Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras جولائی 7, 2021
by adbimiras جولائی 7, 2021 0 comment

آثار الصنادید/ سرسید احمد خان- ڈاکٹریوسف رامپوری

 

سرسید احمد خاں کی شخصیت مختلف جہات میں پھیلی ہوئی ہے ۔ وہ بیک وقت مفکر، مصلح، ادیب، انشاء پرداز ،مورخ، مصنف اور معلم تھے۔ ان کے کارہائے نمایاں سے ان کے عہد کے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچا اور آنے والی نسلیں بھی ان کے روشن کردہ علم کے چراغ سے فیضیاب ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔سرسید احمد خاں نے عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لیے جن وسائل وذرائع کا بھرپور استعمال کیا ، ان میں ایک وسیلہ ’قلم‘ کا ہے۔قلم کے ذریعے انھوں نے اپنے پیغامات وافکار کو دورتک پہنچایا۔سماجی، اخلاقی ،علمی اور ادبی مضامین لکھے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے توسط سے انھوں نے زبان کی اصلاح کابھی فریضہ انجام دیاکہ اردو زبان شستہ وشائستہ ، آسان اور عام فہم ہوجائے۔سرسید احمد خاں کے قلم سے کئی اہم کتابیں بھی نکلیں جن میں ’آثار الصنادید‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔’آثار الصنادید‘ کئی صدیوں پر محیط دہلی کے آثارِ قدیمہ کا احاطہ کرتی ہے جس کے تحت ان عمارتوں کی تفصیلات مہیاکی گئی ہیں جن کو مختلف ادوار میں سلاطین وامرا نے تعمیر کرایا تھا اور جو فن تعمیر کا عمدہ نمونہ قرار پائیں۔ایسے ہی دہلی کی کئی اہم شخصیات کا تذکرہ بھی اس کتاب میں موجود ہے۔کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اسے استناد اور معتبریت کا درجہ حاصل ہوا ،اور اسے دہلی کے آثارِ قدیمہ کے حوالے سے نہایت مستند ماخذ خیال کیاگیا۔اسی لیے اس کی مقبولیت آج تک برقرار ہے ۔

’آثار الصنادید‘ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران مختلف اداروں اور مکتبوں سے بار باراس کے اڈیشن شائع ہوتے رہے ہیں۔ اس کتاب کاپہلا اڈیشن 1854میں شائع ہوا تھا، تازہ ترین اڈیشن (2020میں) قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نے چھاپا ہے۔مجموعی طورپر اس کے چھ اڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

آثارالصنادید کاتازہ ترین اورپیش نظر اڈیشن معروف ادیب ومصنف خلیق انجم کا ترتیب شدہ ہے۔یہ اڈیشن سابقہ اڈیشنوں کے مقابلے میں اس لیے اہم ہے کہ اس میں مرتب نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سرسید احمد خاں کے زمانے میں جو عمارتیں موجود تھیں اور جن کا انھوں نے اس کتاب میں تذکرہ کیا ہے ،ان میں سے کون کون سی عمارتیں معدوم ہوچکی ہیں اورکون کون سی عمارتیں ہنوز صفحہ ہستی پر موجود ہیں ، اور اب وہ کس حالت میں ہیں؟اس اڈیشن میں مرتب نے حواشی اور مآخذ کے عنوان کے تحت آثار قدیمہ کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔مرتب نے کتاب میں شامل عمارتوں کی تصویروں کے حوالے سے بہت عرق ریزی سے کام لیا ہے جس کے سبب کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔اس تعلق سے مرتب کا بیان ملاحظہ فرمائیں:

’’ میں نے بہت سی عمارتوں کی تصویریں خود لی ہیں جو اس اڈیشن میں شامل کی جارہی ہیں۔ان تصویروں سے عمارتوں کی موجودہ حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔چوتھے اڈیشن کے لیے البتہ کچھ تصویریں بعض جدید کتابوں سے بھی لی گئی ہیں۔سرسید نے ’ آثار الصنادید‘ کے پہلے اڈیشن میں اپنے مآخذ کے حوالے نہیں دیے تھے۔دوسرے اڈیشن میں متن کے حاشیے پر حوالے دیے گئے ہیں۔زیر نظر اڈیشن کے آخر میں جن حواشی کے آگے قوسین میں’سید احمد‘ لکھا گیا ہے، یہ وہ حواشی ہیں جو سرسید نے لکھے تھے۔سرسید نے کہیں کہیں کتبوں کے حوالے بھی دیے ہیں۔ یہ کتبے زیر نظر اڈیشن میں شامل کردیے گئے ہیں۔‘‘(آثار الصنادید، ص 12، از سرسید احمدخاں، مرتب خلیق انجم ، اشاعت2020)

