اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دُھوم ہماری زباں کی ہے
دوحہ قطر کی اولین وقدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزم اردو قطر (قائم شدہ ۱۹۵۹ء) کے زیر اہتمام سیمینار بہ عنوان اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن و سالانہ مشاعرے کا انعقاد۔
بزم اردو قطر کے ذریعے ۲۸ مئی ۲۰۲۲کو گرانڈ قطر پیلیس ۔ دوحہ ، قطر کے خوبصورت ہال میں ایک سیمینار و مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ، جس میں قطر و بیرون قطر کے شعرا نے شرکت کی۔مشاعرے کی صدارت بزم کے سرپرست اعلیٰ جناب حسن عبد الکریم چوگلے نے کی جبکہ مہمان خصوصی محترمہ ڈاکٹر ثروت زہرا (دوبئی) اور مہمانان اعزازی کی حیثیت سے جناب عظیم عباس ، محترمہ صوفیہ بخاری اور جناب طفیل احمد(عمان) اور بزم کے صدر جناب اعجاز حیدر نے اسٹیج کو منور کیا ۔مشاعرے کی نظامت کی ذمہ داری بزم کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق نے نبھائی ۔ پروگرام کا آغازمقامی وقت کے مطابق ۴۵:۷ بعد نماز عشا حافظ محمد طلحہ اعظمی کی تلاوت کلام اللہ سے کیا گیا۔
استقبالیہ کلمات میں اعجاز حیدر نے تمام سامعین با لخصوص تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ بزم کا تعارف اور بزم کی خدمات پر روشنی ڈالی، مزید بتایا کہ بزم نے اب تک سلور جبلی ، گولڈن جبلی کے ساتھ ساتھ سینکڑوں رزمیہ، حمدیہ،نعتیہ اور طرحی مشاعرے کامیابی کے ساتھ منعقد کر چکی ہے۔ انھوں نے بتایاکہ بزم کی ہی کاوشوں سے ۱۹۸۰ میں اردو ریڈیو قطر کا آغاز ممکن ہو سکا ، اب تک بزم کے ذریعے اہم پروگرام اور ان میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات اور شعراکا ذکر کیا ۔
صحافت کے ۲۰۰ سال مکمل ہونے پر بزم کے نائب صدر اطہر اعظمی نے مختصر مگر جامع مضمون پیش کیا جس میں اردو صحافت کے ۲۰۰ سو سالہ دور میں اسکے کردار ،درپیش چیلینجز ،مشکلات اور مسائل کے حل پر روشنی ڈالی گئی ۔
طفیل احمد (عمان) نے اردو صحافت کو با اثر بنانے پر گفتگو کی۔انھوں نے کہا کہ صحیح خبروں کے لیے صحافت کا با اثر اور خود مختار ہونا ضروری ہے۔ اردو صحافت کی پہونچ اور اثر، مالیات کی کمی دوسری زبانوں کے مقابلے بہت کم ہیں ۔ اردو صحافت دوسری زبان سے متاثر نظر آتی ہے اسلیے ان بنیادی منفی اثرات کو ختم کرنا ہوگا ایسے میں ہمارا رول دوسرے درجے کا ہوگا ہم راہ نما نہیں بن سکتے۔ انھوں نے آخر میں امید جتائی کہ یہ قدم قطر سے ہی شروع ہوگا ۔پروگرام کے باقاعدہ آغاز سے پہلے لوح سپاس دینے کا عمل شروع ہوا۔جس میں مہمانوں کی خدمت میں لوح سپاس پیش کیا گیا ڈاکٹر ثروت زہرا (دوبئی) ،طفیل احمد(عمان) ،مسعود حسّاس (کویت)، عائشہ شیخ عاشی(دوبئی)،سمیعہ نازملک (شارجہ)،کپل بترا(بحرین) اور جناب شہاب الدین کو ( عادل م مظفرپوری کا لوح سپاس) بزم اردو قطر کے سرپرست اعلی جناب حسن عبدالکریم چوگلے اور عظیم عباس و دیگر سرپرستان کے ہاتھوں دیا گیا۔ اس کے بعد پروگرام کی شعری نشست کا باقاعدہ آغاز ہوا جس میں درج ذیل شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ۔
