Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

بڑے ابا کی یاد میں – پروفیسر سرور الہدیٰ

by adbimiras اپریل 20, 2022
by adbimiras اپریل 20, 2022 0 comment

اس مرتبہ گھر آیا تو بڑے ابا کی یاد زیادہ آئی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ میں دہلی سے آتا  اور بڑے ابا کلکتہ سے۔ کلکتہ میں کم و بیش پچاس سال گزارنے کے باوجود ان کا دل لکھمنیاں کے لیے دھڑکتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ان کے گھر آنے کی تاریخ قریب آرہی تھی۔ دادا ابا نے کلینڈر کی کسی تاریخ کو نہ صرف دائرے میں قید کردیا تھا۔ یہ لکھا تھا نورالہدیٰ کی آمد۔ گھر کو خاص طور پر صاف کرنا، سامان کو سلیقے سے رکھنا ان کی آمد کا جشن ہی تو تھا۔ بڑے  ابا،دادا ابا کو پابندی کے ساتھ خط لکھتے۔ شاید کبھی کوئی پوسٹ کارڈ نہیں بھیجا۔ وہ پوسٹ کارڈ کو ننگی تحریر کہتے تھے۔ ایک بکس تھا جس میں بڑے ابا کے خطوط رکھ دیے جاتے۔ خط اس قدر روشن پختہ اور خوبصورت تھا کہ ڈاکیہ کو وقت نہیں لگتا تھا ، لیجیے خط آیا ہے۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر انھیں قدرت تھی۔ بعد کو فارسی میں بھی رواں ہوگئے تھے لیکن خط کا طرز کبھی نہیں بدلا۔ میں نے ہمیشہ انھیں نیب والے قلم سے لکھتے ہوئے دیکھا۔ سیاہ روشنائی کا استعمال کرتے۔ بعض اوقات نیب کے سرے کو دوات میں ڈبو دیتے اور ناخن پر کچھ نقطہ سا بناتے ہوئے اس کی سیرابی کی جانچ پڑتال کرتے۔ اس سیاہی کے ساتھ سرخ رنگ کی روشنائی بھی ہوتی تھی۔ دو قلم دو رنگوں کے لیے مخصوص تھے۔ بلیو رنگ انھیں کبھی متاثر نہیں کرسکا۔ بعد کو ان ہی دو رنگوں نے میری ادبی زندگی اور ادبی ذوق کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بڑے ابا جس مکان میں رہتے تھے  اس کی چھت کھپریل کی تھی۔ بلکہ وہ آج بھی موجود ہے۔ اس مکان کی دیواریں چوڑی ہیں اور چھت ذرا فاصلے پر ہے۔ بارش کے موسم میں کھپریل چھت پر گرنے والی بارش کی بوندوں سے ایک خاص طرح کی آواز پیدا ہوتی۔ موسلا دھار بارش میں بھی چھت بجنے لگتی۔ چھت کی بناوٹ کچھ ایسی ہے کہ بلندی سے پستی کی طرف کا سفر کہا جاسکتا ہے۔ پانی جب دائرہ نما کھپریل سے نیچے گرتا تو وہ بہت باعث کشش ہوا کرتا تھا۔ بڑے ابا کھپریل کے مکان میں رہنے کو اس لیے پسند کرتے تھے کہ گرمی میں بھی یہ مکان ٹھنڈا رہتا ہے۔ ٹھیک اس کے قریب پختہ مکان تھا۔ جس میں دادا ابا رہتے تھے۔ ان دونوں مکانوں کے ساتھ مٹی کا ایک گھر تھا جو اب باقی نہیں ہے۔

بڑے ابا گھر میں لکڑی سے بنی ہوئی چپل کھراؤں پہنتے تھے۔ اس کی بناوٹ بہت خوبصورت تھی۔ ہر شخص اس چپل کو اس کی تہذیب کے ساتھ پہن نہیں سکتا۔ دادا ابا بھی اسی طرح کی چپل پہنتے تھے۔ پتہ نہیں کہ یہ چپل بنتی کہاں تھی اور اسے یہاں کون لاتا تھا۔ بڑے ابا کھراؤں پہن کر بازار بھی چلے جاتے۔ ایک خاص طرح کی آواز نکلتی تھی۔ ایڑیوں پر چپل کا آخری حصہ جب چلتے ہوئے ملتا تو آواز ہوتی۔ کسی اور چپل سے ایسی آواز نہیں ہوسکتی۔ گاؤں میں ایک دو گھر اور تھے جہاں ایسی چپل پہننے کا چلن تھا۔ بڑے ابا اس چپل کو پہن کر اپنی قصبائیت ہی نہیں بلکہ مقامیت کا بھی اظہار کرتے تھے۔ یہ وہ مقامیت تھی جس میں بہرحال اشرافیت پوشیدہ تھی۔ یوں تو وہ ہر شخص سے اخلاق کے ساتھ ملتے مگر ایک شے ایسی ضرور تھی جو انھیں ذہنی طو رپر فاصلے سے رکھتی تھی۔ بستی کے لوگوں سے غیرضروری اجتناب نہیں تھا، لیکن ان کی رائیں بعض اوقات بہت سخت ہوجاتیں۔ ان کے اس رویے میں اشراقیائی ذہن سے کہیں زیادہ ذہانت کا حصہ تھا۔ اپنی بستی اور اپنے گھر میں کوئی کیا اپنی ذہانت کا رعب جمائے گا۔ گھر اور بستی کے لوگ تو عام طور پر اپنے بیٹوں کی علمیت اور ذہانت سے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن انھوں نے محسوس کرلیا تھا اور میں نے بھی دھیرے دھیرے یہ دیکھا کہ لوگ اپنی ذہنی مفلسی کا حساب دوسروں سے مانگتے ہیں۔ بڑے ابا سے ملنے والو ںکا ایک حلقہ تھا اور اس حلقے کو معلوم تھا کہ وہ کس سے ہم کلام ہے۔ تو کلینڈر پر بڑے ابا قلم سے جو دائرہ بناتے تھے وہ ایک معنی میں ذہانت کے سفر اور سلسلے کو اس میں قید کرنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ باپ بیٹے ہی سے ہار جاتا ہے۔ دادا ابا نے بڑے ابا کو  ذہنی اور فکری طور پر ثروت مند بنانے میں جو کردار اداکیا وہ اپنی جگہ ہے لیکن بیٹے کی ذہانت باپ سے بھی کہاں سنبھل رہی تھی۔ میں نے دادا ابا کے نام بڑے ابا کے جو خط پڑھے ہیں ان میں ذہانت کا ابال تھا۔ بہت سی باتوں کا سیاق میں سمجھتا نہیں تھا مگر محسوس کرتا تھا کہ وہ بعض معاملات کے سلسلے میں سخت بھی ہیں اور ناراض بھی۔ ناراض ہونے کی ادا دنیا میں ایک طرح کی نہیںہے۔ بلکہ ناراضگی کے اسباب بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ دادا ابا کے بکس میں بڑے ابا کی ایک تحریر میٹریکولیشن کے وقت کی تھی۔ اس تحریر کو ان کی زندگی کے آخری ایام کی تحریر سے ملا کر دیکھیے تو فرق کرنا مشکل ہوگا۔ اردو اور انگریزی دونوں کا خط یعنی لکھاوٹ ایک جیسی ہے۔ ایک مرتبہ بڑے ابا سے جب دریافت کیا تو کہنے لگے بیٹا قلم پکڑا اور لکھنے لگا۔ لکھنے کی روش پہلی بار کچھ ایسی بن گئی بلکہ جیسے برسوں سے کوئی مشق ہو۔ کہتے تھے کہ قلم انگلیوں کی گرفت میں جب آیا تو محسوس ہوا کہ کوئی غیبی طاقت ہے جو مجھ سے ایسا لکھوا رہی ہے۔ نہ صرف لکھاوٹ بلکہ اسلوب بھی بڑی حد تک ابتدا ہی میں انتہا کا علامیہ بن گیا۔ میٹریکولیشن کے زمانے کی یادوں کو وہ میرے کہنے پر تازہ کرتے۔ ایک مرتبہ کہنے لگے بیٹا راتوں کو آنکھ کھل جاتی اور لگتا کہ کوئی مجھ سے کچھ پڑھوانا یا لکھوانا چاہتا ہے۔ چراغ روشن کرلیتا اور کچھ لکھنے پڑھنے لگتا۔ عجیب و غریب آمد کی کیفیت ہوتی۔ ابتدائی ہوش کے چند سال اسی کیفیت میں گزرے۔ کچھ اندر ہی اندر بننے اور ٹوٹنے کا احساس ہوتا۔ وہ کہتے کہ میں نے اردو اس طرح نہ سیکھی اور نہ پڑھی جس طرح سکھائی پڑھائی جاتی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ زبان مجھ میں پہلے ہی سے موجود تھی۔ بس رسم خط کو سمجھنے اور سیکھنے کا ایک مرحلہ تھا۔ بڑے ابا کے اسکول کے زمانے کا ایک قصہ مشہور ہے کہ ان کے کلاس ٹیچر چراغ کو زبر کے ساتھ پڑھنے پر زور دے رہے تھے۔ مگر وہ زیر کے ساتھ پڑھتے رہے۔ ماسٹر صاحب سے بڑے ابا نے کہا کہ زبر لگانے کے چراغ جل جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی مگر علمی اور تہذیبی سطح پر سب سے ممتاز بستی میں ان کے اسکول کا زمانہ ان کے مستقبل کا پتہ بھی دے رہا تھا۔ میٹریکولیشن میں پورے صوبے میں ان کی تیسری پوزیشن تھی۔ والدہ کا بہت جلد انتقال ہوگیا۔ ان کی کچھ یادیں تمام عمر ان کے ساتھ رہیں۔ کبھی کبھی میں دادی کے بارے میں دریافت کرتا تو ان کی آنکھوں میں چمک آجاتی۔ اس چمک میں تھوڑی نمی کا احساس بھی ہوتا تھا مگر چشمے کے اندر کا حصہ بہت مشکل سے ہی دیکھ پاتا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ یوں بھی ان کی آنکھیں گہری ہوتی گئیں۔ یہ گہرائی ڈھلتی عمر ہی کی نہیں بلکہ اپنی نظر سے دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کی بھی تھی۔ اس میں علمی و اخلاقی سطح پر زوال کا دکھ بھی تھا۔ وہ اپنے وقت (جسے ان کی نوجوانی کا زمانہ کہنا چاہیے) کے ادبی ماحول کا ذکر کرتے۔ ان کے کئی دوست شاعر تھے مگر نورالہدیٰ صاحب نے کبھی شعر نہیں کہا، لیکن ان کے شعر پڑھنے کے انداز میں ایک خاص کشش تھی۔ محسوس ہوتا تھا کہ شعر گوئی سے کہیں زیادہ شعرفہمی اور شعر کی قرأت زیادہ اہم ہے۔ شعر گوئی انھیں بہت خوش نہیں کرتی تھی۔ البتہ اساتذہ اور اچھے شعرا کے اشعار کو پڑھنے میں انھیں گہری دلچسپی تھی۔ میں نے مشکل سے مشکل اشعار کو بھی انھیں سہولت کے ساتھ پڑھتے اور سمجھتے سمجھاتے ہوئے دیکھا۔

