Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

بہرائچ کا جنگ میں کردار اور گمنام مجاہدین آزادی – جنید احمد نور

by adbimiras اگست 15, 2022
by adbimiras اگست 15, 2022 0 comment

1857ء کی جنگ آزادی میں بہرائچ کا اہم کردار رہا ہے  ۔بہرائچ کے چہلاری  کے راجہ بل بدھر سنگھ  نے بیگم حضرت محل کی فوج کی کمان سنبھالی  اوراسی جنگ میں شہید بھی ہوئے تھے ۔بیگم حضرت محل  کو راجہ چردا  نےاپنے قلعہ میں پناہ دی اور وہیں سے وہ بہرائچ کے راستے سے نیپال کو گئی تھی۔دہلی میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ،لکھنؤ میں بیگم حضرت محل کے علاوہ کانپور میں نانا صاحب پیشوا  اور عظیم اللہ خاں اور فیض آباد میں مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی  انگریزوں کے خلاف میدان میں تھے۔نانا صاحب  پیشوامقامی حکمرانوں سے ملاقات کے لئےبہرائچ آئے اورایک  خفیہ اجلاس  منعقد کیا جس میں  چہلاری ،چردا، بھنگا، بونڈی، ٹپرہا وغیرہ کے حکمرانوں نے شرکت کی اور یہ عہد کیا  کہ  موت تک آزادی کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔بہرائچ میں اس وقت جنگ بڑے پیمانے پر تھی۔ریکواری کے تمام حکمراں اس وقت عوام کے ساتھ تھے ۔جب  یہ جد وجہد چل رہی تھی اس وقت تین (۳) برٹش آفیسر نانپارہ کی طرف بھاگے لیکن عوام نے انہیں روک لیا اور انہیں واپس ہونا پڑا جہا ں سے وہ لکھنؤ کے لئے چل دئے لیکن جب یہ سب بہرام گھاٹ(گنیش پور)پہنچے تو  اس وقت تمام ناؤ  دیسی عوام کے قبضے میں تھی ۔جہاں ہندستانی عوام سے فرنگی آفیسروں کا مورچہ  ہوا جس میں یہ سب آفیسر مارے گئے۔ اور پھر آزادی کے متوالوں نے پورے ضلع کو فرنگی لوگوں سے آزاد کرا لیا تھا اور  1858ء   تک بہرائچ مجاہدین آزادی کے قبضہ میں رہا۔اس کے علاوہ بہرائچ کے کئی حصوں میں آزادی  کے متوالوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج سے جنگیں ہوئیں ۔کچھ دیسی ریاستوں نے جو پہلے آزادی کے سپاہیوں کے ساتھ تھیں۔جنگ میں ہار جانے کے بعد خود سپردگی کر دی  جن میں ریاست  رہوا ،بھنگا اورٹپرہا وغیرہ شامل تھےان کے کچھ علاقے ان سے چھین لئے  گئے،1860ء میں  ریاست نیپال کے ساتھ ہوئے  معاہدہ میں ترائی /تلسی پور کے علاقے کو نیپال کو سونپ دیا گیا تھا۔اسی طرح انگریزوں نے کچھ علاقے راجہ  کپورتھلہ  اورراجہ بلرام پور کو بھی دئےتھے۔  1920ءمیں بہرائچ میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی بنیاد بابو رام شرن نے ڈالی تھی جب یہاں سے  کچھ لوگوں نے  ناگپور  کنونشن میں شرکت کی اور وہاں سے واپس آنے کے بعد بابو رام شرن نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ کھددر کے کپڑے اور ملک کی خدمت کرنے کی قسم کھائی۔ اس وقت آپ کے ساتھیوںمیں بابو یگل بہاری،شیام بہاری پانڈے ،مراری لا ل گوڑ اور درگا چرن تھے جنہوں نے کانگریس کا کام اور آزادی کی لڑا ئیشروع کی۔ جب کہ اس وقت شہری علاقوں میں ہوم رول  لیگ بہت مقبول   تھی جس  میں بسنت رائے بھنڈاری وکیل اور پنڈت بھوان دین مشر ا رکن تھے۔ضلع میں کانگریس کے پہلے صدر دیوان پراگی داس تھے اس کے بعد دوسرے صدر بابو شیو گوپال وکیل ہوئے ،جنہوں نے چرکھے اور کھددر کے پرچار پر اپنی توجہ کی اور ضلع میں اتنی کھادی تیار ہوئی کہ کھادی کی پیداوار میں صوبہ میں دوسرا مقام حاصل ہوا۔   1926ءمیں سروجنی نائڈو نے بہرائچ کا دورہ کیا  تھا اور لوگوں کو دیسی سامان اور  ایکتا اور کھادی کے سامان کے استعمال پر زور دیا تھا۔   1929ء    میں مہاتما گاندھی بہرائچ آئے اور ایک عوامی اجلاس سے گورنمنٹ انٹر کالج (اب مہاراج سنگھ انٹر کالج)میں خطاب کیااور انہیں بہرائچ کی عوام نے ہریجنوں کی  فلاح بہبود کے لئے 3500روپئے کا چندہ بھی دیا تھا۔ نمک قانون توڑنے   کے لئے گاندھی جی نے ڈانڈی مارچ کیا تھا جس کے سبب گاندھی جی کو حراست میں لے لیا گیا تھا اس کے احتجاج میں بہرائچ کے مقامی گھنٹہ گھر میں لوگوں نے  نمک بنا کر قانون کو توڑنے کا اعلان کیا تھا ۔جس کی پاداش میں تمام اہم رہنماؤں کو گرفتارکرلیا گیا تھا۔6؍     اکتوبر 1931ءکو پنڈت جواہرلعل نہرو نے بہرائچ کا دورہ  کیا اور رمپوروہ،ہردی ، گلولہ،اکونہ میں عوامی اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ 762؍ افراد نے گاندھی جی  کے ستیہ گرہ  کے لئے اپنے نام دیاتھا جن میں سے 371کو گرفتار کرلیا گیا  تھا۔جب گاندھی جی کو 9؍اگست        1942ء بھارت چھوڑوتحریک کے دوران گرفتار کیا گیا تھااس وقت  ضلع میں احتجاجی جلوس کا  انعقاد ہوا جس میں تمام مقامی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

1940ءمیں گاندھی جی کی بھارت چھوڑو (سول نافرمانی) تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے بہرائچ واطراف کی نمائندگی کرتے ہوئے ،پنڈت بھگوان دین مشر، خواجہ خلیل احمد شاہ،سردار جوگیندر سنگھ،ٹھاکر حکم سنگھ،  مولانا سلامت اللہ بیگ، مولوی کلیم اللہ نوری، مصطفی خاں (مولوی)،  وغیرہ نےجیل جا کر قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔1946ءمیں ہوئے اسمبلی  الیکشن میں بہرائچ سے جمعتہ علماء ہند اور کانگریس پارٹی کے مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کے بانی حضرت مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؔ  نے مسلم لیگ کے امیدوار  ظہیرالدین فاروقی ایڈوکیٹ کوشکست دی  اور ریاستی حکومت میں  وزارت تعلیم میں   پارلیمنٹری سکریٹری کے عہدے پر فائز ہوئے تھےاور              1951ء تک اسمبلی کے رکن رہے ۔15؍ اگست1947ء  کو جب ملک کو آزادی نصیب ہوئی تو پورے ضلع بہرائچ میں جشن منایا گیا ۔15؍ اگست1947ء کولکھنؤ میں  سب سے بڑا فنکشن سکریڑیٹ پر منعقد ہوا تھا۔سکریڑیٹ (ودھان بھون) کے سامنے بڑے شامیانے لگائے گئے تھے اور یہاں اہم شخصیتیں اور آزادی کے پروانے بڑی تعداد میں موجود تھےاس پروگرام میں بہرائچ کی   نمائندگی تین اہم لوگوں نےکی تھی جن کے نام اس طرح ہیں۔مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؔ (سابق پارلیمنٹری سکریٹری برائے تعلیم حکومت اتر پردیش اور بانی جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ)،سردار جوگندر سنگھ(سابق گورنر راجستھان) اور ٹھاکر حکم سنگھ(سابق وزیر اتر پردیش حکومت)۔

