عظیم انصاری : ایک قابل ِ قدر فنکار- احسن امام احسن
ترجمہ نگاری ایک مشکل فن ہے۔ مشکل اس لیے کہ ایک مترجم کو تخلیق کار سے زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ ایک زبان سے دوسری زبان میں تخلیق کو منتقل کرتے ہوئے اس زبان کی تہذیب و ثقافت کی مکمل نمائندگی ہو اور باہمی لسانی خوبیاں بھی مجروح نہ ہوں۔ ظاہر سی بات ہے ۔یہ کوئی آسان کام نہیں ہے مگر کچھ لوگ اس کام کو پھر بھی کرتے ہیں اور انھیں میں سے ایک اہم نام، عظیم انصاری کا بھی ہے۔ کسی چیز کو ہو بہو اتاردینا ترجمہ نگاری نہیں ہے ‘ اس کے لیے تخلیق کی روح میں اترنا پڑتا ہے اور ترجمہ نگار اپنے لب و لہجے میں ترجمہ کا کام انجام دیتا ہے۔ ” دو گھنٹے کی محبت” اس کی مثال ہے۔ عظیم انصاری نے بنگلہ زبان کی جن کہانیوں کو منتخب کیا ، وہ بنگلہ زبان میں الگ شناخت رکھتی ہیں۔
عظیم انصاری کی تحریروں سے یہ پتا چلتا ہے کہ انھوں نے بنگلہ کہانیوں کو ایک سوت بھی اِدھر اۡدھر سرکنے نہیں دیا۔ ” دو گھنٹے کی محبت ” کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ عظیم انصاری کی روح بنگلہ کہانیوں کے اندر حلول کرگئی ہے اور وہ کہانی کار کی طرح خود اپنے جذبات و خیالات کو اردو کا جامہ پہنا رہا ہے۔ یوں تو بہت سی صنف پر عظیم انصاری نے طبع آزمائی کی ہے مگر ” دو گھنٹے کی محبت” ترجمے سے ان کی واقفیت اور رموز و نکات پر پکڑ کو درشاتا ہے۔ واقعی عظیم صاحب ایک اچھے ترجمہ نگار ہیں۔ عظیم انصاری نے بنگال میں رہنے کا بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ ڈاکٹر خورشید اقبال لکھتے ہیں:
” عظیم انصاری کے تراجم کی زباں نہایت رواں اور شستہ ہے۔ بنگلہ زبان کے الفاظ اور محاورات کا اردو میں اتنا فصیح ترجمہ کیا گیا ہے کہ ترجمہ تخلیق کے درجے میں داخل ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ عظیم صاحب نے کالج میں اور دفتر میں بنگالی دوستوں کے ساتھ خاصا وقت گزارا ہے اور بنگلہ کلچر کا انھوں نے بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے اور یہی ان کا پلس پوائنٹ ہے۔ ”
عظیم انصاری کو لکھنے پڑھنے کا بہت شوق ہے اور دل میں زبان و ادب کی خدمت کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ ترجمہ نگاری پر مشتمل یہ مجموعہ پیش کرکے انھوں نے دوسروں کو بھی اس جانب چلنے کے لیے آمادہ کیا ہے۔ عظیم انصاری نے بنگلہ کہانیوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور بنگلہ زبان پر بھی ان کی گرفت اچھی ہے تبھی تو وہ ان کہانیوں کا ترجمہ خوبصورتی سے کرپائے۔ عظیم انصاری نے ان کہانیوں کو حق کی کسوٹی پر اتارنے کی پوری کوشش کی ہے اور اپنی تخلیقی صلاحیت’ شعور اور تجربے کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ ترجمے کے اسلوب کی شگفتگی کو بھی برقرار رکھا ہے۔ یہ بنگلہ افسانے اپنی مستحکم روایت کے خمیر سے گندھے ہوئے ہیں جسے عظیم انصاری نے بڑے ہی سلیقے کے ساتھ جذبات کی سطح پر حقیقت نگاری کا رنگ دیا ہے۔ کلیم حاذق رقمطراز ہیں:
” ترجمے کی زبان دلکش’ رواں دواں اور شستہ ہے کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ مترجم کی دسترس سے ترسیل کا دامن چھوٹ گیا ہے۔ ترجمے کی اصل خوبی دونوں زبانوں سے واقفیت کی بنا پرمتن میں پیدا ہونے والی مانوسیت ہے۔ عظیم انصاری اس مرحلے سے کامیاب گزرے ہیں۔ اس کتاب میں عظیم انصاری نے بنگلہ کہانی کاروں کا مختصر تعارف بھی پیش کیا ہے۔ ”
عظیم انصاری نے اپنی پہچان خود بنائی ہے ان کی تحریروں میں پختگی اور تہداری ہوتی ہے ‘ پختگی اس میں ہوگی جس کا شعور بالیدہ ہوگا۔ یہ بات عظیم صاحب کے اندر ہے تبھی تو ترجمہ نگاری جیسے مشکل فن کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔ ترجمہ نگاری کا فن آسان نہیں ہے اور کٹھن کام کرنے میں عظیم انصاری کو مہارت حاصل ہے۔ کسی دوسری زبان کی باتیں اردو میں منتقل کرنا آسان کام نہیں ‘ اس کے لیے بڑی محنت اور ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک بہت اہم کام ہے۔ اردو زبان کے لوگ بھی جانیں کہ دوسری زبانوں میں کیا ہورہا ہے ۔ کس طرح کی چیزیں پیش کی جارہی ہیں۔ کیسے کیسے خیالات اس زبان میں لوگ لاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔آگے اور کام کی امید کرتے ہوئے جناب ایم نصراللہ نصر فرماتے ہیں :
” عظیم انصاری نے حتی الامکان کوشش کی ہے وہ اس پر عمل پیرا ہوں اور ہوئے بھی ہیں۔ چونکہ یہ ان کی پہلی کوشش ہے اس لیے کچھ خراش یا چمک دمک میں کمی ہوسکتی ہے مگر میں ان کی اس کاوش کو سلام کرتا ہوں۔ اس لیے کہ ان کی نگارشات کو پڑھ کر ان کی علمی لیاقت اور شعورِ فنِ تراجم سے واقفیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی اس کوشش کو سراہا جاسکتا ہے ‘ نیز ان سے بڑے کام کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔ ”
عظیم انصاری نے ان کہانیوں کو نیا لباس عطا کیا ہے۔ جس سے پڑھنے والا لطف و سرور میں ڈوب جاتا ہے اور اس دلفریب انداز کا گرویدہ ہوجاتا ہے اور اس دلکش انداز کا سہرا عظیم انصاری کے سر جاتا ہے ۔ انھوں نے مغربی بنگال کی مٹی کا بھرم قائم رکھا۔ موصوف نے الفاظ کا استعمال خوبصورت انداز میں کیا ہے اور ان کہانیوں میں زبان و بیان سے پراسرار کشش پیدا کی ہے۔ لفظوں کو موتیوں کی طرح سجایا ہے ‘ اسے الفاظ کی جادوگری کہنا مناسب ہوگا۔
عظیم انصاری نے اردو ادب کے دامن کو ترجمہ نگاری سے وسیع کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔کہانی میں اپنی پوری بات کہہ دینا فن ہے مگر کسی دوسری زبان کی کہانیوں کو اپنی زبان میں اس طرح ترجمہ کرنا کہ اصل کہانی کا گمان ہو ‘ دراصل یہ فن ہے۔ اس میں مخصوص نفسیات و جمالیات کے ساتھ ماحولیات کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ عظیم انصاری ادب پر گرفت مضبوط ہے ‘ ایسا ان کی تحریروں سے لگتا ہے۔ وہ پوری ایمانداری سے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کررہے ہیں۔ حلیم صابر صاحب نے ان کی مذکورہ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
” عظیم انصاری میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے کہ وہ بنگلہ کہانیوں کے ترجمے من و عن پیش کرتے ہیں۔ ان کا زیرِ نظر مجموعہ تراجم ” دو گھنٹے کی محبت” اس کا ثبوت ہے۔ عظیم انصاری نے جن کہانی کاروں کی کہانیوں کے تراجم پیش کئے ہیں۔ ان کی مختصر سوانح حیات بھی باتصویر شامل کرکے قارئین کو ان مصنفین سے غائبانہ متعارف کرانے کا فریضہ بھی بطریقِ احسن ادا کیا ہے جو اضافی حیثیت کی حامل ہے۔ ”
ایک بہترین ادب کا ثبوت دیتے ہوئے عظیم انصاری نے ” ترجمہ نگاری اور مختصر بنگلہ افسانوں کے اردو مترجمین ” کے عنوان سے ایک بہت ہی عمدہ اور بہترین مقدمہ اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ موصوف نے ترجمہ نگاری نگاری کے ہر گوشے پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ ایک ایک سطر غور و فکر کا متقاضی ہے۔ فی الحال اس مقدمے کا ایک اقتباس دیکھئے :
” زبان و تہذیب کا ایک دوسرے سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ ایک تہذیب کا دوسری تہذیب کے ساتھ مکالمہ اس وقت ممکن ہے جب دونوں تہذیبوں کو قریب لانے میں زبان کا استعمال کیا جائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کے لیے دونوں تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگوں کی ضرورت پڑے گی جو ایک دوسرے کی ترجمانی کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ نگاری کو اہم مقام حاصل ہے۔ دو تہذیبوں کے مکالمہ کے وقت ترجمہ نگار ایک پل کا کام کرتا ہے۔ ایک تہذیب کو دوسری تہذیب سے روشناس کرانے کے لیے ترجمہ نگاری نے بہت اہم کردار نبھایا ہے۔ ”
عظیم انصاری کی شخصیت ایسی ہے کہ ہر قلمکار انھیں اپنے طریقے سے دیکھتا ہے۔ فیاض انور صبا نے بھی اپنے ایک مضمون میں عظیم انصاری کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور انھیں عظیم قرار دیا ہے۔ عظیم انصاری الفاظ کی سادگی پر پردے ڈال کر اس کے اندر سے بہت سی ایسی چیزوں کا انکشاف کرتے ہیں کہ قاری دنگ رہ جاتا ہے۔ زندگی کی شکست و ریخت کو بڑے ہی عالمانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ ان کے مضامین پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں جس میں الفاظ کی نشست و برخاست کے ساتھ بلند خیالی اور معنی آفرینی بھی ہوتی ہے۔ ان کی ترجمہ نگاری کے بارے میں ڈاکٹر شاہد اختر (سابق صدر شعبہ ارد، ہگلی محسن کالج)یوںکہتے ہیں:
” ان کی ترجمہ نگاری اس لیے بھی دل کو چھوتی ہے کہ ان کے ترجموں پر طبع زاد کا گمان ہوتا ہے اور اصلی کہانی اپنی اصلی شکل میں جلوہ گر بھی رہتی ہے۔ انھوں نے اس مجموعے کو اپنے تحقیقی مقدمے کے ذریعہ اور بھی باوقار بنا دیا ہے۔ یقیں کامل ہے کہ مجموعہ ” دو گھنٹے کی محبت” اردو ترجمہ نگاری میں اپنی اہمیت کے ساتھ اردو قارئین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ”
———————
احسن امام احسن،
اڈیسہ – موبائل: 9556873697
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

