ترے ظفر میں ہی تخمِ شکست بالیدہ
کہ تیری فتح ہے بطنِ جفا کی زائیدہ
تمام عمر یہ سوچا کریں گی سب نسلیں
کہ کیسے فرطِ خباثت میں تم تھے رقصیدہ
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اپنے رنگ میں ہو
ہزاروں سال ہیں تیرے ستم کے غم دیدہ
وہ آشتی کے پجاری وہ راہبانِ چمن
کہ جن کی بیخ کنی ہے وطن میں پوشیدہ
کبھی وہ ملت بومی وہ راندۂ مجلس
نجس قرار ہوئے تا ابد وہ رنجیدہ
ترے ستم کے یہ شعلے خموش بھی ہوں گے
تری جفا کی ہوس ہوگی خاک بلعیدہ
پروفیسر اخلاق آہن جے این یو میں فارسی کے استاد ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

