کتاب کا نام : رسالہ شاہراہ:تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ- نوشاد منظر
شاہنواز فیاض، نئی دہلی
اردو میں اشاریہ سازی کی روایت زیادہ قدیم نہیں ہے۔ غالباً بشیر الحق دسنوی نے اشاریہ سازی کا کام شروع کیا تھا اور اردو کے شائع شدہ اشاریے جو کتابی شکل میں موجود ہیں، زیادہ سے زیادہ چالیس سال پرانے ہیں۔ اردو میں اشاریہ سازی بھی دیگر اصناف کی طرح انگریزی زبان وادب کی ہی مرہون منت ہے۔
اشاریہ سازی کا مقصد محقق کو ایک نظر میں وہ سب کچھ مہیا کرانا ہے، جس کا وہ متلاشی ہوتا ہے۔ جو مواد محقق کو مہینوں کے بعد حاصل ہوسکتا ہے، وہ صرف چند ساعتوں میں اشاریہ کی مدد سے مل جاتا ہے۔ اس طرح محقق کم وقت میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرسکتا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں تمام رسائل کا ایک ایسا جامع اشاریہ تیار کیے جانے کی ضرورت ہے، جو بیک وقت عنوان، موضوع اور مضمون نگار تینوں کا احاطہ کرتا ہو۔ خوش آیند بات ہے کہ اردو والے نہ صرف اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں بلکہ بعض انفرادی کوششیں بھی جاری ہیں۔اسی تسلسل میں نوشادمنظر کی تازہ ترین تصنیف ’رسالہ شاہراہ: تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ“ کودیکھا جاسکتا ہے۔
زیرنظر کتاب ’رسالہ شاہراہ: تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ‘ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ’شاہراہ‘ کے مشمولات کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور دوسرے میں ’شاہراہ‘ کا اشاریہ تیار کیا گیا ہے۔
نوشاد منظر کا ’حرف آغاز‘ کے عنوان سے چھ صفحات پر مشتمل بڑا معلوماتی مقدمہ درج ہے۔ مقدمے سے اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ چھوٹے چھوٹے پیرائے میں پوری کتاب کا تعارف بھی پیش کردیاگیا ہے۔ نوشاد منظر نے کوشش کی ہے کہ کتاب کا سادہ اور عام فہم انداز میں ہو تاکہ اس زیادہ لوگ اس سے استفادہ کرسکیں اس کوشش میں بہرحال منصف کامیاب ہیں اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔
اردو کے معروف فکشن نگار اور نقاد عابد سہیل کی تحریر ’سرسخن‘ کے عنوان سے شائع کی گئی ہے۔انھوں نے نوشاد منظر کی کوشش کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ رسالہ شاہراہ کی ادبی اہمیت اور اس کے اثرات کا بھی احاطہ کیا ہے۔
مذکورہ بالا کتاب ’رسالہ شاہراہ: تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ‘ کے پہلے حصے میں مصنف نے ’شاہراہ‘ کے مشمولات کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس حصے میں اداریہ،مضامین، نظمیں، غزلیں، رباعیات، افسانے، ناولیں اور تراجم کا تجزیہ مصنف جامع انداز میں کیا ہے۔رسائل کے اشاریوں میں بالعموم مشمولات پر تجزیہ نہیں کیا جاتا بلکہ سیدھے سیدھے مشمولات کا اشاریہ اور رسالہ کی تاریخ اور ادبی اہمیت کا ذکر ضرور کیا جاتاہے۔ نوشاد منظر اس پہل کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ یہ حصہ کل 139صفحات پر مشتمل ہے۔یہاں وہی ترتیب برقرار رکھی گئی ہے،جس طرح رسالہ ’شاہراہ‘ کی ترتیب ہوتی تھی۔
کتاب کا دوسرا حصہ رسالہ ’شاہراہ‘ کا اشاریہ کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں بھی نوشاد منظر نے وہی ترتیب قائم کی ہے، جو پہلے حصے میں تھی۔ البتہ اس حصے میں کچھ موضوعات کا اضافہ ہے۔ جیسے کہ قطعات، طنزومزاح، ڈرامہ اور جائزے (تبصرے)۔ مصنف نے حروف تہجی کے اعتبار سے اشاریہ تیار کیا ہے۔ جس کو تصنیف کردہ حضرات کو اولیت کا درجہ حاصل ہے۔ اس کتاب کو رسالہ ’شاہراہ‘ کے حوالے سے ایک مکمل فہرست جاتی کتاب کا نام حاصل ہے۔ جس مضمون کی تلاش وجستجو ہے، بس اس حصے میں مصنف کے نام سے بڑی آسانی کے ساتھ پوری معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ حصہ 129صفحات پر مشتمل ہے۔
زیرتبصرہ کتاب ’رسالہ شاہراہ: تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ‘ کے مصنف نوشاد منظر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کے مضامین اکثروبیشتر ہندوستان کے مختلف رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ان کی باقاعدہ پہلی تصنیف ہے۔ جس میں کہیں کہیں پروف کی غلطیاں راہ پاگئی ہیں۔ اس سے کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ کیوں کہ بہت ساری چیزیں انسان دھیرے دھیرے سیکھتا ہے اور یہی چیز بعد میں تجربہ کہلاتی ہے۔جواں سال مصنف کی یہ کوشش اور محنت بلا شبہ قابل قدر ہے کہ انھوں نے تاریخ کے ایک دور کو محفوظ کردیا ہے اور بہت سارے لوگوں کے لیے جن کی علم و ادب کے تئیں دلچسپی ہے کچھ چیزیں محفوظ کردی ہیں۔ تجزیے اور تشریح میں کہنے کی گنجائش ہوتی ہے ضروری نہیں کہ ان باتوں سے اتفاق کیا جائے جو فاضل مصنف نے درج کی ہیں البتہ زبان وبیان کے تئیں ہر اسکالر کو حساس رہنا چاہیے اور علمی،ادبی اورتحقیقی زبان کے وہ معیارات ضرور مدنظر رکھنا چاہیے جو کہ ہمیں اپنے محققین مثلاگیان چند جین،رشید حسن خاں اور حنیف نقوی وغیرہ سے ملے ہیں۔
کتاب کے بیک ٹائٹل پر دو اقتباس دیے گیے ہیں۔ ایک ساحر لدھیانوی کا ہے اور دوسرا محمد یوسف کا۔ یہ اداریے کا اقتباس ہے، جس سے اس رسالے کا مقصد اور اس کی پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔
کتاب کی ضخامت اور اس کی اہمیت کے پیش نظر قیمت بہت مناسب ہے۔ جسے آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سرورق بھی کافی دیدہ زیب ہے۔قوی امید ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ ریسرچ اسکالر اس کتاب کو پسند کریں گے اور قبولیت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔

