اس منزل حیات پہ جذبات منتشر
اعمال منتشر ہیں، مناجات منتشر
گل چیں کی اک ہوس کے نتیجے میں باغ کی
ہر شاخ گل بریدہ ہے اور پات منتشر
اک وقت تھا کہ تجھ پہ توجہ تھی مرتکز
اک وقت ہے کہ سارے خیالات منتشر
شاید کسی کی دل میں تمنا ہے آج بھی
پھرتا ہے کون ورنہ یوں دن رات منتشر
ترتیب دھن تری نہ کبھی دے سکا ندیم
تو منتشر ہے اور ترے نغمات منتشر
ڈاکٹر خالد ندیم
سرگودھا (پاکستان)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

