شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی میں تعزیتی جلسے کاانعقاد،بڑی تعدادمیں اساتذہ، طلبا اورریسرچ اسکالرز آن لائن وآف لائن شریک ہوئے
وارانسی،10 ستمبر2021(پریس ریلیز)
پروفیسرعلی جاوید ترقی پسند اور مارکسی روایت نقدکے امین تھے۔ کلاسیکی ادب بالخصوص عوامی شعرا کا انھوں نے بڑی باریکی سے مطالعہ کیا تھا۔وہ بند کمروں کے بجائے اپنی عملی زندگی میں ظلم و جبر کے خلاف صف آرا ہوئے اور کبھی مصلحت پسندی کے شکار نہیں ہوئے۔ انھوں نے علم و عمل کا اظہار اسی شدت کے ساتھ کیا جیسا کہ ان کی روح کو ملا تھا۔اسی طرح پروفیسربیگ احساس نے ایک عمر تک ادب کی خدمات انجام دیں، انھوں نے ’سب رس‘ کی ادارت کے علاوہ مختلف سمینار وں کا انعقاد ان کی سرگرم زندگی کا اشاریہ ہے لیکن ان سب کے ساتھ انھوں نے تخلیقی توانائی کا جیسا اظہار اپنے افسانوں میں کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ تہذٰبی قدروں کو وہ جس نظر سے دیکھتے تھے اور ان اقدار کی شکستگی پر انھوں نے جس طرح افسانے لکھے اسے کسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ان خیالات کااظہارآج شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی میں پروفیسرعلی جاوید اور پروفیسربیگ احساس کے سانحہئ ارتحال پر تعزیتی جلسے میں صدرشعبہ پروفیسرآفتاب احمدآفاقی نے کیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسرآفاقی نے کہا کہ پروفیسرعلی جاوید نہ صرف بہترین عالم تھے بلکہ بہت اچھے مقرر اور مربی بھی تھے۔اسی طرح پروفیسربیگ احساس کے افسانوں میں تخلیقی زبان جس سطح پر استعمال ہوتی ہے اس کی مثالیں معاصر افسانے میں کم ملتی ہیں۔ ان کے انتقال سے اردو شعر وادب اور تنقید کے ساتھ ادبی صحافت کا بھی بہت بڑا خسارہ ہوا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹرمشرف علی نے پروفیسربیگ احساس کی شخصیت اور افسانوں پر روشنی ڈالی اور پروفیسرعلی جاوید کی تحریکی زندگی کا تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹر قاسم انصاری نے دخمہ کی روشنی میں بیگ احساس کے فکر وفن کا تجزیہ کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ انھوں نے علی جاوید کی شخصیت اور ان کے مزاحمتی کردار کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ڈاکٹر احسان حسن نے بیگ احساس کی صحافتی زندگی اور علی جاوید کے ساتھ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ملاقات کا تذکرہ کیا۔ڈاکٹررشی کمار شرمانے پروفیسربیگ احساس کی زندگی کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے ادبی کارناموں پر روشنی ڈالی۔پروفیسرعلی جاوید سے اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ بھی کیا۔تعزیتی نشست کے آغاز میں ڈاکٹر عبدالسمیع نے پروفیسر علی جاوید کی تعلیمی، تدریسی اور ادبی خدمات کا تعارف پیش کیا اور ان کے انتظامی و تحریکی شخصیت کے بعض پہلوؤں کی جانب اشارہ کیا۔ پروفیسربیگ احساس کی شخصیت اور کارناموں کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے افسانوی مجموعوں بالخصوص حنظل اور دخمہ پرروشنی ڈالی۔ اس موقع پر شعبہ اردو کے اساتذہ ڈاکٹر رقیہ بانوکے علاوہ ڈاکٹر ناز بیگم، ڈاکٹر افضل مصباحی، ڈاکٹرمحمداختر،ڈاکٹر لئیق احمد شعبہ اردو کے ریسرچ اسکالر کے علاوہ بڑی تعدادمیں طلبا و طالبات اس آن لائن تعزیتی جلسے میں شریک ہوئے۔ نظامت اور شکریے کی رسم ڈاکٹر عبدالسمیع نے ادا کی۔ دعائے مغفرت کے ساتھ محفل کا اختتام ہوا۔

