تن نازک پہ اس کے پیرہن ہے سبز اور دھانی
کہیں پر لاجوردی، سرمئی اور نقرئی زیور
طلائی نگ جڑے ہیں جابجا جن میں
ہتھیلی قرمزی رنگت
کہیں پر سلسلہ در سلسلہ کہسار
کھڑے ہیں سر اٹھائے ایک شان بے نیازی سے
کہیں آغوش میں چشمے
چھپا ہے زندگی کا راز جن میں
خطوط دل ربا ایسے
کہ سیار و ثوابت کی حدوں کو ناپتا رہرو
بھی راستہ بھول بیٹھے دم بخود ہوکر
نگہ اٹھی، ذرا ٹھٹھکی، نگاہ شوق میں بدلی
پلٹنے سے ہوئی منکر
"چلو آوارہ گردی ترک کرتے ہیں
یہیں پر خیمہ زن ہوکر
کسی کے چشم و ابرو پر
متاع جاں، یہ فانی زیست ہم قربان کرتے ہیں”
مگر کچھ پل ہی گزرے اور وہ زیرک نگاہیں
توڑ کر وارفتگی کے سحر کو
"وسخر…” کی نئی تعبیر میں مشغول ہیں اب
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