کپل بترا: اے ساقی تو مرا پیمانہ ذر ا کم بھرنا
مجھ سے نزدیکیوں کا اپنی نہ وہم بھرنا
اجمل بسہمی: کبھی تہذیب سے کُٹیا بھی رہتی تھی بہت روشن
یہ عالم ہے کہ اب محلوں میں دولت سے اجالے ہیں
طاہر جمیل: یہ محتسب یہ عدالت تو اک بہانہ ہے
جو طے شدہ ہے وہی فیصلہ سنانا ہے
راقم اعظمی: یقیناً کامیابی پاؤں چومے گی ترا اک دن
بس اپنی جیت کا دل میں ہمیشہ حوصلہ رکھنا
بھلے ہی زیست میں کتنی بلندی پر پہونچ جاؤ
درختوں کی طرح خود کو زمیں سے تم جڑا رکھنا
راشد عالم راشد: مری ضرورت پہ وقت مجھ سے ہی تھا گریزاں
اب اس کی بے وقت مہربانی کا کیا کروں میں
ڈاکٹر ندیم جیلانی: نیلام کر قلم کو قصیدوں کے بند لکھ
مرضی تری ہے زہر ہلاہل کو قند لکھ
اک جھوٹ بار بار بہ خط بلند لکھ
دہشت زدہ ہیں جو انھیں دہشت پسند لکھ
قیصر مسعود: آیا ہوں تیرے شہر میں بار دگر مگر
اب اور میں کسی کا ہوں مہمان معذرت
ا ب تجھ کو بھول جانے کی کوشش میں ہوں مگر
یہ کام اس قدر نہیں آسان معذرت
اطہر اعظمی: کرتے رہیے من کی بات اس کے علاوہ کرنا کیا
جب مرنا ہی ہے اک دن پھر حالات سے ڈرنا کیا
آصف شفیع: کاش پھر مجھ سے وہ پوچھیں مری وحشت کا سبب
کاش پھر مجھ کو وہ تصویر دکھانی پڑ جائے
میرے اعدا سے کہو حد سے تجاوز نہ کریں
یہ نہ ہو مجھ کو شمشیر اٹھانی پڑ جائے
احمد اشفاق: امیرِ شہر کی نا اہلیت بھی ہے ہنر مندی
غریبی میں عقل مندی پشیمانی میں رہتی ہے
سمیعہ ناز ملک: کس قدر گہرا فسوں ہے اور میں ہوں
گریہ سوز دروں ہے اور میں ہوں
کون مجھ سا بے اثر ہوگا کہ مرے
پیار کی حالت زبوں ہے اور میں ہوں
عائشہ شیخ عاشی: خوش ہوکے درختوں کی طرف دیکھنے والو
پنجروں سے پرندوں کو رہا کون کرے گا
جب سر پہ تری ماں کا نہیں دست محبت
پھر سوچ ترے حق میں دعا کون کرے گا
مسعود حساس : لوگ کہتے ہیں کہ آجاؤ نا سردار کے ساتھ
میری بنتی نہیں قوم کے غدار کے ساتھ
دھوپ میں بیٹھے ہوئے شخص کی مجبوری تھی
قد سمٹتا ہی گیا سایہ دیوار کے ساتھ
ریاض شاہد: جسے آگہی و شعور تھا اسے بزم سے ہی اٹھا دیا
جو چراغ عہد وفا جلا اسے نفرتوں نے بجھا دیا
جو ترے مدار میں آگیا اسے تو نے چاند بنا دیا
میں تو ایک مشت غبار تھا سو مجھے ہوا میں اڑادیا
اعجاز حیدر: میرے اندر شور مچاتی خاموشی
مار نہ ڈالے لب پر آتی خاموشی
ساحل پر کل بیٹھا تھا اک میں اور ایک
لہروں پر تصویر بناتی خاموشی
طفیل احمد: جو دعا کو ہاتھ مرے اٹھے تو کسی نے چپکے سے یہ کہا
کہ ضروری نہیں کہ قبول ہو یہ دعا نہیں ہے فقیر کی
ڈاکٹر ثروت زہرا: تمھاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں
وہ رستہ بنتے جاتے ہیں کچھ اتنے در بناتی ہوں
