ارشد صدیقی : شخصیت اور فن ، ’’نقشِ وفا‘‘ کے حوالے سے- انصار احمد معروفی
اردو ادب میں کچھ شخصیتیں ایسی فیاض ، دل پھینک اور سخی ہوتی ہیں جنھیں اپنی ذات کے عنصر اور توصیفی پہلو کو نمایاں کرنے کے بجائے دوسری ادبی شخصیات کی ادبی خوبیوں کو اجاگر کرنے اور انھیں منظر عام پر لانے کی ویسی ہی دھن سوار رہتی ہے جیسے کوئی ادیب اور شاعر خود کو شہرت اور عزت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے طرح طرح کی کوششیں کرتا ہے بلکہ کبھی کبھی اس کے لیے اوچھی حرکتیں اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے بھی استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتا ۔ انھی قابل وصف اور لائق فخر حضرات میں سولا پور کے جناب سلطان اختر بھی شامل ہیں۔ آپ حقیقی معنوں میں اردو ادیبوں اور شاعروں اور اردو کے ہرایک خدمت گار کے قدر دان ہیں ، اور دل سے صرف متمنی ہی نہیں بلکہ کوشاں بھی رہتے ہیں کہ جو لوگ خاموشی کے ساتھ اردو ادب کی خدمت میں مصروف ہیں، وہ چاہے کہیں کے بھی ہوں ، ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے ، ان کو متعارف کرایا جائے اور ان کی حیات مستعار میں ہی اردو ادب میں ان کے مقام و مرتبہ کا تعین کرکے ان کا جائز حق دلایا جائے ۔
اس تعلق سے سلطان القلم و القلب نے متعدد علمی شخصیات کی ادبی خدمات کے تذکرہ کے لیے قلم اٹھایا ، ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا ، اور بہت سے اہل علم و صاحب قلم کی خدمت میں کسی متعینہ صاحب تذکرہ سے متعلق مضامین لکھوائے ، جس کے لیے انھیں اصحاب کمال کی جستجو کے لیے بہت سے حضرات سے بالمشافہ ملاقاتیں کرنی پڑیں اور دور دراز بسنے والے اہل قلم کی خدمت میں کتابیں ارسال کرکے خطوط اور فون سے روابط استوار کرکے مضامین اور توشیحی نظمیں لکھوائیں ۔ اور پھر مضامین جمع کرکے انھیں کتابی شکل میں منظر عام پر پیش کردیا ۔ یہ کام اتنا آسان اور ہلکا نہیں جتنا سمجھا جارہا ہے ۔ اردو ادب کی یہ عظیم خدمت ہے ، جس کے لیے انھوں نے خلوص قلب اوروسعت نظر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قیمتی اوقات کے خرچ کے علاوہ مشقتوں کو برداشت کرتے ہوئے دولت بھی خرچ کی ۔ (یہ بھی پڑھیں سولاپور میں اُردو کے لئے زندہ آدمی…سلطان اختر! – خاکہ نگار: غلام ثاقب، بیڑ )
جناب سلطان اختر نے کبھی چھوٹے پیمانے پر علاقائی پروگرام کرکے اس ادیب وشاعر پر مقالے پڑھوائے ، انھیں توصیفی اسناد کے ساتھ اعزاز اور انعام سے نوازا ۔ کبھی بڑے پیمانے پر پروگرام کرکے اپنی محبت کا ثبوت دیا اور کبھی سیمینار کے انعقاد کے بہت سے دور نزدیک کے اہل قلم کو عزت کے ساتھ بلاکر پذیرائی کا ثبوت دیا ۔
اسی تناظر میں مہاراشٹر کے ضلع بیڑ کے رہنے والے ادیب ، افسانہ نگار اور شاعر جناب ارشد صدیقی پر نظر محبت ڈالی ، اور ان کی خدمات کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اب اس کے بعد اختر صاحب نے متعددصاحبان علم وقلم کو فون اور مکتوب کے ذریعے مضامین اور توصیفی نظموں کی درخواست کی، ان کی درخواست پر تقریبا 80حضرات نے ارشد صدیقی سے متعلق مضامین اور نظمیں لکھیں ، جسے مرتب کی حیثیت سے سلطان اختر نے 288صفحات میں جمع کرکے کتابی شکل دے کر خوبصورت انداز میں پیش کردیا۔
