شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل…
تخلیقی ادب
-
-
بحر ہستی میں صحبت احباب یوں ہے جیسے بروئے آب حباب گردش آسماں میں ہم کیا ہیں پر کاہے میانۂ گرداب بادۂ…
-
اس رنگ سے جو زرد زبوں زار ہیں ہم لوگ دل کے مرض عشق سے بیمار ہیں ہم لوگ کیا اپنے تئیں…
-
میں ہوں ماتم کناں اپنے وطن کی موت پر جاناں اگر چہ بستری، بیمار تھا وہ ایک مدت سے مگر آہستہ آہستہ…
-
ذات کا آئینہ خانہ جس میں روشن اک چراغ آرزو چار سو زعفرانی روشنی کے دائرے مختلف ہیں آئینوں کے زاویے ایک…
-
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے…
-
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں…
-
ترے ظفر میں ہی تخمِ شکست بالیدہ کہ تیری فتح ہے بطنِ جفا کی زائیدہ تمام عمر یہ سوچا کریں گی سب…
-
جب کتے آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگاہ سے آنکھیں بدل بدل…
-
میں فقیر حقیر تمہیں اپنے بول کیسے سمجھاؤں؟ میں تو سننے والوں کو صرف اس لیے سننے کی تلقین کرتا رہتاہوں کہ…

