Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

اقبال سہیل کی نظم نگاری:فکر ونظر کے چند پہلو- ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

by adbimiras اگست 28, 2020
by adbimiras اگست 28, 2020 0 comment

اقبال سہیل نے یوں تو تقریباً ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی،لیکن ان کی نظمیں ان کی قومی،ملی اور سیاسی جذبات کی بہترین ترجمان ہیں۔ نظموں کے موضوعات سے اقبال سہیل کے متنوع خیالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ان کے یہاں قومی ہمدردی،حریت پسندی اور وطن دوستی کا جذبہ کار فرما نظر آتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے استاد علامہ شبلی نعمانی سے بہت کچھ فیض اٹھایا تھا۔اور اسی فیض کا نتیجہ تھا کہ اقبال سہیل کے یہاں بھی سیاسی اور وقتی مسائل پر نہ صرف شعر کہنے کا زبردست رجحان پایا جاتا ہے بلکہ انھوں نے وقتی اور ہنگامی حالات پر بہترین شاعری کی، ان کی قومی و ملی نظمیں اس کی دلیل ہیں۔

اقبال سہیل کی سیاسی نظموں کی دو قسمیں ہیں ۔پہلی قسم میں وہ نظمیں ہیں جو ہندستان کے حالات و اقعات پر مشتمل ہیں ۔اور دوسری قسم ان نظموں کی ہے جو عالمی حالات و واقعات پر ہیں ۔عالمی حالات میں بالعموم مسلمانوں یا مسلم ملکوں کے حالات ان کے پیش نگاہ ہیں ۔ایسے مواقع پر اقبال سہیل کے یہاں علامہ شبلی والی ہمدردی اور انسانی اخوت بلکہ ایمانی اخوت کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے ۔شبلی کی طرح اقبال سہیل بھی ترکوں کی حمایتی اور مداح ہیں ۔ان کا بھی سینہ مسلمانوں کی تکلیف و پریشانی پر چھلنی ہوجاتا ہے ۔

ان کی سیاسی نظموں کے تعلق سے آل احمد سرور نے لکھا ہے کہ :

’’شبلی نے اپنی سیاسی نظموں میں جس شگفتگی اور حسن کاری سے کام لیا تھا،وہ مولانا سہیل کے یہاں اور بھی نکھری ہوئی ہے۔افسوس یہ ہے کہ وکالت اور ہنگامی سیاست کی مصروفیات نے مولانا کو اپنے تجربات کی تنظیم کرنااور سطحی اور گہرے حقایق میں فرق کرنا نہیں سکھایا۔‘‘

(محمد حسن انٹر کالج میگزین،(اقبال سہیل نمبر)۱۹۵۳۔ص۔۴۲)

اقبال سہیل نے شخصی نظمیں بھی لکھی ہیں۔ان نظموں میں انھوں نے شخصی حوالے سے جو بات کہی ہے ،وہ تو اس شخص کا بنیادی وصف ہے۔ لیکن انھوں نے اس پورے سیاسی صورت حال اور مختلف واقعات کو سامنے رکھ کر شخصیت کے مختلف پہلو ؤ ں کو اپنی نظم کا حصہ بنایا ہے۔اقبال سہیل نے ’ترانۂ وطن ‘کے نام سے ایک نظم لکھی ہے۔جس کے ہر بند سے ان کی سچی عقیدت اور ملک کی آزادی کی بیتابی نظر آتی ہے۔علامہ اقبال نے ’سارے جہاں سے اچھا ۔۔۔‘‘لکھا،تو اقبال سہیل نے بھی اپنے ملک عزیز کو مختلف چیزوں سے تشبیہ دی ہے۔نظم کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو:

ہمارا وطن ہے ہمارا وطن

زمانے کی آنکھوں کا تارا وطن

ہمیں ساری دنیا سے پیا را وطن

تو غیروں کے پھندے سے آزاد ہو

پشیمان باہر کا صیاد ہو

دکھا دے یہ دلکش نظارا وطن

غلامی کا مٹ جائے دامن سے داغ

جلے گھر میں مسجد سے پہلے چراغ

چمک جائے تیرا ستارا وطن

بدیسی کا جب لوگ دیتے ہیں ساتھ

پشیمانی ہی ان کو لگتی ہے ہاتھ

ہے ایسوں سے لازم کنارا وطن

(انتخاب کلام اقبال سہیل۔ ضیاء الدین اصلاحی۔اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنٔو۔1989۔ص۔42)

درج بالا نظم کے حصے سے اقبال سہیل کو ملک عزیز سے سچی عقیدت نظر آتی ہے۔جہاں ایک طرف ہندوستان کو زمانے کی آنکھوں کا تارا کہتے ہیں،تو دوسری طرف ساری دنیا سے پیارا وطن قرار دیتے ہیں۔اور ساتھ ہی ساتھ اپنی اس تمنا کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ جب ہندوستان غلامی کی زنجیر سے آزاد ہوگا،یہ آزادی جہاں محب وطن کے لیے باعثِ مسرت ہوگی تو وہیں انگریزوں کی رسوائی کا ذریعہ بھی بنے گی۔یہاں لفظ ـــ’پشیمان‘،’باہر‘ اور’ صیاد‘قابلِ غور ہیں۔پشیمانی ظاہر ہے ناکامی کی علامت ہے۔ لفظ باہر سے مراد صرف انگریز ہی نہیں ہیں،بلکہ وہ تمام لوگ ہیں،جو انگریزوں کے ساتھ تھے۔کیونکہ اس کی وضاحت اقبال سہیل نے اگلے بند میں خود کر دی ہے،کہ جو لوگ بدیسی کا ساتھ دیتے ہیں شرمندگی ان کا بھی مقدر ہوگی۔تیسرا لفظ ’صیاد‘اپنے آپ میں بہت بلیغ اور وسیع معنی میں اقبال سہیل نے اپنی نظموں میںاستعمال کیا ہے۔صیاد کے مقابلے میں لفظ’صید‘کا نہیں’اسیر‘کااستعمال کیا ہے۔صیاد ظاہر ہے کہ شکاری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔لیکن جس طرح سے شکاری وقتی ہوتا ہے،اسی طرح سے اسیری بھی وقتی ہی ہوتی ہے۔ان دونوں لفظوں کو اقبال سہیل نے اپنی نظموں میں ملک عزیز کی آزادی سے تعبیر کیا ہے۔اس عہد خاص طور پر قومی اور وطنی شاعری میں یہ الفاظ خاصی اہمیت کے حامل تھے ۔اس تناظر میں شکاری دراصل انگریز تھے،جنھوں نے جنت نشان ہندستان کا شکا ر کیا تھا ۔