اس اقتباس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ مرتب نے جدید اڈیشن میں کتنے اہم اورمفید نکات پر کام کیا ہے اور ان کو کتاب میں شامل کرکے قارئین کے لیے کس قدر قیمتی معلومات فراہم کردی ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں لوک ادب : تحفظ اور بازیافت- ڈاکٹر یوسف رام پوری )

آثار الصنادید کو تین جلدوں میں شائع کیا گیا ہے ۔ جلداول 386صفحات پر مشتمل ہے ۔جلددوم میں 297صفحات ہیں اور جلدسوم کے صفحات کی تعداد 424ہے۔کتاب کا سائز موجودہ عہد میں چھپنے والی کتابوں سے بڑا اور الگ ہے۔جلد اول میں قومی اردو کونسل کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد کا پیش لفظ ہے ،جس میں انھوں نے کتاب کی اہمیت ، معنویت اورافادیت پر روشنی ڈالی ہے۔ مرتب خلیق انجم نے ’حرف آغاز‘ میں اپنی بات لکھی ہے جس میں انھوں نے کتاب کی ترتیب کے دوران پیش نظررکھی جانے والی چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’آثار الصنادید‘ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور تحقیقی گفتگو کی ہے۔اس میں دہلی کی اہم عمارتوں کے تذکرے کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔ان عنوانات سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے: عہدِ خاندان غلامان کی تعمیرات،توڑے دار محراب سے اصل محراب تک کا ارتقا،قطب مینار،مسجد قوۃ الاسلام میں توسیع،سلطان غازی کا مقبرہ،اڑھائی دن کا جھونپڑا، التمش کا مقبرہ،مقبرہ رکن الدین، عہدخاندان خلجی،علائی دروازہ، جماعت خانہ، خاندان تغلق کی تعمیرات، تغلق آباد، مقبرہ غیاث الدین تغلق، عادل آباد ، محمد آباد یا عمارت ہزارستون،فیروز شاہ تغلق کی تعمیرات، خان جہاں کی مسجدیں، مقبرہ خان جہاں تلنگانی، خاندان سید کی تعمیرات،خاندان لودی کی تعمیرات، لودی فن کی تعمیر کی اہم خصوصیات، بابر اور ہمایوں کے عہد کی تعمیرات، سوری خاندان کی تعمیرات، مقبرہ عیسیٰ خاں، سبز برج، مغل عہد کی تعمیرات،ہمایوں کا مقبرہ،دلی عہدبہ عہد،دلی کی قدیم ترین آبادی، اندرپرست،اشوک کے عہد کاکتبہ، دلی پر مسلمانوں کا قبضہ،نئی دلی وغیرہ۔ ( یہ بھی پڑھیں اُردو رباعی کا سفر (عہدِرفتہ سے عہدِ موجودہ تک) – ڈاکٹر یوسف رامپوری )

مرتب نے ’سرسید بحیثیت مورخ‘کے تحت سرسید کی تاریخ شناسی اور تاریخ نویسی کاجائزہ لیا ہے۔اس مضمون کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ سرسید تاریخ کا کس قدر گہرا علم رکھتے تھے۔تاریخ کے موضوع پر سرسید کی جن کتابوں کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے ، وہ اس طرح ہیں: جام جم، سلسلۃ الملوک، آئین اکبری، تاریخ بجنور، تاریخ سرکشی ضلع بجنور، اسباب بغاوت ہند،تاریخ فیروز شاہی، تزک جہانگیری ،آثار الصنادید۔مرتب نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ سرسید نے مذہبی ، تاریخی ، علمی ، تہذیبی اور تعلیمی موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ سرسید احمد خاں نے اپنے قلم کو کسی ایک یاچند موضوعات تک محدود نہیں رکھا بلکہ انھوںنے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا اور بہترین مضامین اور کتابیں تصنیف کیں۔ پھر مرتب نے ’آثار الصنادید‘ پر خصوصی بحث کی ہے جس میں وجہ تصنیف کو بیان کرتے ہوئے کئی اور پہلوئوں پر بات کی گئی ہے ، آثار الصنادید کے مختلف اڈیشنوںکا تقابلی جائزہ بھی لیا گیاہے۔