کہنے کو یہ بہت آسان ہے کہ سلطان صاحب نے لوگوں سے مضامین لکھواکر انھیں من وعن شائع کردیا ، مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں ، جتنا باور کیا جارہا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سلطان صاحب نے ایک سو سے زیادہ حضرات سے مضامین کے لیے رابطہ کیا ہوگا ، اور بار بار یاد دہانی کے لیے فون پر فون کیا ہوگا ، قلم کار حضرات کے یہاں صدیقی صاحب سے متعلق مواد و ماخذ بھی بھیجا ہوگا ، اس کے بعد برابر رابطہ رکھا ہوگا ، تب کہیں جاکر کچھ مضامین جمع ہونے شروع ہوئے ہوں گے، کچھ لوگوں نے ان کی درخواست کو درخور اعتنا بھی نہ سمجھا ہوگا، مگر اس پر ان کے دل نے ہمت نہیں ہاری اور کام برابر جاری رکھا ، مضامین آنے لگے ، پھر انھیں پڑ ھ کر ان کے درمیان کے تکرار کو کم یا ختم کرنے اور غیر متعلقہ مضامین کو چھانٹنے اور غلطیوں کی اصلاح میں نہ جانے کتنا وقت صرف کیا ہوگا ، اسے اچھی طرح وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھیں اس طرح کے کام سے سابقہ پڑا ہوگا ۔ ( یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
بہر حال اب یہ کتاب ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی سے شاندر کتابت و طباعت کے ساتھ منظر عام پر آگئی ہے ۔ جس میں تقریبا 80سے زیادہ معروف قلم کاروں کے مضامین اور شعری کاوشیں شامل ہیں ۔ کتاب کا انتساب سلطان صاحب نے بین الاقوامی ادیب ڈاکٹر عبد القادر فاروقی کے نام کیا ہے ، جن کی امریکہ میں اردو کی وقیع خدمات ہیں ۔ پھر مرتب کتاب نے تمام قلم کاروں اور معاونین کا شکر یہ ادا کیا ہے جنھوں نے اس کتاب کو منظر عام پر لانے کا راستہ ہموار کیا ۔ مرتب نے مختلف ابواب میں مضامین کو تقسیم کرنے سے پہلے مرتب کی حیثیت سے ارشد صاحب سے اپنے تعلقات کی ابتدا اور ان کی شخصیت کے جواہر ات کا ذکر کیا ہے ۔ اور ان کی سادگی ، مہمان نوازی اور انسانیت و خدمات کا بہترین تذکرہ پیش کیا ہے ۔چہرہ چہرہ داستان کے عنوان کے تحت ارشد صدیقی کا خاکہ ابتدا سے آخر تک قاضی مجیب الرحمن نے ذکر کیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان کی تاریخ پیدائش ۶؍ جولائی 1959ئ ہے ، اور پچاس سے زیادہ اخبارات اور رسائل میں ان کے مضامین شائع ہوچکے ہیں ، اور پانچ بیش قیمت تصانیف ان کی مطبوعہ شکل میں موجود ہیں ، جن میں گردش دوراں ، بے چہرگی ، آتش کدہ ، افسانچوں کا مجموعہ ، اور ،لہو لہو آسمان ، شعری مجموعہ ہے ۔درس وتدریس سے وابستہ ہوکر اب متقاعد ہیں اور بہت سے ایوارڈ پاکر اردو ادب کی خدمت میں ہمہ تن متوجہ ہیں ۔