اقبال سہیل کی سیاسی و قومی شاعری کا مقصد یہ تھاکہ ہندوستان کو مکمل طور پر آزادی نصیب ہو۔جب 15/اگست1947 کو ملک آزدا ہوا تو اقبال سہیل کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔انھوں نے اس خوشی و مسر ت کے ماحول میں کئی نظمیں لکھیں۔جن میں ایک نظم ’’نغمۂ بیتاب‘‘کے عنوان سے لکھی تھی۔جس میں ہندوستانی جوانوں کی بڑائی بیان کی ہے اورانگریزوں پر طنز بھی کیا ہے۔ ملاحظہ ہو اقبال سہیل کا انداز:

تیور جو اسیروں کے بگڑے،صیاد کی ہمت چھوٹ گئی

اے ذوقِ جنوں تیرے صدقے،زنجیر ِ غلامی ٹوٹ گئی

 

باندھے ہوئے اپنے سرسے کفن،نکلے جو فداکارانِ وطن

صیاد کا زہرا آب ہوا ،نبض اہلِ وفا کی چھوٹ گئی

 

گلزارِ وطن آباد ہوا،ہر سروِ چمن آزاد ہوا

رخصت وہ ستم ایجاد ہوا،وہ قہر گیا،وہ لوٹ گئی

 

مل جل کے کرو تعمیر ِ وطن ،ایسا نہ ہو طعنے دیں دشمن

ساجھے کی پکائی تھی ہنڈیا،چوراہے پہ آخر ٹوٹ گئی

(کلیات اقبال سہیل۔اقبال سہیل۔ دارالمصنفین،شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ۔2011 ۔ ص132 )

انگریزوں سے اقبال سہیل کی نفرت کتنی شدید تھی،اس کا اندازہ ان کے کلام سے لگایا جا سکتاہے۔ درج بالا آخری شعر کو پڑھنے سے ایسا لگتا ہے کہ اقبال سہیل کو کسی چیز سے ڈر تھا۔اسی لئے انھوں نے کہا تھا کہ مل جل کر اپنے وطن کی تعمیر کرو،ورنہ انگریز طعنے دیں گے۔کچھ تو انھوں نے سیاسی صورت حال کے پیش نظر اندازہ کر لیا تھا ۔لیکن خوشی کے اس عالم میں وہ اس خیال کو پس پشت ڈال کر اخوت و محبت اور قومی یکجہتی کا گیت گا رہے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن کی آزادی اقبال سہیل کے خوابوں کی تعبیر تھی۔جشن آزادی(15/اگست 1947)کے موقع پر اعظم گڑھ میں انھوں نے ایک طویل نظم’’مبارکبادِ آزادی‘‘لکھی۔اس نظم کا ہر مصرعہ جذبات و مسرت میں ڈوبا ہوا ہے۔ خوشی و مسرت کے ساتھ ساتھ اقبال سہیل نے مجاہدانِ وطن کی خدمت میں نذرانۂ عقیدت بھی پیش کیا ہے۔جن کی قربانیوں سے ہندوستان آزاد ہوا۔اوران لوگوں کو اس فتح کی خوشخبری بھی سنا رہے ہیں،جنھوں نے وطن کی آزادی کے لئے اپنی جان قربان کر دیں۔چنانچہ اقبال سہیل ایسے لوگوں سے کچھ اس طرح مخاطب ہیں:

دنیا سے اٹھے داس بھی نہرو بھی نہیں ہیں

نیتا جی خدا جانے کہاں گوشہ نشیں ہیں

پھر بھی یہی کہتے ہیں جو ارباب ِ یقیں ہیں

جسم ان کے کہیں ہوں مگر ارواح یہیں ہیں

اور وہ بھی ہیں اس جشنِ مسر ت سے مگن آج

دنیا ہی میں تنہا نہیں یہ جشن ِ خداداد

فردوس میں بھی پہونچی ہے اس جشن کی روداد

سندھی یہ خبر سن کے ہوئے خرم و دلشاد

مسرور ہیں مملوک علی، قاسم و امداد

دیتے ہیں خبر خلد سے محمودحسن آج

(ایضاً۔ص۔۱۳۴)

اقبال سہیل کے یہ جذبات اور خوشی دونوں بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکے۔ کیونکہ آزادی کے بعد تقسیم ملک کی وجہ سے تخریب کاروں کی سر گرمیوں سے ملک میں بہت سے فسادات ہوئے۔اور فساد کی انتہا یہ رہی کہ ،جن کی رہنمائی میں آزادی نصیب ہوئی(گاندھی جی)ان کو بھی شہید کر دیا گیا۔آزاد ہندوستان میں اس طرح کی فضا دیکھ کر شاعر کا احساس مجروح ہونے لگا۔ کیونکہ اقبال سہیل نے جس اتحاد واتفاق کے ذریعہ ملک کی تعمیر نو کا خواب دیکھا تھا،وہ تو شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔اور وہ اس نا اتفاقی اور منافقت سے اس قدر د ل برداشتہ ہوئے کہ ۱۵/اگست ۱۹۴۸ کے موقع پر ’’یومِ آزادی ‘‘کے عنوان سے لکھی تھی۔ اس نظم کے ایک ایک مصرعے سے مایوسی جھلکتی ہے۔ کہنے اور کرنے کے مابین جو بنیادی فرق ہے ،وہ اس ملک کے سیاسی لوگوں کا حربہ روزِ اول ہی سے دکھنے لگا تھا۔ البتہ بجائے اس کے کہ اس میں تنزلی آئے روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔اس تناظر میں اقبال سہیل کی نظم کا یہ حصہ اپنے آپ میں بہت کچھ بیان کرتا ہے۔

یہ مانا آج بھی ہر چیز کی بے حد گرانی ہے

وہی خود غرضیاں ہیں دیس کی سیوا زبانی ہے

دلوں میں کھوٹ ہے لب پر صفائی کی کہانی ہے

سبق برطانیہ کا ہے، زباں ہندوستانی ہے

نظامِ کہنۂ سرمایہ داری اب بھی قائم ہے

غریبوں کا غمِ بے روزگاری اب بھی قائم ہے

(ایضاً۔ص۔۱۳۷)

اقبال سہیل نے یہاں یہ نہیں کہا کہ ہر چیز کی گرانی ہے،بلکہ یہ کہا کہ بے حد گرانی ہے۔ انھوں نے اپنے درد کا اظہار اسی انداز میں کیا ہے۔انگریز ہندوستان سے جا چکے تھے۔ حکومت ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آچکی تھی۔باو جود اس کے حالات نہیں بدلے ۔کیونکہ ملک کی فضا اب بھی تعصب اور فرقہ پرستی کے احساس سے مکدر ہے۔اقبال سہیل کوان سب چیزو ں کو دیکھ کر تکلیف کا احساس اس لئے زیادہ تھا کہ ،انھوں نے پہلے غلامی سے آزادی کا خواب دیکھا۔اور حصولِ آزادی کے بعد جس یگانگت اور بھائی چارے کا تصور انھوں نے کیاتھا،وہ کبھی عملی شکل میں آیا ہی نہیں۔آزادی کے بعد اپنی آنکھوں سے سب کچھ لٹتا ہوا دیکھ کر تڑپنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔لیکن اقبال سہیل وہ ایک سچے محبِ وطن تھے۔انھوں نے ان تمام کے باوجود تسکین ِ قلبی کے لئے اسی نظم کے آخر میں کہتے ہیں:

ہمیں شکوہ کا کیا حق جب ہماری ہی حکومت ہے

نہ مسلم کی نہ ہندو کی یہ جمہوری حکومت ہے

یہ اپنا دیس ،اپنا راج ہے اپنی حکومت ہے

یہ آزاد و جواہر لال نہرو کی حکومت ہے

فدا اس کی حفاظت میں ہم اپنی جان کر دیں گے

وطن پر سب متاعِ زندگی قربان کر دیں گے

(ایضاً۔ص۔۱۳۸)

اقبال سہیل نے یہاں بھی اپنے درد کے ساتھ ساتھ اپنی مایوسی کا اظہار بڑی سادگی سے کیا ہے۔کتنا معنی خیزسوال ہے کہ ہمیں شکوہ کاکیا حق ہے؟اور پھر خودہی کہتے ہیں کہ جب حکومت ہمار ی ہے ،جنگ آزادی میں کسی نے مذہب کے نام پر نہیں ملک کے نام پر اپنی جان کی بازی لگا کر فتح حاصل کی تھی۔اور یہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ آزادی کے بعد ہمیں مذہب کے نام پر تقسیم کر دیا جائے گا۔جس اتحاد واتفاق سے آزادی حاصل کی گئی تھی ،وہ تو باقی نہیں رہی۔ اس لحاظ سے اقبال سہیل کا یہ کہنا ہے کہ ’’نہ مسلم کی نہ ہندو کی یہ جمہوری حکومت ہے‘‘بہت بڑا طنز ہے۔لیکن اس طنز اور سوال و جواب میں مخفی ،وطن سے محبت ہے۔اس بند کے آخری دونو ں مصرعے اسی محبت کا اظہار ہے۔اقبال سہیل نے ایک نظم ’’منظر رخصت‘‘کے عنوان سے لکھی تھی۔دراصل یہ نظم اس واقعہ کی جیتی جاگتی تصویر ہے ،جب انگریز ہندوستان سے واپس جا رہے تھے۔یہاں ایک طرف طنز ہے تو دوسری طرف اسی طنز میں چھپے ہندوستانی تہذیب کا کتنا خابصورت منظر کھینچا ہے۔ یہ عام ہندوستانیوں کی پہچان ہے کہ وہ بہت جلد لوگوں سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ دشمن ہی کیوں نہ ہو،لیکن اس کی رخصتی کچھ پل کے لیے آنکھیں نم کر جاتی ہے۔اسی تناطر میں اقبال سہیل کی نظم کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:

اے اہل وفا ماتم نہ کرو،وہ وعدہ شکن گر جاتا ہے

جاتا ہے مسافر غم نہ کرو ،مہماں ہی تھا گھر جاتا ہے

وہ دور مسرت آنے دو،قومی پرچم لہرانے دو

جاتی ہے غلامی جانے دو صدیوں کا دلدر جاتاہے

مل جل کے بڑھاؤ شان وطن ،تعمیر کرو ایوان وطن

ماں جائے ہیں فرزندان وطن،جو غیر تھا باہر جاتاہے

اٹھو یہ چمن شاداب کرو،اب غاصب خودسر جاتا ہے

بھائی سے خفا بھائی کب تک ،باہم یہ صف آرائی کب تک

(ایضاًص۔۱۳۰۔۱۳۱)

