تعزیت نامہ
(سید مسعود الحسن ایڈوکیٹ)
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
چمنستان ہند پر باد خزاں نے ایسا وار کیا کہ یکے بعد دیگر ایک سے ایک شخصیت ہمارے درمیان سے رخصت ہوتی جا رہی ہے یوں تو اس وقت ہند کے حالات نازک ہیں ہی ہر طرف موت کا منظر ہے مگر جب شخصیات میں سے کوئی شخصیت گزر جاتی ہے تو دل دہل جاتا ہے مشہور و معروف شخصیت میں سے چوبیس رمضان المبارک جمعۃ الوداع کو حضور شہید راہ مدینہ کے بھانجے حضور امام الاولیاء کے بیٹے شیخ طریقت سید شاہ حامد حسن الجیلانی کے برادر صغیر سید مسعود الحسن ایڈوکیٹ اس جہاں کو الوداع کہہ گئے موصوف کی ذات اوصاف جمیلہ سے پر تھی تمام اوصاف میں سے بڑی صفت یہ پائی جا رہی تھی کی آپ حق گو و حق پرست اور حق پسند تھے حق گوئی کا یہ عالم تھا جو بیان سے بالاتر ہیں بلکہ یوں کہہ لیا جائے تو غلط نہیں ہوگا کی حق گوئی میں آپ خود اپنی مثال تھے مخدوم پاک کی چوکھٹ سے بڑا گہرا لگاؤ تھا صوم و صلوۃ کے پابند مسجد و مدرسہ و خانقاہ کی ذمہ داری کو بڑی ذمہ داری سے نبھاتے تھے مخلوق کی خدمت ان کا شیوہ تھا ایسے لوگوں کی ہی جدائی پر شاعر شعر کہتا ہے اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا اللہ رب العزت عزت تمام متوصلین محبین احباب و اقارب اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے صبر و شکر کے دامن سے وابستہ رکھے ان کے بیٹے سید عبدالوہاب سید عمار حسن سید تراب حسن پر اللہ اپنے فضل خاص فرمائے سکون قلب و صبر جمیل عطا فرمائے: اللہ نعمتوں سے نوازنے والا ہے اور یقین والدین اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں اگر اللہ نے اس نعمت کو واپس لے لیا تو اس کا بدل دینے پر وہی رب کائنات قادر ہے اور وہی نعم البدل بھی دیتا ہے اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے رب کائنات ان کی اولاد کو نعم البدل عطا فرمائے آئے آمین آمین یا رب العالمین بجاہ النبی سید المرسلین سلیم صلی اللہ علیہ وسلم شریک غم : مولانا
شیخ احمد نقشبندی
مبارک پور اعظم گڈھ
خادم خانقاہ سریا شریف اعظم گڈھ