’آثارالصنادید ‘کی جلد اول تین ابواب میں منقسم ہے۔پہلا باب’ دلی کی عمل داریوں کے مختصر حالات‘ کے حوالے سے ہے ۔دوسرا باب ’دلی میں قلعوں کے بننے کے آباد ہونے کے بیان میں‘ ہے۔تیسرا باب ’بادشاہوں اور امیروں کی متفرق بنائی ہوئی عمارتوں کے بیان میں ‘ ہے۔ باب اول کو شروع کرنے سے پہلے کئی اہم عمارتوں کی تصویریں شائع کی گئی ہیں۔جن میں سے چند اس طرح ہیں : ہمایوں کا مقبرہ،پرانے قلعے میں شیرگڑھ، شمس الدین التمش کے مقبرے کی ایک دیوار پر نقاشی، جنترمنتر،سبزبرج،مقبرہ غیاث الدین تغلق،مقبرہ عیسیٰ خاں،مسجد خیرالمنازل، دروازہ عرب سرائے،قدسیہ باغ کے ہاتھی خانہ کا دروازہ،فیروز شاہ کوٹلہ۔یہ تمام تصویریں بہت صاف ستھری ہیں۔ان پر ایک نگاہ ڈال کر عمارتوں کی موجودہ صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔(یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن )

جلداول کے پہلے باب کے تحت فرماں وارانِ دہلی کا ایک خاکہ پیش کیاگیا ہے ۔یہ ایک فہرست نما خاکہ ہے ۔اس کی ابتدا راجہ جدہشٹر سے کی گئی ہے جن کا زمانہ 1400سال قبل مسیح کا ہے اور اس کا اختتام ملکہ وکٹوریہ پر کیا گیا ہے ۔مجموعی طورپر1400سال قبل مسیح سے لے کر1837تک کے فرماں رواؤں تک کا ہلکا سا منظرنامہ اس خاکہ کے ذریعے سامنے آجاتا ہے۔اس خاکہ میں جن فرماں رواؤں کے نام مع ولدیت لکھے گئے ہیں ان کاسال جلوس بھی لکھا گیا ہے اور ان کے دارالسلطنت کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایاگیا ہے کہ کس کی سلطنت کتنی مدت تک قائم رہی۔ آخر میں ’ حالات‘ کا کالم دیا گیا ہے جس میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ احوال مذکور ہیں۔اگرچہ یہ خاکہ بہت مختصر ہے ، تاہم اس سے بھی دہلی کے فرماںروائوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ علم ضرور ہوجاتا ہے۔یہ خاکہ ایک وضاحتی اشاریہ کی بھی شکل رکھتا ہے کہ اس کے ذریعہ آسانی سے دہلی کے بادشاہوں کے بارے میں مختصر حالات جانے جاسکتے ہیں۔

دوسرے باب کے آغاز میں ایک فہرست دی گئی ہے جس میں سات کالم ہیں۔پہلا کالم نمبر شمار کا ہے۔دوسرے کالم میں قلعے یا شہر کا نام ہے۔ تیسرے کالم میں اصل بانی کا نام درج کیا گیا ہے ، چوتھے کالم میں سال ہجری ، پانچویں کالم میں سنہ عیسوی ہے ، چھٹاکالم کیفیت کا ہے۔ ساتویں کالم صفحہ نمبر کے نام سے مندرج ہے ، مگر اس میں کسی بھی صفحہ کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔اس لیے اس کالم بنانے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ اگر صفحات نمبر دے دیے جاتے تو یہ کالم بھی فائدے سے خالی نہیں ہوتا۔ اس فہرست کے توسط سے ہم دلی شہر کے مختلف ناموں سے  واقف ہوجاتے ہیں اوردہلی کے مختلف قلعوں کے بارے میں بھی آگہی حاصل کرلیتے ہیں۔فہرست کے بعد ان کے تفصیلی حالات لکھے گئے ہیں۔ جن عمارتوں اور مقامات کے تفصیلی حالات دیے گئے ہیں ، ان میں اندرپرست ، دلی،پرانا قلعہ، دین پناہ، قلعہ رائے پتھوڑا،غزنیں دروازہ، کوشک لال،قلعہ مرغن، قصر معزی،کوشک لال یا نیا شہر، دلی علائی ،قصر ہزار ستون،تغلق آباد،جہاں پناہ،کوشک فیروز شاہ یا کوٹلہ فیروز شاہ، شہر فیروز آباد،خضرآباد، مبارک آباد،دہلی شیر شاہ،قلعہ شاہجہاں ،دلی دروازہ ولاہوری دورازہ قلعہ، چھتہ لاہوری دروازہ،نقارخانہ، دیوان عام، نشیمن ظل الٰہی، خاص محل، امتیاز محل ، برج طلایا مثمن برج، شاہ محل یا دیوان خاص،حمام، موتی محل، نہربہشت، باغ حیات بخش،شاہ برج، شہر شاہجہاں آباد،برج اکبر، اردو بازار اور چاندنی چوک،فیض بازار اور فیض نہر وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ آثار الصنادید کی پہلی جلد کا دوسرا باب ہمیں عمارتوں اور مقامات کے بارے میں کس قدر قیمتی معلومات مہیا کراتا ہے۔

تیسرے باب جس میں بادشاہوں اور امیروں کی متفرق بنائی ہوئی عمارتوں کا اجمالی اور تفصیلی احوال مندرج ہے،دوسرے باب کی طرح پہلے ایک فہرست نماخاکہ پیش کیا گیا ہے ، اس کے بعد سلسلہ وار قدرے تفصیلی حالات لکھے گئے ہیں۔اس باب میں بعض ان عمارتوں کا بھی تذکرہ ہے جن کا تعلق قبل مسیح زمانے سے ہے۔ جیسے لوہے کی لاٹھ،لاٹھ اشوکا وغیرہ۔اس کے بعد سنہ عیسوی اور سنہ ہجری میں جو عمارتیں تعمیر ہوئیں ان کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔اس طرح یہ باب دہلی کے تمام سلاطین اور عمارتوں سے قارئین کو روشناس کراتا ہے۔گویا کہ مجموعی طورپر آثار الصنادید کی پہلی جلد دہلی کے سلاطین وامرا اورمقامات وعمارتوں کے احوال کے حوالے سے بہت اہم ہے ۔چوںکہ سرسید احمدخاں ایک بڑے مورخ تھے اور نہایت ہی عرق ریزی سے انھوں نے حالات جمع کیے ہیں ، اس لیے ان کی جمع کردہ تفصیلات کو معتبر سمجھا گیا ہے۔ خاص طورسے دہلی کی عمارتوں کے تعلق سے سرسید نے جوکام کیا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔

’آثار الصنادید‘ کی دوسری جلدمیں دہلی کی معروف شخصیات کا تذکرہ ہے جنھوں نے اپنے عہد میں کارہائے نمایاں انجام دیے یا انھیں کسی میدان میں مقبولیت وشہرت حاصل ہوئی،البتہ اس جلد میںسلاطین وامرا کے حالات بیان نہیں کیے گئے ہیں ،غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی جلد میں ان کے حالات مذکور ہوچکے ہیں۔ کتاب کے آغاز میںصاحب کتاب نے ایک عنوان ’دلی اور دلی کے لوگوںکے بیان میں‘ قائم کیا ہے۔اس کے تحت دلی کی آب وہوا پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس کے بعد شاہ جہاںآباد کے لوگوں کے مجموعی مزاج ومذاق پر بات کی ہے ، پھر ذیلی عنوانات کے تحت الگ الگ میدان کی شخصیتوں کا احوال لکھا ہے۔مـثلاً ذکر کبائر مشائخین رضی اللہ عنہم اجمعین، رسول شاہیوں کا بیان، مجذبوں کا بیان، ذکر حکمائے کرام ذوالمجد والاحترام، ذکر علمائے دین رضی اللہ عنہم اجمعین، ذکر قرا وحفاظ شکر اللہ سعیہم، ذکر بلبل نوایان سواد جنت آباد حضرت شاہجہاں آباد، خوش نویسیاں، مصوران، ارباب موسیقی۔یہ ذیلی عنوانات اس بات کا پتہ دیتے ہیں سرسید احمد خان نے کس کس شعبے کی شخصیات کے حالات آثار الصنادید کی دوسری جلد میں مرقوم کیے ہیں۔ذکر کبائر مشائخین کے تحت سترہ اکبائر علماء ومشائخین کے حالات  ہیں۔مثلاً مولانا شیخ غلام علی ، مولانا شاہ احمد سعید، مولانا شاہ عبدالغنی ، مولانا فخرالدین ،حضرت سید احمد صاحب وغیرہم۔ذکرحکمائے کرام میں الگ الگ ادوار کے بارہ بڑے حکیموں کاتذکرہ ہے۔ ذکر علمائے دین کے تحت انتیس بڑے علماء کے حالات مرقوم کیے گئے ہیں۔اس طرح ہر ذیلی عنوان کے تحت متعلقہ شعبے کی متعدد شخصیات کے احوال مندرج ہیں۔گویا کہ آثارالصنادید دہلی کی بڑی شخصیات کے حالات سے قارئین کو واقف کراتی ہے۔آخر میں سرسید احمد خاں نے اپنے عہد کے کئی مشاہیر علماء وشعرا کی تقاریظ کو پیش کیا ہے۔ جیسے مرزا اسداللہ خاں غالب، مولوی امام بخش صہبائی،مولانا محمد صدرالدین۔کتاب کے آخر میں حواشی ، کتابیات اور اشاریہ کے شامل ہونے کی وجہ سے کتاب کی معنویت وافادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