شعری نشست کے بعد طفیل احمد نے اظہار خیال پیش کرتے ہوئے سب سے پہلے بزم اور اسکے اراکین کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ جس بزم کے سرپرست حسن عبدالکریم چوگلے ہوں اور محفل میں موجود ہوں تو محفل کی رونق میں اضافہ ہو ہی جاتا ہے۔ مزید کہا کہ کسی بھی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت اسکے سامعین ہوتے ہیں ، قطر کے با ذوق سامعین نے اس بار بھی آخر تک اپنی موجودگی کا احساس دلا کر یہ ثابت کیا ہے کہ یہاں اردو سے محبت کرنے والے حضرات کی تعداد کافی ہے۔آخر میں انھوں نے کہا کہ اس بزم کی یاد میرے سینے میں ہمیشہ موجود رہے گی۔
عظیم عباس نے مختصراً اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اردو کو رومن یا اور زبان میں لکھ کر غیر مسلمین تک پہنچا سکتے ہیں تاکہ اردو کی ترویج و ترقی ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹر ثروت زہرا نے کہا کہ زبان کی بات کرنے کا مطلب زبان کی ترویج ہوتی ہے،بہترین سماعت پر انھوں نے کہا کہ آپ سامعین کے اندر اچھے سامعین کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔
مشاعرے کے صدر جناب حسن عبد الکریم چوگلے نے کہا ! اردو زبان ایک خوشبو کی طرح ہے۔ زبان کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، یہاں پر بھی کوئی سرحد نہیں ہے۔ ہر جگہ کے لوگ موجود ہیں ۔بھید بھاؤ ، مفاد پرستی کو قلم اور صحافت کے ذریعہ دور کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں چراغ سمجھ کر بجھا نہ پاؤگے
ہمارے گھر میں کئی آفتاب رکھے ہیں
اخیر میں انھوں نے دوحہ قطر میں اردو کے تعلق سے ہو رہے کام کی ستائش کی اور کہا کہ اردو کے تعلق سے جو بھی کام ہو رہا ہے اسے جدید ٹکنالوجی کے توسط سے منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے اور اس موقع پر قطر کے صاحب دیوان شعرا پر مشتمل ایک کتاب کی اشاعت کا بھی اعلان کیا جس کی ذمہ داری بزم کی جنرل سکریٹری احمد اشفاق کو دی۔ آخر میں ناظم مشاعرہ احمد اشفاق نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ کے ساتھ مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا اور مہمانوں کو عشائیہ کی دعوت دی ، پروگرام میں دوحہ کی ادبی اور نیم ادبی تنظیموں کے ذمہ داران اور سرپرستان شریک ہوئے جن مہمانوں نے بطور خاص اپنی شرکت سے محفل کو رونق بخشی ان میں جناب ابراہیم خان کمال، خالد داد خان، جناب حامد شریف، جناب عبید طاہر، جناب احتشام اقبال، جناب محمد عرفان، بلال احمد خان، گوہر الطاف، جناب بہاء الدین، جناب جاوید عالم صدیقی، جناب عبد الکلام، جناب سیف الرحمن، جناب عرفان اللہ،جناب صباح الدین، جناب لیاقت ملک،جناب انمول اتفاق، جناب ارشد اقبال، جناب اسامہ شیخ قابل ذکر ہیں۔
رپورٹ: ابو حمزہ اعظمی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

