Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
سماجی اور سیاسی مضامین

اسرائیل سے ہندوستانی مسلمان کیا سیکھ سکتے ہیں؟ – محمد علم اللہ

by adbimiras مئی 24, 2021
by adbimiras مئی 24, 2021 0 comment

اس وقت فلسطین پر اسرائیلی مظالم سے امت مسلمہ دل گرفتہ ہے۔ حالیہ عشرے میں جس انداز میں صیہونی فوج نے لگاتار ظلم و جبر کی کاررائیاں کی ہیں اور جس انداز میں بچوں، خواتین و عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس سے پورا عالم انسانیت حیران و پریشان ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کو اسرائیلی و مغربی میڈیا سند جوازِ عطا کرنے کی مذموم کوششوں میں بھی مصروف ہے۔

فلسطین سے متعلق خبروں پر اسرائیل اور خصوصاً مغربی میڈیا جس قسم کا رویہ اپنا رہا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ چند ویب سائٹ جنہیں برطانیہ، ترکی، ایران، ہندوستان، پاکستان یا دوسری جگہوں پر مقیم کچھ فلسطینی نوجوان چلا رہے ہیں کو چھوڑ دیں تو جس انداز سے ان کی خبریں میڈیا میں آنی چاہئے نہیں آ رہی ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود اور نہایت نامساعد حالات میں میڈیا کے میدان میں ان کی اپنی سی سعی کو سلام پیش کرنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس نہ تو کوئی بڑا بین الاقوامی سطح کا اخبار ہے، نہ کوئی ویب سائٹ یا ٹیلی ویژن چینل۔ اس کے برعکس اسرائیل کی سینکڑوں ویب سائٹ، اخبار اور ٹیلی ویژن چینل ہیں جو فلسطین پر اسرائیل کی ظالمانہ کارروائی کو حقِ دفاع کہہ رہے ہیں اور مظلوم و نہتے فلسطینیوں کو، جو اپنے ملک سے اسرائیلی قبضے کو ہٹانے اور اپنی زمین کے تحفظ کیلئے بے سرو سامانی کے باوجود کوشش کر رہے ہیں، انھیں دہشت گرد اور ظالم و جابر ثابت کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔

اسرائیل عالمی سطح کے میڈیا پر اپنی گرفت قائم کرنے میں صد فیصد کامیاب ہے، لہٰذا اس کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ اسرائیل اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو چکا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے، اس سلسلے میں فلسطینی بھی کم کوشش نہیں کر رہے ہیں، اور یہ ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں انھوں نے میڈیا پر کام شروع کیا اور ہمیں کچھ چیزیں دیکھنے کو مل بھی رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کے مقابلے میں ان کی یہ کوششیں بہرحال ناکافی ہیں۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ میڈیا مینیجمنٹ کے توسط سے ہی اسرائیل کئی مرتبہ ایڈوکیسی اور سفارت کاری میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے اور خود کو اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ لوگ بہت آسانی سے اس کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں ، جبکہ فلسطین سمیت پوری اسلامی دنیا اپنے موقف کو اس انداز میں پیش نہیں کر پاتی۔خود ہندوستان کے مسلمان بھی اردو اخبارات میں اپنا ڈھول پیٹ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ان کا کام ہو گیا۔ اسی وجہ سے ان کے بہت سے تعمیری اور رفاہی کاموں سے بھی لوگ لاعلم رہتے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں فلسطین اسرائیل مسئلہ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی متعصبانہ روش – محمد علم اللہ)

عرصہ قبل معروف امریکی سیاہ فام مسلم قائد میلکم ایکس [ 1925-1964] نے ایک بات کہی تھی:

"میڈیا زمین کا سب سے طاقتور وجود ہے۔ ان [یہود و نصاریٰ]کے پاس طاقت ہے کہ وہ بے قصوروں کو مجرم بنائیں اور مجرموں کو بے قصور ثابت کریں، ان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے وہ عوام کے ذہنوں کو قابو میں رکھتے ہیں”۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی جو صورتحال ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ آئے دن جو ظلم و زیادتی، قتل و غارت گری اور ناانصافی والا رویہ ان کے ساتھ اپنایا جاتا ہے، اس کی رپورٹنگ قومی سطح کے میڈیا میں کس انداز سے ہو رہی ہے، حقائق کی پردہ پوشی کس انداز میں کی جا رہی ہے، تعصب و تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحافتی اخلاقیات کی مٹی کیسے پلید کی جا رہی ہے، یہ تمام باتیں ہم سب کے سامنے ہیں۔