مرتب کتاب نے کتاب میں شامل مضامین اور شعری کائنات کو مختلف نقوش اور مرکزی عنوانات جیسے نقش ارادت ، میں شخصیت کو سمیٹا گیا ہے ، نقش بند کے تحت منظوم خراج عقیدت کے پھول نچھاور کیے گئے ہیں ۔نقش دل میں ان سے لیے گئے انٹرویو کو جمع کیا گیا ہے ، نقش مراد کے زیر عنوان تاثرات کو مدنظر رکھاگیا ہے ۔ نقش آب کے تحت ارشد صدیقی کی شاعری کو خوبیوں کو اجاگر کرنے والے مضامین شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ نقش پرداز میں صاحب تذکرہ کی افسانچہ نگاری کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ ارشد صدیقی کے نام اکابر کے خطوط کو نقش تسخیر کے ذیل میں جگہ دی گئی ہے ۔ اس کے پہلو بہ پہلو نقش قلم کے تحت خود ارشد صدیقی کی مختلف تحریریں بطور نمونہ جمع کی گئی ہیں ۔ نقش انتظار کے ذیل میں ان کی شعری حکمتوں کے نقوش کو مرتسم کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔ جب کہ آخر میں نقش اعتراف کے تحت ارشد صدیقی کی تصانیف اور محققین کی کتابوں میں ارشد صدیقی کے تذکرہ کو سمیٹا گیا ہے ۔ اوراسی نقش پر کتاب اختتام تک پہنچتی ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں امداد امام اثر کا انتفادی اختصاص – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )
مختلف عنوانات کے تحت شامل مضامین کے لکھنے والوں میں اردو ادب کی معتبر اور نامور شخصیات شامل ہیں ، جن کی تحقیق ، فکر ونظر ، بحث و تمحیص ، اور ان کی تنقیدیں و علمی مضامین نے دلوں پر سکہ جمایا ہوا ہے ، ان میں نذیر فتح پوری ، منظور وقار، پروفیسر بدیع الزماں ، غلام ثاقب، سگری نور احمد نور ، سلطان اختر مرتب ، م، ناگ ، شمس جالنوی ، ڈاکٹر عبد القادر فاروقی ، احمد عثمانی ، رؤف صادق، ڈاکٹر عظیم راہی، مظہر سلیم، ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی ، ملک بزمی، یوسف خان صابر اور افشاں صدیقی وغیرہ شامل ہیں ۔ کتاب میں شامل مضامین سے اقتباس پیش کرنا بہت مشکل کام ہے اور یہ مختصر مضمون اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ، صرف غلام ثاقب ، بیڑ کے خوبصورت مضمون سے ایک اقتباس پر مضمون ختم کروں گا ’’ ارشد صدیقی ایک سچے محب اردو ہیں ، وہ اردو پڑھتے ہیں ، اردو لکھتے ہیں ، اور اردو کے فروغ کے لیے جانی و مالی تعاون پیش کرتے رہتے ہیں اردو پڑھائی ، اور اردو کی خدمت کی ، مشاعرے کروائے ، اردو زبان وادب میں بچوں کے مقابلے کروائے ، انھیں انعامات اور اردو اساتذہ کو ایوارڈ اور اعزازات پیش کیے ، شام غزل منعقد کی ، اور جانے کتنوں کی کتابیں چھپوائیں ، نئے نئے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کی ، ان کے فن کو گلوں سے معطر کیا ، ان کے احساسات کو پامال نہیں ہونے دیا ، تسلی کے الفاظ سے زخمی دلوں کا درماں کیا ، کیا یہ اردو پر جاں نثاری نہیں؟ بے شک ہے ، اردو والے انھیں یاد رکھیں نہ رکھیں وہ اردو کو ہرپل یاد رکھتے ہیں ؟؟۔ ص 48۔
غلام ثاقب نے اپنے پورے مضمون میں ارشد صدیقی کا ایسا پیارا نقشہ کھینچا ہے جسے پڑھ کر جہاں صدیقی صاحب کی پوری حیات و خدمات روشن ہوجاتی ہے ، وہیں ان سے ملنے کے لیے دل تڑپ اٹھتا ہے اور ان کو دیکھنے کے لیے آنکھ بے چین ہوجاتی ہے ۔ اردو کے سچے عاشق سلطان اختر صاحب کا احسان ہے کہ انھوں نے اردو کے سچے محب پر مضامین لکھواکر ارشد صدیقی کو حیات جاودانی سے ہمکنار کرنے کی راہ ہموار کی ۔
انصار احمد معروفی ۔
پورہ معروف ۔ بلوہ، کورتھی
جعفرپور ۔ ضلع مئو۔یوپی ، بھارت
mob:8853214848
ansarahmad3567@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