آثار الصنادید کی تیسری جلد میں تصویریں،کتبے،نقشے پیش کیے گئے ہیں۔عمارتوں کی تصاویر خاص انداز سے لی گئی ہیں جن سے عمارتوں کا پس منظر اور پیش منظر واضح ہوجاتا ہے۔تمام تصاویر بہت صاف ستھری ہیں ۔ان عمارتوں کی تصویروں میں مقبروں ومزاروں کی بھی تصویریں ہیں، مسجدوں کی بھی ، میناروں کی بھی، گنبدوں کی بھی، قلعوں و محلوں کی بھی ، دروازوں کی بھی ، دیواروں کی بھی وغیرہ۔ اس کے بعد اہم کتبے شامل اشاعت کیے گئے ہیں جو کتاب کو ایک دستاویزی نوعیت دیتے ہیں۔ان کتبوں سے دہلی کے مختلف ادوار کے حالات کا گہرائی کے ساتھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ’نقشے‘ بھی اس کتاب کی معنویت میں اضافہ کرتے ہیں اور ازمنۂ قدیم ووسطیٰ کی عمارتوں کی صحیح صورت حال کو سامنے لاتے ہیں۔’آثار الصنادید‘ کی تیسری جلدمیں مرتب کتاب نے ’حواشی اور مآخذ‘ کا خاص طورپر التزام کیا ہے جس سے بہت سی درگاہوں ، عمارتوں،دروازوں،مسجدوں،مقبروں اورمزاروں کے تفصیلی احوال کا پتہ چل جاتا ہے۔کتاب کے آخر میں اردو، فارسی کے مآخذ اور ان کے مخففات کو بھی پیش کردیا گیا ہے تاکہ قارئین آثار الصنادید میں پیش کیے ہوئے مواد کے مصادر کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو آسانی سے کرسکیں۔

آثار الصنادید کے مطالعے کے بعد یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ تاریخی لحاظ سے ’آثار الصنادید‘ نہایت اہم کتاب ہے ، اور اس کتاب کو ہر مورخ اورتاریخ کے طالب علم کے پاس ہونا چاہیے ۔سرسید احمد خاںکی کتاب ’آثار الصنادید‘ آنے والی نسلوں کو ان کے ماضی سے جوڑتی ہے تاکہ وہ عہدرفتہ کی روشنی میں اپنے حال واستقبال کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کرسکیں۔عہد قدیم اور عہدوسطی کی عمارتوںکے یہ اعلیٰ نمونے فن تعمیر سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خاص طورپر قیمتی ہیں۔

تازہ ترین اڈیشن کو نہایت عمدہ اور قابل استفادہ بنانے میں مرحوم خلیق انجم صاحب کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اس بات کے لیے مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے تاریخ اور آثار قدیمہ کے حوالے سے بہت ہی مستند کتاب کو اپنے یہاں سے شائع کرکے باذوق قارئین کے لیے مطالعہ کا قیمتی سامان فراہم کردیا اور انھیں تاریخ کے بوسیدہ مگر روشن کھنڈرات سے جوڑدیاتاکہ وہ اپنے ماضی اوراپنی تہذیب کو کم ازکم اپنے ذہنوںمیں زندہ رکھ سکیں۔

 

آثار الصاندیدیوسف رام پوری
0 comment
2
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شریعہ کونسل کی ویب سائٹ کا امیر جماعت اسلامی ہند کے ہاتھوں افتتاح
اگلی پوسٹ
چونا شاہ کی ہرنیں اُداس ہیں! – پرویز شہریار 

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں