اردو کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت:ڈاکٹرخان محمد رضوان
نئی دہلی 16مارچ(پریس ریلیز)دہلی کے مسلم اکثریتی علاقہ شاہین باغ میں سید اشفاق احمد سیف کے دولت کدہ ایف بی-4، تاج اپارٹمنٹ، فلیٹ نمبر 119، میں ایک شعری نشست کا انعقاد کیاگیا-صوبہ بہار کے تاریخی شہر گیا سے انجمن محافظ اردو بہار،گیا کے جنرل سکریٹری سید فضل وارث نے شرکت کی ۔جس میں انجمن کے دہلی یونٹ کا قیام عمل میں آیا۔ معروف شاعر اور نوجوان نقاد ڈاکٹر خان محمد رضوان کو کثرت رائے سے صدر منتخب کیا گیا۔بحیثیت سکریٹری نظم اقبال کے نام کا اعلان کیاگیا۔فضل وارث نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس انجمن کے قیام کا مقصد صرف اور صرف اردو زبان کو اس کا حق دلانا اور عہد جدید کے تقاضے کو مد نظر رکھ کر اردو کی ترویج واشاعت کو ممکن بنانا ہے چونکہ اردو کی جتنی بھی قدیم انجمین قائم ہیں وہ نہ صرف اپنا وقار کھوچکی ہیں بلکہ اب ان کا وجود بھی بے معنی سا ہوکر رہ گیا ہے۔
لہذا ضروری تھا کہ ایک ایسی ٹیم تیار کی جائے جو اردو کو جدید دور کے تقاضے سے ہم آہنگ کرکے اس کی اشاعت کے لیے مخلصانہ کام کرے اور الحمدللہ ہم نے ایک مناسب ٹیم بہار اور دہلی میں تیار کرلی ہے ان شاء للہ رفتہ رفتہ پورے ملک میں اس کی یونٹ کو قائم کیا جائے گا۔
بعد اذاں معروف نعت گو شاعر سید شمس الحسن شمس بیتھوی کے نعت ومنقبت کے تازہ مجموعہ کا رسم اجرا ہوا۔ اس کے بعد ایک خوبصورت شعری نشست کا انعقاد بھی عمل میں آیا جس کا آغاز حافظ حمید الدین فلاحی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا اس کے بعد ابو ظہبی سے تشریف لائے معروف شاعر جاوید صدیقی نے نعت پاک اور معین قریشی نے حمدیہ کلام پیش کیا۔اس نشست کی صدارت سید شمس الحسن شمس بیتھوی نیکی، مہان خصوصی سید فضل وارث(جنرل سیکرٹری انجمن محافظ اردو) اور مہمان ذی وقار کی حیثیت سے نظم اقبال نے شرکت کی-اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر خان محمد رضوان نے انجام دیئے۔
اس محفل میں جن شعرانے شرکت کی ان میں حمید الدین فلاحی، خان رضوان ،معین قریشی،اختر اعظمی،دانش نور پوری، جاوید صدیقی،
حامد علی اختر اور شمس بیتھوی کے نام قابل ذکر ہیں-
نمونے کے اشعار ملاحظہ کریں:
قرآن فقط ان کو دکھاتا ہے روشنی
جو مان لیں یہ دل سے کہ قرآن ہے فرقان
حمید الدین فلاحی
تمام عمر میں زد میں رہا ہوں راتوں کی
مرے خدا مرے حصے کی اب سحر آئے
خان رضوان
نہیں سے ہی تو ملے گی حیات بعد از مرگ
ہنر نہ ہوتو خطابوں سے کیا ملے گا تمہیں
معین قریشی
حسن پر اس کو اپنے تھا اتنا گماں
زندگی بھر بدلتا رہا آئینہ
دانش نورپوری
صبر گہر ہے اس کی قیمت کا باعث
اس نے خود کو دریا میں غرقاب کیا
اختر اعظمی
لوگ سمجھے ہیں کہ ہے چمن میں بہار بہت
کوئی سمجھے نہ سمجھے ہے مگر خوار بہت
نظم اقبال
سیاہ رات انھیں بھی نگل نہ جانے کہیں
جو اپنے پاؤں تلے آفتاب رکھتے ہیں
جاوید صدیقی
مصلحت یہ ہیکہ کانٹے کو بھی کانٹا نہ کہو
نظم گلشن کا تقاضا تو ہے کچھ اور مگر
حامد علی اختر
اس پہ اہل دانش کی کیوں نظر نہیں جاتی
قصر زندگی کاہے اک مکان شیشے کا
شمس بیتھوی
شعرائے کرام کے علاوہ شرکاے مجلس کی حیثیت سے ڈاکٹر سید شہنواز حیدر شمشی، سعود عالم(ریسرچ اسکالر)، احمد اصغر، حافظ فراز، فیروز احمد، محمدہاشم فیضی،محمد اشتیاق احمد سیف، محمد تابش، ندیم حسنین،حذیفہ افروز اور شاریہ اشتیاق وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

