بزم میں اس کی اگر جانا ہوا لوٹ کر کے پھر نہ گھر جانا ہوا اک نگاہِ ناز کا اٹھنا تھا بس…
غزل
-
-
آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے دل دوانہ…
-
گرچہ ترے بغیر گزارا نہ کر سکے پر عشق بھی کسی سے دوبارہ نہ کر سکے اک تو کہ مہر و…
-
اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں جذبۂ جنوں اٹھیں تو ایک عزم سے، سوئیں تو پر سکوں جھکنے لگی تو شاخ…
-
اس منزل حیات پہ جذبات منتشر اعمال منتشر ہیں، مناجات منتشر گل چیں کی اک ہوس کے نتیجے میں باغ کی ہر…
-
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے اچھا سا کوئی…
-
اک دشتِ خار زار ہے میرے وجود میں مجنوں! ترا دیار ہے میرے وجود میں شعلہ ہے یا شرار ہے میرے وجود…
-
اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ابھی سفر سارے ابھی تو خواب بھی پھرتے ہیں در بدر سارے تمہارا مشقِ ستم…
-
تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے بن کے سانپ ڈستے ہیں اب گلی کے دروازے خودکشی پہ آمادہ ہو…
-
سنتے ہیں وفا کے رستے میں ہم تم کبھی منزل پانہ سکے اک ڈور جو پہلے الجھی تھی ہم آج تلک سلجھا…

