بحرین ، کویت، دوبئی عمان سمیت خلیجی ممالک کے نمائندوں کی شرکت
ثقافتوں کی راجدھانی کہے جانے والے شہر دوحہ میں بزم صدف انٹرنیشنل کی دوحہ شاخ نے اپنی نوعیت کی پہلی خلیج اردوکانفرنس منعقد کر کے تاریخ رقم کر دی۔ گولڈن اوشین ہوٹل کے فنکشن ہال میں ایک شاندار تقریب میں باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کے علاوہ قطر کی مختلف ادبی سماجی تنظیموں کے ننمائندوں اور عمائدین شہر کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔
پروگرام کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ممتاز شخصیت اور بزم صدف انٹرنیشنل کے سرپرست اعلی جناب حسن عبد الکریم چوگلے نے کی، معروف بزنس مین جناب عظیم عباس مہمان خصوصی تھے جبکہ محترمہ صوفیہ بخاری ( ا ہلیہ مرحوم صبیح بخاری) اور پروفیسر جاوید زیدی مہمان اعزازی تھے۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت دوحہ کے معرووف شاعر احمد اشفاق (بزم صدف کے پروگرام ڈائرکٹر) نے کی ، بزم صدف کے دوحہ چیپٹر کے صڈر ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش نے مہمانوں کا ستقبال کیا اور دوحہ چیپٹر کی گزشتہ سال کی کارگزاریوں کی رپورٹ پیش کی، بزم صدف انٹرنیشنل کے چئرمین جناب شہاب الدین احمد نے بتایا کہ بزم کی تیرہ ممالک میں شاخیں ہیںاور یہ تنظیم نہ صرف مشاعرے اور سے می نار کراتی ہے بلکہ ہر سال اردو کے شعرا ادبا کی ایوارڈ سے پذیرائی بھی کرتی ہے، گزشتہ دنوں حیدر آباد اور کلکتہ میں بزم صدف انٹر نیشنل نے اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن پر شاندار سے می نار منعقد کرائے۔
خلیج اردو کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے جس کی ذمہ داری دوحہ چیپٹر نے گزشتہ سال اسی موضوع پر ہونے والے ایک ویبینار میں لی تھی جو بزم صدف کویت کی شاخ نے کرایا تھا انہوں نے دوحہ چیپٹر کے ذمہ داران کو اس پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد دی۔
مہمان خصوصی جناب عظیم عباس نے بزم صدف کی اس پہل کو قابل تحسین قرار دیا جبکہ مہمانان اعزازی نے بھی اپنی گفتگو میں اردو کی ترویج و اشاعت کے ضمن میں بزم صدف انٹرنیشنل کی خدمات کا بطور خاص ذکر کیا اور کتابوں کی اشاعت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر ۲۰۱۹ء کی بزم صدف نئی نسل ایوارڈ یافتہ ڈاکٹرثروت زہرا جو کسی وجہ سے تقریب انعامات میں شریک نہ ہو سکی تھیں کو ایوارڈ دیا گیا۔ ڈاکٹر ثروت زہرا (دوبئی) کے علاوہ بحرین سے جناب ریاض شاہد عمان سے جناب طفیل احمد، کویت سے جناب مسعود حساس، دوبئی سے محترمہ عائشی شیخ عاشی اور شارجہ سے محترمہ سمیعہ ناز ملک نے پروگرام میں شرکت کی، اس موقع پر سال رواں اور گزشتہ سال کے درمیان تنظیم کے زیر اہتمام صحافت کے تعلق سے شایع کتابوں کی رسم اجرا بھی عمل میں آیا ساتھ ہی ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش کی نعتوں پر مشمل سی ڈی بعنوان گلہائے عقیدت اور ڈاکٹر ثروت زہرا کی کتاب ونڈر لینڈ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس کے بعد تمام مہمانوں کی خدمت میں شال اور لوح سپاس پیش کئے گئے۔
پھر مہمانوں نے خلیج اردو کا نیا دبستان کے عوان سے ہونے والے مذاکرے میں شرکت کی جناب احمد اشفاق اور ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش نے قطر کی نمائندگی کرتے ہوئے پروگرام کو سوال و جواب کے انداز میں منعقد کیااس میں شرکاء سے ان کے ملکوں کی ادبی تنظیموں اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے ہونے والی سرگرمیوں پر گفتگو ہوئی، اردو کے رسم الخط کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا لیکن بعض شرکاء نے اردو ادب کے دائرے کو وسیع تر کرنے کے لئے دیو ناگری یا رومن کے استعمال کی بھی وکالت کی، دوسری زبانوں خصوصا عربی ادب کے شہ پاروں کو اردو میں منتقل کرنے کے تعلق سے بھی شرکاء سے گفتگو رہی۔
بزم صدف کے اسٹیج سے ہندی کی ناول نگار محترمہ گیتانجلی شری کو بین الاقوامی بکر پرائز ملنے پر مبارک باد دی گئی اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا گیا کہ اردو کے شہ پاروں کو انگریزی یا دوسری غیر ملکی زبانوں میں تراجم کے ذریعہ پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی وسیع تر پذیرائی ہو سکے، شرکاء کی رائے اس پر مختلف تھی بعض کا خیال تھا کہ ترجمہ میں مصنف کے جذبات و خیالات کی مکمل ترجمانی نہیں ہوتی لیکن بعض نے اس کی افادیت کی حمایت کی اور رومی اور خیام کی مقبولیت کا بھی ذکر آیا، سامعین نے اس دل چسپ مباحثے کو بڑی دل جمعی سے سنا اور سبھوں نے گفتگو میں دئے جانے والے دلائل اورمعیار کی تعریف کی
پروگرام کے آخر میں شاندار مشاعرہ اور پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