بڑے ابا اپنے والد کی رحلت کے بعد بھی گھر آتے رہے۔ مگر پہلے جیسا جوش و جذبہ نظر نہیں آتا تھا۔ سامان رکھنے کے بعد والد کی رہائش گاہ اور بیٹھک کی طرف دیکھتے۔ کلینڈر دیوار پر تو ہوتا تھا مگر کوئی تاریخ دائرہ میں نہ قید ہوتی تھی اور نہ کسی کی آمد کی آہٹ سنائی دیتی۔ دادا ابا کے لیے کیلنڈر کی نشان زد دائرہ میں قید تاریخ بیٹے کی آہٹ بھی تھی۔ میں نے دیوارپر ایک وہ کلینڈر بھی دیکھا جو بہت پرانا ہوچکا تھا مگر دائرے کی چمک پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ کلینڈر کی تاریخیں یوں تو وقت کے ساتھ بہت پیچھے چھوٹ گئیں تھیں لیکن گزرے ہوئے وقت کی دھول ابھی بیٹھی نہیں تھی۔ ناک پر رومال رکھنے کی وجہ بہت بعد کو سمجھ میں آئی۔ دھول سے انھیں پریشانی تھی بلکہ نورالہدیٰ صاحب کے والد بھی رومال رکھتے تھے۔ دھول تو اب پہلے کی طرح اڑتی نہیں ہے۔ پہلے مکانات آج کی طرح نہیں تھے۔ گھروں کے درمیان فاصلے بھی تھے۔ اب مکانات کے درمیان فاصلے کم ہوگئے ہیں مگر دوریاں بڑھ گئیں ہیں۔ بڑے ابا نے ہمیشہ اجلے رنگ کا رومال استعمال کیا۔ یوں بھی وہ سفید رنگ کے کپڑے پہنتے تھے۔ یہی لباس ان کے والد کا بھی تھا۔ سرخی صرف روشنائی میں تھی۔ بستی کے بعض دوستوں کو شعر سناتے ہوئے دیکھتے تو ازراہ مذاق کہتے کہ بتائیے کیسی بے وقوفی کی باتیں کرتے کرتے شاعر بن گیا۔ شاعری کا ایک خاص تصور ان کے ذہن میں تھا۔ قریب ترین لوگوں کی شاعری انھیں اچھی نہیں لگتی تھی۔ لکھمنیاں کے استاد شعرامیں قاضی زبیر بے خود کے وہ بہت قائل تھے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ شعرگوئی کے ساتھ شعر فہمی کے مسائل ان کے لیے اہم ہوجاتے۔ بات تعلیمی ڈگری کی نہیں بلکہ بنیادی سمجھ اور شعور کی ہے۔ اپنی بستی کے شعرا و ادبا کے تعلق سے وہ بہت محتاط تھے۔ فراخ دل تو ہرگز نہیں تھے۔ وہ چرب زبانی اور بات سے بات پیدا کرنے کی روش سے بہت دور تھے۔ جہاں اس قسم کا ماحول ہوتا تو وہ خدا حافظ کہہ کر نکل آتے۔ کلکتہ پہلی مرتبہ گریجویشن کے زمانے میں گیا۔ میں دو ہفتے وہاں رہا۔ ان دنوں پہلی مرتبہ کلکتہ کی ادبی فضا کو قریب سے دیکھنے کا موقع تھا۔ جب وہ وطن آتے تو کلکتہ کی علمی زندگی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایسا بھی ہوتا کہ بستی میں رہ کر ادبی جلسے میں شریک نہیں ہوتے، کہتے تھے کہ میں جلسہ جلوس چھوڑ کر وطن آتا ہوں۔ یہاں میں ا س طرح وقت گزارنا چاہتا ہوں جس میں زندگی کی سادگی کے ساتھ اس کا معمولی پن بھی ہو۔ البتہ گھر پر ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رکھتے۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ انھیں محفلوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ عموماً محفلیں بعض لوگوں کی علمی و ادبی زندگی کا سامان بن جاتی ہیں اور اکثر ایسے لوگوں کی زندگی کتابوں کے بغیر آسودہ حال ہوجاتی ہے۔ بڑے ابا بنیادی طور پر محفل کے آدمی نہیں تھے۔ خلوت نشینی انھیں فطری طور پر ملی تھی۔ ایک کمرہ تھا جو ان کے والد کا بنوایا تھا تھا۔ اس کے سامنے انھوں نے مزید چار کمرے کا مکان بنوایا۔ یہ تعمیر والد کی زندگی میں ممکن نہ ہوسکی۔ مجھے یاد ہے کہ میرا داخلہ جے این یو میں ہوگیا تھا اور ادھر تعمیر کا کام جاری تھا۔ مکان کی زمین پختہ ہورہی تھی۔ بڑے ابا موجود تھے۔ میں بھی دہلی سے آگیا۔ بڑے ابا نے غالب کا شعر کئی مرتبہ پڑھا:

گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا

وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر سو ہے

مکان کی تعمیر کے بعد بھی کوئی تعمیر کا کوئی تصور ہوسکتا ہے۔ بڑے ابا جس انداز میں شعر پڑھتے وہ قرأت کا ایک نیا تجربہ تھا۔ سرشاری کے عالم میں یہ بھی کہا تھا کہ غالب اگر ہوتے تو یہاں بلاتا اور ان کے اعزاز میں شعری نشست ہوتی۔ تو یہ ادب کو پڑھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا معاملہ تھا۔ میں نے ان کی زبان سے کبھی میر کا شعر نہیں سنا۔ بجز ایک شعر کے:

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

میر کا یہ شعر عزت سادات کی ترکیب کی وجہ سے اچھا لگتا ہے۔ عاشقی کی معنویت وقت اور صورت حال کے سیاق میں بڑھتی بھی ہے اور بدلتی بھی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بڑے ابا عاشقی کو دیوانگی سے کہیں زیادہ فرزانگی سے قریب سمجھتے تھے۔کسی رسالے میں کلیم عاجز کا کچھ کلام شائع ہوا تو میں دہلی سے اپنے ساتھ پرچہ لے آیا۔ بڑے ابا نے ان شعروں پر نشانات لگائے جن میں جنو ںکا مضمون تھا۔ ان کی رائے تھی کلیم عاجز کے یہاں دو اشعار زیادہ متاثر کرتے ہیں جو جنوں سے متعلق ہیں۔ مثلاً:

رسن و دار کو خاک کف پا بھی نہ ملی

کس جگہ اہل جنوں کا ہے قدم کیا جانو

اس شعر کے ساتھ لفظ ’فلسفہ‘ لکھا تھا۔ مجھے ان دنوں کلیم عاجز کے اشعار زیادہ یاد نہیں تھے لیکن جب میں گریجویشن کے بعد کلکتہ گیا تو بڑے ابا نے سالک لکھنوی کی ذاتی لائبریری سے ’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘ یہ کہہ کر چند دنو ںکے لیے مانگا کہ میرا بھتیجا وطن سے آیا ہوا ہے، پڑھنا چاہتا ہے۔ سالک صاحب نے بڑے ابا سے دیباچے کا بطور خاص ذکر کیا تھا۔ شاعری کے بارے میںعام طور پر بعض بزرگوں کی خاموشی مجھے حیران نہیں کرتی۔ خصوصاً معاصرین کی۔ کلکتہ سے تو کلیم عاجز کا بہت پرانا تعلق رہا ہے۔ ان کے والد کا کاروبار کلکتہ میں تھا۔ کلکتہ وہ گھر سے ناراض ہوکے چلے گئے تھے۔ یہ ساری تفصیلات کلیم عاجز نے اپنی خودنوشت ’جہاں خوشبو ہی حوشبو تھی‘ میں لکھ دی ہے۔ تو کلکتہ ہی نے کلیم عاجز کو ڈرامے، تھیٹر اور کتابوں کے مطالعے کی طرف ابتدا میں راغب کیا۔  مجھے نہیں معلوم کہ سالک صاحب اور دوسروں نے اس خودنوشت کا وہ حصہ پڑھا یا نہیں جو کلکتہ سے متعلق ہے۔ کئی دہائیاں گزارنے کے بعد کلکتہ کی وہ روح بہتوں کی شخصیت اور تحریر میں نہیں آسکی۔جو کلیم عاجز کی خودنوشت میں ہے۔ پھر اس کا بیانیہ ایسا ہے کہ اس کو لکھنے کے لیے ذہانت ہی نہیں اس داخلی آگ کی ضرورت ہے جو رفتہ رفتہ بجھتی جارہی ہے۔ اب وہ معاشرہ ادبی معاشرہ اسٹیج سجانے اور تصویر کھنچوانے میں مصروف ہے۔ بڑے ابا نے ’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘ کو پڑھنے کے بعد مجھ سے فرمایا کہ سرور اس نثر کا کوئی اب تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لکھنا تو دور کی بات ہے۔ بڑے ابا پٹنہ یونیورسٹی میں کلیم عاجز کے ہم جماعت نہیں بلکہ ہم عصر تھے۔ کلیم عاجز اردو میں ایم اے کررہے تھے اور بڑے ابا سائنس میں۔ بڑے ابا بتاتے تھے کہ میں اپنی کچھ کلاس چھوڑ کر کلیم عاجز کی کلاس میں چلا جاتا تھا اختر اورینوی کو سننے کے لیے۔ ان کا خیال تھا کہ کلیم عاجز کی شخصیت میں شروع ہی سے خاموشی تھی اور وہ سب سے مختلف دکھائی دیتے تھے۔ بڑے ابا نے سالک صاحب کی کتاب لوٹا دی۔ اپنی پسند کے کچھ اشعار میں نے نوٹ کرلیے۔ بڑے ابا کے یہاں کلکتہ کے ادیب وشاعر آتے تھے۔ میں نے پہلی مرتبہ ڈاکٹر عبدالرؤف، ڈاکٹر ظفر اوگانوی کو بڑے ابا کے گھر پر دیکھا۔ کلکتہ کے قیام نے کلکتہ کی ادبی شخصیات کو دیکھنے اور سننے کا موقع فراہم کیا۔ علقمہ شبلی اور نصر غزالی صاحب کو بھی وہیں دیکھا۔ بزم احباب کے ایک جلسے میں بڑے ابا کے ساتھ شریک ہوا۔ سالک صاحب اس کے صدر تھے اور بڑے ابا سکریٹری۔ میرے ذہن پر آج بھی اس جلسے کا گہرا نقش ہے۔ اعزاز افضل صاحب نے ترنم سے غزل سنائی تھی۔ دوبارہ بزم احباب کی نشست میں شریک ہونے کا موقع نہیں ملا۔ میں دہلی آگیا، مگر بڑے ابا سے خط و کتابت کا سلسلہ قائم رہا۔ ان خطوط میں ذاتی حالات کے ساتھ کلکتہ کی ادبی صورت کا حال بھی ذکر ہوتا تھا۔ ان کی پریشانی وقت کے ساتھ بڑھتی۔ ذہانت دوسروں کے لیے بھی پریشانی پیدا کرتی ہے۔ بڑے ابا کی شخصیت نے پہلے پہل یہ بتایا کہ ذہانت کیا چیز ہے اور کس طرح ایک ذہین آدمی خود اپنی ذہانت کو سنبھال نہیں پاتا۔ معاشرہ اپنی روش پر قائم رہتا ہے۔ اوسط درجے کا ذہن اوسط درجے کا مطالعہ انھیں پریشان کرتا تھا مگر انھوں نے کبھی اس بنیاد پر کسی لکھنے والے کو نگاہ کم سے نہیں دیکھا۔ اخلاقی رویہ ان کے نزدیک ادبی معاملات میں یوں حائل تو ہوجاتا تھا کہ دیکھیے آپ نے اچھی کتابوں کا مطالعہ نہیں آپ نے اشعار کو سمجھنے میں غلطی کی بلکہ سمجھ ہی نہیں سکے، آپ اچھی نثر نہیں لکھ سکتے۔ بڑے ابا بعض موقعوں پر بالکل خاموش ہوجاتے۔ حیرت کے ساتھ مجمع کی طرف یا مقرر کی طرف دیکھتے۔ وقت کے ساتھ خاموشی کی طاقت بھی گھٹتی جاتی ہے۔ مگر ان کے یہاں جو بازار ادب میں اپنے علم اور مطالعے کا سودا کرلیتے ہیں۔ خاموشی کی طاقت جب گھٹتی ہے تو چیخ وپکار کو راہ مل جاتی ہے۔ بڑے ابا نے اپنی آنکھوں سے اس علمی اور فکری زوال کو دیکھ لیا تھا جس کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے مگر انھیں بعد کو زیادہ نمایاں ہونا تھا۔ زوال کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔ مطالعے کی عادت کا کم یا ختم ہوجانا اور دوسرے جلسے جلوس اور اسٹیج کے ذریعہ اپنی کم مائیگی کو چھپانے کی کوشش کرنا۔ ادب میں اخلاص اور دیانت داری کا مفہوم کبھی بدلتا نہیں ہے۔ ادیب اپنی ضرورت اور ترجیحات کے مطابق نیا مفہوم عطا کردیتے ہیں۔ ان مفہوم کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ مطالعے کا مطلب کیا ہوتا ہے اس کی مثالیں تو دنیا بھر کے ادیبوں کے یہاں مل جائیں گی۔ مطالعے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسی کتابوں کا مطالعہ اور مطالعے کے بعد مطالعے کے ایماندارانہ اظہار۔ اس کے لیے ذہانت بھی درکار ہے اور ایک صاف ستھری نثر بھی۔ بڑے ابا نے کلکتہ کی زندگی اور زمانے کو جتنا اور جس نظر سے دیکھا، وہ ایک واقعہ ہے۔ اس شہر کے بارے میں ان کی رائے اس لیے سب سے زیادہ معتبر ہوگی کہ انھوں نے جس نظر سے دیکھا اس میں مطالعے اور تجربے کے ساتھ وہ روشنی بھی تھی جو داخل سے آرہی تھی۔ اس کی حفاظت کی قیمت بھی انھوں نے ادا کی۔ ان کی آرزوؤں کا تعلق نہ انعامات سے تھا اور نہ مطالعے کی فوری نمائش سے تھا۔ عجیب بات ہے کہ ادارے کسی زمانے میں ادبی معاشرے کی علمی و ادبی تربیت کا وسیلہ تھے۔ ایک مرکزیت حاصل تھی، تہذیبی زندگی میں۔ اختلافات کب نہیں رہے مگر لوگ باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتے تھے، دوسروں کے مطالعات کی سطح سے نہ صرف واقف تھے بلکہ قدر بھی کرتے تھے۔

بڑے ابا اپنی رائے کے اظہار میں تکلف سے کام نہیں لیتے تھے۔ میں نے لکھمنیاں میں بھی یہ کہتے ہوئے سنا کہ آپ مطالعہ نہیں کرتے۔ آپ کے یہاں فطری اپج نہیں ہے۔ اچھی کتابوں کے مطالعے سے ذہن میں وسعت پیدا ہوتی ہے، مگر وہ فوراً تنہائی کی طرف آجاتے۔ بڑے ابا نے فکری سطح پر تنہا زندگی گزرای ہے۔ کسی سے بات کرتے وقت بھی وہ مجھے بہت دور دکھائی دیتے۔ انسان کو معاشرے میں نباہ کرنی پڑتی ہے۔ جھوٹی تعریف بھی کرنی ہوتی ہے۔ بات بنانی بھی پڑتی ہے۔ بڑے ابا نے ممکن ہے ایسا کبھی کیا ہو لیکن یہ بات میں پورے یقین اور پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہو ںکہ اگر یہ سب کچھ وہ کرتے تو وہ بہت مقبول ہوتے اور مداحوں کا بڑا حلقہ بن جاتا۔ پھر بھی انھیں چاہنے اور ان کی سچی قدر کرنے والے لوگ موجود تھے اور بڑے ابا نے بے وقوفوں کی فہرست تو ہرگز نہیں بنائی مگر وقت اپنے طور پر فہرست بنا رہا ہوتا ہے۔ بے وقوفی اور جہالت کہہ کر تو آتی نہیں ہے، بڑے ابا نے دیکھا تھا کہ جہالت اداکاری بھی سکھا دیتی ہے اور دربار داری بھی۔ بے وقوفی اور جہالت کی قسمیں بھی کئی ہوتی ہیں۔ ایک سلسلہ سا ہے اور یہ سلسلے اپنے طور پر وقت اور شہر کومجتمع کرلیتے ہیں۔ کڑیاں جڑتی چلی جاتی ہیں۔ بڑے ابا نے زوال کی ان جڑتی کڑیوں کو توڑنے کی کوشش اپنے طور پر ضرور کی مگر زمانہ بھی تو اپنی چال چل رہا ہوتا ہے۔ فراق نے کہا تھا کہ سب سے بڑی طاقت جہل میں ہوتی ہے۔ اس طاقت کو کمزور کرنے والی علمی طاقتیں ہر زمانے میں ہوتی ہیں مگر کیا کیا جائے فروغ بعض اوقات جہل کی جیسی طاقت کا ہوتا ہے۔

بڑے ابا پرانی تہذیب کے آدمی تھے مگر سائنس اور ریاضی کے اسکالر تھے۔ اس لحاظ سے وہ اپنی پرانی اقدار کے ساتھ جدید تر ذہن سے نہ صرف قریب تھے بلکہ جدید تر ذہن کے حامل تھے۔ سائنٹفک ذہن انسان کو منطقی اور عقلی بناتا ہے۔ بڑے ابا نے سائنس اور ریاضی پر اردو میں کتابیں لکھیں۔ یہ تحریریں طالب علموں کے لیے بھی تھیں اور اساتدہ کے لیے بھی۔ ایسی دو کتابیں جب شائع ہوگئیں ادر انھیں کچھ روپے ملے تو ان کا استعمال لکھمنیاں میں ایک مکان کی تعمیر میں کیا، جس کا ذکر آچکا ہے۔ جب چھت ڈالی جارہی تھی تو کہنے لگے دو کتابوں سے جو روپے ملے تھے ان کا یہاں استعمال کرلیا۔ وہ چھت اور مکان موجود ہے۔ آج اس مکان کی طرف دیکھتا ہوں تو بڑے ابا کی اس بات کا خیال آتا ہے تو جناب ذہانت ہی نہیں بلکہ اس کو ریاضت کہتے ہیں انھوں نے جیسی بامقصد زندگی گزاری اس میں روپے جمع کرنے کے لیے گنجائش نہیں تھی روپے تو کسی او رطرح سے آتے ہیں۔

ارد وکے قدیم رسالوں میں ان کی دلچسپی بہت تھی۔ رسالوں کا ایک اچھا ذخیرہ جمع ہوگیا تھا۔ پچھلے سفر میں مجھے ان رسالوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ قدیم رسالوں میں گہری دلچسپی کا اظہار ان کی کتاب ’قدیم رسائل اور اداریے‘ ہے۔  سچی بات یہ ہے کہ قدیم رسالوں پر اس نوعیت کا کوئی کام نہیں تھا۔ یہ اشاریہ نہیں بلکہ رسالو ںکے فکری و نظریاتی مسائل کے تجزیے اور تفہیم پر مشتمل کتاب ہے۔ لکھمنیاں کے جس مکان کا ابھی ذکر ہوا ہے لالٹین کی روشنی میں ہفتوں اور مہینوں یہ رسالے ان کے مطالعے میں رہے۔ لالٹین کی روشنی اور رسالوں کے کاغذ کا رنگ بھی ہم آہنگ ہوگیا تھا۔ ذرا ہوا تیز چلتی تو لالٹین لے کر کمرے میں آجاتے۔ مگر وہ تو کبھی بجھی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ بڑے ابا کی ادبی زندگی، ادبی ذوق اور ادبی مطالعے کی نمایاں ترین مثال رسالو ںپر ان کی یہ کتاب ہے۔ اس کتاب نے داخلی سطح پر انھیں بڑی قوت فراہم کی۔  ایک ادیب اور محقق کی اس سے بڑی دولت کیا ہوسکتی ہے۔

’علامہ مشرقی عنایتی اور مولانا ابوالکلام آزاد‘ میں ان کی دلچسپی بھی ایک واقعہ ہے۔ بیسویں صدی کے دو جنئس۔ ’علامہ شرقی عنایتی اور مولانا ابوالکلام آزاد‘ کے عنوان سے مضمون لکھا جو آج کل میں شائع ہوا۔ ’غبار خاطر‘ کے بہت سے جملے انھیں یاد تھے۔ نیاز فتح پوری کو ایک زمانے میں اتنا پسند کرتے تھے کہ وہ گھنٹوں ان پر گفتگو کرسکتے تھے۔ رسالہ ’نگار‘ نے بھی ان کی ذہنی تشکیل میں ایک اہم کردار دا کیا۔ بعد کو وہ نگار کا ذکر کم کرنے لگے تھے۔ اشرف صبوحی کا تذکرہ زیادہ کرنے لگے۔ اردو نثر کے مختلف اسالیب ہیں۔ کوئی قاری یا ادیب تمام اسالیب سے ایک ہی طرح کا رشتہ قائم نہیں رکھ سکتا۔ جس نثرمیں تھوڑی خیال آفرینی  اور تخلیقیت ہوتی وہ انھیں متاثرکرتی۔ محمد حسین آزاد فراق کی نثرمیں ایک رشتہ وہ تلاش کرلیتے تھے۔ شمیم حنفی کی زیادہ تر کتابیں بڑے ابا کے حکم کی تعمیل میں میں نے ارسال کردی تھیں۔ وہ شمیم حنفی کی نثر کے  مداح تھے۔

