بساط پر پھر گرا پیادہ
تو جشن برپا ہے فتح کا یوں
کہ گویا شہ مات ہوگئی ہے
مجاہدان عصر نو کی صف میں
ہے گونج اٹھا اک نعرہء فتح
وہ ہاؤ ہو کا ہے رقص جاری
ہیں دھند میں جس کی سب مناظر
ادھر ہے اک زہر خند مسکان شہ کے لب پر
جو خندہ زن ان کی سادگی پر
"کہ مہرے سارے اور چالیں اپنی
بچا کے رکھی ہیں میں نے اب بھی
بساط شاہی پہ فیل و رخ کا تو ذکر کیا ہے
یہاں پہ فرزیں بھی دست بستہ
نہیں تکلم کا اذن ان کو
پیادہ ہے صرف ایک مہرہ
بساط پر اک گرا تو حاضر ہے دوسرا واں”
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

