افسانہ اور افسانہ نگار:نوشاد منظر – سمیہ محمدی
افسانہ کی تنقید پر یقینا کچھ اچھی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں،جن میں شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ”افسانے کی حمایت میں، گوپی چند نارنگ کی کئی اہم کتاب مثلاََ ’فکشن شعریات تشکیل و تنقید، اردو افسانہ روایت اور مسائل، وارث علوی کی کتاب فکشن کی تنقید کا المیہ، منٹو ایک مطالعہ اور راجندر سنگھ بیدی کے علاوہ چند دیگر مصنفین کی اہم کتابیں قابل ذکر ہیں۔ان کتابوں نے فن افسانہ اور افسانے کی تنقید کو ایک نئی سمت عطا کرنے اور افسانے کی تفہیم میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔فن افسانہ پر اب تک جتنی بھی کتابیں منظر عام پر آئیں ان میں شامل مضمون نگاروں کی شناخت بحیثیت ناقد کی ہے۔ایک تخلیق کار اپنے فن کے متعلق کیا سوچتا ہے یا تخلیق کاروں کی تنقید پر باضابطہ کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی تھی، مختلف رسائل و جرائد کے علاوہ کتابوں میں ایسے مضامین بکھرے ہوئے مل جائیں گے جن کو افسانہ نگار نے تحریر کیا ہے مگر ضرورت تھی ان تمام مضامین کو یکجا کر کے شائع کرنے کی تاکہ تخلیق کار کی تنقید اور اس کے فن کے محرکات بھی قارئین کے سامنے آجائیں، اس کمی کو شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے متحرک اور فعال ریسرچ اسکالر نوشاد منظر نے پوری کی۔نوشاد منظر کی یہ دوسری کتاب ہے، اس سے قبل ان کی پہلی کتاب ”رسالہ شاہراہ: تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ“ ( رسالہ شاہراہ:تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ- نوشاد منظر شاہنواز فیاض)
بھی منظر عام پر آچکی ہے، اس کے علاوہ مختلف رسائل و جرائد میں بھی ان کے مضامین اور تبصرے اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب”افسانہ اور افسانہ نگار“ کو مرتب نوشاد منظر نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔کتاب کے پہلے حصے کو مرتب نے ’’میں اور میرے افسانے“ کا عنوان دیا ہے۔کتاب کے اس حصے میں نوشاد منظر نے ان مضامین کو شامل کیا ہے جس میں افسانہ نگار نے اپنے فن پر گفتگو کی ہے۔یہ کتاب کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ اس کے مطالعے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ آخر تخلیق کار کے پیش نظر وہ کون سے عوامل تھے جن کی بنیاد پر فن پارہ تیار ہ ہوا۔افسانہ نگار نے ان محرکات کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔کتاب کے اس حصے میں پریم چند، کرشن چندر،، سہیل عظیم آبادی، علی عباس حسینی، سعادت حسن منٹو، ممتاز شیریں، قرۃ العین حیدرسے لے کر دور حاضر کے اہم افسانہ نگار عبد الصمد، شموئل احمد، مشرف عالم ذوقی اور خالد جاوید تک کے مضامین شامل ہیں۔
کتاب کا دوسرا حصہ ”افسانہ اور افسانہ نگار“ ہے، جو اس کتاب کا عنوان بھی ہے۔کتاب کے اس حصے میں مرتب نوشاد منظر نے افسانہ نگاروں کے ان مضامین کو شامل کیا ہے جن کا تعلق افسانے کی تنقید سے ہے۔ان مضامین کی روشنی میں ہم افسانے کی تنقید کا مجموعی جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ کتاب میں شامل مضامین کا تعلق ترقی پسند نظریے،جدیدیت اور مابعد جدیدیت سے ہے۔عزیز احمد(افسانۂ افسانہ)، انتظار حسین (درخت اور افسانے) راجندر سنگھ بیدی (مختصر افسانہ)، انور عظیم (افسانہ اور ردّ ِ افسانہ……1947کے بعد)،انور سجاد (افسانہ نگار اور جانب داری کا اعلان)، بلراج کومل (شاعری اور فکشن کی ٹوٹتی حدبندیاں) دیویندر اسر (اردو افسانہ__ تہذیب، تجربہ اور مستقبل)، بلراج مین را(تنبولا)، حسین الحق (اردو افسانہ)وغیرہ قابل ذکر مضامین شامل ہیں۔ان مضامین کی روشنی میں ہم افسانے کی تاریخ مرتب کرسکتے ہیں۔
کتاب کا تیسرا حصہ افسانہ نگار کے انٹرویو ز، مذاکرہ اور سمپوزیم پر مشتمل ہے۔ اس کے مطالعے سے بھی افسانہ نگار کی تنقید ان کے نظریے اور افسانوں کے محرکات کا علم ہوتا ہے۔
زیر نظر کتاب ”افسانہ اور افسانہ نگار“ کے مرتب نے 50 صٖفحات پر مشتمل اپنے مقدمے میں کتاب میں شامل مضامین پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔مرتب تجزیے کے ہنر سے واقف ہیں حالانکہ ایک دو جگہ انھوں نے تساہل پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔مگر مجموعی طور پر مرتب کا مقدمہ اچھا ہے۔کتاب کی ضرورت اور اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نوشاد منظر اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں:
”اردو افسانے کے ناقدین کا جب بھی نام آتا ہے تو ان میں بنیادی طور پر وہی لوگ نظرآتے ہیں جنہوں نے افسانے نہیں لکھے اور اگر لکھے بھی تو انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ میری اس تحقیقی کاوش کا مقصد افسانے کے نقادوں کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ افسانے کو افسانہ نگاروں کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔دیکھنے کا یہ عمل کتنا مختلف اور مماثل ہے یہ مطالعے کا ایک دلچسپ پہلو ہے۔لہذا یہاں میں نے افسانے پر لکھی گئی ان تحریروں اور کالموں کو جمع کیا ہے جو افسانہ نگاروں نے لکھی ہیں۔“
پروفیسر عتیق اللہ صاحب نے اس کتاب کے لیے ایک تحریر لکھی ہے جو کافی بصیرت افروز ہے۔
افسانے کی تنقید پر یہ ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس میں افسانہ نگاروں کی تنقید کو یکجا کر کے پیش کیا گیا ہے۔اس سے قبل گوپی چند نارنگ اور آل احمد سرور وغیرہ نے بھی تخلیق کاروں کے تنقیدی مضامین کو مرتب کر کے شائع کیا ہے مگر ان کتابوں میں افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ خالص ناقدین کے مضامین بھی شامل ہیں۔جب کہ زیر تبصرہ کتاب ”افسانہ اور افسانہ نگار“ میں نوشاد منظر نے صرف ان ہی مضمون نگاروں کو شامل کیا ہے جن کی ادبی شناخت افسانہ نگار کی ہے، اس لحاظ سے یہ ایک منفرد کتاب ہے اس کے لیے صاحب کتاب نوشادمنظر کو مبارک باد۔
کتاب کی طباعت اچھی ہے، کتاب کی اہمیت کے پیش نظر قیمت مناسب ضرور ہے مگر طالب علموں کے لحاظ سے زیادہ ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

