تحریکِ آزادی میں اردو زبان کی حصے داری ناقابلِ فراموش:ڈاکٹر شیخ عقیل احمد
قومی اردوکونسل میں 75ویں یومِ آزادی کے موقعے پر تقریبِ پرچم کشائی
نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں آج 75 ویں یوم آزادی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں پرچم کشائی کی گئی۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے وائس چیئر مین پروفیسرشاہد اختر نے تمام اہل وطن کو جشن آزادی کی مبارک باد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ آج ہم بھارت کا 75واں یوم آزادی منارہے ہیں،جو ہمارے بے لوث قائدین اور قوم ووطن کے تئیں جذبۂ فدائیت رکھنے والے اسلاف کی قربانیوں کی وجہ سے ہمیں حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک کو آزاد کروانے میں تمام طبقات اور مذاہب کے لوگوں کا حصہ رہا ہے۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے آزادی کی تحریک میں خاص طورپر اردو زبان کی حصےداری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس زبان نے شروع سے ہی آزادی کے متوالوں کے جوش و جذبے کو مہمیز کیا اور باشندگانِ ہند کے دلوں میں بیرونی تسلط کے خلاف انقلاب و بغاوت کے بیج بوئے جس کے نتیجے میں ملک کے ہر گوشے میں ‘انقلاب زندہ باد’ جیسے نعرے گونجنے لگے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اردو کے صحافیوں، شاعروں، ادیبوں اور مصنفوں نے تحریکِ آزادی کو توانائی بخشنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور انھوں نے عملی طورپر اس جدوجہد میں حصہ لینے کے ساتھ اپنے قلم کی طاقت کا بھی خوب استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں صحافیوں اور شاعروں کو انگریز حکومت نے سخت سزائیں دیں،بلکہ 1857 کے انقلاب میں شرکت کی پاداش میں سزائے موت پانے والے اولین صحافی مولوی محمد باقر کا تعلق اردو صحافت سے ہی تھا،وہ ‘دہلی اردو اخبار’کے بانی مدیر تھے۔ ان کے علاوہ 1947 تک اس زبان سے تعلق رکھنے والے نہ جانے کتنے ہی جیالوں نے گلستانِ وطن کو سینچنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم نئی نسل کو اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں سے آگاہ کریں تاکہ ہمیں آزادیِ وطن کی حقیقی قدر و قیمت کا احساس ہو اور ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے کا جذبہ بیدار ہوسکے۔ اس موقعے پر کونسل کے اسٹاف بھی موجود رہے۔