اقبال سہیل کی یہ ایک طویل نظم ہے۔جس میں انھوں نے انگریزوں کی ظالمانہ پالیسی کی مذمت کی ہے۔اور اپنے ہم وطنوں کو مسرت کا پیغام دیا ہے۔ایک طرف اپنے ہم وطن سے’اہلِ وفا‘کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں تو وہیں انگریزوں کو ’وعدہ شکن،مسافر اورمہمان‘جیسے الفاط سے یاد کرتے ہیں۔ ۔اقبال سہیل اس نظم میں جہاں ایک طرف ہندوستانیوں کو مسرت کا پیغام سناتے ہیں ،وہیں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو حاصل کرنا تھاوہ کر لیا۔اب اصل امتحان یہ ہے کہ اپنے ملک کی ترقی اور تعمیر نو کے لیے مل جل کر کام کریں۔لیکن یہ کیا کہا جائے کہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آزادی کی صبح بجائے خوشی کی کرن لانے کے،ملک میں سیکڑوںبے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔قتل وغارت گری کا اتنا بھیانک منظرپڑھ کر دل لرز اٹھتا ہے،اور آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔جن لوگوں نے ملک کی تعمیر وترقی کے خواب دیکھے تھے،ان کے لیے وہ پل کتنا تکلیف دہ رہا ہوگا،اس کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہے۔

اقبال سہیل کی نظموں کا ایک خاص امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے بلا کسی تفریق کے وطن کی عظیم شخصیات کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ان کے کارنامے کو اپنے لیے موضوع سخن بنایا ہے۔اس ضمن میں پنڈت جواہر لال نہرو،سروجنی نائیڈو،مہاتما گاندھی اور مولانا محمد علی جوہر کے نام خصوصیت سے لیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور سے وہ نظم جسے انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی یاد میں لکھاہے۔اس نظم میں انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی ایسی تصویر پیش کی ہے، جیسے پورا منظر نظروں کے سامنے آگیاہے۔ایک فنکار کا سب سے بڑاکمال یہ ہوتا ہے کہ وہ جس کی بھی تصویر پیش کرے،وہ جیتی جاگتی نظر آنے لگے۔اس نظم میں اقبال سہیل نے پنڈت جواہر لال نہرو کی شخصیت کے مختلف پہلو کو بیان کیا ہے۔ خاص طور پر جنگ آزادی میں ان کا جو کردار رہا ہے۔اقبال سہیل نے ان کی تصویر کشی کرنے کے لیے ایسی لفظیات کا سہارا لیا ہے کہ ایک ایک لفظ سے پنڈت جواہر لال نہرو کی شخصیت اور ان کا کردار جھلک رہا ہے۔

کھدر اس پھول سے بدن پر

غیرت دہ اطلس مشجر

اخلاص کی دلفریب تصویر

ایثار کا جاں نواز پیکر

اخلاق کی صورتِ مجسم

ایمان کا شعلہ مصور

ہند اس کے فیض سے چراغاں

ملک اس کے قدوم سے منور

الفاظ میں شہد کی حلاوت

انداز میں جلوۂ گل تر

آزادیٔ ہند کا ہراول

حزب ِوطن کا میر لشکر

وہ راست بیان وراست کردار

وہ پاک سرشت پاک گوہر

ہندو مسلم کرسچین سکھ

سب اس کے خلوص کے ثناگر

(ایضاً۔ص۔90-91

اقبال سہیل نے پنڈت جواہر لال نہرو کی بہترین تصویر نظم کے پیرائے میں بیان کی ہے۔ایک ایک لفظ سے انھوں نے پنڈت نہرو کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پنڈت نہرو کے جسم کے لیے’ پھول سے بدن ‘کا استعمال کیا ہے۔جو کئی معنوں میں بہت کچھ بیان کرتا نظر آ رہا ہے۔کھدر کا لباس ان کی غیرت و حمیت اور ملک کی آزادی میں انھوں نے جو قربانی دی ہے،یہ لباس اس کاظاہری ثبوت ہے۔کیونکہ جس ناز و نیاز میں پنڈت نہرو پلے بڑھے ،یہ یقینا ًان کے ایثار کا جاں نواز پیکر ہی ہے۔ ہندوستان کی آزادی میں انھوں نے ہراول دستے ہی کام کیا تھا۔چونکہ اقبال سہیل کو پنڈت نہرو سے بے پناہ عقیدت تھی۔یہ نظم اسی عقیدت کا نتیجہ ہے،جو ان کی یاد میں لکھی گئی ہے۔ یہ نظم اقبال سہیل کے خلوص اور محبت کی بہترین ترجمان ہے۔ا س کے علاوہ بھی اقبال سہیل کی بہت سی ایسی قومی وشخصی نظمیں ہیں جن کا ذکر کیا جا سکتا ہے،جیسے قیادت عظمیٰ،یاد ماضی،زمیندار اور کسان،آئینِ جدید، پیام حق وغیرہ۔

وطن سے سچی ہمدردی اور اخوت و یگانگت کی رنگارنگ تصویریں کلام اقبال میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں ۔آزادی کی چھ دہای گزرنے کے بعد ملک کی جو حالت ہے ، اس کے بیان کی کوئی ضرورت نہیں ۔البتہ آزادی سے کچھ قبل اور بعد کے دنوں میں ادیبوں اور شاعروں کے یہاں قومی ہمدری اور وطنی محبت کاجو رجحان رہا ہے وہ اردو شعروادب کا ایک زریں دور ہے ۔اس سے کسی کو انکار نہیں ۔البتہ اب اس طرح کی نظموں کا رواج کم ہوتا جارہا ہے ۔اقبال سہیل کی ان نظموں سے ان کے سیاسی افکار کامطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اور اندازہ کیا جاسکتاہے کہ جدوجہد آزادی کے دوران  ان کے سیاسی خیالات کیا تھے اور وہ کیا چاہتے تھے ۔اقبال سہیل کے متعلق ڈاکٹراحسن بیگ نے لکھا ہے:

’’سہیل ہندوستان کی تقسیم کی شدت سے مخالفت کرتے تھے۔انھوں نے یہاں کے عوام کو قومی یکجہتی اور اتحاد کے جذبے سے سرشار کیا۔فرقہ پرست عناصر کی تخریبی سرگرمیوں کی کھل کر مذمت کرتے تھے۔وہ اس احساس کا درس دیتے تھے کہ یہ تفرقے انگریزی حکومت کی حکمت عملی کا نتیجہ  ہیں تاکہ  وہ اپنی حکومت کی بنیادوں کو ملک کے گوشہ گوشہ میں مستحکم کر سکیں۔وہ امن وآشتی ،اخوت و محبت اور ریشہ دوانیوں پر تنقید کرنے سے احتراز نہیں کرتے تھے۔‘‘

(اقبال سہیل کی قومی شاعری۔مضمون نگار،ڈاکٹر احسن بیگ۔ نیا دور،مارچ 1988۔ص۔ 23)

اقبال سہیل کو انگریزوں سے دشمنی کی دو وجہیں تھیں۔ایک تو انگریزوں نے ہندوستان کو غلام بنایا تھا۔ دوسرے ان کے ملی احساس کا بھی نتیجہ تھا جو کہ اس دور میں مسلمانوں اور اسلام پر مسلسل حملہ کیا جا رہا تھا۔جس طرح سے مولانا شوکت علی،مولانا محمد علی جوہر، حسرت موہانی اور علامہ اقبال ملت اسلامیہ کی تباہی پر ماتم کناں تھے،اسی طرح سے اقبال سہیل نے بھی اپنے درد و غم کا اظہار اپنی نظموں میں کیا ہے۔انھوں نے مذہبی وملی موضوعات پر کئی معرکۃآرا نظمیں لکھی ہیں۔ جن میں رویائے صادقہ، جنونِ آرزو، فتحِ سمرنا، پرچمِ اسلامیہ اور پیام حق قابل ذکر ہیں۔ خاص طورسے ’’رویائے صادقہ‘‘ کا ہر شعر جذبۂ اسلامی سے سرشار ہے ۔ یہ ایک طویل نظم ہے،جسے اقبال سہیل نے 1930 میں لکھا تھا۔اس نظم نے مسلمانوں کے دلوں میں ترکوں کی حمایت کا جذبہ پیدا کیا اور انگریزوں کے خلاف نفرت کا ماحول تیارکیا۔اس سے اقبال سہیل کے قومی و ملی جذبے کی عکاسی بھی ہوتی ہے ۔اقبال سہیل کہتے ہیں :

دیکھ کر یہ برق و باراں کا سماں ،دل نے کہا

دیکھیں اس آغاز کا ہوتا ہے کیا انجام کار

بارش رحمت کا دیکھیں کس پہ ہوتا ہے نزول

کس پہ گرتی ہے یہ بجلی بن کے قہر کردگار

کر رہا تھا میں یہی باتیں دلِ بے تاب سے

دفعتاً مجھ کو نظر آیا سمرنا کا دیار

دیکھتا کیا ہوں کہ اک ہنگامۂ محشر ہے گرم

چارسو سے آرہی ہے اک صدائے گیر و دار

وہ جو بارش ہو رہی تھی آسماں سے نور کی

اس کی ہر اک بوند تھی دراصل درِشاہوار

(ایضاً۔ص۔98)

اقبال سہیل نظم کے آغازمیں عالمِ خواب میں جوش ملی سے مغلوب ہو کر کراچی کی جیل تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ پوری نظم تصورات کا اعلی نمونہ ہے۔چونکہ اسی نظم کے آخر میں اقبال سہیل کا دل یہ کہتا ہے کہ اب دیکھتے ہیں کہ رحمت کا نزول کس پر ہوتا ہے،اور بجلی کس پر قہر بن کر ٹوٹتی ہے۔اقبال سہیل کو لگتا ہے کہ یہ مظلوموں کے آہوں کے شرارے ہیں،جو کسی کے لیے رحمت ہے،اور کسی کے لیے زحمت۔ کیونکہ شاعر ابھی اپنے دل سے یہی باتیں کر رہا ہوتا ہے کہ اچانک’’سمرنا‘‘کا دیار اس کی نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے ۔جہاں بہت ساری چیزوں کا ایسا تصورشاعر نے کیا ،جو ان کی خوشی کا ذریعہ بنا۔لیکن حقیقت میں’’پھر وہی میں اور وہی ہنگامۂ لیل ونہار‘‘اس خواب کی تعبیر ہے۔

اقبال سہیل کی اس طرح کی ملی نظموں میں ایک نظم ’’جنونِ آرزو‘‘ ہے۔ اس نظم میں انھوں نے ترکی کے عظیم رہنما مصطفی کمال پاشا کی شخصیت کو اجا گر کیا ہے۔ چونکہ مصطفی کمال پاشا نے ترکی کی جنگ آزادی میں اپنا غیر معمولی کردا ر ادا کیا تھا۔اقبال سہیل ان کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔ اس نظم میں انھوں نے اپنی قومی و ملی جذبات کے ساتھ ساتھ مصطفی کمال پاشا سے بھی اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔

تاجِ عثمانی کے مالک جب ہوئے ملت فروش

بن گئے احرار جب اغیار کے حلقہ بگوش

مٹ چکے تھے ولولے جب ملتِ آزادکے

شعلۂ ایماں بھڑک کرہو چکا تھا جب خموش

روز کی ناکامیوں نے ہمتیں کردی تھیں پست

مٹ چکا تھا ملت غازی کا جب جوش وخروش

قہر تھا تہذیب مغرب کا تسلط ہر طرف

شہر کے شہر ایک دام میں ہو رہے تھے شعلہ ہوش

ہے فقط آزادیٔ ملت نظر کے سامنے

ما سوا سے بند کر رکھے ہیں گویا چشم و گوش

(ایضاً۔ص۔۹۴)

اقبال سہیل نے اس پورے بند میں تاریخ ِ ترک بیان کی ہے۔اور یہ تاریخ یقیناً کسی کا بھی حوصلہ پست کر دینے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ جس کا ماضی اتنا تابناک گزرا ہو،اور وہی قوم کسی کی ما تحت ہو جائے تو یقیناً حوصلہ پست ہوہی جائے گا۔لیکن اقبال سہیل اس نظم کے تیسرے اور آخری بند میں ’’ جنونِ آرزو‘‘سے مخاطب ہو کر ملت کو افسردگی سے پیام ِ حیات اس انداز میں دیتے ہیں:

اے جنونِ آرزو،اے جوشِ طوفانِ حیات

تیرے دم سے ہے وابستہ پیمانِ حیات

زندگی شاید اسی کو سمجھے ہیں اربابِ ہوش

اہلِ دل کہتے ہیں جس کو داغِ دامانِ حیات

کس نے اس سادہ ورق کا زندگی رکھاہے نام

خون کے چھینٹوں سے ہے گل رنگ دامانِ حیات

ملتِ افسردہ سے کہہ دے کوئی میرا پیام

زندہ رہنا ہے تو پیدا کیجئے شانِ حیات

(ایضاً۔ص۔۹۵)

اقبال سہیل کی ایک نظم ’’فتح سمرنا‘‘ کے عنوان سے ہے۔یہ سمرنا وہ جگہ ہے جسے فتح کرنے کے ساتھ ہی ترکی نے یونانیوں کے چنگل سے خود کو مکمل آزاد کرا لیا تھا۔سمرنا جسے تعلیم وتہذیب کا گہوارہ ماناجاتا رہا ہے۔ یونانیوں نے 1919 میں اس پر قبضہ کیا تھا۔لیکن مصطفی کما ل پاشا نے 1922 میں آزاد کرالیا۔جس میں ہزاروں کی تعداد میں جانیں گئیں۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس فتح کے سب سے بڑے ہیرو مصطفی کمال پاشا تھے۔ اقبا ل سہیل کو ترکوں سے جذباتی لگاؤ تھا۔اوروہ  یونانیوں کے سخت مخالف تھے۔ یہ پوری نظم اسی جیت کا منظوم خراجِ تحسین ہے۔ جہاں اپنے تابناک ماضی سے اس فتح کو جوڑ کر اپنی تاریخ کو بڑے منظم طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔یہ فتح بظاہر ترکی کی ہوئی تھی، لیکن اس موقع پر پورے ہندوستان میں خوشی کااظہار کیا گیا تھا۔اوراسی خوشی میں اقبال سہیل نے ایک نظم ’’پرچم ِ اسلامیاں‘‘ لکھی تھی۔کیونکہ فتح کی اس خوشی میں ہندوستان میں بھی رایتِ اسلام کی پرچم کشائی کی گئی تھی۔اقبال سہیل کہتے ہیں:

الٰہی شکر تیرا آج امیدِ دل بر آئی ہے

وطن میں رایتِ اسلام کی پرچم کشائی ہے

یہ پرچم ان کا ہے جو رہنما ہیں ملک و ملت کے

محافظ ہیں جہاں میں جو کتاب اللہ و سنت کے

یہ پرچم ان کا ہے جو قاسمِ فیضِ رسالت ہیں

یہ پرچم ان کا ہے جو مظہرِ شانِ خلافت ہیں

اگر واللیل کی تفسیر ہے اس کی سیاہی میں

تو شرحِ والضحیٰ پنہاں بیاض ِ صبر گاہی میں

(ایضاً۔ص۔۸۲)

اقبال سہیل کی بہت سی ایسی نظمیں ہیں جو مکالماتی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ’’مکالمۂ جبریل و ابلیس ‘‘ سوال و جواب کے ذریعہ جس طرح سے دونوں کی گفتگو مکالماتی انداز میں بیان کی گئی ہے ،وہ بہت دلچسپ ہے۔گیان چند جین نے ایک نظم ’’ ابلیس اور حور‘‘ کے عنوان سے لکھی ہے۔ اقبال سہیل نے اپنی نظم ’ناصح و مجنوں‘کے عنوان سے لکھی ہے۔ اگر اس نظم کا تجزیہ کیا جا ئے تو کا فی دلچسپ ہوگا۔علامہ اقبال کی نظم میں پہلے جبریل نے ابلیس کو ہمدم دیرینہ کہہ کر مخاطب کیا ہے ۔گیان چند جین کی نظم میں ابلیس حور سے’  اف بڑی ویران ہے ، سنسان ہے تیری بہشت ‘کہہ کر مخاطب ہوتا ہے۔لیکن اقبال سہیل اپنی اس مختصر سی نظم میں فلسفۂ حسن وعشق کو بڑے دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔دونوں(ناصح اورمجنوں)کرداروں کے سوال و جواب کا انداز اقبال سہیل کی اس نظم کو خاص بناتا ہے۔پہلے ناصح کا انداز تخاظب ملاحظہ ہو:

کسی بے درد ناصح نے کہا اک دن یہ مجنوں سے

غمِ لیلیٰ میں کیوں کرتا ہے ظالم آہ وواویلا

ترے اس نالہ و شیون سے کب وہ رام  ہوتا ہے

ذرا کچھ عقل کے ناخن لے اتنا پاؤں مت پھیلا

تر اکیا منھ جو اس غارت گرِ ایماں کا طالب ہو

شعاعِ مہر چھو جانے سے جس کا رنگ ہومیلا

ناصح کی یہ بات سن کر مجنوں نے ناصح کو جو جواب دیا ہے ،وہ مجنوں کے سوال سے کہیں بلند ہے۔مجنوں کہتا ہے:

یہ طعنے سن کے مجنوں نے کہا اے ناصح نوداں

خدا غارت کرے مجھ کو جو ہوں میں طالب لیلا

نہ کوئی بوالہوس ہوں میں نہ رندِ بادہ کش ہومیں

کہ ساقی سے کہوں،یہ رام لے ساغرِ مے لا

دیا ہے جس نے گر ان کو شوقِ ناوک اندازی

ہمیں بھی عشق نے بخشا ہے ذوقِ آہ وواویلا

(ایضاً۔ص۔۱۲۹)

درج بالا نظم سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال سہیل نے نہ صرف یہ کہ اپنی بات کہی ہے،بلکہ دونوں کے لیے جس طرح کی گفتگو کاانداز اپنایا ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نفسیات پر کتنی گہری نظر تھی۔اقبال سہیل نے دونوں کی فلسفیانہ گفتگو کو نظم کے پیرائے میںبہت خوب صورتی سے ڈھالا ہے۔

اقبال سہیل نے مختلف انگریزی نظموں کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا ہے۔اس ضمن میں بھی اردو کے بڑے شعراء کا نام لیا جا سکتا ہے ۔اس ضمن میں اخترالایمان، ن۔م۔راشد اور حامد حسن قادری کا نام بطورخاص لیا جا سکتا ہے۔ جنھوں نے دوسری زبان کی نظموں کااردو میں منظوم ترجمہ کیا ہے۔اقبال سہیل کو ترجمے میں کتنی مہارت حاصل تھی،اس کا اندازہ سر طامس مور(Sir Tomas moore)کی نظم(The last rose of summer)کا منظوم ترجمہ ’’موسمِ گرما کا آخری گلاب‘‘سے لگایا جا سکتا ہے۔جس کا انھوں نے تین مختلف انداز میں ترجمہ کیا ہے۔پہلے سرطامس کی نظم کا کچھ حصہ ملاحظہ کریں،تاکہ اقبال سہیل کے ترجمے کی فنی خوبی کا اندازہ کیا جا سکے:

It is the last rose of summer

left blooming alone

All her lovely companion

Are faded and gone

اس حصے کا پہلا ترجمہ اقبال سہیل نے قطعہ بند کے فارم میں کیا ہے۔ملاحظہ ہو:

گرمیوں کا یہ آخری ہے گلاب

جو اکیلا کھلا ہے گلشن میں

غنچہ وگل جو اس کے تھے احباب

جا چھپے سب فنا کے دامن میں

(ایضاً۔ص۔125)

دوسرا ترجمہ مثنوی کے فارم میں کیا ہے۔ملاحظہ ہو:

یہ موسم ِ گرما کا گلِ باز پسیں ہے

اب باغ میں اس کا کوئی ہم بزم نہیں ہے

تھا جو بھی چمن زاد وہ دنیا سے سدھارا

بے چارہ یہی رہ گیا تقدیر کا مارا

(ایضاً۔ص۔124)

تیسرا ترجمہ غزل کی ہیئت میں کیا ہے۔

یہ کھلا ہے ختم ِ بہار پر،جو چمن کا غنچۂ آخریں

ہے عجیب منظرِ بے کسی ،کوئی اہلِ بزم نہ ہم نشیں

جو کھلے تھے پھول وہ جھڑ گئے،جو رفیق تھے وہ بچھڑ گئے

گلِ نو شگفتہ کوئی نہیں،کوئی نا شگفتہ کلی نہیں

(ایضاً۔ص۔127)

اقبال سہیل کے ان منظوم تراجم سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں دونوں زبانوں پر کتنا عبور حاصل تھا۔ان کا یہ منظوم ترجمہ پڑھنے کے بعد یہ اندازہ کرنامشکل ہے کہ اصل میں روانی اور سلاست زیادہ ہے یا ترجمے میں۔اسی طرح سے اردو شاعری میں مناظر فطرت ایک پسندیدہ موضوع رہا ہے۔اردو کے اور بھی دوسرے شعرا ہیں جن کے یہاں مناظرِ فطرت کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔اقبال سہیل کی بعض نظمیں بھی مناظر فطرت اور فطرت نگاری کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔انھوں نے اپنی نظموں کے ذریعہ ایسی منظر کشی کی ہے ،جیسے لگتا ہے کہ کو ئی مصور تصویر بنا رہا ہے۔اقبال سہیل کی نظم’’کوہِ مسوری‘‘کو اس ضمن میں بطور خاص پیش کیا جا سکتا ہے۔مناظر فطرت کا اتنا دلکش انداز بہت کم ملتا ہے۔مناظر فطرت سے متعلق چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

مرحبا کوہِ مسوری یہ تری شانِ جمال

تیری چوکھٹ چومتے ہیں سرفروشانِ جمال

یہ فلک فرسا بلندی پیکر شان و شکوہ

یہ بہشت آشوب رنگ آرائیاں جانِ جمال

تیری برف آلودہ چوٹی بن گئی آئینہ دار

دیکھنی چاہی شعاع خور نے جب شان ِجمال

صبح دم پھولوں پہ وہ اک کہر سا چھا گیا

کھل گئی ہے نیند میں یا زلفِ پیچانِ جمال

 

ہے ہوا اس سر زمیں کی یا شراب زندگی

پھر دل افسردہ میں ہے التہامِ زندگی

روح کو صحرائے غربت میں ملا درسِ سکون

تھی وطن کی زندگی تو خود حجاب زندگی

تیری آنکھوں سے نہاں ہے چشمۂ آب حیات

روز و شب سے تو لگاتا ہے حساب زندگی

(ایضاً۔ص۔123۔124)

اقبال سہیل کی ایسی بہت سی نظمیں ہیں،جس میں انھوں نے ہندوستانی تہذیب وثقافت کی بڑی خوبصورت ترجمانی کی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقبال سہیل کو ہندوستان کے ذرے ذرے سے محبت تھی۔انھوں نے اپنی اس محبت کا اظہار ہندوستانی رسم و رواج،یہاں کی فصلوں اور موسموں کے ساتھ ساتھ یہاں کے تیوہاروں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔اس سلسلے کی ایک نظم انھوں نے’’بہ تقریب جشن ہولی مہاراجہ الور‘‘کے عنوان سے لکھی ہے۔اس نظم کی ابتدا میں اقبال سہیل موسمِ بہار کی منظر کشی کی ہے۔موسمِ بہار میں ایسا لگتا ہے کہ ہر چیز نہا دھو کر آئی ہے۔اس حصے میں اقبال سہیل نے بڑے فنکارانہ انداز میں موسمِ بہار کی بنیادی وصف کا ذکر کیا ہے۔اور اس سے جڑے ہوئے فائدے بھی اس نظم کا حصہ ہیں۔اقبال سہیل نے ان سب کا بڑی تفصیل اور پر لطف انداز میں بیان کیا ہے۔نظم کے دوسرے حصے میں انھوں نے ’الور‘کے مہاراجہ کی شخصیت اور ان کی سیرت نگاری کے ساتھ ساتھ ان کے نظامِ حکومت کی تعریف و توصیف کی ۔ مہاراجہ کی نظامِ حکومت کی تعریف اقبال سہیل نے کچھ اس انداز میں کی ہے:

جواں دولت ،جواں ہمت،جواں راجہ کے سایہ میں

کہن سالی میں بھی ہے،صاحبِ بخت ِ جواں الور

وہی اگلی سی خوش حالی،وہی دورِ خوش اقبالی

کہ پھر دہرا رہا ہے داستانِ پاستاں الور

مسلماں ہو کہ ہندو ہو،یگانہ ہو کہ بیگانہ

ہے یکساں مثلِ نخلِ سایہ گستر ہم زباں الور

یہ عظمت پاستانی ہے،قدیمی راجدھانی ہے

کہ صدیوں سے رہا ہے صاحبِ لیل و نشاں الور

(ایضاً۔ص۔142)

درج بالا اشعار سے اقبال سہیل کی نہ صرف فنکارانہ حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے، بلکہ تاریخ سے ان کی واقفیت کتنی گہری تھی اس پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ان کی شاعری کی امتیازی خصوصیت ہے کہ بہت سادے پیرائے میں اپنا اظہارِ خیا ل کر تے ہیں۔اقبال سہیل کی اور بھی بہت سی ایسی نظمیں ہیں (جو ان کے کلیات میں شامل ہیں)،جن پر گفتگو کی جاسکتی ہے۔ان کی ایک نظم ’’جگنو‘‘حسن مصوری اور پیکر تراشی کی عمدہ مثال ہے۔اقبال سہیل نے مختلف لوگوں کے’سہرے ‘بھی لکھے۔ سروجنی نائیڈوکی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آمد پر انھوں نے منظوم خیر مقدم کیاتھا۔ انھوں نے جو نظم لکھی تھی،اس کے متعلق رشید احمد صدیقی کے یہ جملے قابلِ توجہ ہیں:

’’دوسری نظم مولانا سہیل نے لکھی۔۔۔۔ترکیبِ ترنم،لطافتِ خیال،نازکیِ تصور،لطفِ بیان، طرفگی تخیل میں وہ خود سروجنی کا پیکرِ شعری تھا۔‘‘

(محمد حسن انٹر کالج میگزین،(اقبال سہیل نمبر)1953۔ص۔18)

اقبال سہیل کی اس خیر مقدمی نظم سے سروجنی نائیڈو بہت متاثر ہوئیں۔اقبال سہیل کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی کہ جو بھی ان سے ملا ،ان کا گرویدہ ہو گیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب ان سے کس درجہ متاثر تھے،اس کا اندازہ ان کے ان جملوں سے ہوتا ہے:

’’پچھلے چالیس سال میں بہت کچھ سنا اور دیکھا مگر میرے دل پر مولانا کی شاعری اور ان کی خطابت کا جونقش کالج کی طالب علمی کے زمانے میں جم گیا تھا،وہ اس وقت بھی اتنا ہی گہرا ہے جتنا اس وقت تھا۔شعر وسخن سے قطعِ نظر ان جیسا ذہین شخص اب تک کہیں دیکھنے میں نہ آیا۔‘‘ (ایضاً۔ص،د)

غرض یہ کہ اقبال سہیل نے اپنے تخیلات کو بہتر انداز میں لوگوں تک پہنچایا۔انھوں نے عملی طور پر سیاست میں حصہ بھی لیا۔ان کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ اسمبلی کا الیکشن جیتا۔اقبال سہیل کی نظمیں شعریات سے بھر پور ہیں۔کہیں اشارے اور کنایے میں تو کہیں فصاحت و بلاغت کے ذریعہ اپنے فن کا جوہر دکھایا ہے۔ اقبال سہیل کی بیشتر نظموں میں علامہ شبلی نعمانی،مولانا الطاف حسین حالی اور علامہ اقبال کا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ان کی نظمیں سادگی اور سلاست کا اعلی نمونہ ہیں۔انھوں نے انسانیت دوستی،جمہوریت پسندی اور محب وطن کو بطور خاص اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔اتحاد واتفاق پر زور دیا،تاکہ باطل طاقتیں زور آزمائی نا کرسکیں۔انھوں نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ جس دن اتحاد واتفاق کی رسی ڈھیلی پڑے گی، ہمارے ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا،اور آج کے حالات اس کی واضح مثال ہیں۔ اقبال سہیل یہ بھی چاہتے تھے کہ تہذیبی سنگم کو اور مستحکم کیا جائے۔کیونکہ یہ اتحاد و اتفاق کی علامت ہے۔وہ ایک سچے محبِ وطن تھے۔انھوں نے اپنی نظموں کا موضوع اسی سر زمین(ہندوستان) کے مسائل سے اخذ کیا ہے۔ان کی نظموں کے مطالعہ سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عہدِ حاضر کی نئی قدروں اور نئے میلانات کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے مسائل سے کس قدر آشنا تھے۔وہ اب ہمارے بیچ نہیں ہیں،لیکن ہم اقبال سہیل کے خیالات سے (جو انھوں نے اپنی شاعری کی صورت میں چھوڑا ہے)،بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ایک نظم نگار کی حیثیت سے اقبال سہیل نے اپنی الگ شناخت بنائی۔کیونکہ ان کی نظموں میں ہندوستان اپنی کئی صورتوں میں جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔

 

 

نوٹ: مضمون نگار نے شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اخبار ”مدینہ“ اور نوآبادیاتی ہندوستان-ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں