ہر شہری کو اپنے مُلک سے محبت ہوتی ہے ، اپنا مُلک چاہِے برف سے ڈھکا ہو، چاہِے گرم ریت سے بھرا ہو، چاہِے او نچی اونچی پہاڑیوں سے گھِرا ہو وہ سب کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے مجھے لال چند فلکؔ کا یہ شعر یاد آتا ہے ؎
دل سے نکلے گی نہ مرکر بھی وطن کی الفت
میری مِٹّی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
15؍ اگست یومِ آزادی کے طور سے منایا جاتا ہے کیونکہ 15؍ اگست 1947 کو ہمارا مُلک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا ۔ وہ ہمارے ہی مُلک پر حکومت کر رہِے تھے اور ہمیں طرح طرح سے لوٹتے تھے ظلم و ستم کرتے تھے۔ انہوں نے ہمارے اوپر عرصۂ حیات تنگ کرکے رکھ دیا تھا۔
ہمارے مُلک کے عظیم رہمنماؤں نے آزادی کی اہمیت و ضرورت کو محسوس کیا اور غلامی کی زندگی سے موت کو بہتر جانا۔ انگریزوں سے چھٹکارا پانے کے لیے مہم چلائی ۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی مصیبتیں برداشت کیں۔ انگریز حکومت کی لاٹھیاں کھائیں ، جیل گئے اور آخر کار اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گئے۔
یومِ آزادی مناتے وقت یہ سوال ہمیشہ ذہنوں میں گونجتا رہتا ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟ ہماری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں ہم دوسرے کی آزادی سلب کرنے لگے۔ اگر ایسا کرتے ہیں تو پھر تہذیب نہ رہِے گی اور انسان پھر سے جنگل کی مخلوق ہو جائے گا۔ آزادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ترتیب کے بجائے بے ترتیبی پر اُتر آئیں۔
پچھتّر برس پہلے ہندوستان کا تقریباً ہر باشندہ برطانوی تسلط کے خاتمے پر مُلک کی آزادی کے جشن میں شریک تھا۔آج ہندوستان دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریتوں میں سے ایک ہے اور اب وہ آزادی کے سفر سے ایک ترقّی یافتہ مُلک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن منزل کے حصول میں اُسے غریب ، بے روزگاری اور ایسے کئی اہم مسائل سے آزادی حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔
جب تک ہمارا مُلک غربت سے آزاد نہیں ہوتا تب تک آزادی لفظ بے معنی ہے۔ہندوستان کی اقتصادی ترقّی کے باوجود یہاں کی 70فی صدی آبادی آج بھی پیٹ بھر کھانا نہیں کھاپاتی۔ دنیا کی کُل غریب آبادی کا تیسرا حصّہ ہندوستان میں رہتا ہے۔ یہاں شہر ہو یا دیہات ہر جگہ غریبی کا بول بالا ہے۔ یہاں ہر پانچ سال سے کم عمر میں مرنے والے بچّوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
آزادی کے تقریباً سات دشک گزر جانے کے بعدغریب عوام کو آج تک اپنے بنیادی مسائل سے آزادی نہیں ملی ہے۔ آج بھی غریب عوام کی زندگی دو وقت کی روٹی حاصل کرنے اور تَن ڈھانکنے کے لیے دو کپڑوں تک محدود رہ گئی ہے۔دہی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادی میں بھی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج بھی ہمارے مُلک میں ایسے طبقے ہیں جہاں روز مرّہ کی مزدوری پر گزر بسر ہو رہی ہے۔
غریب سے لے کر امیر تک آزادی کے بارے میں سوچتا ہے لیکن دونوں کی سوچ بنیادی طور پر مختلف ہوتی ہے۔ ایک امیر شخص چاہتا ہے کہ اتنی آزادی ملنا چاہئے کہ وہ جو چاہِے کر سکے ، جہاں چاہِے جا سکے۔جب کہ غریب آدمی بھی آزادی چاہتا ہے لیکن اس کے لیے آزادی کے معنی الگ ہوتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچّے اچھّی زندگی گزار سکیں، اچھّے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں، قرضے کے بوجھ سے آزادی مل سکے،عزّت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔
آزادی کی جدّوجہد میں سرسیّد احمد خاں نے قوم کی ترقّی نہ ہونے کی وجہ تلاش کر لیں تھیں۔ قوم ایک دقیانوسی علمی ماحول میں تو تھی جو نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس قوم کو علم کا راستہ پرلایا گیا کیوںکہ علم انسان کو مزید روشن خیالی کا سبب دیتا ہے۔ آزادی کے کئی معنی ہیں۔ اقبالؔ کا آزادی کا خیال اس محدود دنیا سے بہت آگے تھا۔ آزادی صرف یہ نہیں کہ آپ اچھّے اور محفوظ ماحول میں رہیں جہاں آپ اچھّے کپڑے پہنیں اور بچّوں کو آزاد ماحول دیں۔ آزادی کے معنی ہیں زندگی میں ترقّی کے راستے کھولنا۔ لوگ اپنے اطراف میں اپنی ذاتی سوچ اور اپنے لوگوں میں اپنے آپ کو مقید کر لیتے ہیں،معاشرے میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں تھامتے ،آگے نہیں بڑھتے تو ایسا معاشرہ مجبور ہوتا ہے جو آزادی کی نعمت سے ساری زندگی محروم رہتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیے یومِ آزادی کا مطلب بھی بدل گیا ہے۔نوجوانوں کے لیے پندرہ اگست کا دن محض چھٹّی کا دن ہے جس میں وہ گھر رہ کر ہی سوشل میڈیا جیسے فیس بُک، ٹوِیٹر، انسٹاگرام ، وہاٹس ایپ وغیرہ کے ذریعہ آزادی کے میسج بھیجتے ہیں ۔
آزادی صرف یہ نہیں کہ مُلک غلامی سے آزاد ہو گیا ۔آزادی صحیح معنوں میں تبھی حاصل ہوگی جب معاشرہ آزاد ہوگا غربت سے، جہالت سے، بیماری سے ، قرضہ سے،ایک صحافی کو عوام کے مفاد لکھنے کی آزادی ہو، طالب علم اور اساتذہ کو خیالات کو پیش کرنے کی آزادی ہو ، تنقید کرنے کی آزادی ہو ، تحریر کرنے کی آزادی ہو ، تحقیق کرنے کی آزادی ہو ۔
ابھی تک پاؤں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی
دن آجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی
¯
شہپر شریف
اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبۂ اُردو
اُتّراکھنڈ اوپن یونیورسٹی، ہلدوانی(نینی تال)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

