیں کیا۔

کلیم الدین احمد نے اپنے ابتدائی دور سے ہی یہ کوشش کی کہ اردو ادب کے تمام سرمایے کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ تنقید، شاعری اور داستان تین اصناف پر ان کی جو کتابیں آئیں، وہ اب بھی موضوع کا کلی محاکمہ کرنے کی وجہ سے اہمیت کی حامل ہیں۔ عملی تنقید کے اصول اور طریقۂ کار کو بنیاد بنا کر انھوں نے ایک مکمل کتاب ’’عملی تنقید‘‘ کے عنوان سے لکھ دی۔ اردو کے دو اہم شعرا اقبالؔ اور میر انیسؔ کے ادبی سرمایے کا الگ الگ جلدوں میں جائزہ لے کر انھوں نے اپنی راے ظاہر کی شاد عظیم آبادی جیسے شعراء کے دوادین مرتب کر کے ان کا تنقیدی جائزہ لیا۔ شورش، عشق اور علی ابراہیم خاں خلیلؔ کے گمشدہ تذکروں کو اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ تین جلدوں میں اپنی خود نوشت لکھی اور اپنی ادبی شخصیت کے فروغ کے اسباب اور محرکات روشن کیے۔ قدیم مغربی تنقید اور ادبی تنقید کے اصول جیسی کتابیں پیش کرنے کے بعد آخری زمانے میں اپنی تنقیدی زندگی کا ’’ میری تنقید ایک بازدید‘‘ میں محاکمہ بھی کردیا۔

تنقید کے لیے ایک مکمل شخصیت میں کیا ہونا چاہیے؟ کلیم الدین احمد کے تنقیدی کارناموں کا جائزہ ہمیں حیرت زدہ کردیتا ہے کہ کسی ایک شخص نے کیسے منظم طریقے سے اتنا سب کام کر لیا ہوگا۔ یہی نہیں انھوں نے اپنی کتابوں کی ہر نئی اشاعت میں ردوبدل اور ترمیم و اضافہ بھی کیا۔ نتیجے کے طور پر ’’اردوشاعری پرایک نظر‘‘ کی پہلی اشاعت اور ان کی زندگی میں آخری اشاعت کی ضخامت پرغورکریں توپتہ چلے گاکہ یہ کتاب دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی۔ کلیم الدین احمد تازہ اطلاعات اور اس دوران ابھرنے والے تخلیق کاروں اور ناقدین کی تازہ اورپرانی نگارشات کاجائزہ بھی لیتے چلتے ہیں۔ مثال کے طور پر’’اردو تنقید پرایک نظر‘‘ کی جب پہلی باراشاعت ہوئی تو اس وقت شمس الرحمن فاروقی کی عمر ۷ برس کی تھی۔ لیکن ۱۹۸۳ میں اپنی موت سے پہلے کلیم الدین احمد نے اس کتاب پرجب آخری بارترمیم واضافہ کیاتو شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کے لیئے چالس صفحات وقف کیے گئے۔ اسی طرح آل احمد سرور کی بعد کی تحریروں کاالگ سے جائزہ لیتے ہوئے پرانے اعتراضات واپس لیے گئے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ کلیم الدین اپنے خیالات اوراپنی تحریروں کووقت کے بدلتے ہوئے آیئنے میں رکھ کر دیکھنے کے قائل تھے اورخودکواپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے۔ کلیم الدین احمد کے اس ہنر کو ان کے ہم عصر ناقدین نے کبھی بھی نہیں اپنایا۔ اور’ مستندہے میرا فرامایا ہوا‘پر قائم رہے۔

اردو تنقید کی تاریخ میں ہمیں کوئی ایسی دوسری شخصیت نہیں ملتی جس کے تنقیدی کارناموں کی دنیا اتنی وسیع ہو۔ قدیم یونانی تنقید سے لے کر تذکروں تک اور پھرجدیدیت کے علم بردار شمس الرحمن فاروقی تک ! شاعری میں میرؔ وسوداؔ سے لے کرعلی سردارجعفری اور فیض تک ’’نوطرزمرصّع‘‘ سے لے کر’’طلسم ہوش ربا‘‘ اور’’بوستان خیال‘‘ تک ! تمام پہلوئوں پرکلیم الدین احمد کی گہری نظرہے۔ چینی اورجاپانی ادب، تنقید کی بھول بھلیاں، شاعروں کی نوک جھونک جیسے موضوعات پرکلیم الدین احمد کے علاوہ شاید ہی کوئی لکھنے والا ملے۔

کلیم الدین احمد تنقید میں ایک ایساسائنٹفک اسلوب استعمال میں لائے جسے بعد کے ناقدین اپنے لئے رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ آج کے زمانے کے سب سے ممتاز نقادشمس الرحمن فاروقی کے اندازنقد پرکلیم الدین احمد کی واضح پرچھائیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج کے ناقدین میں جدید اور یوروپی علوم کے ساتھ روایتی مطالعات کاجوشغف دکھائی دیتا ہے، وہ بھی کلیم الدین احمد کی پیروی میں ہے۔ اردو تنقید کی تاریخ حالی کے بعد کسی بھرے پرے اور مکمل ناقدکی تلاش میں بڑھے گی تواسے  کلیم الدین احمد تک جانا ہوگا۔ کلیم الدین احمد کایہی تاریخی کارنامہ ہے۔

DR SAFDAR IMAM QUADRI

Head, Department of Urdu,

College of Commerce, Arts & Science, Patna-20, Bihar

202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath, Patna-800006

Mob.: 094304-66321, Email: safdarimamquadri@gmail.com

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
kaleemuddin ahmadsafdar imam quadriصفدر امام قادریکلیم الدین احمد
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے – محمد اکرام
اگلی پوسٹ
ما بعد نو آبا دیات :حدود ، تعارف ،اہمیت – امبرین کوثر

یہ بھی پڑھیں

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

2 comments

خواجہ بندہ نواز سے منسوب دکنی رسائل: ایک مطالعہ - ڈاکٹر صفدر امام قادری - Adbi Miras مئی 19, 2021 - 9:58 صبح

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
خطباتِ شبلی کی دانش ورانہ جہت - ڈاکٹر صفدر امام قادری - Adbi Miras مئی 25, 2021 - 11:38 صبح

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں