تحقیق کا موضوع منتخب ہونے کے بعد جب اپنےریسرچ ورک کاآغاز کیا توبالکل ابتدائی ایام میں جس کتاب سے خوب استفاده کیا، اور جوکتاب بکثرت زیر مطالعہ رہی، وہ ہے ”اردو صحافت کی تاریخ “۔یہ کتاب اردوصحافت کی تاریخ کے موضوع پر ایک اہم اوردستاویزی حیثیت رکھتی ہے ، اور دورحاضر میںکوئی بھی اردوصحافت کا طالب علم اس کتاب سے کنارہ کشی کر ہی نہیں سکتا۔
پھر گذشتہ سال اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ کی مطبوعات دیکھ رہا تھا کہ اس میں ایک نادر کتاب ”ہندوستانی پریس “نظرآئی جس کے حوالے بارہا میری نظروں سے گزرے، بلکہ مجھے اس کتاب کی بے حد تلاش تھی،اوراس کے حصول کے لیے کئی کتب خانوں اور مکتبوں سے رابطہ بھی کیا ،لیکن ہر جگہ سے مایوسی ہاتھ لگی ،اس لیے میں نےبلاتوقف اکادمی کے بک سیلر سے معلوم کیا کہ یہ کتاب موجود ہے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو میں نے فی الفو ر نکالنے کے لئے کہا ؛تو وہ لاکر جھاڑنے اور پونچھنے کے بعد میرے ہاتھوں میں دے دیا، قیمت کی ادائیگی کے بعد اسے کھول کر دیکھنے لگا ، اور سوچنے لگا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کے حصول کے لئے میں نے کتنی کوشش کی، لیکن ہر جگہ ناکامی ہی ہاتھ لگی، آج قسمت نے یاوری کی اور یوں آج بلاتوقع مجھے مل گئی۔خداکاشکر بجالایا اور کتاب لے کرچلاآیا، پھراس سے بھی خوب خوب مستفید ہوا، اور اپنی تحقیق میں کئی مقامات پر اس کتاب اور اول الذکر کتاب کے حوالے بھی دیے، لیکن اب مجھے خودپر افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے ہر دوکتاب مذکور بالا کے مصنف کے متعلق تحقیق کیوں نہیں کی ۔
میرے گوشۂ ذہن میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ نادرعلی خاں ابھی اس جہان آب وگل میں اپنی حیات مستعار کےایام گن رہے ہیں، بلکہ میرا خیال تھا کہ تاریخ صحافت اردو کے مصنف مولاناامداد صابری کی طرح نادر علی خاں بھی مرحوم ہوچکے ہوں گے،اور ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کی طرح پڑوسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں گے اس لیے ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ لیکن جب بروزشنبہ 23/اپریل 2022 موافق 21/رمضان المبارک 1443ھ کو پروفیسر نادر علی خاں کے جوارِ رحمت میں جانے کی خبر سوشل میڈیا پردیکھی ،توان کے بارے میں چھان بین شروع کی،تحقیق کے بعدمجھے بے حدافسوس اُس وقت ہوا جب یہ معلوم ہوا کہ یہ وہی نادر علی خاں صاحب(مرحوم) ہیں جن کے متذکرہ بالا کتب سے میں نےبکثرت استفادہ کیا ہے؎
میں کون کیا ہوں میرے تحریر کہے گی
خاموش ہوا تو مری تصویر کہے گی
ویسے تو میں نے پروفیسر نادر علی خاں کا نام نامی 2006 میں ڈاکٹر شعیب مظفرنگری کی زبانی بارہا سنا تھا جبکہ میں ان کی زیر ِامارت ملک کی راجدھانی دہلی کے ہمدردنگر حلقہ میں تبلیغی جماعت میں وقت لگا رہا تھا،اُس وقت ڈاکٹر شعیب ودیگر حضرات کی زبان سے اکثر پروفیسر نادر علی ، دعوت وتبلیغ سے متعلق اُن کی سرگرمیوں ،قربانیوں اورتبلیغی جماعت کے بڑے بڑے اجتماعات میں اُن کے بیانات وتقاریرکے بارے میں سُنتارہتا تھا ،اور یہ سوچتاتھا کہ کبھی علی گڑھ جاؤں گاتو پروفیسر صاحب کی زیارت کروں گا۔
مگر کبھی میرے حاشیۂ خیال میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی کہ ایک ایسی جماعت جو یاتو زمین سے نیچے یاآسمان سے اوپر کی بات کرتی ہو ، اُس جماعت کا ایک کارکن کسی تاریخی اور دستاویزی حیثیت کی ایک سے زائدکتابوں کا مصنف بھی ہوگا۔ مگر انتقال کی خبر سن کر دل کو ایک دھچکا سا لگا کہ ایک مؤرخ، مصنف بلکہ اردو صحافت اور ہندوستانی طباعت و پریس کی تاریخ پر اتھارٹی رکھنےوالا وہی پروفیسر نادر علی تھا جس کا تذکرہ اکثر تبلیغی حضرا ت کی زبانوں پر جاری رہتا تھا، ابھی ہمارے درمیان موجود تھا لیکن میں لاعلم تھا، لیکن ”اب پچھتائے کا ہوت ہے جب چڑیاں چک گئیں کھیت “
پروفیسر مرحوم نے ملک کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش کے ضلع باغپت میں قصبہ رٹول کے ایک دینی وعلمی خاندان میں 16/جون 1931 کو آنکھیں کھولیں، ایم اے اور پی ایچ ڈی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کرنے کے بعد وہیں ریڈر پھر پروفیسر ہوئے ۔
پھرپروفیسر نادر علی خاںنےجب شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ الله عليه وغیرہ سے ملاقات کی ،پھر جب سے تبلیغی جماعت سے کچھ اس طرح منسلک ہوئےکہ پلٹ کر نہیں دیکھا، دعوت وتبلیغ کاخمار کچھ چڑھا کہ مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ کے مشن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا، بلکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تدریسی فرائض سے سبکدوشی کے بعد تو پوری طرح دعوت وتبلیغ کے ہی ہو کر رہ گئے تھے۔ تواضع اس درجہ کہ کبھی لفظ پروفیسر کو اپنے نام کا لاحقہ نہیں بنایا، بلکہ کتابوں پر صرف نادر علی خاں ہی لکھنے پر اکتفا کیا ؎
اللہ رے ٹھنڈی تری پارسائیاں
زاہد اذاں کے پردے میں محوِ فغاں رہا
پروفیسر مرحوم حدیث نبویؐ : من تواضع للہ رفعہ اللہ کا واقعی مجسمہ تھے، ناموری وشہرت کےدشمن واقع ہوئے تھے ،ان چیزوں کو کبھی اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا ،ان کے اسی ممتاز وصف نے ہم جیسے طفلان کو پہچاننے سے محروم رکھا؎
اپنی متاع خواب میرے نام کر گیا
اک شخص شہرِ ہجر میں گم نام مر گیا
سچ ہے خدا کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جنھیں لوگ عام انسان تصور کرتے ہیں مگر ان کی رسائی ساتوں آسمانوں سے اوپر عرش وکرسی والے تک ہوتی ہے، اس کا جیتا جاگتا نمونہ اور شاہکار پروفیسر نادر علی خاں کی ذات گرامی تھی۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد سے دہلی مرکز نظام الدین دہلی کو ہی مسکن وماوی بنالیا تھا ،لیکن خدائی ضابطہ ہے کہ انسان کی تدفین اسی جگہ ہوتی ہے جہاں کی مٹی سے اس کا خمیر تیار کیا گیا ہوتا ہے، اسی حدیث کے مطابق ان کی مٹی قبل الوفات انھیں علی گڑھ کھینچ لائی ،اور 23/ اپریل کو سنیچر کی رات ان کی قسمت کادانہ ختم ہوگیا،تو انھوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی ،اگلے دن یونیورسٹی کے قبرستان میں ایک بڑے مجمع میں تدفین عمل میں آئی، اس طرح علم و عمل کا یہ کوہ گراں اپنی کنج مزار میں ابدی نیند سو گیا ۔ ع
مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے
اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، میری طرف سے اوراسی طرح اُن کی کتابوں سے استفادہ کرنے والے تمام حضرات کی طرف سے اجر جزیل عطا فرمائے ۔(آمین )
ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد
سفیان احمد انصاری
9839574196
sufyanahmadansari2@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

