"احمد محسود کی رائیگانی” -راج محمد آفریدی
احمد محسود کا پہلا شعری مجموعہ”رائیگانی” جس کی اشاعت جنوری 2022 میں ہوئی، ہفتہ قبل میرے ہاتھ آیا۔ سچ پوچھیں تو میں نے احمد محسود کو ایک نابالغ شاعر کی تصویر بنا کر ان کی غزلیں پڑھنا شروع کیں۔ مجھے حیرانی سمیت بہت خوشی ہوئی کہ جنوبی اضلاع سے متعلقہ ایک نوجوان شاعر اساتذہ کی تقلید میں اردو ادب کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ یہ یاد رہے کہ احمد محسود نے اپنی شاعری کو ایک خاص موضوع تک محدود نہیں رکھا ہے۔ان کے کلام میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، امید ، ترغیبی و انقلابی انداز ، اداسی، دنیا کی بے ثباتی، زمانے کی نا قدری، تنہائی، وحشت، داخلی اضطراب،نا آسودگی، مسکن سے ہجرت کا دکھ اور دیگر موضوعات نمایاں ہیں۔
یہی کلام پڑھ کر میں بجا طور پر انہیں خوف ، دہشت ، ڈر ، ظلم ، جبر ، بربریت، نا انصافی اور نوحہ گری کا شاعر کہہ سکتا ہوں۔ اس کے ساتھ دعویٰ بھی کرتا ہوں کہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد ہمارے جنوبی اضلاع کے نمائندہ شعرا میں ان کا نام لیا جائے گا ۔
کلاسیکی شعرا کی طرح احمد محسود نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مجموعے کا آغاز کیا ہے:
نعت لکھتا ہوں تو یہ لگتا ہے
میری آقا (ص) سے بات ہوتی ہے
احمد محسود کا تعلق وزیرستان سے ہے ۔ انہوں نے ہجرت ، جبر اور بیرونی سازشوں پر عمل پیرا اپنوں کی تکالیف برداشت کی ہیں۔ اس لیے ان کی شاعری میں دکھ ، درد، اداسی اور نوحہ گری کی رسم پوری نظر آتی ہے:
مرے ساتھ ازل سے یہی مسئلہ ہے
کہ مجھ سے مرے حصے کا دکھ بڑا ہے
مرا مسلک مرا فرقہ اداسی ہے
دلِ وحشی کسی دکھ کی تلاوت کر
احمد کی عمر کے شعرا عام طور پر محبوب کے زلفوں کے اسیر ہوتے ہیں مگر ان کے ہاں نوحہ ہی نوحہ پایا جاتا ہے جو کم عمری ہی میں ان کی پختہ عمری کی طرف اشارہ کرتا ہے:
رات وحشت میں سینہ پیٹ لیا
نیند کی گولیاں نہیں لی تھیں
احمد محسود نے حقیقت بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنے احساسات و جذبات کو شاعری کی لڑی میں پرویا ہے:
مجھے نفسیاتی عوارض الگ سے
معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے
احمد محسود نے محبوب کی پیکر تراشی کا اظہار کرکے رومانوی انداز بھی اپنایا ہے:
وہ گل اندام وہ معصوم سی صورت اس کی
ہائے پیاری سی وہ تصویر ، میں صدقے جاؤں
احمد کی شاعری میں تنوع پایا جاتا ہے۔ انہوں نے رومان سمیت زمانے کی تلخیوں کا بھی ذکر کھلے عام کرکے انقلابی رنگ لانے کی کوشش کی ہے۔ فراز نے بھی کہا تھا
وہی جانے پس پردہ جو تماشہ گر ہے
کب ، کہاں ، کون سے کردار نے کیا بولنا ہے
احمد محسود بھی کہتے ہیں کہ:
اسی کے ہاتھ میں ہیں ڈوریاں سب کی
کہانی کار سے پوچھو کہانی کا
نجانے کب ہمیں ادراک ہوگا
کہ شیشے میں اتارا جا رہا ہے
احمد محسود نے کم عمری میں جس درد کو محسوس کیا ہے ، اسے سپرد قلم کرکے ہمارے سامنے پیش بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
ابھی اک قتل کا سنا احمد
میری بچی بھی گھر نہیں آئی
دور حاضر کی بہترین عکاسی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
اس قدر خوف ہے گلیوں گلیوں
لوگ آنگن میں نہیں سو سکتے
مادہ پرست دور کو اس شعر میں بیان کرتے ہیں:
جو نظر نظر کے کلام تھے،مجھے کھا گئے
وہ جو معنی خیز سلام تھے، مجھے کھا گئے
شعرا انسان دوست اور امن پسند ہوتے ہیں۔ وہ صرف محبت کا بیوپار کرنا جانتے ہیں۔ وہ دنیا میں امن و سکوں کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ احمد محسود بھی اپنے بزرگوں کی تقلید میں انسان دوستی اور امن و شانتی کا پیغام کچھ یوں دیتے ہیں:
یہ معرکہ یہ جنگ ہے اپنوں کے درمیان
مولا ادھر کی خیر ہو مولا ادھر کی خیر
چند بہترین اشعار ملاحظہ ہوں :
اپنی بے چہرگی سے تنگ آ کر
لوگ شیشہ گری چھوڑ گئے
میں حوالہ تھا رائیگانی کا
بے نشانی میں اک نشاں بھی تھا
ہر اک کردار فانی ، رائیگانی
مری ساری کہانی ، رائیگانی
ایک دن میرے دھیان میں آیا
کس لیے میں جہاں میں آیا
نہ کوئی جرم نہ الزام ، مارا جاؤں گا
میں بے گناہ سر عام ، مارا جاؤں گا
یہ الگ بات مری لاش نہیں ملتی ہے
اپنے اطراف میں تیراک مگر رکھتا ہوں
اس طرح کے خوب صورت اشعار سے مزین مجموعہ "رائیگانی” یقیناً آپ کی لائبریری میں جگہ پانے کا مستحق ہے۔
اس کتاب کا دیباچہ معروف شاعرہ زیب النساء زیبی نے لکھا ہے جنہوں نے احمد محسود کو "نوجوان نسل کے توانا لب و لہجے کے منفرد شاعر” کا اعزاز دیا ہے۔ اسی طرح پیش لفظ خورشید ربانی صاحب نے تحریر کیا ہے جو کتاب کے آخر میں درج ہے۔
ڈاکٹر نثار ترابی نے کتاب پر فلیپ لکھ کر اس کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ شہزاد نیر اور شہاب صفدر نے بھی اپنے تاثرات پیش کرکے احمد محسود کے فن و فکر پرتبصرہ کیا ہے۔
128 صفحات پر مشتمل احمد محسود کا شعری مجموعہ "رائیگانی” املاک پبلشر مردان سے شائع ہوا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں بھی اس کی قیمت 350 روپے رکھی گئی ہے۔ مختلف کتب فروشوں کے ہاں یہ کتاب دستیاب ہے اور بذریعہ ڈاک منگوانے کے لیے واٹس ایپ نمبر 03323757413 پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
احمد محسود ابھی ٹین ایجر ہیں (3 اپریل 2022 کو بیس سال کے ہوکر یہ سیڑھی پار کر جائیں گے) مگر ان کی شاعری میں پختگی کو واضح طور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان کی شعری اصولوں سے واقفیت اور شعری محرکات کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ شعری میدان میں ان سے کئی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ غلام محمد قاصر (مرحوم) کے علاقے میں زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں۔
راج محمد آفریدی
درہ آدم خیل
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