قائدین بہرائچ کا مختصر تعارف

راجہ چہلاری بل بھدر سنگھ(سپاہ سالار اودھ)

راجہ چہلاری  بل بھدر سنگھ  ۱۸۵۷ء میں  ہونے والی جنگ آزادی میں بیگم حضرت محل کی فوج کے سپاہ سالار تھے۔آپ کی ولادت ۱۰؍ جون ۱۸۴۰ء کو ریاست چہلاری کے مورّوا ڈیہہ میں ہوئی تھی۔آپ کے والد کی زمین داری  میں ۱۳۳ گاؤں ضلع بہرائچ اور ۸۷ گاؤں ضلع سیتاپور کے شامل تھے جو گھاگھرا ندی کے کنارے واقع تھے۔جب انگریزوں نے ۱۸۵۶ء میں نواب اودھ واجد علی  شاہ کو قید کر کے کلکتہ بھیج دیا تھا ۔بیگم حضرت محل نے اپنے صاحبزادے نواب برجیس قدر کو اودھ کا بادشاہ  بنا دیا  اور انگریزوں کےخلاف اعلان جنگ کر دیا تھا ، بعد میں انگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے آپ  نےریاست بونڈی (ضلع بہرائچ )کے راجہ ہر دت سنگھ کے قلعہ میں پناہ لی اوراس کو اپنا مرکز بنا کر یہاں سےنوابین ، راجگان اودھ ، تعلقداران اودھ و زمینداران اودھ کو  بونڈی قلعہ میں بلایا اور تمام افراد یہاں تشریف لائے۔ اس سلسلے میں مشہور مصنف امرت لعل ناگر لکھتے ہیں کہ بیگم حضرت محل نے راجہ کو خلعت بخشی ۔چودنتا گز عنبری کے ساتھ دیا۔رانی کے لئےجواہرات دئے ، لوگوں کے لئے پہراور دی۔بیگم حضرت محل نے اپنے ہاتھوں سے بل بھدر کو کیسر سے تلک کیا ،برجیس قدر اور مموں خاں سے بھی تلک کرایا اور تمام ساج –واج کے ساتھ میدان جنگ کے لئے وداع کیا۔آپ نے ۱۲؍ ۱۳؍ جون ۱۸۵۸ء کو مقام اوبری ضلع بارہ بنکی میں جنگ  ہوئی جس میں بیگم حضرت محل کی فوج کی سپاہ سالاری کرتے ہوئے ۱۳؍ جون ۱۸۵۸ء کو   صرف ۱۸؍ سال کی عمر میں ملک کے لئے اپنے کو ملک کے لئے قربان کر دیا اور رہتی دنیا تک اپنی بہادری کے نقوش کو چھوڑ کر جام شہادت نوش کیا۔آج بھی آپ کی یوم شہادت پر ہر سال بہرائچ اور بارہ بنکی میں تقریبات ہوتی ہیں اور آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔

راجہ ہردت سنگھ ریکوار (ریاست بونڈی)

ضلع بہرائچ کی ایک ریاست بونڈی تھی جس کے راجہ ہردت سنگھ ریکوار سوائی تھے۔جب لکھنؤ میں جنگ میں بیگم حضرت محل کی ہار ہوئی تب وہ شہزادے برجیس قدر کو لے کر بونڈی آئی اور مہاراج ہر دت سنگھ نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے انگریزوں کی پرواہ نہ کی اور ان کو اپنے قلعہ میں پناہ دی اور مدد کرنے لگے، رہوا راجہ رگھو ناتھ کو دما (दमा)کی شکایت تھی ان کے منجھلے بھائی بھیا ہرپال سنگھ آدھے پاگل تھے ۔مہاراج ہر دت سنگھ نے بھیا ہری شرن سنگھ کو اپنی فوج کمانڈنگ آفیسر بناکر بیگم حضرت محل کی مدد کو بھیجا ان کےپیر میں گولی لگی اور وہ وہ زخمی ہو کر واپس ہوئے۔جس وقت بیگم بونڈی کے قلعہ میں مہمان تھی اسی زمانے میں پیشوا نانا راو صاحب رہوا میں تین دن ممہان رہے تھے۔جب جنگ میں بیگم کی افواج کو شکست ہوئی تو مہاراج ہر دت سنگھ ،بیگم حضرت محل ،نانا راو وغیرہ جو خاص خاص لوگ تھے پہاڑ(نیپال) کی طرف چلے گئے۔انگریزوں نے اس کے بعد ریاستوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔

راجہ جگ جوت سنگھ (ریاست چردا )

سن ۱۸۴۶ء میں مہاراج مہی پت سنگھ کی وفات کے بعد ریاست چردا راجہ جگ جوت سنگھ نے سنبھالی ۔۱۸۵۷ء میں جب ملک میں انگریزوں کے خلاف جنگ کی شروعات ہوئی تو راجہ جگ جوت سنگھ نے بھی اس میں حصہ لیا ۔پیشوا ناناراو نے آپ کے قلعہ میں پناہ لی اور راجہ جگ جوت سنگھ نے آخر تک آپ کی حفاظت کی ۔انگریزوں نے راجہ صاحب کو لالچ دیا کہ پیشوا نانا راؤ کو ہمارے سپرد کر دو ، اس کے بدلے میں ہم ضلع بہرائچ کا کافی علاقہ دیں گے لیکن وطن پرست راجہ نے انگریزوں کی اس پیشکش کو نامنظور کر دیا اور نانا صاحب کے ساتھ رہے۔اس وجہ سے انگریزوں نے آپ کی ریاست چردا پر زبردست حملہ کیا  تب نانا صاحب کو آپ نے اپنے بہنوئی راجہ دیوی بخش سنگھ کی حفاظت میں سرنگوں کے راستے سے گرکھالی(نیپال) بھیج دیا جبکہ خود ایک توپ اور اپنے سپاہیوں کی مدد سے تین دن تک انگریزوں سے لڑتے رہے ۔چوتھے دن قلعہ کے آس پاس انگریزوں نے آگ لگا دی تھی۔راجہ اپنے اہل خانہ اور کچھ  رقومات لیکر سرنگ کی راہ  سے ترائی مسجدیہ کے جنگل میں واقع اپنے قلعہ میں آ گئے اور چردا چھوڑتے ہوئے قسم کھائی کہ جب تک بدلہ نہیں لیں گے قلعہ میں واپس نہیں آئیں گے اور کبھی واپس نہ آئے ۔انگریزوں نے مسجدیہ کے قلعہ پر بھی حملہ کر دیا اورآپ کو وہاں سے بھی بھاگنا پڑا پھر نانپارہ تحصیل میں نانپارہ سے شمال پچھم کی طرف جنگل کے کنارے برگدیہ کے قلعہ میں گئے وہاں بھی انگریزوں نے پیچھا کیا ۔ آپ نے ہر قسم کی مصیبت منظور کی لیکن انگریزوں کے آگے سر کو خم نہیں کیا  اور اپنی پوری طاقت سے مقابلہ کیا بعد میں مایوس ہو کر نیپال چلے گئے ۔نیپال کے مہاراجہ نے آپ کو اپنی حفاظت میں لیا  اور کچھ موضع آپ کو دے دیے۔

حکیم مولانا محمد فاروق نقشبندی مجددی بہرائچیؒ

حضرت حکیم مولانا محمد فاروق نقشبندی مجددی بہرائچیؒ۔آپ کی ولادت ۲۹؍شعبان ۱۳۰۳ھ مطابق ۲۲؍مئی ۱۸۸۶ء کوشہر بہرائچ کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی۔آپ مدرسہ جامع العلوم پٹکا پور کانپورمیں استاد رہے۔ رئیس احرار مولانا حسرتؔ موہانیؒ اور علی برادان کے قریبی ساتھی رہے۔مولانا حسرتؔ موہانی کے ساتھ ۱۹۳۳ء میں حج کیا۔گھرگوپورضلع گونڈہ میں ایک جوشیلی  تقریرکی جس کی بنا پر گونڈہ جیل میں ایک سال قید با مشقت کی سزا پائی۔صدرخلافت کمیٹی ،ضلع سیکرٹری کانگریس بہرائچ،خاکسار تحریک کے رکن ،بہرائچ مسلم لیگ کے صدر رہے۔آزادی سےقبل ۲۹؍شوال المکرم ۱۳۶۴ھ مطابق۲۶؍ ستمبر ۱۹۴۶ء میں انتقال ہوا۔آپ کی مزار احاطہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی ؒ میں حضرت شاہ بشارت اللہ  بہرائچیؒ کے بغل میں واقع ہے ۔

مجاہد آزادی خواجہ خلیل احمد شاہ

مجاہد آزادی خواجہ خلیل احمد شاہ کی ولادت ۱۸۹۱ء میں شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔آپ بہرائچ کانگریس کے اہم اورسرگرم رکن رہے۔پنڈت جواہر لعل نہرو کے قریبی ساتھی تھے۔۱۹۳۶ء میں کانگریس کے ٹکٹ پر ایم ایل اسی رہے۔ستہ گرہ تحریک میں حصہ لیا ایک سال تک بھارت رکشا قانون میں ضلع جیل میں قید  رہے۔بھارت چھوڑو تحریک میں دوبارہ  بھارت رکشا قانون کے تحت ۹ ماہ تک نظر بند رہے۔۱۹۶۵ء میں وفات ہوئی  تدفین چھڑے شاہ تکیہ قبرستان شہر بہرائچ میں ہوئی۔

مجاہد آزادی ٹھاکر حکم سنگھ

مجاہد آزادی ٹھاکرحکم سنگھ کی ولادت ۱۸۹۲ءمیں کےگاؤں  لدُوْرتحصیل قیصرگنج ضلع بہرائچ  میں ہوئی۔۱۹۳۲ء میں تحریک آزادی کےسلسلےمیں پہلی بارایک قید اور ۲۵۰؍ روپیے  کا جرمانہ ہوا۔۱۹۳۷ءمیں ودھان پریشد کے ممبر ہوئے اور کونسل کے سبھا سکریٹری رہے۔۱۹۴۰ء میں ستیہ گرہ میں دوبارہ حراست میں لئے گئے اور ساتھ ہی ۱۵ مہینے سخت قید اور۱۰۰؍روپیے  جرمانہ کی سزا پائی۔ ۱۹۴۲ء میں بھارت چھوڑو تحريك میں پھر آپ کو قید کر دیا گیا۔آپ ۱۵ مہینے تک نظر بند  رہے۔۱۹۴۶ءسے ۱۹۶۲ء تک ممبر  اسمبلی رہے۔اتر پردیش حکومت میں مختلف اہممحکموں کے وزیر رہے۔۱۹۶۰ء میں کسان ڈگری کالج کی بنیاد رکھی۔ضلع ہاسپٹل کی تعمیر کرائی۔ ۲؍دسمبر۱۹۷۱ءکو وفات ہوئی۔

مجاہد آزادی پنڈت بھگوان دین مشرا

مجاہد آزادی پنڈت بھگوان دین مشراکی ولادت نومبر۱۸۹۲ء( لوک سبھا ویب سائٹ پر پروفائل کے مطابق(، ۲؍اکتوبر ۱۸۹۳ء(شہید اسمارک بہرائچ میں لگے مجسمہ پر درج تاریخ ولادت )گاؤںگنگا پوروہ داخلی چندیلہ تحصیل قیصر گنج ضلع بہرائچمیں ہوئی تھی۔بہرائچ میں  کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھنے والوںمیں سے ایک تھے ۔گورنمنٹ سنسکرت کالج بنارس سے سنسکرت کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔جون ۱۹۱۷ء میں آپ کی شادی مسماۃ اِندرا کنور صاحبہ سے ہوئی ۔۱۹۳۰ء میں نمک تحریک میں۱۰ ماہ تک قید رہے۔۱۹۳۲ء سول نا فرمانی تحریکمیں۱۸ ماہ قید اور ۱۰۰ روپیہ جرمانہ کی سزا پائی۔۱۹۴۰ ء میں ستیہ گرہ تحریک کے دوران ۱۵ ماہ قید اور ۱۰۰ روپے کی سزا پائی۔دوبارہ بھارت چھوڑو تحریک میں۱۵ ماہ تک نظر بند رہے ۔ضلع کانگریس کے صدر رہے،ڈسٹرکٹ بورڈ بہرائچ کے صدر رہے۔۱۹۵۱ ءمیں ہوئے انتخابات میں آپ قیصر گنج اسمبلی حلقہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔ ۱۹۵۷ء میں ہوئے انتخابات میں قیصرگنج حلقہ سے ممبر لوک سبھا منتخبہوئے اس انتخاب میں آپ نے راجہ نانپارہ محمد سعادت علی خاں کو تقریباً تیس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔اس کے علاوہ آپ شہر کے ممتاز انٹر کالج گاندھی انٹر کالج کے بانیوں میں تھےجس کی شروعات۱۹۴۴ء میں ہوئی جو اب آپ کے نام کے ساتھ ویدھ بگھوان دین مشرا گاندھی انٹر کالج کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کے علاوہ آپ ضلع کے متعدد اسکولوں اور کالجوں کے سرپرست رہے۔۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۲ء کو وفات ہوئی۔

مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؒ

مجاہد آزادی حضرت مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؒبانی جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ اور آزاد انٹر کالج بہرائچ۔ یو۔پی گورنمنٹ کی وزارت تعلیم میں پارلیمنٹری سکریٹری رہے۔ حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰنؒ صاحب گنج مرادآبادی کے خلیفہ مجاز حضرت حاجی عبد الرحیم ؒصاحب سے بیعت اور خلافت حاصل تھی۔آپ کی ولادت۴؍جمادی الثانی۱۳۲۹ھ مطابق ۳؍ جون ۱۹۱۱ء میں ہوئی تھی۔آپ نے جنگ آزاد ی میں اہم کردار ادا کیا۔۱۹۳۱ءمیں آپ نے جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کی بنیاد رکھی اور کچھ عرصہ میں ہی نورالعلوم مجاہدین آزادی کااہم مرکز بن گیا۔۱۹۴۶ءمیں ہوئے انتخابات میں کانگریس اور جمعیتہ العلماء کے مشترکہ ٹکٹ پر بہرائچ سے فتح یاب ہوئے اور  حکومت میں پارلیمنٹری سکریٹری رہے۔پرونشیل حج کمیٹی اتر پردیش کے صدر رہے۔ ’’معلم القرآن‘‘اور’’ مفتاح القرآن‘‘ وغیرہ متعدد کتب کےمصنف تھے۔ آپ کی تصنیف ’’مفتاح القرآن‘‘ کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر مقبول ہو چکا ہے ۔ہفتہ وار اخبار انصاربہرائچ کے بانی جس کے مدیران میں مورخٔ اسلام قاضی اطہر ؔ مبارک پوریؒ(متوفی۱۹۹۶ء)اورصاحب مصباح اللغات مولاناابوالفضل عبدالحفیظ بلیاویؒ(متوفی۱۹۷۱ء)شامل تھے۔آپ نے ایک“ہلال باغ”کے نام سے ایکمنصوبہ بھی بنایا تھا جس کی تائید ملک کے ممتاز ملی اور قومی رہنماؤں نے بھی کی تھی لیکن افسوس وہ منصوبہ پورا نہ کر سکے۔نورالعلوم لیدر ورکنگ اسکول کے نام سے مدرسہ میں ہی صنعتی ادارہ بھی قائم کیاتھا جس کی تائید اور ستائش پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی کی تھی ۔ہلال باغ نام سے ایک اہم منصوبہ بنایا تھا جو آپ کی وفات ہو جانے کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔۱۹۴۸ءمیں آزادانٹرکالج بہرائچ کی بنیاد ڈالی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ ممبر رہے۔آپ کی وفات۱۷؍نومبر ۱۹۶۳ءکوہوئی۔تدفین احاطہ حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ،مولوی باغ میں ہوئی۔

مجاہد آزادی سردار جوگیندر سنگھ

مجاہد آزادی سردار جوگیندر سنگھ کی ولادت ضلع بہرائچ کےگاؤںبھنگہا میں ۳؍اکتوبر ۱۹۰۳ء کو ہوئی۔۱۹۳۲ء میں تحریک عدم تعاون میں لکھنؤ میں6ماہ کی حراست میں جیل میں رہے۔۱۹۳۴ ءمیں سینٹرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔۱۹۴۰ءمیں ستیہ گرہ میں دوبارہ حراست میں لئے گئے اور ساتھ ہی ۱۵مہینے سخت قید کی سزا دی گئی تھی اورسینٹرل اسمبلی سے معطل کر دیے گئے۔ جیل سے نکلنے کے بعد بنارس اسمبلی سے بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔بھارت چھوڑو تحريك میں پھر آپ کو قید کر دیا گیا۔آپ ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے۔قانونسازاسمبلی کے رکن رہےلوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبر رہے۔اڑیسہ اور راجستھان کے گورنر رہے۔۱۱؍فروری۱۹۷۹ءکو بہرائچ میں وفات پائی۔

مجاہد آزادی مولانا سلامت اللہ بیگؒ

مجاہد آزادی مولانا سلامت اللہ بیگؒ۔آپ کی ولادت ۱۵؍ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ مطابق ۸؍دسمبر ۱۹۱۱ء کو قصبہ فخر پورضلع بہرائچ  میں ہوئی۔ ۱۹۴۰ء میں جنگ مخالف تقریر کرنے پر ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کےتحت جیل گئے ۱۸ ماہ تک قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی اور ۲۵۰؍روپیے کا جرمانہ ہوا۔جرمانہ  نہ ادا کرنے پر ۱۲ ماہ کی قید کی سزا پائی۔ضلع کسان سبھاکےسبھاپتی رہے۔جمعتہ العلماء ضلع بہرائچ کے منتری رہے۔جامعہ مسعودیہ نور العلوم کے ناظم تعلیمات اور صدر المدرسین  رہے ۔آپ کا انتقال ۵؍ محرم الحرام ۱۴۱۲ھ مطابق ۱۸؍جولائی ۱۹۹۱ء کو ہوا۔تدفین چھڑے شاہ تکیہ قبرستان ،شہر بہرائچ میں ہوئی۔

مجاہد آزادی مولوی کلیم اللہ نوریؒ

مجاہد آزادی مولوی کلیم اللہ نوریؒ۔آپ کی ولادت 1؍جمادی الاولی۱۳۴۰ھ مطابق یکم ؍جنوری ۱۹۲۲ء کو شہر کے ناظر پورہ میں ہوئی۔آپ نے  ستیہ گرہ تحریک میں حصہ لیا اور ۱۹۴۱ء میں بھارت رکشا قانون کے تحت ۹ ماہ کی سزا پائی۔ضلع جیل بہرائچ اور گونڈہ میں قید رہے۔۱۹۴۲ءمیں بھارت چھوڑو تحریک کوانڈر گروانڈ رہ کر کامیاب بنایا۔بہرائچ میں انگریزی فوج کے پہنچنے پر اردو زبان میں       “ انگریزی فوج کا بائیکاٹ کرو‘ کے نعرے لگوائے اور پمفلیٹ تقسیم کرائے ،گرفتاری وارنٹ جاری ہوا لیکن نیپال چلے گئے اور وہاں سے تحریک آزادی کو ہوا دی۔آپ جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ کے کار گزار مہتمم رہے۔آپ کا انتقال ۲۶؍صفر المظفر ۱۴۲۱ھ مطابق۳۱؍مئی ۲۰۰۰ء کو ہوا۔آپ کی تدفین مرکزی عید گاہ قبرستان،سالار گنج، شہر بہرائچ میں ہوئی۔

حکیم عبد الرؤف خاں جوہرؔوارثی

حکیم عبد الرؤف خاں جوہرؔوارثی کی ولادت۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۷ء کو نانپارہ میں ہوئی۔آپ معروف حکیم ہونے کے کہنہ مشق ممتاز شاعر تھے۔سٹیٹ ہاکی ٹیم کے رکن رہے۔ پنڈت نہرو کے قریبی تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو جب نینی جیل میں قید تھے۔ان کی ہدایت کے مطابق جوہرؔصاحب لنگوٹی باندھے ایک خستہ حال فقیر کی کی شکل میں جیل سے کچھ فاصلے پراپنی گودڑگھٹری لئے سرِراہ خیمہ زن رہتے اورراہ گیر چند سکے آپ کے ہاتھوں پر رکھ دیتےمگرمخصوص کانگریسی کارندے دن بھر کی کاروائیوں اور حالات حاضرہ سے متعلق رپورٹ مڑے تڑے کاغذکی شکل میں آپ کو دے جاتے جسے دن بھر اپنے پاس گودڑ میں بحفاظت چھائے رکھتے اور رات کے اندھریے میں مخصوص ذرائع سے کاغذکے وہ پرزے پنڈت نہروتک پہنچاتے تھے۔آزادی کے بعدحکومت ہندنے آپ کو مجاہد آزادی کے لقب سے سرفراز کیا۔بہرائچ میونسپل بورڈکےممبر رہے۔ آپ کا انتقال۳؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء شہر بہرائچ

مجاہد آزادی سردار علی خاں

مجاہد آزادی سردار علی خاں ابن نیاز علی خاں ساکن محلہ بڑی ہاٹ شہربہرائچ۔۳؍ستمبر ۱۹۳۹ءکو انگریزوں نے بغیر صوبائی کابینہ کی منظوری کے  بھارت کو جنگ میں شامل کر لیا اس کی مخالفت میں صوبائی کانگریسی کابیناؤں نے اپنے عہدے چھوڑ دیں ۔جس پر بہرائچ میں کانگریس سماجوادی دل کے سردار علی خاں ،شیوشرن لعل،وجے کمار عرف نورنگ،بلونت رائے بھنڈاری،مہاراج نرائن سنگھ نے جنگ آزادی ہفتہ منایا تھا۔آپ  نے ۱۹۴۲ء میں بھارت چھوڑو تحریک  میں گرفتار ہوئےاور ۱۵ ماہ نظر بند  رہے۔

مجاہد آزادی مصطفیٰ خاں(مولوی)

مجاہد آزادی مصطفیٰ خاں(مولوی) کی ولادت۱۹۱۱ء جمنہا بازار ضلع بہرائچ(موجودہ وقت میں شراوستی کا حصہ ہے) میں ہوئی۔آپ کے والد کا نام مولوی رمضان خاں تھا ۔ستیہ گرہ تحریک میں حصہ لیا اور ۱۹۴۱ء میں بھارت رکشا قانون کے تحت ۱سال کڑی قید اور ۱۰۰؍ روپیے کا جرمانہ کی سزا ہوئی۔دوبارہ ۱۹۴۲ء میں بھارت چھوڑو تحریک میں گرفتار ہوئے اور ۹ماہ قید کی سزا پائی۔۹ ماہ بعد رہائی ہوئی اور اس کے بعد آپ دوبارہ سے تحریک آزادی میںسرگرم ہوئے اور رو پوش ہو کر آزادی کی تحریک کو چلاتے رہے پھر کبھی  انگریزوں کے قبضہ میں نہیں آئے۔آپ سردار جوگیندر سنگھ کے قریبی ساتھی تھے۔آزادی کی ۲۵؍ویں سالگرہ پر وزیراعظم  اندرا گاندھی نے تامپتر سے سرفراز کیا۔ ۱۹۸۱ء میں انتقال ہوا۔آپ کے صاحبزادے آباداحمد خاں شہر بہرائچ کے مشہور وکیل اورانتظامیہ کمیٹی  درگاہ شریف  بہرائچ کے سابق صدر ہیں۔

حوالہ جات

بہرائچ گزیٹیر (ایچ ۔آر۔نیول، ۱۹۲۱ء)

غدر کے پھول (امرت لال ناگر، ۱۹۵۷ء)

سوتنترا سنگرام کے سینک:ضلع بہرائچ(۱۹۷۲ء)

بہرائچ ایک تاریخی شہر (جنید احمد نور، ۲۰۱۹ء)

نیا دور(لکھنو، ۱۹۹۷ء)

نور العلوم کے درخشندہ ستارے(امیر احمد قاسمی ، ۲۰۱۱ء)

نیا دور یاد گار  آزادی نمبر( اگست۱۹۹۷ء

مشاہیر بہرائچ (جنید احمد نور، زیر ترتیب)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
آزادی کے معنی – شہپر شریف
اگلی پوسٹ
تحریک آزادی میں خواتین کاکردار – مہر فاطمہ

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں