دربھنگہ(نمائندہ)المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ دربھنگہ کے زیر اہتمام ”تقریب رسم اجرء“ کا انعقاد ڈاکٹر فخرالدین علی احمد ٹیچرس ٹرینینگ کالج،جیبچھ گھاٹ، دربھنگہ میں کیاگیا ۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔اس تقریب میں کل آٹھ کتابوں کا اجراء مہمانوں کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔جس میں شعر کہتے کہتےخلیق الزماں نصرت ،مشہور اشعار گمنام شاعرخلیق الزماں نصرت،بہار کی مقامی زبان ۔مشتاق شمسی،طنز و مزاح کی دنیا۔مشتاق شمسی،شمالی بہار کے معروف شعرا۔خالدہ پروین،خواتین شاعرات:راحت پروین کا رسمِ اجراء ہوگا۔اس موقع پر خلیق الزماں نصرت اور مشتاق شمسی کو ٹرسٹ کی جانب سے سپاس نامہ اور شال دیکر عزت افزائی کی گئی۔رسم اجرءکے بعد مہنوں نے صاحب کتاب اور کتابوں کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کئے ۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر آفتاب اشرف صدر اردو، متھلا یونیورسیٹی،دربھنگہ نے کہا کہ خلیق الزماں نصرت نے کافی محنت سے تحقیقی کام کیا ہے۔اپنے پر مغز مقالے سے نصرت صاحب کی بر محل اشعار کو رہتی دنیا تک رہنے والی کتاب کا درجہ دیا۔کئی خوبیوں کا احاطہ کرتے ہوئے ان میں سے ایک خوبی کا بیان اس طرح کیا کہ نصرت صاحب نے اپنی تحقیق کے دوران جن دیوان سے حوالہ دیا یا رابطہ کیا جن سے بھی تعاون ملا ان سب کو اپنی کتاب میں درج کر دیا۔جس سے ان کی ایمانداری اور صداقت کاثبوت ملتا ہے ۔مہمان اعزازی جناب پروفیسر شکیل احمد قاسمی نے پاپنے تاثراتی خطاب میں کہا کہ اہل علم کی حوصلہ افزائی کیجئے۔موصوف نے ان کتابوں کے مطالعے کی دعوت دی اور صاحب کتاب کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی گاو ¿ں سے ایک ہی وقت میں چھ کتابوں کا اجراءہونا ایک عجوبے عمل سے کم نہیں ہے۔ اپنی علمی تقریر میں کہا کہ اردو زبان و ادب میں صوبہ بہار کے ادبا جہاں بھی رہے ہیں بے حد فعال ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہاں کے ادبا اور شعراء ہر خطے میں کسی نہ کسی اصناف ادب سے وابستہ ہیں۔ آپ نے اس صوبے کے قدیم سے جدید تک کے اہل قلم کی خدمات کا اختصار میں ذکر کیا۔ انہوں نے خلیق الزماں نصرت کی کارکردگی کی تعریف کی اور بطور خاص اپنے وطن عزیز میں اجراء کی تقریب پر نیک تہنیت کا اظہار کیا . دوسرے صاحب کتاب جناب مشتاق شمسی کی کتابوں پر تعارفی گفتگو کی اور ان کی تحقیقات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہیروں کی قدر اہل علم کی حوصلہ افزائی ہمارا فرض بنتا ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے نصرت صاحب کی کتاب برمحل اشعار اور ان کے مآخذ پر گفتگو اور کی ان کی تحقیق کو ہر طرح سے معیاری اور مستند بتایا۔انہوں نے نصرت کے دیے گئے حوالہ جات کو کارآمد اور کتابوں کو نئی نسل کے لئے مشعل راہ بتایا ۔۔انہوں نے خلیق الزماں نصرت کی کتابوں کو پڑھنے کی دعوت دی۔ تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کی تنقید ی کتاب” آخری گھڑے کے پانی“ بھی تنقید کا عمدہ نمونہ ہے۔انہوں نے مشتاق شمسی کے حوالے سے بھی ان کی افسانہ ناگاری اور تنقید و تحقیق پر اظہار خیال کیا ۔ المنصور ایجوکیشن ویلفیئر ٹرسٹ سکرٹری کے خلیق الزماں نصر ت تخلیق کے پس منظر میں حالات زندگی کا غائر مطالعہ کرتے ہیں اور نفسیاتی زندگی کے ساغر و مینا سے کھیلتے ہیں۔ وہ تحقیق، تنقید اور شاعری کے آدمی ہیں۔ سنہری کرنوں سے گزر کر احساس اور نازک مزاجی کو کائنات میں سموتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجیں ان کے آس پاس دلگداز جاں سوز بنتی ہیں اور وہ حقائق و واقعات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پر اثر انداز میں ترجمانی کرتی ہیں۔خلیق الزماں نصرت نے اردو ادب کے لئے جو کام کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے گمنام اشعار پر تحقیق کرکے اس کے اصل شاعر سے متعارف کرایا ہے۔ جس سے بہت سے لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ڈاکٹر منصور خوشتر نے مزےد کہا کہ مشتاق شمسی نے اپنے بزرگوں سے جس طرح فائدہ اٹھایا ہے اسی طرح وہ اپنے عزیزوں کو بھی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ڈاکٹر مستفیض احد عارفی,اسسٹنٹ پروفیسرایل ایس کالج، مظفر پورنے کہا کہ خلیق الزماں نصرت اور مشتاق احمد شمسی اردو ادب کے مایہ ناز شخصیات کی فہرست میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بہار کی مقامی زبانیں پر مشتاق شمسی کا کارنامہ اہم ہے اس پر لسانیات پر کام کرنے والے کو استفادہ کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ امیر خسرو کے کلام سے مذکورہ کتاب پر نظرثانی کر دیتے تو کتاب کی معنویت میں اضافہ ہوجاتا۔ شمیم احمد فیض نے کہا کہ مشتاق شمسی بھی ایک تحقیق نگار ایک تاریخ نگاری اور ایک شاعر کی طرح کام کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کا آغاز ایک افسانہ نگار کے طور پر کیا تھا۔ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ آینہ احساس کے نام سے شائع ہوا تھا۔اس کے بعد انہوں نے ایک ناول سومنی ہندی زبان میں لکھا۔اس کے بعد بہار کے چند ادبی ستارے بہار کےشاعروں ادیبوں کے فنکارانہ عظمت پر لکھا ہے۔پھر ہندی میں کتاب میرا کار ج میرا انوبھو کے نام سے انہوں نے اپنے تجربات کو پیش کیا جو انہیں ملازمت کے دوران حاصل ہوئے تھے۔ڈاکٹر محمد ارشد سلفیڈاکٹر فخر الدین علی احمد بی۔ا یڈ۔ کالج نے کہا کہ مشتاق شمسی کی سرپرستی معروف محقق اور تاریخ داں حضرت شآداں فاروقی مرحوم کیا کرتے تھے اگر اسی زمانے میں عالمی شہرت یافتہ ادیب مالک رام آنند نے بھی ان کی خوب رہنمائی کی ان دنوں ان کی رہنمائی معروف ادیب اور محقق خلیق الزماں نصرت صاحب کر رہے ہیں۔نظامت کے فرائض میتھلی ادب کے معروف ادیب منظر سلیمان نے ادا کیے اور تھوڑی تھوڑی دیر میں سامعین کو اپنی معلومات سے لوگوں کے علم میں اضافہ بھی کرتے رہے۔ انہوں نے صاحب کتاب خلیق الزماں نصرت کے بارے میں بتایا کہ ان کے پر دادا ماسٹر الٰہی بخش قریب کے اسٹیشن تار سرائے میں 1940 تک اسٹیشن ماسٹر تھے اور عربی۔فارسی اور انگریزی کے ماہر تھے۔یہ پروگرام خلیق الزماں نصرت کی صدارت میں تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا۔اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے اپنی تصنیفات کی مقبولیت اور اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بہت ساری اسٹیٹ اکیڈمیوں سے ان کی تصنیفات پر ایوارڈ اور انعامات مل چکا ہے۔ انہوں نے مادر وطن میں اعزاز پانے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنے وطن عزیز سندر پور میں عزت افزائی سے مسرور ہوں ۔انہوں نے بطور خاص ڈاکٹر منصور خوشتر کی تعریف کی اور ان کے ادبی ذوق و شوق کو سراہا ۔ اس موقع پر محفل مشاعر کاانعقاد کےا گےا،جس کی صدارت علاءالدین حیدر وارثی نے کی اور نظامت ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کیا ۔
الحاج منظر صدیقی
مال و اسباب دے کے بھائی کو
ہاتھ خالی مکان سے نکلے
مشتاق اقبال
کرتے تھے تکرار تمہیں سے سوچا نہ تھا
ہو جائے گا پیار تمہیں سے سوچا نہ تھا
منظر ریونڈھوی
ایک روٹی بھی آگر گھر میں ہے آدھی دیدو
گھر پہ آئے ہوئے سائل کو نہ ٹالا جائے
م، سرور پنڈو لوی
ادب میں سفارش سے اعزاز چا ہے؟
تو سرور پہ میری بھی ہاں آخ تھو ہے!
حیدر وارثی
حیدر اچانک کھوگئے تحیر کی وادیوں میں
خود اپنی شکل ڈھونڈنے کا اُن کو بہانہ ملا گیا
اس موقع پر پر بڑی تعداد میںلوگوں نے شرکت کی جس میں میں محمد اکبر علی عل، ڈاکٹر محمد منہاج اکبر ، محمد افضل ،ظفیر احمد، د عدناا فیصل ، عرفات فیصل ، نشاط کریم ،شوکت ،محمد سرور پنڈالو، ڈاکٹر سیف الرحم، ظفیر احمد زاہد اقبال،شامل ہیں
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