میڈیا کی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ بالعموم جو رویہ پورے ملک میں حالیہ دنوں میں روا رکھا گیا ہے، اور جس کا تسلسل اب بھی جاری ہے، اسے دیکھتے ہوئے صرف یہ کہہ کر بات ختم نہیں کی جا سکتی کہ ہندوستان کا قومی میڈیا نہایت بے ایمان ہو چکا ہے، بلکہ اس حقیقت کا اظہاربھی لازم ہے کہ یہاں بھی میڈیا بہت سے معاملوں میں ‘مسلم دشمنی’ پر آمادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات بعض مسائل کے بیان کے بہانے مین اسٹریم میڈیا ایسے معاملوں کی یک رخی تصویر پیش کرتے ہوئے قارئین و ناظرین کو گمراہ کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

اس بابت چند ایک اردو اخبارات کو اگر چھوڑ دیں تو صحافتی میدان میں ابلاغ و ترسیل کا پورا نظام اسی طرح ملک کی سب سے بڑی اکثریت کے خلاف کام کر رہا ہے، جس طرح فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جانب سے جاری ظالمانہ کارروائیوں کو ‘حق دفاع’ کا گمراہ کن جواز فراہم کرایا جاتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر مثبت معاملوں میں قومی میڈیا میں ان کی چند سطری خبر بھی نہیں بن پاتی، جبکہ منفی معاملوں میں صفحات کے صفحات سیاہ کرنے والی حکمت عملی پروان چڑھائی جاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے پاس نہ کوئی قومی سطح کا اخبار ہے، نہ بہت بڑا کوئی نیوز پورٹل۔

سوچنے والی بات ہے کہ۔۔۔ کیا ہم ہندوستانی مسلمان اسرائیل سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

ہندوستان میں مسلمانوں سے متعلق صرف گذشتہ چار پانچ سالوں میں رونما ہونے والے لنچنگ کے معاملوں کا حساب کیجیے، سی اے اے و این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاج کی رپورٹنگ کو سمجھیں، کورونا کے معاملہ میں تبلیغی جماعت کو ٹارگیٹ کرنے اور اس سے وابستہ افرادکی جگہ جگہ ہونے والی پٹائی کے واقعات کی خبروں کا تجزیہ کریں یا پھر، آسام، میرٹھ، ملیانہ، بھاگلپور، مظفر نگر اور حالیہ دہلی فسادات میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کے جانی و مالی نقصانات کی ہی بات کریں تو حقیقی سچائی سے اقوام عالم کو باخبرکرنے میں ہم بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد عرب ممالک میں آباد ہے، اسی طرح برطانیہ، امریکہ، جرمنی، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بر سر روزگار افراد کی تعداد بھی کم نہیں ہے لیکن ان کی جانب سے بھی اس حوالہ سے کام شاذ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

جہاں تک ہماری ملی تنظیموں کی بات ہے، جن سے کچھ امیدیں تھیں؛ لیکن ان کی ترجیحات میں بھی میڈیا دکھائی نہیں دیتا۔ جو چند ادارے یا تنظیمیں میڈیا کی بانسری بجاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں یا اپنے پاس میڈیا ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، ان کے یہاں پروفیشنلزم اور معیار کا اس قدر فقدان ہے کہ اسے کسی کیٹیگری میں رکھا ہی نہیں جا سکتا۔

کسی دورمیں اردو اخبارات کے صفحات ‘ملی صحافت’ کے لیے وقف ہوا کرتے تھے، اب اردو اخبارات کے گرتے ہوئے معیار کا نتیجہ یہ ہے کہ یہی صفحات چند ایک ملی شخصیتوں کی شخصیت سازی کے کام آ رہے ہیں۔ چند کو چھوڑ کر ان کے ادارتی صفحات پر آپ کو مدارس کے نئے مگر باصلاحیت اور کچھ کرنے کی خواہش رکھنے والے نوجوان طبع آزمائی کرتے نظر آئیں گے۔ مگران بیچاروں کا نہ تو اتنا تجربہ ہوتا ہے، نہ مطالعہ اور نہ صحافتی تربیت۔ ان حالات میں جیسے مضامین وہ لکھتے ہیں، ان کا پست معیار سب کے سامنے ہے۔ (پروفیسر رضوان قیصر : جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا – محمد علم اللہ )

خبروں کے معاملے میں اردو اخبارات کی رپورٹنگ بھی مایوس کن ثابت ہو رہی ہے یا پھر وہ دوسروں کے چبائے ہوئے نوالے اگلتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ اردو اخبارات ‘جذباتی صحافت’ کے ذریعہ ملت کے غم خوار بننے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن ان کے یہاں معروضی صحافت پوری طرح غائب ہے۔ بہ حیثیت عمومی خبروں اور رپورٹنگ کی جانب تو ان اخبارات کی کوئی توجہ ہے ہی نہیں۔

ملی صحافت کا جو کردار کسی دور میں اردو اخبارات ادا کیا کرتے تھے، وہ اب مسلمانوں کے انگریزی ویب پورٹلز نبھا رہے ہیں جن میں مسلم مرر اور کلیریئن انڈیا وغیرہ ہیں۔ دونوں پورٹلز سخت مشکلات کا شکار ہیں یہاں تک کہ پچھلے دنوں کلیریئن نے تو ایک واٹس ایپ گروپ پر مدد کی عام اپیل تک کر ڈالی اور بتایا کہ کئی ماہ سے وہ اپنے عملے کو تنخواہ بھی ادا نہیں کر پائے ہیں۔ ہمارے کئی اخبارات اور نیوز پورٹلز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ اب ملت کو غورکرنا پڑے گا کہ وہ ایسے پورٹلز کو بچانا چاہتے ہیں یا اسے بھی بند ہونے پر مجبورکر دیا جائے گا۔

فی الحال ہندوستان میں مسلمانوں کی جو صورتحال ہے، اس سے مستقبل قریب میں اس بات کا امکان نظر نہیں آتا کہ یہاں کے مسلمان کوئی مضبوط میڈیا قائم کر سکیں گے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو مسلمانوں میں اس کا مناسب و متناسب شعور نہیں ہے، دوم اگر کچھ لوگ اپنا میڈیا قائم کر بھی لیتے ہیں تو انہیں مستقل کریک ڈاؤن کیے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم کچھ سیکولر کہے جانے والے طبقوں کی جانب سے کچھ میڈیا ہاوسز؛ این ڈی ٹی وی، کونٹ، دی وائر، پرنٹ وغیرہ پر حکومت کی م جانب سے ان کی مستقل گرفت، کئی مقامات پر صحافیوں پر حملے اور مختلف الزامات لگا کر انھیں جیل بھیجنے جیسے واقعات ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں مسلمان کیا کریں؟ کیا ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہیں یا پھر کسی غیبی مدد کا انتظار کریں؟

مجھ سمیت اس میدان سے وابستہ دیگر صحافیوں و قلمکاروں کے ذہنوں میں جو چند لائحہ عمل واضح ہوئے ہیں اور جن پر مناسب عمل آوری کی جا سکتی ہے وہ سلسلہ وار کچھ یوں ہیں:

سب سے پہلے تو کمیونٹی کی جانب سے جو بھی اخبارات، نیوز پورٹل یا چھوٹے موٹے چینلس وغیرہ چل رہے ہیں ان کا تعاون کیا جائے۔ یہ تعاون جائز دولت (وہائٹ منی) کے علاوہ مسلم تجارتی ادارے اپنی سی ایس آر کی رقم دے کر بھی ایسے میڈیا اداروں کو مضبوط کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہمارے میڈیا ہاوسیز کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اداروں میں پروفیشنلز افراد کو ہائر کرنے کی کوشش کریں اور محض کام چلاؤ رویے سے اجتناب کریں۔

دوسرا کام یہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے جو لوگ بیرون ملک میں رہ رہے ہیں وہ اپنے دیگر کاموں میں سے تھوڑا وقت نکال کر مسلم مسائل پر توجہ دیں۔ اس سلسلے میں لندن میں مقیم محمد غزالی خان نے بڑا اچھا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ‘اردو میڈیا مانیٹر’ کے نام سے انھوں نے ایک انگریزی پورٹل بنایا اور اردو میں شائع اقلیتوں کی بہت سی خبریں انھوں نے انگریزی میں منتقل کرکے ایک بڑے طبقے کو ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل اور پریشانیوں سے واقف کرایا۔ اس طرز پر دیگر زبانوں مثلاً عربی، ترکی،جرمنی، فرانسیسی وغیرہ میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ مدارس سے فارغ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد عرب ممالک میں مقیم ہے۔ بہت سے بڑے مدارس کے فارغ التحصیل علماء کی باضابطہ انجمنیں ہیں جو کئی امور میں اچھا کام کر رہی ہیں۔ چند احباب مل کر اگر اس جانب توجہ دیں تو عربی میں کئی عمدہ ویب پورٹلس جاری کئے جا سکتے ہیں۔

تیسرا کام جو ہماری بڑی تنظیمیں اور این جی اوز وغیرہ کر سکتی ہیں، وہ یہ کہ ہندوستان کے بڑے میڈیا اداروں سے ٹائی اپ کرکے میڈیا میں ان سے اسپیس خریدیں اور مسلم مسائل سے متعلق خبروں کی اشاعت کیلئے ان سے درخواست کریں۔

چوتھا ہماری تنظیمیں اور ادارے کچھ سینئر اور اچھے صحافیوں کو، جن میں سلجھے ہوئے غیرمسلم افراد بھی ہو سکتے ہیں، کو وظیفہ دیں اور ان سے کہیں کہ وہ مسلم مسائل سے متعلق بھی کالم لکھیں۔ ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویہ اور سرکاری و غیر سرکاری بھید بھاؤ کو بےنقاب کریں۔

پانچواں یہ ادارے مسلم مسائل سے متعلق متعدد موضوعات پر صحافیوں سے سناپسس (خاکہ) طلب کریں اور اس کی روشنی میں ہر ریاست سے جتنی استطاعت ہو صحافیوں کو ایک متعینہ رقم دے کر ان موضوعات پر ‘ریسرچ ورک’ کرائیں، اس کی اشاعت کا انتظام کریں اور بڑے پیمانے پر پوری دنیا میں اس کو پھیلائیں۔ اس سلسلے میں ‘نیشنل فاؤنڈیشن فار انڈیا’ کے ماڈل سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ‘چرخہ ڈیولپمینٹ کمیونکیشن نیٹ ورک’ کی کوششیں بھی ہمارے کام آ سکتی ہیں جو شہری آبادی سے دور دیہی علاقوں میں رہنے والے صحافیوں میں سماجی ایشوزکی سمجھ پیدا کرتے ہیں اور اس کی رپورٹنگ کیلئے انہیں ایوارڈ دیتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ ملیہ اسلامیہ،رِیل اورپرانے کیمرے کی کہانی – محمد علم اللہ)

چھٹا کام یہ کیا جا سکتا ہے کہ مختلف اخبارات میں مسلمانوں پر نا انصافی، ظلم و زیادتی اور بے جا سختیوں وغیرہ کی جو خبریں چھپتی ہیں، ان کو بہتر اور مناسب طریقہ سے جمع (compile) کیا جائے اور پابندی کے ساتھ دنیا بھر کے سفارت خانوں، تھنک ٹینکس، تنظیموں، قائدین، دانشوروں، علماء اور ریسرچ اسکالر وغیرہ تک پہنچایا جائے۔

ساتواں کام جو بہت آسان ہے وہ یہ کہ ہمارے نوجوان دوسرے مین اسٹریم میڈیا میں شائع خبروں کا لنک، ویڈیو کا لنک اور تراشے وغیرہ پر چھوٹے موٹے تبصرے یا اسی میں سے چند فقرے لے کر سوشل میڈیا میں وائرل کریں، سوشل میڈیا چلانا سیکھیں، کیسے ٹیگ کیا جاتا ہے، کیسے ہیش ٹیگ چلایا جاتا ہے، کیسے کسی مسئلے کو ٹرینڈ کرایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کچھ لوگ اچھا کام کر رہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں، اس معاملے میں مسلم نوجوانوں کو مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔

آٹھواں کام یہ ہے کہ میڈیا کے تئیں عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کی جائے، پڑھنے لکھنے اور حالات حاضرہ کو سمجھنے کا رجحان پیدا کیا جائے۔ مدارس میں بھی اس جانب توجہ دی جائے۔ ہمارے ملی قائدین اور سربراہان بھی اس جانب دلچسپی لیں، اپنے حجروں اور محفلوں سے نکل کر سوشل میڈیا اور اس قسم کے دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک جڑنے کی کوشش کریں اور صرف اپنا رونا رونے کے بجائے دیگر استحصال زدہ قوموں اور افراد کے خلاف بھی آواز اٹھائیں ؎ ، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں ، ساتھ ہی ساتھ اسلام کیا ہے ، مسلمان ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، ان تمام باتوں سے انھیں واقف کرائیں ۔ تبلیغی جماعت کی طرح اپنے ہی لوگوں کو محض اپنا ہم خیال بنانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ دیگر مذاہب اور افکار سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اپنا ہم نوا بنانے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ کئی مرتبہ ہم سوشل ورک بھی محض اپنے ہی لوگوں کے درمیان کرتے ہیں جس سے دیگر پچھڑے اور پسماندہ طبقات کے درمیان حسد اور جلن کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، ایسا نہ ہونے پائے اس جانب بھی دھیان دینا ہوگا۔

نواں کام میڈیا میں جو لوگ پہلے سے کام کر رہے ہیں، ان کی ہمت افزائی کی جائے، آپ کے مسائل کی ترجمانی کرنے والے افراد کی تالیف قلب کے لئے ان کا تعاون کیا جائے ، کسی وجہ سے اگر وہ حکومت یا ایجنسیوں کے عتاب کا شکار بنتے ہیں تو ان کی اخلاقی، قانونی اور مالی مدد کی جائے۔

دسواں کام یہ تنظیمیں اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ ہمارے پاس ایسے ادارے اور افراد ہوں جو ان میدانوں میں کام کرنے والے افراد کو بین الاقوامی قانون اور جدید ٹرمنا لوجی کو جانیں اور اسے سمجھانے کا ملکہ رکھتے ہوں کہ جدید سائنٹفک اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیسے کام کیا جائے جس سے آپ کا پیش کردہ مواد انسانی نفسیات پر اثر انداز ہو سکے۔

اوپر جن نکات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں بہت گنجائش ہے۔ عام افراد سے لے کر ملی اور ادارہ جاتی سطح تک ہر فرد اپنی اپنی سطح اور لیاقت سے اپنی راہ منتخب کرسکتاہے۔یاد رکھیں میڈیا کو سستے جذبات کی بجائے سائنسی اصولوں کے مطابق استعمال کیا جائے تو ہی اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس میں سمجھ بوجھ اور منظم لائحہ عمل اور منصوبہ بندی سے ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے کہ دنیا میں اثر انداز ہونے کایہ سب سے بڑا ٹول ہے۔

صہیونیوں نے نازیوں سے ایک چیز سیکھی تھی اور وہ تھی پروپیگنڈے سے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کا گر۔ انہوں نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور پروپیگنڈے کے ذریعے ہی یہودیوں کے قتل عام پر اپنے شہریوں کو قائل کیا اور اپنے مقاصد کے حصول کیلئے عالمی رائے عامہ پر توجہ دی۔ کیا ہم ایسا کرنے کیلئے تیار ہیں؟ یقین کرنا چاہیے کہ ابھی بھی کافی وقت ہے۔ اگر ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی تو ہمارا حال بھی روہنگیا اور فلسطین جیسا ہوگا جس کے مدھم آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ اگر اس پر پل باندھنے کیلئے ابھی سے ہم نے کچھ نہیں کیا تو عین موقع پر مگرمچھ کے آنسو بہانے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

 

٭مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں ۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
علم اللہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مسیحا کیوں نہیں آتا !! – عمیر محمد خان
اگلی پوسٹ
یہ تنگ زمین- ترنم ریاض

یہ بھی پڑھیں

تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش...

جولائی 16, 2026

صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:...

جون 1, 2025

لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –...

دسمبر 4, 2024

معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد...

نومبر 30, 2024

دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –...

نومبر 30, 2024

باکو میں موسمیاتی ایجنڈے کا تماشا – مظہر...

نومبر 24, 2024

سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور مدارس اسلامیہ...

نومبر 8, 2024

مسلمانوں کے خلاف منفی رویہ: اسباب اور حل...

اکتوبر 3, 2024

وقف کی موجودہ صورت حال اور ہندوستانی حکومت...

اکتوبر 1, 2024

مدارس اسلامیہ کا خود کفیل ہونا مفید یا...

جولائی 31, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (601)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (144)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,139)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (900)
    • خصوصی مضامین (127)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں