شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ’’خاتون فکشن نگار‘‘ موضوع پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ31؍ مارچ2022
آج کی خوا تین ہر موضوع پر بے باک قلم اٹھا رہی ہیں خواہ کوئی بھی مو ضوع ہو وہ ان موضو عات کو پو ری ایمانداری سے نبھا رہی ہیں۔اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ نئی نسل کی فکشن نگار پہلے سے زیا دہ بولڈ ہو گئی ہیں۔کیونکہ خواتین کے جذبات ان کے احساسات کی ترجمانی ایک خاتون فکشن نگار ہی زیادہ بہتر طریقے سے فکشن میں پیش کر سکتی ہے۔یہ الفاظ تھے ایم جی کالج، اودے پور کی ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ثروت خان کے جو آیو سا اور شعبۂ اردو کے زیر اہتمام منعقد ’’خاتون فکشن نگار‘‘ موضوع پرمہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر میں آن لائن ادا کررہی تھیں۔اس مو قع پر انہوں نے طالب علموں کے فکشن کے حوالے سے مختلف سوا لات کے جواب دے کر ان کی علمی تشنگی کو دور کیا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز عظمیٰ پروین نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں علماملک نے ہدیہ نعت پیش کیا۔اس ادب نما پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری اور صدارت کے فرائض معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے انجام دیے ۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، مہمان خصوصی کا تعارف ڈاکٹر ارشاد سیانوی،نظامت سیدہ مریم الٰہی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے انجام دی۔
آ یو سا کی صدر ڈا کٹر ریشما پروین (لکھنؤ)نے کہا کہ اس میں دو را ئے نہیں کہ آج کی خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔اگر بات فکشن کی کی جائے تو فکشن نگاری میں بھی آج کی خواتین بہت آگے ہیں اورنئے نئے مو ضو عات اپنے فکشن میں برت رہی ہیں خصوصاً خواتین کے مسائل کو بڑی عمدگی سے اپنے ادب کے ذریعے پیش کررہی ہیں۔
اپنے صدارتی خطبے میں عارف نقوی نے نئی نسل کی خواتین فکشن نگار کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی خواتین بہت اچھا فکشن لکھ رہی ہیں ۔اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ خواتین فکشن نگارمرد حضرات کے مقابلے زیادہ بہتر لکھ رہی ہیں۔ساتھ ہی میں یہ کہوں گا کہ خواتین اپنی بے جا تعریفوں سے خوش نہ ہوں کیونکہ اس میں صلاحتیں متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
اس مو قع پرڈاکٹر آصف علی،سید محمد ذکریہ( دہلی)،ڈاکٹر شہناز قادری،ڈاکٹر عامر نظیر ڈار،فرح ناز،گلناز،نوید خان ،سعید احمد سہارنپوری ،محمدشمشاد، عبد الواحد،فیضان ظفر اور دیگر طلبہ و طالبات موجود رہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