20 اپریل 2021 کو بڑے ابا کا انتقال ہوا۔ آج اپریل کی 17 تاریخ ہے۔ یہ چند صفحات محترم عنبر شمیم کی تحریک پر ممکن ہوسکے۔ ابتدائی چند صفحے لکھمنیاں میں لکھے گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ بڑے ابا کے یوم پیدائش پر اسے شائع کریں۔ لکھتے لکھتے دل بھر آیا پھر لکھا نہیں گیا۔ ابتدائی صفحات تو بڑے ابا کے گھر آنگن کے ہیں مگر اس بار وہ لالٹین نہیں جلی جس کے شیشے تھوڑی دیر میں کالے ہوجاتے اور بڑے ابا گرم شیشے کو ایک کپڑے سے پکڑ کر صاف کرتے۔ کبھی راکھ سے بھی شیشہ صاف کرتے مگر تیز اور دودھیا روشنی میں بھی مجھے بڑے ابا کی لالٹین کا خیال آتا رہا۔ سچ پوچھیے تو میں لالٹین کی روشنی میں ہی کچھ لکھنے کی کوششیں کرتا رہا۔ اس وقت دہلی میں دن کا اجالا ہے اور یہ اجالا دھوپ کی تمازت کی وجہ سے سیاہی مائل ہے۔ بڑے ابا نے زندگی کی سخت دھوپ میں ذہنی و فکری سطح پر بہت ثروت مند زندگی گزاری۔ میں نے بیدل عظیم آبادی کا شعر پہلی مرتبہ ان ہی کی زبان سے سنا تھا:

ہر کجا رفتم غبار زندگی در پیش بود

یا رب ایں خاکِ پریشاں از کجا برداشتم

انھوں نے فارسی اپنے ماموں مولانا سید ضیائ الرحمن سے پڑھی اور ترجمے کے ذریعہ بہت سارا فارسی کلام بھی پڑھ لیا۔ فارسی کے اشعار انھیں اتنے یاد تھے کہ بعض موقعوں پر اردو اشعار پڑھتے نہیں تھے۔ ان کے والد اور میرے دادا کو اتنی فارسی آتی تھی کہ فارسی عبارتوں کو سمجھ سکیں اور سمجھا سکیں۔ بڑے ابا کی نانی نے میری دادی کے انتقال کے بعد اپنے نواسوں کی پرورش و پرداخت میں کوئی کسر نہیں رکھی۔ بڑے ابا کو اپنی والدہ کی دھندلی یادوں کو تمام عمر تازہ دم رکھا۔ میں پوچھتا تو وہ دادی کے بارے میں کچھ بتاتے۔ بڑے ابا کی نانی نے بھی بڑے ابا کو کچھ سبق پڑھایا تھا۔ میرے بچپن کا زمانہ تھا۔ بڑے ابا کی نانی شعر پڑھتی تھیں اور بڑے ابا انھیں نقل کرتے۔ دادا ابا کی تحریر شکستہ تھی اور اس خط سے ملتی تھی جو کتابت کا قدیم حسن ہے۔ اپنی خودنوشت ’دیار گم گشتہ‘ میں کچھ تفصیلات موجود ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں جو ضبط تحریر میں آنے سے رہ گئیں۔ میں نے کچھ باتوں کی طرف یہ کہہ اشارہ کیا کہ آپ نے فلاں موقعے پر یہ بات کہی تھی مگر کتاب میں موجود نہیں۔ بعض معاملات میں میں نے تھوڑا ان سے اختلاف کیا تو ان کی رائے تھی بیٹا تم نئے ذہن سے سوچتے ہو، تمہاری تعبیرات کی کچھ اپنی بنیادیں ہیں لیکن اس وقت میں اسی طرح غور کررہا ہوں۔ خودنوشت اگر وہ نہیں لکھتے تو ایک بڑی کمی واقع رہ جاتی۔ ان کے نئے ایڈیشن کی فکر میں ہوں۔ وہ اس ارادے سے کلکتہ سے پٹنہ آئے کہ چند دن قیام کے بعد لکھمنیاں چلا جاؤں گا اور بقیہ وقت وہیں گزاروں گا۔ مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔ تقریباً گیارہ بجے کھانا کھاکر سوگئے۔ تیسری بیٹی رومی کے یہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ سحری کے وقت جب بیٹی نے آواز دی تو مکمل خاموشی تھی۔ انھوں نے کبھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انھیں ان کے وطن لکھمنیاں میں دفن کیا جائے مگر حالات کے سبب یہ ممکن نہ ہوسکا۔ اس بار کے روزے بھی گزرے چلے جاتے ہیں۔ دھوپ کی سختی بھی بڑھتی جاتی ہے، میری نگاہ میں اس وقت بھی وہ لالٹین ہے جس کی لال روشنی میں انھوں نے نہ جانے کتنے صفحات تحریر کیے اور کتنے صفحات مطالعے میں آئے، ان کی انگلیاں نہ لہولہان ہوئیں اور نہ جل سکیں۔ ایک شعلہ تو ان کے وجود میں روشن تھا۔ لالٹین کے گرم شیشے پر ان کا ہاتھ رکھ دینا معمول کا عمل معلوم ہوتا تھا۔ ثروت حسین کا شعر یاد آگیا:

یہ رسم انبیا زندہ ہمیں سادات رکھیں گے

جہاں پر آگ دیکھیں گے وہیں پر ہات رکھیں گے

٭٭٭

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
3
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جشنِ اردوصحافت اور”بہار“ – انوار الحسن وسطوی
اگلی پوسٹ
حج ۲۰۱۹۔ تلخ و شیریں مشاہدات – محمد بشیر مالیر کوٹلوی

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں