۱۷۹۹ میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد مسلمان پژمردہ ہو گئے تھے۔ رہی سہی کسر ۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی جسے انگریزوں نے غدر کا نام دیا ، اس کے ژولیدہ نتائج نے پوری کر دی تھی۔ایسے وقت میں مجاہدینِ آزادی نے حب الوطنی اور آزادیٔ وطن کے نعرے بلند کیے، ان میں صفِ اوّل کے قد آور مجاہدین میں رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر(۱۸۷۸ ۔ ۱۹۳۱) کا نا م شامل ہے ۔ ہندوستان کی تاریخ کے ایک اہم عبوری دور میں مجاہدِ آزادی محمد علی جوہر کی شخصیت پروان چڑھی۔ انھوں نے ادبی، سیاسی اور صحافتی مختلف سمتوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ہندوستانیوں میں جذبۂ حریت پیدا کرنے کے لیے محمدعلی جوہر نے ۱۴جنوری ۱۹۱۱ میں کلکتہ سے انگریزی ہفتہ وار اخبار ’کامریڈ‘ کا اجرا کیا۔ ’کامریڈ‘ کی اشاعت کے ایک سال بعد ہی حکو مت نے کلکتہ کے بجائے دہلی میں دارالحکومت بنانے کا ارادہ کیا۔لہٰذا یہ اخبار ۱۲ اکتوبر ۱۹۱۲ کو دہلی منتقل ہو گیا۔ مگر نومبر ۱۹۱۴ میں پریس کی ضمانت ضبط ہو جانے پر یہ اخبار بند ہو گیا۔ محمد علی جوہر نے ’ کامریڈ‘ اخبار انگریزی تعلیم یافتہ طبقے کو جھنجوڑنے کے لیے نکالنا شروع کیا تھا جب کہ انھوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اردو صحافت کی جانب رجوع کیا اور ’ہمدرد‘ اخبار جاری کیا۔
۲۳فروری ۱۹۱۳ میں دہلی سے محمد علی جوہر نے اردو میں ایک ورق کاپرچہ’ہمدرد‘نکالا جو آنے والے ’ہمدرد‘ کی منادی کرنے لگا۔ بیروت سے ٹائپ آنے کے بعد باقاعدہ ’ہمدرد ‘اخبار نکلنے لگا۔ اس کے ذریعہ محمد علی جوہر نے اردو صحافت کا رجحان لیتھو چھپائی کے بجائے اردو ٹائپ کی جانب کیا۔محمد علی جوہر اپنے ان اخبارات کے ذریعے ہندوستانیوں کے دلوں میں حب الوطنی اور حریت کے جذبے کو ابھارتے رہے اور بہت جرأت و بے باکی سے حکومتِ وقت پر تنقید کرتے رہے۔ ان کا اصل مقصد وطن کی آزادی تھا جس کے لیے انھوں نے ہر ممکن کوشش کی۔
محمد علی جو ہر’ہمدردــ‘ اخبار کے ذریعے تحریکِ آزادی کی حمایت میں اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ ’ہمدرد‘ کو کافی مالی نقصان اٹھانا پڑا کیوں کہ اس نے دوسرے اخبارات کی طرح صاحبِ اقتدار طبقے کے واقعات بیان کرکے ان سے پیسہ نہیں کمایا تھا۔یہی وجہ تھی ’ہمدرد‘ کی حالت روز بروز بگڑتی رہی۔ مخلص دوستوں کی مدد سے یہ اخبار نکلتا رہا۔جب محمد علی جوہر بغرض علاج یوروپ گئے تھے تو اس وقت مولانا عبدالماجد دریا بادی اور مولانا ظفر الملک نے ان کی غیر حاضری میں اس اخبار کی ذمہ داری سنبھالی۔ اخبار کی پالیسی کے سبب بہت کوشش کے بعد بھی یہ لوگ ’ہمدرد‘کو خسارے سے بچا نہ سکے ۔ یوروپ سے واپس آکر محمد علی جوہر نے ۱۲ اپریل ۱۹۲۹ کواخبار بند کر دیا۔
تقسیمِ بنگال کے بعد مسلم بر سر اقتدار طبقے کو مسلمانوں کے حقوق کے لیے ایک مسلم تنظیم کا خیال دل میں آیا۔ چنانچہ دسمبر ۱۹۰۶ میں مسلم لیگ کی بنیاد پڑی۔ اس تنظیم کے قوائد و ضوابط کی ذمہ داری مولانا محمد علی جوہر کو دی گئی۔ وہ ۱۹۱۷ میں اس کے صدر منتخب ہوئے ۔انھوں نے بحسن و خوبی اس میں اپنی خدمات انجام دیں۔مجاہدِ آزادی کا کردار ادا کرتے ہوئے محمد علی جوہر انگریزوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے تھے۔ لہٰذا انھیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔مولانا کی نظر بندی کے زمانے میں مولانا مظہر الحق کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا ۔ انھوں نے کچھ مسائل پر گفتگو کے لیے مولانا کے پاس ڈاکٹر محمود کو بھیجا۔ مولانا محمد علی جوہر نے ان سے جو بھی گفتگو کی وہ ۲۷ دسمبر ۱۹۲۸ کے ’ہمدد‘ اخبار میں شائع ہوئی:
’ میں اوّل بھی مسلمان دوئم بھی مسلمان، سوئم بھی مسلمان لیکن اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جس کا تعلق ہندوستان سے ہو تو میں اوّل بھی ہندوستانی دوئم بھی ہندوستانی اور سوئم بھی ہندوستانی ہوں گا بلکہ ہندوستانی ہونے کے سوا کچھ نہ ہوں گا۔میں موتی لال سے مصالحت نہ کروں گا۔ کیوں کہ انھوں نے ڈومینین اسٹیٹس پر تو مہاراجہ محمودآباد اور حکومت سے مصالحت کر لی ہے لیکن مسلمانوں سے مصالحت نہ کر سکے۔‘
موتی لال نہرو نے۱۹۲۸ میں ایک کمیٹی کے ذریعہ ہندوستان کا دستور بنانے کے لیے جو رپورٹ مترب کی تھی اس میں مکمل آزادی کے بجائے ڈومینین اسٹیٹس کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ محمد علی جوہر نے موتی لال نہرو سے صلح نہیں کی۔بعد میں جسے نہرو رپورٹ سے جانا گیا۔
۱۹۱۹ میں مہاتما گاندھی نے ہندوستانی سیاست میں قدم رکھا ۔ ان کے آتے ہی کانگریس کی صورت حال تبدیل ہوناشروع ہو گئی۔ انھوں نے کانگریس کے ذریعہ ہندوستان کو آزاد کرانے کا ارادہ کیا۔ اس کے لیے ستیہ گرہ کا آغاز کیا۔ جلیا نوالا باغ کے دردناک حادثے سے ہر ہندوستانی واقف ہے ۔ ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔ انھیں نظر بند کیا گیا اور قید وبند کی سزائیں دی گئیں۔محمد علی جوہر جنگِ آزادی میں بے حد فعال کارکن اور جرأت مند صحافی کی حیثیت رکھتے تھے۔ لہٰذا انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ بیتول جیل میں چار سال نظر بند اور آخر میں ایک سال قید کی سزا کاٹنے کے بعد انھیں رہا کیا گیا تو وہ سیدھا کانگریس کے جلسے میںشرکت کے لیے امرتسر گئے ۔ وہاں کے لوگوں نے پُر زور طریقے سے ان کا خیر مقدم کیا ۔ اس طرح ۱۹۱۹ میں محمد علی جوہر انڈین نیشنل کانگریس میںایک ڈیلی گیٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ ابتدائی کانگریس اور اب کی کانگریس میں فرق تھا، اب وہ قومی کانگریس ہو گئی ۔ اس میں پارسی، مسلمان اور سکھ سبھی شامل تھے۔ کچھ عرصہ بعد محمد علی جوہر نے انڈین نیشنل کانگریس میں اپنی شمولیت درج کرائی ۔
مولانا محمد علی جوہرکی کارکردگیوں سے خوش ہو کر انھیں ۱۹۲۳ میں انڈین نیشنل کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا ۔ ۱۹۲۲ تک کانگریس احمدآباد(گجرات) میںاپنے عروج کو پہنچ چکی تھی۔ ۱۹۲۶ئ میں گوہاٹی میں یہ طے کیا گیا کہ ہندوستانی ملتوں کے لیے ایسا کیا کیا جائے جس سے انگریزوں کی قید سے ہندوستانیوں کو آزاد کرایا جا سکے۔ ۲۶ دسمبر ۱۹۲۸ کے’ ہمدرد‘ میں’ قولِ حق‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
’میں انگریزی حکومت کو پسند نہیں کرتا۔ میں ہرگز اس پر راضی نہیں کہ انگریز کا غلام بنوں۔ یہ خلافت اسلام جو انگریز کی حکومت چاہتے ہیں وہ ضرور ہمارے خلاف ووٹ دیں۔ میں نہ ہندو راج چاہتا ہوں اور نہ مسلم راج بلکہ میں تو سوراج چاہتا ہوں۔‘
محمد علی جوہر کی اس تحریر سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ و ہ آزادیٔ و طن کے کس حد تک خواہاں تھے ۔ انھوں نے اپنے اخبار کی مدد سے ہندوستانیوں کے دلوںمیں نہ صرف آزادی کا جذبہ پیدا کیا بلکہ ہندو ،مسلم اتحاد پر بھی زور دیا کہ ہندوستان کے اچھے مستقبل کے لیے آپسی جھگڑوں کو پسِ پشت ڈال کر آزادیٔ وطن کے نعرے بلند کرنے پڑیں گے۔ لہٰذا مولانا نے ہندو اکثریت کے ساتھ مسلمان اقلیت کا اتحاد کرایا اور انھیں اس بات کے لیے راضی کیا کہ ہندو اور مسلمان باہم اتفاق سے انگریزی حکومت کے استبداد کا خاتمہ کریں۔ اس طرح محمد علی جوہر نے ’ہمدرد‘ اخبار کے ذریعہ لوگوں کو ہموار کرنے کی کوشش کی ۔
افسوس اپنے زمانۂ صدارت میں ہی محمد علی جوہر کانگریس سے بددل ہو گئے ۔ اس کی خاص وجہ۱۹۲۸ میں آل انڈیا پارٹیز کی طرف سے نہرو رپورٹ کا منظور کیا جانا تھا ۔ محمد علی مسلمانوں کی اکثریت والے پانچ صوبوں جن میں پنجاب، بنگال، سندھ، صوبہ سرحد اور بلوچستان شامل تھے، ان میں مسلمانوں کی حق تلفی برداشت نہیں کر سکے ۔ نہرو رپورٹ میں مکمل آزادی کے بجائے ڈومینین اسٹیٹس (Domanian Status ) کا مطالبہ کیا گیا تھا اور جس میں مسلمانوں کے حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔اب محمد علی جوہر کے نزدیک کانگریس کو خیر باد کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انھی دنوں کلکتہ میں خلافت کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں انھوں نے کانگریس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
مولانامحمد علی جوہر کی خلافت میں دلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ عالمِ اسلام کی مرکزیت ختم ہونے کے بعد انگریزی حکومت کو ہندوستان میں اپنی جڑیں مضبو ط کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس کا اظہار انھوں نے جگہ جگہ اپنی تقاریر میں کیا ۔ لہٰذا وہ حکومت کی آنکھ میں کھٹکنے لگے اور ان پر کڑی نظر رکھی جانے لگی۔پہلے انھیں نظر بند پھر گرفتار کیا گیا۔ اخبارات نے حکومت کے اس اقدام پر انھیں لعن تعن کی اورپُرزور طریقے سے احتجاج کیا۔ پورے ہندوستان میں ان کی گرفتاری سے غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔محمد علی جوہر نے جرأت اور دلیری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ ان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلاکر ان کے جرم کے متعلق بتایا جائے مگر حکومت نے ایسی جگہ پر خاموشی اختیار کر لی۔
مولانا محمد علی جوہر کے نزدیک دو سیاسی مقاصد تھے ۔ اوّل تو ہندوستان کی آزادی دوم مسلمانوں کی بہبودی ۔ انھی دو مقاصد کے تحت یہ اپنی تحریر و تقریر کا استعمال کرتے تھے۔ ’ ایشیا ٹک بل‘ کے تحت جنوبی افریقہ میں مقیم ہندوستانیوں کے خلاف اہانت آمیز قانونی بندشیں لگائی جا رہی تھیں جس کے خلاف دہلی میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا ۔ بل کا پس منظر یہ تھا کہ(1899-1902) Boer War میں جنوبی افریقہ میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں اور برطانیہ حکومت کے درمیان یہ تجویز پاس ہوئی تھی کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ان کے حقوق فاتح کے برابر ہوں گے مگر فتح کے بعد ان کے حقوق غصب کرنے کے لیے ’ایشیا ٹک بل ‘ پیش کیا گیا ۔اپنی تقریر میں محمد علی جوہر نے تحریکِ موالات اور برطانیہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے آزادی پر زور دیا۔ اس کے علاوہ تحریک ِ خلافت ، اس کے مقاصد اور مسلمانوں کے لیے اس کی ضرورت اور ہندوؤں کا اس سلسلے میں جو اعتراض تھا اس کا جواب بھی اپنی تقریر میں دیا۔ محمد علی جوہر کی طرح ان کا اخبار ’ہمدرد‘ بھی اپنے مخصوص کردار کے سبب فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی یہ تقریر ۱۶ تا ۱۸ اکتوبر ۱۹۲۴ کے ’ہمدرد‘ میں شائع ہوئی۔ اس کا کچھ حصہ ملاحظہ کیجیے :
’ تم پر صرف ایک ہندوستان کی آزادی کا فرض عائد ہوتا ہے لیکن ہم پر اس فرض کے علاوہ مسلمان عالم کی آزادی کا بھی فرض عائد ہوتا ہے ۔ میرا ایک پاؤں ہندوستان میں ہے اور ایک پاؤں مذہب اسلام میں۔۔۔ اگر کبھی جنگ کا وقت آئے گا تو مجھے بلا بھیجنا۔ اس وقت اگر تلوار نہ بھی ہوگی جیسی کہ آج نہیں ہے تو ڈنڈا ہی لے کر آجاؤں گا اور لالہ لاجپت رائے ، لالہ گردھاری لال اور بابو بپن چند پال ان میں سے انشا اللہ کسی سے بھی پیچھے نہیں رہوں گا بلکہ شاید دو قدم آگے ہی رہوں گا۔
یہ ہے میرا ہندوستانی قومیت کے متعلق نقطۂ نظر جو میرے نزدیک ہر ایک ہندوستانی مسلمان کا ہونا چاہیے۔‘
محمد علی جوہرہندوستانی مسلمانوں کو اس بات کی تلقین بھی کرتے ہیں کہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر اتفاق رائے سے ہندوستان کوآزاد کرا ئیں۔ کوئی بھی مسمان انگریزی فوج میں بھرتی نہ ہو ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ عوام چرخے کو اپنائیں اور کھدر پہنیں ۔ غیر ملکی کپڑوں کا استعمال ترک کر دیں۔ اس طرح کی مختلف قراردادیںخلافت تحریک میں منظور کی گئی تھیں۔
تحریک ِ خلافت کی ناکامی کے بعد مغرب کے تعلیم یافتہ مسلمانوں نے جب ہندوستانی مسلمانوں کا مذاق اڑایا تو اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں نے مذہبی علوم کے ساتھ ترقی یافتہ علوم کی جانب بھی توجہ کی۔ مولانا کی نظر آنے والی نسلوں پر مرکوز تھی ۔ ان کا خیال تھا کہ علی گڑھ کا تعلیمی نصاب اسلامی اصولوں پر ہو لیکن انگریز اساتذہ ، افسران اور کچھ ہندوستانی بر سر اقتدار طبقے کے سبب ان کا نظریۂ تعلیم وہاں جاری نہیں ہو سکا ۔ لہٰذامحمد علی جوہرنے اپنے نظریۂ تعلیم کے لیے علی گڑھ میں ہی ۱۹۲۰ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد ڈالی۔ ان کے اس منصوبے میں حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹر انصاری کا تعاون بھی شامل تھا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام حکومتِ وقت کے افسران کو ناپسند ہوااور انھوں نے محمد علی جوہر کو شہر بدر کروانے کی کوشش کی۔ بالآخر انھیں پولیس کی مدد سے بے دخل کر دیا گیا تو محمد علی جوہر نے اپنے کچھ ہمدردوں حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹر انصاری کی مدد سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو دہلی منتقل کر لیا۔اپنے تعلیمی نظریہ کے متعلق مولانا اپنے مضمون ’ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مقصد کیا ہے‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’جامعہ نے ابتدا ہی سے پیش نظر جو مقصد رکھا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں سے سچے خدا پرست مسلمان اور وطن پرور ہندوستانی پیدا ہوں۔‘ (مولانا محمد علی جوہر: حیات و خدمات از مولانا صابر ارشاد عثمانی، ص۳۲۵)
بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں مسلمانوں کی یکجہتی کے سبب نہرو رپورٹ کامیاب نہ ہو سکی ۔ اس کے علاوہ خلافت کمیٹی کے کرشمات بھی اب اپنا اثر نہیںدکھا پا رہے تھے ۔ ’کامریڈ‘ اور ’ہمدرد‘ اخبارات بھی بند ہو چکے تھے۔ محمد علی جوہر اب کسی سیاسی جماعت کے نمائندہ نہیں تھے۔ ایسے وقت میں وائسرائے نے انھیں ’گول میزکانفرنس ‘میں شرکت کی دعوت دی۔ وائسرائے ہند مولانا کی سابقہ خدمات سے بخوبی واقف تھے۔ خاص طور سے وہ خدمات جن سے انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کا اعتبار حاصل کیا تھا۔ لہٰذا وائسرائے ہند کی نظر میںاس سے بہتر اور کوئی موقع نہ تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کے لیے مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے محمد علی جوہر کا نام ’گول میزکانفرنس‘ میں تجویز کیا جائے۔جس وقت مولانا کو ’گول میزکانفرنس‘ میں شرکت کی دعوت دی گئی اس وقت وہ ذہنی، جسمانی اور مالی تکالیف سے گزر رہے تھے۔کانفرنس کے لیے وائسرائے کی دعوت قبول کرنے کا جواز اپنے بھائی کو ۳۰ ستمبر ۱۹۳۰ کے خط میںاس طرح تحریر کرتے ہیں:
’اب میں اس رائے پر پہنچا تھا کہ اگر نیا دستور اساسی ایسا بن گیا کہ اُس میں اسمبلی کو حقیقی آزادی مل گئی تو میں بھی اس میں شریک ہو جاؤں گا۔ گو اُس وقت تک میں مولانا حسین احمد صاحب کی طرح شرکت جائز نہیں سمجھتا۔اگر دستور اساسی کی بنیاد حقیقی آزادی قرار پائی تو میں شریک ہو کر اُن کے دوش بدوش تحفظ اسلامی اوراتحادِ ملالِ ہند کے جدوجہد کروں گا۔‘ (مولانا محمد علی جوہر: حیات و خدمات از مولانا صابر ارشاد عثمانی، ص ۷۹۸تا ۷۹۹)
مولانامحمد علی ’گول میز کانفرنس‘ میں شرکت کے لیے نومبر ۱۹۳۰ئ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ بحری سفر طے کرکے لندن گئے ۔ انھوں نے وہاں نہ صرف شرکت کی بلکہ اہم مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ مولانا نے ’گول میز کانفرنس‘ میں اپنی تقریر میں برٹش حکمراں سے کہا تھا کہ وہ اس مقصد کے تحت یہاں آئے ہیں کہ وطن واپسی کے وقت ان کے ہاتھ میں ملک کی آزادی کا پروانہ ہو ورنہ وہ غیر ملک میں ہی اپنی جان دینے کو ترجیح دیں گے۔ ان کی تقریر کا یہ اقتباس دیکھیے:
’آج جس ایک مقصد کے لیے میں آیا ہوں وہ یہ ہی ہے کہ میں اپنے ملک کو اسی حالت میں واپس جاؤں ، جبکہ آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو۔ میں ایک غلام ملک کو واپس نہ جاؤں گا۔ میں ایک غیر ملک میں جب تک وہ آزاد ہے مرنے کو ترجیح دوں گا اور اگر آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دیں گے توآپ کو یہاں مجھے قبر کے لیے جگہ دینی پڑے گی۔۔۔میں ڈومینین اسٹیٹس کا قائل نہیں ہوں ۔ میں کامل آزادی کے عقیدہ کا پابند ہوں۔‘(مولانا محمد علی جوہر: حیات و خدمات از مولانا صابر ارشاد عثمانی، ص۸۳۳ تا ۸۳۴)
محمد علی جوہر نے یہ بات صرف اپنی تقریر میں ہی نہیں کہی بلکہ علالت کے سبب جب ان کی اہلیہ ہندوستان واپس جانے کے لیے کہتیں تو یہ مکمل کام ہو جانے کے بعد واپسی کی بات کرتے ۔ بیماری کے باوجود انھیں اپنی زندگی سے زیادہ ہندوستان اور ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کی فکر تھی۔مولانایہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ حکومت، اکثریت یعنی ہندوؤں کی ہوگی۔ اقلیت اگر اپنے لیے کچھ تحفظ کی خواہش مند ہے تو اسے خلافِ فطرت نہیں قرار دیا جا سکتا۔
مجاہدِ آزادی محمد علی جوہر بیماری کے باوجود ہندوستان واپس نہیں گئے اور مسلسل آزادیٔ وطن کے لیے جدوجہد کرتے رہے ۔ لہٰذا لندن میں ۴ جنوری ۱۹۳۱ میں صبح سوا نو بجے وہ سب کو تنہا چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
آزادیٔ ہند کی سیاسی جدوجہد میں حصہ لینے والے محمد علی جوہر کو بہت پریشانیوںکا سامنا کرنا پڑا۔ مالی دشواریوں کے سبب انھیں اپنے اخبارات بھی بند کرنا پڑے۔ وہ حکومت کی سخت کاروائیوں کا نشانہ بنے۔ کئی بار انھیں نظر بند کیا گیا تو کئی بار انھیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں ۔ اس کے با وجود انھوں نے جیل کی تکالیف کو بحیثیت مسلمان اور پروانۂ شمع آزادی ٔ ہند کے برداشت کیا مگر حکومتِ وقت سے کسی قسم کا سمجھوتا منظور نہیں کیا۔آزادی کا یہ متوالا حب الوطنی اور حصولِ آزادی کے نعرے بلند کرتا ہوا ہندوستانیوں میں حریت کے جذبے کو بیدار کرتا رہا۔ ان کی یہ خدمات ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
Dr. Hina Afreen,
Assistant Professor,
Academy of Professional Development of
Urdu Medium Teachers,
Jamia Millia Islamia
New Delhi-110025
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

